ایران سے (2)


ایران سے اپنے مشاہدات اور تاثرات سپرد قلم کرتے ہوئے جو موضوع سب سے قبل زیر بحث لانا چاہتا ہوں کہ ایران اور سعودی عرب کے مابین چین کی ثالثی میں جو سفارتی تعلقات کی بحالی کا اقدام کیا گیا ہے وہ ایرانیوں کی نظر میں ایک مثبت قدم ہے ان کی نظر مستقبل کے ممکنہ واقعات پر ٹکی ہوئی ہے جب ان سے اس سوچ کی وجہ دریافت کرو تو کم و بیش سب ہی یہ کہتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات تو اس سے قبل بھی موجود تھے مگر ان کے ہونے کے باوجود جو تلخی تھی وہ ساری دنیا جانتی ہے اور اصل مسئلہ صرف سفارتی روابط کے از سر نو بحال ہونے سے حل نہیں ہو گا بلکہ دونوں ممالک کو ہر موضوع پر چاہے اس سے کتنی ہی تلخ یادیں کیوں نہ پیوست ہو گفتگو کرنی چاہیے اور کرتے رہنی چاہیے۔ ویسے بھی ایران میں کچھ عرصہ قبل کی حجاب کے حوالے سے تحریک کے بھی ایرانی حکومتی زعما پر گہرے اثرات رونما ہوئے ہیں اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ اس تحریک میں برستے ڈالروں کی وجہ سے ایران میں جو بے چینی پھیلی ہے اس سے ابھی تو مقابلہ کر لیا گیا ہے لیکن اگر مغربی دنیا سے بھی ایران کی مخالفت رہی اور عالم اسلام میں بھی اس کے لئے مشکلات رہی تو اس کے لئے پریشانی بہت بڑھ جائے گی اس لئے عالم اسلام کے تمام ممالک سے اس کے تعلقات معمول کے مطابق ہونے چاہیے۔

ایران میں اس وقت زبردست طور پر یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ او آئی سی کو حقیقی معنوں میں فعال کیا جائے اور ان کے نزدیک حقیقی معنوں میں فعالیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ او آئی سی کوئی بار بار صرف قراردادوں کو پاس کرتی رہے بلکہ وہ اس سے بڑھ کر او آئی سی کے کردار کے خواہش مند ہے کہ یہ ادارہ اتنی طاقت بھی رکھتا ہو کہ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کر سکے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے اس کو مکمل طور پر از سر نو تشکیل دینا چاہیے اور ایران میں یہ خیال بہت مضبوط ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جو کہ اپنے جغرافیہ، آبادی وسائل اور عرب غیر عرب مسلمان ممالک سے اپنے تعلقات کی وجہ سے اس صلاحیت کا حامل ہے کہ وہ او آئی سی کی حقیقی فعالیت منزل تک پہنچنے کے لئے کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اور اگر پاکستان اپنے داخلی سیاسی انتشار پر قابو پالے تو اس سے ناصرف کے پاکستان کو غیر معمولی طور پر فوائد حاصل ہوں گے بلکہ اس کے بہترین نتائج سے عالم اسلام بھی مستفید ہو سکیں گا۔

پاکستان عالم اسلام میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے متحرک بھی ہوتا ہے ادھر خصوصی طور پر اس حوالے سے نواز شریف کا نام لیا جاتا ہے کہ وہ سعودی عرب ایران تعلقات کی تلخی کو زائل کرنے کی غرض سے بہت متحرک تھے اور مسلمہ جمہوری رہنما سیاست کا وسیع تجربہ رکھنے کے سبب سے ان کی کاوشیں رنگ بھی لا رہی تھی۔ تہران اور ریاض ان کی بات کو سن اور سمجھ رہے تھے مگر پھر وہ خود بد ترین حالات کا شکار ہو گئے اور ان کی کوششیں مکمل نہ ہو سکی۔ ایک صاحب نے تو مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں نواز شریف ان حالات کا شکار نہ ہوتے تو بہت ممکن تھا کہ ایران سعودی عرب تعلقات کے حوالے سے کسی بریک تھرو میں چین کی جگہ پاکستان کھڑا ہوتا اور یہ سہرا پاکستان کے سر پر سجتا مگر اب تو نظریں مستقبل پر گڑی ہوئی ہے اور اب بھی ادھر یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں آئندہ انتخابات کے بعد نواز شریف وزیر اعظم ہوں گے اور وہ یہ کام جہاں پر چھوڑ کر گئے تھے دوبارہ وہیں سے اس کا آغاز کر دیں گے۔

پاکستان میں ایک اور بھی تاثر بہت مضبوطی سے قایم ہے کہ کچھ مذہبی عناصر کو جو سیاست میں بھی شامل ہیں ایران کی حمایت حاصل ہیں بلکہ پاکستان میں وہ لوگ ایران کے ترجمان ہیں مگر وہاں پر اس حوالے سے ایک اور ہی سوچ سامنے آئی کہ ہماری دوستی پاکستانی عوام سے ہیں اور ایران پاکستان میں موجود ہر طبقہ کا دوست ہے آپ جن عناصر کی بات کر رہے ہیں یہ ہمارے وہاں پر خود ساختہ ترجمان بنے بیٹھے ہیں اور ان مذہبی منافرت پھیلانے والوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارا ایک مذہبی کلچر ہے دنیا بھر سے طالب علم اس دینی تعلیم کو حاصل کرنے کی غرض سے ایران کا رخ اختیار کرتے ہیں اور جب ان میں سے کچھ لوگ اپنے وطن واپس پہنچتے ہیں تو وہ اپنے مذہبی بنیادوں پر قائم روابط کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ جیسے ان کے یہ روابط حکومت ایران کے ساتھ ہیں ایسا ہرگز نہیں ہے پھر ایسا تک واقعہ پیش آیا ہے کہ پاکستان کے ایک سینیٹر ایران تشریف لائے جو اب سینیٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں ان کو پاکستان کے ایک پارلیمنٹیرین ہونے کے ناتے ایران میں پروٹوکول دیا گیا مگر جب وہ سینیٹر واپس پاکستان چلے گئے تو انہوں نے اپنی ڈوبتی سیاست کو مذہبی رنگ میں رنگنا شروع کر دیا اور دورہ ایران اور اس میں لئے گئے پروٹوکول کو ایسے پیش کرنا شروع کر دیا کہ جیسے اب ایران کے ترجمان وہ ہے اور ہم سر پیٹتے رہ گئے کہ ہم نے صرف بطور پارلیمنٹیرین پروٹوکول دیا تھا اور انہوں نے اس کو کیا سے کیا بنا دیا ہے۔

وہاں یہ تصور بہت مضبوط ہے کہ ایران کے یہ سرے سے مفاد میں نہیں ہے کہ پاکستان میں اس کی شناخت کسی مخصوص مذہبی گروہ کے ساتھ کی جائے کیوں کہ اس سے ایران کے لئے ایک تعصب پیدا ہو گا جو کہ کسی طور بھی پاکستان میں ایرانی مفادات کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا ہے اور یہ بات درست بھی ہے۔ ایران میں پاکستانی بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں بہت متحرک ہیں۔ مشہد میں اردو بولنے والے زائرین کے لئے علیحدہ سے ایک سنٹر قایم ہے اس سنٹر کے انچارج علی بھائی اور شہزاد بخاری ہر لمحہ خدمت کے لئے مستعد رہتے ہیں۔ میں نے شہزاد بخاری سے ایران میں مذہبی آزادی کے حوالے سے کچھ تشویش ناک خبروں کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ مشہد میں جس محلے میں قیام پذیر ہے وہاں پر اہل سنت کی جامع مسجد ہے اور مشہد کے مضافات میں ہی ادارہ تعلیم القرآن کے نام سے ہی اہل سنت کا مدرسہ قائم ہے اور ان تمام کو ایرانی حکومت کی ویسے ہی سرپرستی حاصل ہیں جیسے کہ دیگر کو حاصل ہیں۔ شہزاد بخاری میں پاکستانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ان کی ہر زائر سے گفتگو کا آغاز ہی پاکستان سے محبت کا درس دینے سے ہوتا ہے اور اس کے لئے وہ مذہبی حوالوں کا بھی برمحل استعمال کرتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS