محبت کی ٹوٹی سیڑھی


بلاج بچپن ہی سے لاپروا اور غیر ذمہ دار تھا۔ اسکول دیر سے جانا، پڑھائی کے معاملے میں بھی غیر سنجیدہ تھا۔ لیکن اسے دوست بنانے کا ہنر آ تا تھا۔ ہر وقت دوستوں کے حصار میں رہتا تھا۔ بلاج کی بہن نہیں تھی۔ اس لیے اسے اس رشتے کا لطیف احساس کم ہی تھا۔ گاؤں میں ایک مقبول نوجوان تھا۔ ہر چوڑا، مصلی، میراثی اس کا دوست تھا۔ اسی لا ابالی پن میں اس نے میٹرک تک کی تعلیم مکمل کرلی تھی۔ بلاج کا والد چاہتا تھا کہ اسے پولیس۔ میں نوکری مل جائے، جب پولیس کی بھرتیوں کا اشتہار آیا تو بلاج نے اپنے والد کی خواہش کی تکمیل کی اور سپاہی کے طور پر نوکری شروع کر دی۔ گاؤں کے لوگوں پر اس کا رعب بڑھ گیا۔ بلاج کو اردو ادب سے دلچسپی بھی تھی۔ ٹوٹی پھوٹی شاعری کر کے داد بھی وصول کرتا تھا۔

اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والا شخص حساس ہونے کے ساتھ ساتھ لطیف جذبات ضرور رکھتا ہے۔ بلاج کے اندر بھی یہ جذبات موجود تھے۔ جیسے جیسے شعور کی منازل طے کیں اس نے تعلیم کو سنجیدہ لینا شروع کیا۔ صبح کو پڑھنے جاتا تھا اور شام کو ڈیوٹی کرتا تھا اور اس طرح یونیورسٹی تک پہنچ گیا۔ اردو ایم۔ اے میں داخلہ لیا۔ شعرو شاعری کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ کلاس میں بھی اسی وجہ سے مقبول ہو گیا۔ یونیورسٹی ہمیشہ دیر سے ہی پہنچتا تھا۔ یہ اس کا بچپن سے ہی معمول تھا۔

”آ ج بہت دیر ہو گئی۔ موٹر سائکل کو بھی آ ج ہی خراب ہونا تھا۔“ بلاج خود کلامی کرتے ہوئے موٹر بائیک کو ٹھیک کر رہا تھا۔ کلاس میں پہنچا تو پروفیسر وقاص لیکچر دے کر جا چکے تھے۔

”سر چلے گئے ہیں؟ بلاج نے اپنے ایک کلاس فیلو سے پوچھا۔
”ہاں سر جا چکے ہیں اور آ ج کا لیکچر بہت اہم تھا، تم کہاں رہ گئے تھے“ اس ہم جماعت نے کہا۔

”یار آ ج زیادہ ہی دیر ہو گئی۔ اگر کسی نے لیکچر نوٹ کیا ہے تو مجھے دے دیں۔ میں نوٹ کر کے واپس دے دوں گا“

”میں نے تمام لیکچر نوٹ کیا ہے یہ لے لو!“ افشاں نے اپنی نوٹ بک آ گے بڑھاتے ہوئے کہا۔

بلاج نے نوٹ بک لی اور اسے کھول کر دیکھا تو سکتے میں آ گیا۔ افشاں اس کی کلاس میں شروع ہی سے ایک قابل لڑکی تھی۔ لیکن بلاج کی نظر کبھی اس پر نہ پڑی تھی۔ وہ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ حسن وجمال کی پیکر بھی تھی۔ افشاں جیسی خود حسین تھی اس کی تحریر سے بھی حسن جھلکتا تھا۔ بہت پر کشش جیسے موتی پرو رکھے ہوں۔ بلاج نے تحریر دیکھی تو حیرت میں مبتلا ہو گیا۔ ”کیا کوئی اتنی تیزی سے اتنا خوبصورت بھی لکھ سکتا ہے؟“ بلاج سوچ رہا تھا۔ ویسے بلاج بھی اپنی کلاس میں مقبول نوجوان تھا۔ خوبصورت، دراز قد دوستی کرنے میں ماہر تھا۔ پڑھائی میں اوسط درجہ کا تھا لیکن اس میں ایک شاعر پوشیدہ تھا۔ علم عروض میں بھی ماہر تھا۔ اسی لیے اپنے اساتذہ میں بھی مقبولیت حاصل کر لی تھی۔

