معیشت کے حوالے سے کچھ سوال


ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے لے کر زمانہ حال میں بھی حکام بالا اور ایوان اقتدار کے مختلف شراکت داروں کے لیے ایک خاص نظام مراعات و سہولیات برائے خواص اک مسلسل استحکام و ترقی کے عالم میں رائج ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ اس کی ہیئت مختلف ضرور ہوئی ہے مگر اس کا وجود بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

ہر اک ادارہ اپنے تئیں اس قدیم نظام مراعات و سہولیات برائے خواص کو مضبوط کر کے پروان چڑھانے کی ہر اک کاوش کی عملی حمایت اور اعانت میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

کبھی کبھار کسی خبر کے ذریعے اس نظام مراعات و سہولیات برائے خواص کے کسی اک پہلو یا سلسلے کے بارے میں علم ہوتا ہے مگر شور و غوغا کے سلسلے اس مستحکم نظام مراعات و سہولیات برائے خواص کے اصل وجود اور حقیقی چہرے سے تقریباً لاعلم ہی رہتا ہے۔

انٹرنیٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا (سماجی ابلاغ) کے اس دور میں آسانی سے اس نظام مراعات و سہولیات برائے خواص کا دنیا کے دیگر ممالک اور ریاستوں میں موجود اور مروج نظاموں سے موازنہ کیا جانا اور اس کے وجود اور بقا کے حوالے سے سوالات کا اٹھانا اس وقت ریاست پاکستان کے وجود کو لاحق اقتصادی بحران اور مالی مسائل کے حل کی راہ ڈھونڈنے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کے بڑے شہروں میں قائم جم خانے، کلبز اور اشرافیہ کی نشست و برخاست کے تمام اداروں کو ریاست پاکستان کے خزانے سے نقد مراعات اور ٹیکس (محصولات) معافی کی سہولیات کے نام پر کیا کچھ دیا جاتا ہے؟

ملک بھر میں موجود مختلف سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے یا معمولی نرخوں (ریٹس) پر کسی اور مقصد کے لیے زمین حاصل کر کے کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ مختلف نجی ادارے (کلبز، تقریباتی ہال، نجی اسپتال، تعلیمی ادارے، مارکیٹس اور دیگر وغیرہ )

کسی بھی قسم کی ٹیکس (محصولات) کی کیا رعایتیں اور مراعات کس کس کو دی جاتی ہیں؟

ہر مالی سال میں سرکار کی ملکیت گاڑیاں کی مد (خریداری، مرمت، پرزے اور ایندھن) میں بہت ہی بڑی رقومات بجٹ (تخمینہ) میں مختص کی جاتی ہیں۔ سرکاری افسران اور مختلف حکومتی عہدیداروں کو سرکاری گاڑیوں کی فراہمی کے سلسلے کو اب ازسرنو دیکھنے اور اس حوالے سے نئی قابل عمل اور قابل قدر حکمت عملی اور پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سرکاری ملازمین اور حکومتی عہدیداروں کو آسان اقساط پر بلا سود یا معمولی شرح منافع پر ذاتی گاڑیوں کی خریداری کے لیے قرضوں کی فراہمی، سرکاری استعمال کے لیے لگژری گاڑیوں کی جگہ آرام دہ وینز اور بسوں کی خریداری کی پالیسی۔ آرام دہ اور شاندار پبلک ٹرانسپورٹ کے مختلف نظام کی فراہمی جیسے منصوبوں کی ابتدا سے کیا اس ضمن میں مالی وسائل کے ضیاع سے بچنا ممکن ہے؟

ٹیکس ریبیٹ) محصولات کی چھوٹ) کس کس مد میں کس کس شعبے اور طبقے اور ادارے کو عطا کی گئی ہیں؟

ڈائریکٹ ٹیکس کلیکشن (محصولات کی براہ راست وصولی) کے حوالے سے بہت سے کاروباری طبقے اور امیر شہری کیوں محفوظ و مامون ہیں یعنی بڑے بڑے لگژری بنگلوں اور قیام گاہوں اور مہنگی گاڑیوں کی ملکیت کے باوجود وہ یا تو ٹیکس دیتے نہیں یا پھر اپنی آمدنی اور ملکیت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی رقم ٹیکس (محصول) کی مد میں ادا کرتے ہیں؟

بہت سے کاروباری لوگ اپنی آمدنی سے اثاثے خصوصاً پراپرٹی (جائیداد) کی خریداری کرتے ہیں مگر مختلف طریقوں سے خود کو ٹیکس نیٹ سے دور رکھتے ہیں یا اپنے بہی کھاتوں میں ہیر پھیر کے ذریعے ریاست کو دھوکا دیتے ہیں؟

ملک میں رہنے والے طبقہ اشرافیہ کی سہولت کے لیے لگژری آئٹمز اور درآمدی غذائی اشیا کی درآمد کے لیے سرکاری طور پر کتنا زرمبادلہ صرف کیا جا رہا ہے؟

توانائی کی پیداوار کے نام پر کن نجی اداروں کو کیا کیا اور کتنی سبسڈیز دی جا رہی ہیں؟

اس طرح کے بہت سے سوالات کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ اب دو ہزار تئیس میں پاکستان میں اپنی مالی ترجیحات کو عوامی مفاد میں ازسرنو دیکھنے اور نئی قابل عمل اور قابل قدر حکمت عملی پر کام شروع کیا جائے۔

Facebook Comments HS