انجمن اقوام – لیگ آف نیشنز

جنگ عظیم اول کی تباہی و بربادی کو دیکھتے ہوئے دنیائے عالم کی اقوام کو اس بات کا احساس ہوا کہ کسی ایسے ادارے یا تنظیم کو بنایا جائے جو دنیا کو مزید ایسی تباہی سے بچا سکے، جو جنگ کے متاثرین کی دادرسی کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کو جنگوں سے محفوظ کر سکے۔ ان تمام ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجمن اقوام کا قیام عمل میں آیا۔ انجمن اقوام کا قیام معاہدہ ورسیلس کے ذریعہ کیا گیا تھا، جس پر 28 جون، 1919 کو پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد دستخط کیے گئے تھے۔
انجمن اقوام پہلی بین الاقوامی تنظیم تھی جس کا بنیادی مقصد عالمی امن کو برقرار رکھنے اور مستقبل کے تنازعات کو روکنے کا تھا۔ انجمن اقوام کا قیام معاہدہ ورسیلس کی ایک اہم دفعات میں شامل تھا، جس سے اتحادی طاقتوں (بنیادی طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، اور اٹلی) اور شکست خوردہ مرکزی طاقتوں خصوصاً جرمنی کے مابین بات چیت کی گئی تھی۔ معاہدہ ورسلیز کو انجمن اقوام کے معاہدے میں شامل کیا گیا تھا، یہ معاہدہ اس تنظیم کا ایک حصہ تھا جس میں تنظیم کے ڈھانچے، مقاصد اور افعال کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔
انجمن اقوام کے منشور نے وہ اصول وضع کیے جن پر لیگ کام کرے گی۔ اس کے بنیادی مقاصد اسلحے سے پاک ہونے کو فروغ دینا، سفارتکاری اور اجتماعی سلامتی کے ذریعے تنازعات کو روکنا اور معاشی اور معاشرتی امور کو حل کرنے میں اقوام عالم میں تعاون کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ لیگ کا مقصد ممالک کو تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور معاہدوں پر بات چیت کے لئے ایک فورم فراہم کرنا ہے۔ انجمن اقوام ایک اسمبلی پر مشتمل تھی، جہاں ممبر ممالک کی نمائندگی کی گئی تھی، اور ایک کونسل، جس میں با اثر ممبر ممالک کا ایک چھوٹا گروپ شامل تھا، جس میں مستقل ممبران جیسے برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔
عہد نامہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) اور بین الاقوامی انصاف کی مستقل عدالت جیسے مخصوص امور سے نمٹنے کے لئے مختلف خصوصی ایجنسیاں اور کمیشن بھی قائم کیا۔ اس کے عمدہ ارادوں کے باوجود، لیگ آف نیشنس کو اپنے وجود میں کئی چیلنجوں اور حدود کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں، سوویت یونین سمیت کچھ طاقتور ممالک بعد کے سالوں تک ممبر نہیں بن سکے۔ جب دوسری جنگ عظیم کے آغاز نے امن برقرار رکھنے کی کوششوں کو مغلوب کیا تو لیگ آف نیشنس کا موثر انداز میں وجود ختم ہو گیا۔ تاہم، اس کے قیام اور اس کے اصولوں نے بین الاقوامی تنظیموں خصوصاً اقوام متحدہ کی ترقی پر نمایاں اثر ڈالا، جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی تعاون اور امن کے لئے بنیادی عالمی تنظیم کے طور پر لیگ کو کامیاب کیا۔
مندرجہ ذیل تحریر میں اس کے اداروں، کارناموں اور اس کے ناکامی کے اسباب کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔
ادارے
اسمبلی
اسمبلی انجمن اقوام کا سب سے بنیادی ادارہ تھا، اس کا صدر مقام جنیوا تھا۔ ہر سال اس کا ایک سالانہ اجلاس ہوتا جو جنیوا ہی میں بلایا جاتا تھا۔ اس انجمن کا ہر ممبر اسمبلی کا بھی ممبر تھا۔ ہر ملک کی طرف سے ہر اجلاس میں تین بندے شرکت کے لیے بھیجے جاتے تھے۔ مگر ان تینوں کا ووٹ ایک ہی تصور ہوتا تھا۔ اسمبلی کا منشور سیکرٹری جنرل تیار کرتا تھا جو اجلاس کے شروع ہونے سے پہلے تمام ممبران میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔
