مرے کو مارے شاہ مدار


ایک حکایت یوں بیان کی جاتی ہے کہ ایک ہی گھر میں دو سگے بھائی رہائش پذیر تھے ان میں سے ایک ہندو تھا اور دوسرا مسلمان۔ ہندو بھائی نے ایک کمرے میں اپنے بھگوان کو ایک بت کی شکل میں رکھا ہوا تھا وہ صبح سویرے اٹھتا بت کو نہلا دھلا کر خوشبو لگاتا اس کے سامنے کھانے پینے کی اشیا رکھتا اور نہایت عقیدت و احترام سے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا بھجن گاتا اس کی پوجا پاٹ کرتا منتیں مانتا اور آخر میں خوشی خوشی اپنے کام پر روانہ ہوجاتا۔

جب وہ گھر سے نکل جاتا تو مسلمان بھائی بھی اپنے روزمرہ کے معمولات سے فارغ ہو کر بت کے پاس آ جاتا سب سے پہلے وہ بت کے سامنے پڑی ہوئی کھانے پینے کی اشیا پر ہاتھ صاف کرتا اس کے سر پر تین جوتے مارتا منہ پر کالک لگا کر اسے الٹا لٹکا دیتا اور اس کے بعد وہ بھی اپنے کام پر روانہ ہوجاتا ہندو بھائی جب شام کو واپس آتا تو بت کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر اس کا دل کڑھتا۔ لیکن وہ دنگا فساد کے خوف سے چپ ہو رہتا اس بات پر اس کا پختہ یقین تھا کہ اس کے بھگوان ایک نہ ایک دن اس کے مسلمان بھائی کو اس کی گستاخی کا مزہ ضرور چکھائیں گے اور اسی امید پر وہ خاموشی سے زندگی گزارے جا رہا تھا ایک دن جب وہ بت کو نہلا دھلا کر، خوشبو لگا کر پوجا پاٹ کے لئے دونوں ہاتھ باندھ کر بت کے سامنے کھڑا ہوا تو بت بول پڑا اور اس سے کہنے لگا کہ ”اپنے مسلمان بھائی کو سمجھا لو وہ میری توہین کرتا ہے، میرے حصے کی چیزیں خود کھا جاتا ہے اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو میں تمہیں تباہ و برباد کر دوں گا۔

ہندو اس کے سامنے اس طرح گڑگڑانے لگا کہ“ حضور میں تو آپ کی خاطر تواضع کرتا ہوں آپ کی عزت کرتا ہوں، احترام کرتا ہوں آپ سے عقیدت رکھتا ہوں اور مجھے ہی آپ تباہ و برباد کرنے کا کیوں کہہ رہے ہیں اگر تباہ و برباد کرنا ہی ہے تو میرے اس بھائی کو کریں جو آپ کی توہین و تذلیل کرتا ہے اور آپ کو جوتے مارتا ہے ”بت نے جواب دیا کہ اسے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ تو مجھے مانتا ہی نہیں شامت تمہاری آ جائے گی۔ ہماری موجودہ حکومت کی حالت بھی اس بت جیسی ہے یہاں بھی شامت ماننے والوں کی آتی ہے نہ ماننے والوں کے تو مزے ہیں پچھلے دنوں بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپے اور کچھ پیسے اضافہ کیا گیا اس ضمن میں دلیل یہ دی گئی ہے کہ یہ اضافہ دراصل لائن لاسز کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے آئیے دیکھیں کہ یہ لائن لوسز کیا ہیں؟

فرض کریں کہ ڈسٹری بیوشن کمپنی ایک ہزار یونٹس بجلی ایک علاقے کو سپلائی کرتی ہے ان یونٹس میں سے کچھ یونٹس تو واپڈا ملازمین کے گھروں میں بغیر کسی قسم کے میٹر کے تکلف کے استعمال ہو جاتے ہیں کچھ صارفین انہی واپڈا ملازمین سے ملی بھگت کر کے کچھ بجلی چوری کرلیتے ہیں اس سلسلہ میں ایسی ایسی تکنیکی مہارتیں استعمال ہوتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ایک سوئچ آن کرنے سے میٹر سیدھا چلتا ہے اور دوسرا سوئچ آن کرنے سے وہی میٹر الٹا چلنا شروع ہوجاتا ہے بعض اوقات میٹر کو خراب کر کے ایوریج کے نام پر چند ایک یونٹس پر مشتمل بل بھیج دیا جاتا ہے اور چوری شدہ بجلی کے دام صارفین میں تقسیم ہو جاتے ہیں کھمبوں کی تاروں پر ڈائریکٹ کنڈے ڈال کر بجلی حاصل کرنے کا رواج پنجاب میں تو کم ہے لیکن حیدرآباد اور کراچی میں تو پورے پورے علاقوں میں بجلی کے حصول کے لیے یہ طریقہ مروج ہے پنجاب میں شادی بیاہ، مہندی و منگنی، سیاسی جلسے اور میٹنگز مذہبی اور ثقافتی اجتماع اور ایسی ہی دوسری بیسیوں تقریبات میں کنڈا سسٹم سے ہی بجلی حاصل کی جاتی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اس چوری کو چوری سمجھا بھی نہیں جاتا۔