”یہ لیں اپنی نوٹ بک، بہت شکریہ“ افشاں کی طرف بڑھاتے ہوئے بلاج نے کہا۔

”اس میں شکریے کی کیا بات ہے“ اس نے نظر اوپر اٹھائی اور بلاج کی طرف دیکھا۔ بلاج کی نظریں اس پر گڑ چکی تھیں۔ پہلی ہی نظر میں وہ اس کا اسیر ہو چکا تھا۔ وہ اس کے حسن کا دیوانہ ہو چکا تھا۔ یہیں سے ان کی محبت کی پہلی سیڑھی کا آ غاز ہوا تھا۔ اب ہر روز بلاج، افشاں کی ایک جھلک دیکھنے اور ملاقات کے لیے وقت سے پہلے ہی یونیورسٹی پہنچ جاتا تھا۔ افشاں کے دل میں بھی بلاج کے لیے محبت اور پھر عشق کے سمندر کی لہروں میں تیرنے لگے۔ محبت کے جذبات ایسے پروان چڑھنے لگے تھے جیسے مست الست ساون میں بہتا دریا۔ ہر آ نے والا دن ان کے عشق میں اضافہ کرتا جا رہا تھا۔ ”عشق اور مشک کبھی نہیں چھپتے“ ان کی پوشیدہ محبت اب سب پر آ شکار ہو چکی تھی۔ کلاس میں ہر شخص ان کی عشق کی بڑھتی پینگ دیکھ سکتا تھا۔

اساتذہ بھی ان کے اس تعلق سے واقف تھے۔ ایک دن ان دونوں کے استاد نے ان سے پوچھا۔ ”مستقبل میں کیا ارادہ ہے؟“

دونوں نے ایک دوسرے کی طرف پر اعتماد نظروں سے دیکھا کہ اب جدائی نا ممکن ہے۔ وہ صرف کلاس میں ہی نہیں، باہر بھی ملاقاتیں کرتے رہتے تھے۔ راتوں کو فون کالز کرتے ہوئے کبھی فجر کی اذان ہو جاتی مگر دونوں بے خبر رہتے۔ اگر افشاں کا بیلینس ختم ہو جاتا تو بلاج ہر خطرے سے لاپروا رات کے بارہ بجے تک بھی لوڈ کرواتا تھا۔ بلاج افشاں کی ہر بات اور خواہش کو پورا کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا تھا۔ پولیس میں نوکری کرتا تھا۔ پیسوں کی ریل پیل تھی۔ تنخواہ کے علاوہ جتنے کوئی اپنا کام کروانے کے بدلے دے دیتا وہ لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا تھا۔

زندگی کی یہ حسین شامیں اور رنگین صبحیں یونہی گزرتی گئیں۔ دونوں عشق کی آ خری سیڑھی تک پہنچنا چاہتے تھے۔

شاید سچے عاشقوں کو وصال نصیب ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا بھی ہے تو زمانہ دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ ایم۔ اے کا رزلٹ آ چکا تھا۔ افشاں نے کلاس میں ٹاپ کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کامیابی کی خوشی بلاج کو سب سے زیادہ ہوئی تھی۔

اب بچھڑنے کا وقت تھا لیکن موبائل کا ساتھ انھیں حوصلہ دیتا تھا۔ پھر ان میں ملاقات کا سلسلہ بھی جاری رہا تھا۔

بلاج کی والدہ نے ایک دن اس سے کہا۔
”بیٹا! اب تیری پڑھائی مکمل ہو گئی ہے۔ میں تیرا گھر بسانا چاہتی ہوں“

