اگر اُس رات وہ نہ ہوا ہوتا
خیال بھی کیسی دلچسپ چیز ہے جب اک بار ذہن انسانی میں آ جائے تو خیالوں کا اک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، ایک خیال سے دوسرا خیال جنم لیتا ہے تو ساتھ میں کئی جہتیں کھول دیتا ہے پھر ان جہتوں سے کئی اور خیال نکل پڑتے ہیں۔ کبھی کبھی انسان ان خیالوں میں گم ہو کر خیالی پلاؤ بنا لیتا ہے اور دل ہی دل میں خوش ہوتا رہتا ہے تو کبھی ان خیالوں کی وحشت اسے افسردہ کر دیتی ہے۔ گزشتہ دنوں ”اگر میں قتل کر دیا جاؤں“ کا مطالعہ رہا، چار اور پانچ جولائی 1977 ء کی رات کا تذکرہ کرتے ہوئے بھٹو صاحب کہتے ہیں رات کے کسی پہر حفیظ پیرزادہ نے مجھے بتایا کہ ”مبارک ہو جناب، بحران ٹل گیا ہے“ جب میں نے دریافت کیا کس چیز نے انہیں یہ کہنے پر مجبور کیا تو گویا ہوئے حزب اختلاف کی تحریک سے ہوا نکل چکی ہے، میں ہنسا اور ممتاز بھٹو کو کہا حفیظ پیرزادہ کی دائمی رجائیت پسندی کو پانی سے دھو ڈالو۔ ممتاز بھٹو نے جواب دیا ایسا کرنے کے لیے پیرزادہ کو شدید سیلاب کے دنوں میں سکھر بیراج لے کر جانا پڑے گا، اس پر ہم تینوں نے قہقہہ لگایا۔ تیس منٹ کے اندر ہم نے ایک اور قہقہہ سنا۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا کہ آخری قہقہہ کس کا ہو گا۔
یونہی خیال آیا اگر اس رات بھٹو حکومت کا تختہ نہ الٹا جاتا تو کیا ہوتا۔ پھر اس خیال نے کئی اور خیالات کو جنم دیا کچھ ہی دیر میں میں نے محسوس کیا میں خیالی پلاؤ کی دیگ میں اوندھے منہ گر چکا ہوں۔ سو جو خیال آئے پیشتر سوالات پر مبنی تھے۔ اگر ضیائی مارشل لاء نہ لگتا تو کیا ہوتا؟ کیا پی این اے اور پی پی پی مل بیٹھ کر کوئی حل نکال لیتے؟ حل نکال لیتے تو اچھا ہوتا اگر نہ نکال پاتے تو کیا ہوتا؟ آئندہ انتخابات کب ہوتے؟ کون جیتتا؟ ملک کی معاشی حالت کیا ہوتی؟ عالم اسلام کا پہلا اور اب تک کا واحد ایٹم بم کب بنتا اور قوم کب تک گھاس کھاتی رہتی؟ کب تک بھٹو حکومت کرتے رہتے؟ بھٹو صاحب کا عدالتی قتل نہ ہوا ہوتا تو؟ وہ طبعی موت مر جاتے کیونکہ موت تو برحق ہے سب کو ایک نہ ایک روز آنی ہی ہے۔
اتنے سارے خیالات کے جھرمٹ میں کچھ جوابی خیال آئے جنہوں نے خیالی پلاؤ کا مزہ دوبالا کر دیا۔ اگر ضیائی مارشل لاء نہ لگتا حزب اقتدار و اختلاف مل بیٹھ کر کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتے تو یقیناً وہ ملک کی بہتری کا راستہ ہوتا، آئین کے طابع ہوتا، سیاستدانوں و عوامی نمائندوں کا فیصلہ ہوتا اسے عوامی حمایت حاصل ہوتی۔ آئندہ انتخابات جب بھی ہوتے کم از کم اس تاخیر سے یا اس نوعیت کے نا ہوتے جس طرح کے ضیا الحق نے کروائے تھے۔ آرمی چیف ضیا الحق اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو جاتے، توسیع در توسیع کا رواج اس طرح نہ پڑتا۔ ان انتخابات میں جو بھی جیتتا وہ عوام کا نمائندہ ہوتا، آج سیاسی افق پر جو بیشتر چہرے (بشمول شریف خاندان) ہمیں دکھائی دیتے ہیں وہ شاید موجود نہ ہوتے۔ طلباء تنظیموں سے اک باقاعدہ تربیت کے ساتھ طلبا عملی سیاست میں آتے اور لیڈر شپ میں وہ لوگ نظر آتے۔ قومیائے جانے کی پالیسی بھٹو کب تک نافذ رکھتے اس کے نقصانات کیا ہوتے؟ کیونکہ بعد میں آنے والے بھٹو اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں اس پالیسی کے برخلاف گئیں۔ اسلامی ایٹم بم شاید جلد بن جاتا اور قوم گھاس کی بجائے کچھ اور کھا نے کے قابل ہوجاتی۔ اگر بھٹو کا عدالتی قتل نہ کیا جاتا اور وہ یونہی سیاست/ حکومت کرتے رہتے تو شاید جو بھٹو آج تک زندہ ہے وہ کب کا مر گیا ہوتا۔ بھٹو کے بعد بے نظیر اور ان کے بعد بلاول وزیر اعظم بننے کو سیاست میں نہ آ پاتے۔ اگر اس رات مارشل لاء نہ لگا ہوتا تو ملک میں فرقہ واریت کی عفریت نہ پھیلتی، دہشت گردی، افغان جنگ کی وہ صورتحال نہ ہوتی ہمارے ہزاروں لاکھوں لوگ جو دہشت گردی، فرقہ واریت کے سبب لقمہ اجل بن گئے وہ یوں نہ ہوئے ہوتے۔ ہم 1973 ء کے بلا تعطل آئین کی پچاسویں سالگرہ منا رہے ہوتے۔ عدالتیں نظریہ ضرورت کی بجائے آئین کے مطابق فیصلے کر رہی ہوتیں اور ان پر عمل بھی ہو رہا ہوتا۔ شاید عدلیہ پر لاڈلے پن کا تاثر نہ ہوتا، انہیں بار بار یہ نہ کہنا پڑتا ہم آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہیں بلکہ ان کے فیصلوں سے یہ بات عیاں ہوتی۔ کھلاڑی صرف کھیل کھیلتے ملک سے ملک کے مستقبل سے نہ کھیل پاتے۔ ہر پانچ سال بعد اسمبلیاں اپنی آئینی مدت مکمل کر کے تحلیل ہو جاتیں اور شفاف انتخابات ہوتے اور عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے جسے اہل سمجھتیں منتخب کرتیں۔ شاید معاشرے میں جو عدم برداشت، نوجوانوں میں مایوسی ہے وہ اس طرح نہ ہوتی۔ ہم ملک چلانے کے لیے دوست ملکوں کی مدد کے منتظر اور آئی ایم ایف کے سامنے یوں لاچار نہ ہوتے۔ یہ سب اور ایسے کئی اور خیال اس بات سے جڑے تھے کہ اگر اس رات وہ نہ ہوا ہوتا جو ہوا۔
ہاں اک بات کا فیصلہ وقت نے کر دیا جو قہقہہ بھٹو اور ان کے ساتھیوں نے سنا تھا وہ در حقیقت مملکت پاکستان پر قہقہہ تھا، وہ آخری قہقہہ بھی نہیں تھا اس کے نتائج ہم جانے کب تلک بھگتتے رہیں گے۔


