پاری ننگر کی پریم کہانی

صحرائے تھر کے دل کش پہاڑی سلسلے کارونجھر کے دامن میں جہاں پاری ننگر کی تہذیب پروان چڑھی تھی وہاں صدیوں کے سفر میں بہت سارے قصے اور کہانیوں نے جنم لیا تھا، پارکر کے جین مندروں کی طرح سڈونت سارنگا کی عشقیہ داستان بھی بہت دل چسپ ہے۔ پارکری زبان کے قصہ گو کہتے ہیں کہ سڈونت اجین کے راجا سالیواہن کا بیٹا تھا اور سارنگا اوسواڑے قبیلے کے بڑے سیٹھ پرم سا کی بیٹی تھی۔
سارنگا کے حسن کی شہرت ہر طرف پھیلی ہوئی تھی، ایک دن سندری سارنگا پاٹھ شالا جا رہی تھی کہ راستے میں کہیں شہزادہ سڈونت سے سامنا ہو گیا، سڈونت نے سونے کے رنگ روپ کی سی حسینہ کو دیکھا، جس کا کومل بدن پتلی سی کمر، اور ہرنی جیسی آنکھیں تھیں۔ یہ سب دیکھ کر سڈونت حیران رہ گیا۔ سارنگا کی پہلی نظر نے سڈونت کے دل پر جادو سا کر دیا، دوسرے دن سورج نکلتے ہی سڈونت نے اس پاٹھ شالا میں اپنے نام کا اندراج کروا لیا جہاں سارنگا پڑھتی تھی، پاٹھ شالا کے قریب استاد کا باغ تھا جہاں طلبہ باری باری پیڑ پودوں کو پانی دیا کرتے تھے، سڈونت اور سارنگا بھی پانی دینے کے بہانے باغ میں جاکر برہ کی باتیں کیا کرتے۔
جب سارنگا نے سولہویں سال میں قدم رکھا تو اس کے والدین نے پاری ننگر کے ساہوکار سیٹھ روپا سا سے شادی طے کر دی۔ جب دولھا روپا سا بارات لے کر آیا تو سارنگا نے کسی ترکیب سے ”چونری کے چار پھیرے“ ایک داسی کے ساتھ دلوا دیے اور سڈونت کو پیغام بھجوایا کہ وہ گاؤں کے مندر میں رات کو آ کر ملاقات کرے۔ سارنگا کو اسی مندر میں پوجا پاٹھ کرنے کے بعد بارات کے ساتھ جانا تھا۔ سارنگا کا سندیسہ پا کر سڈونت سورج غروب ہوتے ہی آ کر مندر میں بیٹھ گیا۔
انتظار میں بیٹھے ہوئے سڈونت نے بیدار رکھنے والی گولی کے بجائے نیند کی گولی کھا لی۔ گولی کھانے سے وہ سو گیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد سارنگا بھی آ پہنچی۔ سڈونت کو جگانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نیند سے نہیں جاگا۔ سارنگا سڈونت کے ہاتھ پر ایک دوہا لکھ کر چلی گئی۔ صبح کو جب سڈونت جاگا تو اسے بہت ہی پشیمانی ہوئی۔ اس نے اپنے ہاتھوں پر سارنگا سے ملنے کا پتہ نشان لکھا ہوا دیکھا اور وہ جوگیوں کا بھیس کر کے پاری ننگر کی طرف چل پڑا۔ قصہ مختصر چلتے چلتے بارات پاری پہنچی، سڈونت بھی چلتا ہوا پیچھے آ رہا تھا۔ پاری نگر پہنچنے پرسڈونت لوگوں سے پوچھنے لگا کہ یہاں کون راج کرتا ہے؟ اور کس کا سکہ چلتا ہے؟ کون سکھی ہے؟ اور کون دکھی ہے ؟
ایک عقل مند مالھی نے جواب دیا :
اجا ویرم دیو راج کرے
پرتھوی راج نی ڈوائی پھرے
ایک دکیاری روپے شا نی نار
تے نا تمے لاگو ان سار
ترجمہ:
راجا ویرم دیو حکم رانی کرتا ہے
جب کہ راجا پرتھوی کا سکہ چلتا ہے
ایک دکھیاری روپا شا کی بیوی ہے
جسے تمھارے انتظار نے اداس کر دیا ہے
یہ جواب سن کر سڈونت کو یقین ہو گیا اور سارنگا کے سسرال کا پتہ نشان پوچھتے ہوئے جاکر اس کے دروازے پر صدا لگائی۔ سڈونت کی آواز سن کر سارنگا سونے کے تھال میں موتی بھرکر جوگی کو دان کرنے آئی، دونوں کی نگاہیں ملیں، تھال سارنگا کے ہاتھ میں رہ گیا، موتی کوے چگنے لگے۔ پاری نگر کا راجا یہ سارا منظر اپنے محل سے دیکھ رہا تھا۔ کچھ روایتوں کے مطابق حقیقت معلوم ہونے پر راجا نے سارنگا کی شادی سڈونت سے کروا دی۔ کچھ سگھڑ کہتے ہیں کہ نظریں ملتے ہی دونوں کا دم نکل گیا تھا۔
