اختر رضا سلیمی کا ناول جندر


”زندگی کے ہزار رنگ ہیں مگر موت کا ایک ہی رنگ ہے ؛ سیاہ رنگ، جو زندگی کے تمام رنگوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ مجھے زندگی کے رنگوں کا شعور بعد میں ہوا۔ میں نے موت کے سیاہ رنگ کا شعور پہلے حاصل کیا۔“

جاگے ہیں خواب میں اختر رضا سلیمی کا پہلا ناول تھا جس کی طلسماتی زبان کا اثر ابھی باقی ہی تھا کہ اختر رضا سلیمی نے دوسرا ناول جندر لکھ کر ایک دفعہ پھر سنجیدہ اور ادب شناس قارئین کو اپنی طرف کھینچ لیا۔

اختر رضا سلیمی کا ناول جندر کا پہلا ایڈیشن 2017 میں شائع ہوا اور اسے یو بی ایل ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اس کے بعد اس ناول کے تین مزید ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں جو کچھ اس ترتیب سے ہیں
اشاعت دوم=جولائی 2018
اشاعت سوئم =فروری 2020
اشاعت چہارم=اگست 2022
بعد ازاں ترکی میں انقرہ یونیورسٹی نے اس ناول کو اپنے نصاب میں شامل کر لیا گیا۔

اختر رضا سلیمی نے اس ناول میں ناپید ہوتی ہوئی ایسی بستی کا نوحہ لکھا ہے۔ جس کو قاری پڑھ کر بین کرنے لگ جاتا ہے اور پھر اچانک خاموش ہو جاتا ہے۔

یہ ناول ایک جندروئی کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے جس نے جندر کے پہلو میں ہی آنکھ کھولی اور اسی ہی کی آغوش میں زندگی کی آخری سانس کو بھی اپنے اندر کھینچا۔ اس کے ضعیف اور ناتواں جسم سے جان پس کر باہر نکل آئی جس طرح وہ کبھی جندر سے آٹا نکالا کرتا تھا۔

جس کو صرف جندروئی ہی محسوس کر سکتا تھا
یہ اس کی موت نہیں بلکہ ایسے رواج کی موت تھی جس کو جدیدیت کھا گئی۔

جندر کہن اور جدت کے درمیان سوت کی آخری تند کی مانند ہے جس کو سلیمی نے انتہائی مہارت کے ساتھ بنا ہے۔ اور اختر رضا سلیمی کے پاس وہ آنکھ موجود ہے جس سے وہ مستقبل میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھ لیتا ہے۔

انسان جیسے جیسے ترقی کرتا ہوا جدت کی طرف سفر کرتا ہے تو اپنی پرانی تہذیبوں کو ذہن میں عکس کی صورت میں محفوظ کر لیتا ہے۔

رسم کہن سے جدیدیت تک کے سفر میں سب سے زیادہ اثرات ان لوگوں پر ہوئے جو پرانی رسموں رواج کے ساتھ جڑے ہوئے تھے جیسے کہ جندروئی تھا یہ جدیدیت ان کے لئے موت کا باعث بنتی ہے۔

جس کا اعتراف جندروئی خود کرتا ہے۔

”میرا یہاں اس طرح مرنا صرف ایک انسان کی نہیں، ایک تہذیب کی موت ہے۔ وہ تہذیب جس کی بنیاد انسان نے ہزاروں سال پہلے اس وقت رکھی تھی جب دنیا کے پہلے انسان نے بہتے پانی کی قوت کا اندازہ لگایا۔ جس طرح نوح (ع) کا پیش رو، جس نے سب سے پہلے ہوا کی طاقت کا اندازہ لگا کر دنیا کی پہلی بادبانی کشتی تیار کی، یقیناً کسی ساحلی علاقے کا باسی تھا، اس طرح پانی کی طاقت کا اندازہ لگانے والا پہلا شخص میری طرح کوئی پہاڑیا ہی ہوا ہو گا؛ جو مال مویشی چرانے کسی جنگلی چراگاہ میں جاتا رہا ہو گا جہاں کسی پہاڑی آبشار سے پانی پیتے ہوئے اس پر پانی کی قوت کا راز منکشف ہو گیا ہو گا۔“

(ح 16 ص 108 )
بقول زاہد حسن

”اردو میں ہر طرح کے ناول لکھے جانے کی روایت موجود ہے تاہم موضوع اور زبان و بیان کے حوالے سے کسی بھی ناول کی اتنی عمدگی کے ساتھ گتھے ہوئے ہونے کی روایت کم کم ملتی ہے سو ہم جندر کا شمار بھی ایسے کم کم لکھے گئے ناولوں میں ہی کریں گے۔“

اختر رضا سلیمی کو اس طرح کی آنکھ ملنا کسی معجزہ سے کم نہیں اور اسی بنا پر وہ جوانی میں ہی اردو ادب میں بزرگی کے درجے پر فائز ہوچکے ہیں۔

بقول حضرت سعدی
بزرگی با عقل است نہ با سال

Facebook Comments HS