اور اس میں وہ تمام امور شامل ہوتے جن پر اجلاس میں بحث ہونا ہوتی تھی۔ ہر سال اسمبلی کے صدر کا انتخاب کسی چھوٹے ملک سے ہوتا تھا۔ جس کی۔ کونسل میں نمائندگی نہیں ہوتی تھی اور چھ مستقل کمیٹیاں تشکیل دی جاتی تھی اور چھ ہی نائب صدر منتخب ہوتے تھے۔ مجلس کی زبانیں فرانسیسی اور انگلش تھیں جبکہ اسپیکر کو اختیار تھا کہ وہ کسی تیسری زبان کا بھی استعمال کر سکتا تھا۔ اسمبلی کے تمام اختیارات پر متفقہ رائے پر فیصلے کیے جاتے تھے۔
کونسل
مجلس اقوام کی انتظامیہ کونسل تھی۔ شروع شروع میں کونسل کے نو رکن ہوا کرتے تھے جن میں پانچ مستقل اراکین تھے اور چار عارضی رکن تھے جو کہ اسمبلی سے منتخب ہو کر آتے تھے۔ جب امریکہ نے انجمن اقوام سے علیحدگی اختیار کی تو مستقل اراکین کی تعداد چار رہ گئی جبکہ عارضی اراکین کی تعداد نو کر دی گئی۔ کونسل سال میں ایک سے زیادہ بار اجلاس بلا سکتی تھی لیکن ایک بار اجلاس بلانا ضروری ہوتا تھا۔ اجلاس میں شرکت کے لیے ہر ملک اپنے وزیر اعظم یا وزیر خارجہ کو بھیجا کرتا تھا
کونسل کسی ایسے مسئلے پر اجلاس بلا سکتی تھی جس سے اور بحث کر سکتی تھی جس سے عالمی امن اور سلامتی کو خطرہ ہوتا۔ کونسل صرف تنازعات کے حل کے لیے تھی یہ صرف ان تنازعات کا حل تلاش کیا کرتی تھی۔
سیکرٹریٹ
سیکرٹریٹ انجمن اقوام کا ایک مستقل دفتر تھا جو اس کے صدر مقام جنیوا میں تھا۔ اس دفتر کا سربراہ سیکرٹری جنرل کہلاتا تھا۔ اس کے علاوہ دوسرا عملہ بھی وہاں موجود ہوتا تھا جس کا تعلق مختلف ممبران ممالک سے ہوتا تھا۔ سیکرٹری جنرل کی تقرری کا اختیار کونسل کو تھا۔ شروع شروع میں سیکرٹریٹ کے عملے کی تعداد 121 تھی جو بعد میں بڑھا کر 707 کر دی گئی اور بعد میں یہ تعداد کم ہو کر 209 رہ گئی تھی اور 1944 تک یہ تعداد صرف 94 رہ گئی تھی۔
سیکرٹریٹ مجلس میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے عملے کو گیارہ مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ 1938 میں اس کے شعبوں کی تعداد پندرہ کر دی گئی تھی۔ ان میں بعض عام شعبے تھے مگر کچھ خاص بھی تھے جیسا کہ مرکزی، سیاسی، قانونی، اور نشر و اشاعت وغیرہ۔ انجمن اقوام کے تمام کام سیکرٹریٹ کے ذریعے سے چلائے جاتے تھے۔ یہ دراصل ایک طرح کی ایجنسی ہی تھی جس کے ذریعے سے انجمن کے تمام کام سر انجام دیے جاتے تھے
کارنامے
اگرچہ مجلس اقوام عالم بری طرح ناکام ہو گئی تھی مگر اس کے باوجود کئی کارناموں کا سہرا اس کے سر جاتا ہے۔ اس کو دنیا کی تاریخ کی سب سے پہلی بین الاقوامی انجمن کا خطاب بھی دیا جاتا ہے۔ اس نے کئی چھوٹی اقوام کو موقع دیا کہ وہ دنیا کی بڑی اور با اثر اقوام کے سامنے اپنے جواہر دکھا سکیں۔ انجمن اقوام نے مندرجہ ذیل کارنامے سر انجام دے
تخفیف اسلحہ کی تحریک
وادی سار ( SAAR) کے تنازعے کا حل
سائلہشیا کے مسئلے کا حل۔
موصل کے تنازعے کا حل
اٹلی اور ایتھوپیا کے درمیان جنگ کی صلح ( WAL، WAL)
معاشی خدمات
بے گھر افراد کے مسائل کا حل
وباؤں اور بیماریوں کے لئے اقدامات
انسانی تجارت کے روک تھام کے لیے اقدامات
تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لیے اقدامات
بین الاقوامی مزدور تنظیم کا قیام
ناکامی کے اسباب
انجمن اقوام کو بڑی منظم بنیادوں پر قائم کیا گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود یہ عالمی تنظیم بری طرح ناکام ہو گئی تھی اس سے جو امیدیں وابستہ کی گئی تھی وہ پوری نہ ہو سکیں۔ ماہرین قانون مندرجہ ذیل عوامل کو اس کی ناکامی کا باعث قرار دیتے ہیں
یہ دنیا کی تمام اقوام و مملکت کو ممبر نہ بنا سکی۔
امریکہ کی عدم دلچسپی
جاپان کی علیحدگی
تمام ممبران میں نا اتفاقی
براہ راست عوام سے تعلق نہ ہونا
عہد نا مہ ورسلیز کا منشور میں شامل ہونا
اجتماعی تحفظ نہ کرنا
برطانوی اور فرانسیسی اقتدار کا اثر
غیر رکن ممالک کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھانا

