جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں


کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

جون صاحب کا یہ شعر آج بھی اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے اور کم و بیش پورے پاکستانی معاشرے کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔ کیونکہ جو خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں، جو کامیاب ہے ہم سے اس حسد کرتے ہیں، جو امیر ہے ہم اسے کرپٹ سمجھتے ہیں، کوئی مسکراتا ہے تو ہمیں جلن ہوتی ہے، درد پر کراہنے پر مذاق اڑتا ہے، کسی کی ترقی ہماری چڑ ہے۔ کوئی زندگی جی رہا ہے تو ہماری اسے بددعا ہے۔ دیکھا جائے تو ہم دنیا کے ناکارہ ترین لوگ ہیں ہماری صبح کا آغاز حسد سے ہوتا ہے اور اختتام دن نفرت سے۔ ہم پاکستانی لباس بشر میں عجیب و غلیظ مخلوق ہیں۔

ہم اپنے نکمے پن اور ناکامی کا غصہ کامیاب لوگوں پر اتارتے ہیں، ہم اپنی نامکمل، ادھوری خواہشات اور محرومیوں کو کسی کی غیر محرومی کی بددعا سے خوراک دیتے ہیں۔ اجتماعی طور پر ہمارے معاشرے کا مائنڈ سیٹ ہی عجیب ہو گیا ہے۔ ہم بہت ساری بری عادتوں کا شکار ہو گئے ہیں اور ان میں سے ایک عادت یہ ہے کہ ہم اپنی نا اہلی اور ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ ہم ہر امیر آدمی کو کرپٹ، لٹیرا، چور سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا امیر ہونا جرم ہے یا ایڈونچر کرنا جرم ہے، یہ دونوں چیزیں اس وقت تک جرم ہو سکتی ہے جب تک ہم خود نہ اس میں ملوث ہو کیونکہ یہ سب کی خواہش ہوتی ہے۔

گزشتہ دنوں پوری دنیا میں ایک شور تھا وہ شور تھا ٹائٹن نامی سیاحتی آبدوز کی گمشدگی کا جس نے پوری دنیا کی دلچسپی اپنی جانب کرلی لیکن اس آبدوز میں سوار پانچ لوگوں میں سے دو لوگ پاکستانی باپ بیٹے تھے اور پاکستانی کی امیر ترین فیملی کے فرد تھے۔ ایک ٹکٹ پاکستانی روپے کے مطابق تقریباً ساڑھے سات کروڑ کا تھا۔ مرنے والے باپ بیٹے ایڈونچر کے شوقین تھے اور اسی بنا پر یہ رسک لیا اور اسی رسک نے انھوں موت کی آغوش میں لے لیا۔

اس موت پر دنیا نے کیا پیغام لیا اس کا تو اندازہ نہیں البتہ پاکستانی ہمیشہ کی طرح تبصروں میں آگے رہیں اور مرنے والے پاکستانیوں کے خلاف بغیر کسی ثبوت یا دستاویز کے بہت غلط باتیں کی گئی اور پھیلائی گئی۔ یعنی پاکستانیوں کے لاکھوں منہ اور کروڑوں باتیں۔ پاکستانی اجتماعی طور پر جس دانش پر فائز ہے اس پر دنیا کے بڑے برے فلسفی بھی بال نوچتے رہ جاتے ہیں۔

کہنے والوں نے بہت کچھ کہا اور پتا نہیں کیا کچھ کہا۔ مختصر یہ کہ خوب گھٹیا اور بکواس باتیں کی گئی۔ مرنے والوں کے ایڈونچر پر، ان کی شاہانہ زندگی پر، ان کے کاروبار پر، ان کی انڈسٹریز پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے البتہ کچھ لوگوں نے مرنے والوں کے لئے بہت سی مثبت باتیں بھی ہے جو کم ضرور تھی لیکن اس معاشرے میں امید ایک چراغ ضرور تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ امیر لوگ بہت سارے ایسے کام کرتے ہیں جو عام بندہ نہیں کر پاتا۔ ایڈونچر کرنے کا شوق سب کو ہوتا ہے، دنیا گھومنے کا شوق پوری دنیا کو ہوتا ہے لیکن ہر کسی کا شوق پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ اس دنیا میں سب کے معاملات الگ ہیں اور سب کے نصیب الگ۔ جو محنت کرتا ہے اور حسد نہیں کرتا کامیابی اس کا مقدر بنتی ہے لیکن جو حسد کرتا ہے اور نکما پن دکھاتا ہے وہ صرف چند لوگوں میں باتیں کرتا رہ جاتا ہے اور اپنی پوری زندگی برباد کر دیتے ہیں۔

بظاہر اس حادثے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ قوم یعنی پاکستانی مسلمان قوم تنقید کرنے میں، حسد کرنے میں، اپنا وقت فضول گوئی میں، اپنی طاقت ٹانگ اڑانے میں اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے میں سب سے آگے ہیں اور اس بیماری کا کوئی علاج ہی نہیں کیونکہ یہ اگر ایک بیماری ہوتی تو شاید ممکن ہوتا مگر یہ لاتعداد بیماریاں ہیں جس کا ٹھیک ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

Facebook Comments HS