جس طرح معاشرے میں کمزور گروہ تو چوری اور ٹھگی کے ذریعے بجلی کی لوٹ مار کرتے ہیں لیکن طاقت ور گروہ اپنی طاقت کے زور پر دن دیہاڑے بیچاری بجلی پر ڈاکے مارتے ہیں۔ یہ لوگ کوئی غیر نہیں ہیں معاشرے کے معتبر ترین افراد ہیں ہمارے وزیر مشیر اور دوسرے حکام جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں بجلی اور ٹیلیفون کی سہولتیں سرکاری طور پر مہیا کی جاتی ہیں۔ اگر تو سرکار بجلی کے بل ادا کرتی ہے تو بھی یہ عوام کی جیب پر ڈاکا زنی ہے اور اگر یہ بل ادا نہیں کیے جاتے تو بھی اس کی ادائیگی عوام کو لائن لاسز کی شکل میں ادا کرنا پڑتی ہے۔

بجلی چوروں کا یہ گروہ صرف وزیروں، مشیروں اور اعلیٰ افسران پر ہی مشتمل نہیں ہے بلکہ عموماً تحصیل اور سب تحصیل سطح کے با اختیار افسران بھی بجلی کے بل کی ادائیگی کو اپنی توہین خیال کرتے ہیں طاقت ور اور سیاسی گھرانے، بارعب زمیندار اور صنعت کار بھی حسب توفیق اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں نواز شریف کے دور حکومت میں ایک بار واپڈا میں اصلاح احوال کے لئے فوجی افسران کو بھی ڈیوٹیاں تفویض کی گئی تھیں انہی دنوں مجھے ایک ایس ڈی او (واپڈا) کے گھر جانے کا اتفاق ہوا رات کا وقت تھا گھر کے باہر مکمل اندھیرا تھا اور میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو وہاں بھی زیرو کا ایک بلب اندھیرے کو بھگانے کی ناکام کوشش میں مصروف تھا میں اس افسر کی بجلی کے معاملہ میں اس کفایت شعاری سے بڑا متاثر ہوا میرے استفسار کرنے پر اس نے وضاحت کی کہ فوجیوں کے آنے سے پہلے میرے گھر کا بل پچاس ساٹھ یونٹس پر مشتمل ہوتا تھا اب کیونکہ میٹر درست ہے اگر بل زیادہ یونٹس پر مشتمل ہو گا تو وہ پوچھیں گے کہ پہلے یہ بل کم کیوں آتا رہا اس لئے مجبوری ہے اس چھوٹی سی مثال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم موجود ہونا کس قدر ضروری ہے جب کہ ہمارے یہاں تو یہ سسٹم سرے سے ہی مفقود ہے بلکہ سب سے زیادہ بگاڑ اس طبقے میں پایا جاتا ہے جنہیں یہ سسٹم چلانے کے لئے متعین کیا جاتا ہے بات ہی بات میں بات دور نکل گئی آئیے ہم اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں کہ اگر ایک ڈسٹری بیوشن کمپنی ایک علاقے میں بجلی کے ایک ہزار یونٹ ڈسٹری بیوٹ کرتی ہے اس کے چار سو یونٹس متذکرہ بالا طبقے چوری کر لیتے ہیں جو نہ صرف کسی میٹر پر چلتے ہیں اور نہ ہی کسی لکھا پڑھی میں آتے ہیں گویا کہ میٹر ریڈر جب میٹروں کی ریڈنگ کرتا ہے تو بقیہ چھ سو یونٹس ان میٹروں پر چلے ہوئے ہوتے ہیں اور چرائے گئے ان چار سو یونٹس کو لائن لاسز میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس طرح جس شخص کا میٹر ساٹھ یونٹ شو کرتا ہے اس کو ایک سو یونٹ کا بل ادا کرنا پڑتا ہے ساٹھ یونٹس کا بل تو وہ اپنی استعمال شدہ بجلی کا ادا کر رہا ہے اور باقی چالیس یونٹس کا بل لائن لاسز کے نام پر وہ مسروقہ بجلی کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

ہمارے معاشرے کے وہ کمزور طبقے جو محض خوف کی بناء پر بجلی کا بل پوری ایمانداری سے ادا کرتے ہیں یہ خوف خدا کا بھی ہو سکتا ہے اور حکومت کا بھی ان پر مزید بوجھ لادتے چلے جانا کسی بھی طرح مستحسن عمل نہیں ہو سکتا۔ بعض اوقات اونٹ کی پشت پر رکھا جانے والا ایک تنکا ہی اس کی کمر توڑنے کے لئے کافی ہوتا ہے اوگرا، نیپرا، لیسکو، پیسکو، پیپکو، میپکو اور تمام اسی جیسے خوفناک ناموں والی کمپنیوں اور حکومت سے (اگر کہیں موجود ہے تو) دردمندانہ اپیل ہے کہ بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کے صبر اور ایمان کا مزید امتحان نہ ہی لیں تو بہتر ہے۔

 

Facebook Comments HS