کہتے ہیں اب بھی جب ساون کی بوندیں ننگر پارکر کی پگ ڈنڈیوں پر برستی ہیں تو کارونجھر کے مور آہ و بکا کر کے سڈونت اور سارنگا کو پکارتے ہیں۔
تاریخ نویسوں کے مطابق سڈونت سارنگا کا قصہ پاری نگر کے دور کا ہے، مگر شاعری کی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس داستان کے زیادہ تر دوہے سومروں کے پہلے دور یعنی گیارہویں صدی کے ہیں۔ ایک دوہے میں سوڈہوں کا بھی تذکرہ ملتا ہے، پاری نگر کی تاریخ سے ساتھ سڈونت سارنگا کے داستان اور لوک دوہوں پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔
پاری نگر پدھارجو والما کر جو بگوئا ویس،
جس گھر ناریل رونکھڑو اس گھر ڈیجو آدیس،
ترجمہ: اے میرے محبوب! بھگوا بیس۔ میں پاری نگر آنا، جس گھر میں ناریل کا درخت دیکھو اس گھر کے سامنے بھیک کی صدا دینا۔
پاری ننگر پنتھ گھنو، سوڈھانکے رو دیس،
وہیلو ورجو والما جوگے سندے ویس،
ترجمہ:
پاری ننگر کی راہیں طویل سوڈھوں کا دیس،
جلدی آنا بالما کر کے جوگی کا بھیس۔
تن پر تو بھشم لگایا ہاتھ میں لیا کیر
سارنگا تھانرے کارنے کریو بیس فقیر
ترجمہ:
اے سارنگا تمھاری لیے میں نے بدن پر راکھ مل کر ہاتھ میں مرلی اٹھائی ہے اور اس طرح فقیری بھیس کیا ہے۔
پارانے را رائیکا تھانرو ڈودھ ڈھوڑانو جائے
سڈونت آئے تو ایم کہے سارنگا روتی جائے
ترجمہ:
اے پارکر کا دودھ دوہنے والے شخص، تم اتنا میرے طرف مت دیکھو، اپنا کام کرتے ہوئے اپنی گائے کا دودھ دوہتے رہو تمھارے ہاتھوں سے دودھ زمیں پر گر رہا ہے، اپنے آپ کو سنبھالو اور یہاں سے جب سڈونت کا گزر ہو تب اسے کہنا کہ سارنگا اسی راہ سے روتی جا رہی تھی۔
آنبو جھرے آنبلے، بھجے نو سریو ہار،
رس چس تو سبھ چکھیا کیوں روئین گینوار!
ترجمہ :
آم کے پیڑ کے نیچے پکے ہوئے آم کا رس ٹپک رہا ہے۔ جس سے میرا نو لڑیوں والا ہار بھیگ رہا ہے۔ اے نادان تم نے نوجوانی کے سارے مزے چکھے ہیں، پھر بھی رو رہے ہو۔
کانچوو کس بھیو ساروں بھرانو سرے
ویرا مین تناں برجیو بھابھی ناھ کسرے
ترجمہ :
کانچوو ( تھری لباس کا نمونہ ) پر سلوٹیں پڑ گئی ہیں، چنری بھی خراب ہو گئی ہے۔
اے بھائی میں نے تجھے کہا تھا کہ بھابھی کا چال چلن اچھا نہیں ہے۔
بودھو کپڑو بہو رنگو سینن واڑو اڈھنگ
ٹڑ ٹڑ ٹانکا ٹوٹ گیا آرس موڑتے انگ
ترجمہ :
ایک لباس کے بوسیدہ کپڑے کے رنگ کچے تھے اور دوسرا سلائی کرنے والا درزی بھی اچھا نہیں تھا ( نکما تھا )
میں نے جب انگڑائی لی تو سارے ٹانکے تڑاک کی آواز کرتے ہوئے ٹوٹ گئے۔
اس نگری میں مورکھ وسیں چتر وسے نا کو
کانگا موتی چگ گیا ارے کوک نا کرے کو
ترجمہ :
اس نگری میں مورکھ اور بے وقوف بستے ہیں اور کوئی دانا نہیں ہے۔ کوے موتی چن گئے اور کسی نے چوں تک نہیں کی۔
اس نگری میں چتر وسیں مورکھ وسے نا کو۔
بالاپن ری پریتڑی آج میٹ میڑاؤ ہو
ترجمہ :
اس نگری میں دانا بستے ہیں، کوئی بے وقوف نہیں رہتا۔ بچپن کی محبت تھی آج برسوں کے بعد آنکھوں کا ملن ہوا ہے۔