بلاج سوچ میں پڑھ گیا وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔ اپنی والدہ کی طرف دیکھ کر اس کی مسکراہٹ کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ معاشرتی رسم و رواج آ ڑے آ رہے تھے۔ بلاج اپنی ماں کو کیسے بتاتا کہ وہ اپنے لیے لڑکی پسند کر چکا ہے۔

”میری ماں میری شادی کرنا چاہتی ہے“ بلاج نے افشاں کو بتایا۔

”تو اپنی ماں سے میری بات کرو۔ ہم تو وعدہ کر چکے ہیں نا، مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے؟“ افشاں کی تیز تیز اکھڑتی سانسیں اس کی کیفیت بتا رہی تھیں۔

”میں کیسے بات کروں وہ میری شادی خالہ زاد سے کرنا چاہتی ہے اور میں اپنی ماں کا دل نہیں توڑ سکتا۔ پھر بھی میں کوشش کروں گا“

ان جملوں پر افشاں کے ارمان پانی بن کر بہنے لگے۔ وہ شیشے کی طرح ریزہ ریزہ ہو چکی تھی۔ دکھ کی گہری لہر افشاں کی رگوں سے گزری۔ اس نے صرف ٹھنڈی آہ بھری اور کچھ بول نہ سکی۔

بلاج نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی ماں کو راضی رکھنے کے لیے اپنی ان پڑھ خالہ زاد سے شادی کر لی۔ اس سے جب بھی بات کرتا اسے افشاں کا چہرہ نظر آ تا۔ بلاج کی کیفیت یہ تھی کہ جہاں بھی دیکھتا اسے افشاں دکھائی دیتی۔ لیکن اپنی ماں کی خوشی کی خاطر اپنی محبت قربان کر بیٹھا تھا۔ ذہنی اور دلی کیفیت بہت دل خراش تھی۔ تاہم اس نے اپنی بیوی کے ساتھ نا انصافی نہیں کی تھی۔ اس کے تمام حقوق پورے کرتا رہتا تھا۔

بہت مشکل سے افشاں سے تعلق توڑنے کی کوشش کرتا رہا۔ فون کالز کا سلسلہ کم ہو گیا۔ افشاں نے بھی کالز کرنا بند کر دیا تھا۔

کئی برس گزر گئے لیکن بلاج کے دل سے افشاں نہیں نکلی تھی۔ جب بھی کوئی حسین لڑکی دیکھتا اسے افشاں ہی نظر آتی تھی۔ وقت گزرتا گیا بلاج زندگی میں آ گے بڑھ چکا تھا۔ کسی حد تک وہ افشاں کو فراموش بھی کر چکا تھا۔

کافی عرصہ کے بعد بلاج فیس بک دیکھ رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے اس کی نظر ایک DP پر پڑی۔ دل زور سے دھڑکا جیسے وہ بند ہو جائے گا۔ آنکھوں میں گزرتے وقت کی فلم چلنے لگی۔ وہ بہ مشکل خود پہ قابو پا سکا تھا۔

”تو افشاں کی شادی ہو گئی اور اس کے بچے بھی ہیں۔ وہی نین نقش وہی حسن۔ ہو بہو افشاں کی تصویر ہیں۔ بیوفائی کے احساس جرم کے بھنور میں پھنس گیا۔

اوہ میرے خدا۔ یہ محبت اور محبت کی ٹوٹی سیڑھی! میں ذمہ دار ہوں۔ ٹوٹتی۔ سیڑھی۔ کا ”بلاج کی آ نکھیں بند تھیں اور وہ خوابوں کی دنیا میں افشاں کے ساتھ تھا۔ اسے ارد گرد کی کوئی خبر نہ تھی۔ اسے اس دنیا کی ضرورت نہ تھی۔ گھنٹوں اسی کیفیت میں رہا تھا کہ اس کی بیوی نے آواز دی آج اٹھنے کا ارادہ نہیں ہے؟ بہت دیر ہو گئی۔ ”بلاج کی آ نکھ کھلی اس کے سامنے افشاں کا چہرہ تھا۔ دل پر ایسے ہاتھ رکھا جیسے درد کی گولی پار ہو گئی ہو۔ وہ بہ مشکل بولا“ تم کہاں چلی گئی تھی.“

Facebook Comments HS