کائنات پر سایہ فگن شفقت اور قربان گاہ


رضا صاحب جب اپنا بکرا قربان گاہ کی طرف لے کر چلے تو بکرے نے کہرام مچا دیا آسمان سر پر اٹھا لیا وہ کسی صورت قربان گاہ جانے کو تیار نہ تھا۔ رضا صاحب کے لیے یہ صورت حال اتنی ہی غیر متوقع تھی کہ جتنی بکرے کے لیے۔ گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں آس پڑوس سے مدد طلب کی تو ایک پڑوسی نے رضا صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ مجھے لگتا ہے آپ کا بکرا کسی تکلیف میں مبتلا ہے اور چوں کہ ہم اس بے زبان کی بات نہیں سمجھ سکتے لہاذا ہم اس کی تکلیف کا ادراک نہیں کر پا رہے۔ لیکن میں ایک ایسے چرواہے کو جانتا ہوں جس نے اپنی تمام عمر جانوروں کی دیکھ بھال کرتے گزاری ہے اور اس کی جانوروں سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ساری زندگی گوشت کو ہاتھ نہیں لگایا اور اپنی خوراک میں بھی بڑی احتیاط برتتا ہے صرف اس سبزی کا استعمال کرتا ہے جو جانوروں کو مرغوب نہ ہو۔ اگر آپ اجازت دیں تو اسے بلوا بھیجوں شاید وہ کوئی راستہ نکال لے۔

رضا صاحب، ہاں ہاں ضرور فوراً بلوا لو۔ قربانی کا وقت نکلا جا رہا ہے مہمان بس آتے ہی ہوں گے۔ بیگم نے کلیجی کا مسالا بھوننے کے لیے چولھے پر چڑھا رکھا ہے۔ ہم تو کہہ کر آئے تھے کہ پانچ منٹ میں کلیجہ نکال کر رکھ دیں گے اور اب دیکھو یہ بکرا تو مانتا ہی نہیں۔ ہمیں تو بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے کیا منہ دکھائیں گے مہمانوں کو۔

اس کھینچا تانی اور شور شرابے میں محلے کے لوگ بھی رضا صاحب کے گھر کے باہر جمع ہو چکے تھے۔ کچھ ہی دیر میں ایک معمر شخص میلے کچلے سے کرتے پاجامے میں ملبوس پاؤں میں دو پٹی کی چپل پہنے بھیڑ میں سے نمودار ہوا تو پڑوسی نے رضا صاحب کو متوجہ کرنے کے لیے کہنی ماری اور رازدارانہ لہجہ میں کہا۔ یہی ہے وہ چرواہا جس کا ہم نے آپ سے ذکر کیا تھا۔

چرواہے، نے ایک نظر بکرے پر ڈالی جو اب کراہ رہا تھا مسلسل کھینچا تانی کی وجہ سے بکرے کی گردن پر رسی کافی تنگ ہو چکی تھی اور چیخنے چلانے کی وجہ سے آواز بھی گھٹ کر رہ گئی تھی۔ چرواہے کی نظر بکرے سے ہوتی ہوئی اس رسی پر پڑی جو رضا صاحب نے بڑی مضبوطی سے تھام رکھی تھی۔

چرواہے نے تیزی سے بڑھ کر رضا صاحب کے ہاتھ سے رسی چھڑوائی اور بکرے کی گردن پر تنگ پڑ جانے والے پھندے کو ڈھیلا کیا۔ وہ بکرے کے پاس بیٹھ گیا اور پیار سے اس کے بدن پر ہاتھ پھیرنے لگا بکرے نے گردن اوپر اٹھائی تو اس کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں بکرے نے اپنا چہرہ چرواہے کے کندھے پر رکھ دیا چرواہے کو اس لمحے اپنے کندھے پر نمی محسوس ہو رہی تھی۔

چرواہا اور بکرا ایک دوسرے کو گلے لگائے بیٹھے رہے نہ جانے کتنی ہی خاموش ساعتیں یوں ہی گزر گئیں۔ اس منظر کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا جیسے شفقت کا فطری احساس پوری کائنات پر سایہ فگن ہو۔

رضا صاحب، ذرا بے چین طبیعت کے مالک تھے وہ بار بار کلائی میں بندھی گھڑی دیکھتے اور پہلو بدلتے۔ جب ان سے نہ رہا گیا تو بالآخر بول ہی پڑے۔ اماں کچھ کرو گے بھی یا یوں ہی سارا دن بکرے کے سامنے کنڈلی مارے بیٹھے رہو گے۔

رضا صاحب کی جھنجھلائی ہوئی آواز نے چرواہے اور بکرے کو سنگین صورت حال کا احساس دلایا اور وہ دونوں یوں چونکے جیسے کسی خواب سے بیدار ہوئے ہوں۔ چرواہا، رضا صاحب کی طرف مڑا اور استادہ کھڑا ہو گیا چرواہے کے کھڑے ہوتے ہی بکرا چرواہے کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔ چرواہا رضا صاحب اور بکرے کے درمیان سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا تھا۔ چرواہا اگرچہ چھوٹا قد و قامت رکھتا تھا لیکن اس لمحے اس کے اطراف کی ہر شے اس کے سامنے پست قامت دکھائی دے رہی تھی۔ چرواہے نے رضا صاحب سے دریافت کیا آپ نے یہ بکرا کب خریدا تھا۔

رضا صاحب، جھنجھلاتے ہوئے کہنے لگے۔ ارے بھائی کل دوپہر کو ہی تو لائیں ہیں اس نا مراد کو اچھا بھلا اچھلتا کودتا آیا تھا ہمارے ساتھ بچوں سے بھی خوب اٹکھیلیاں کر رہا تھا۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ کل رات سے بس ایک کونے میں پڑا ہے نہ کچھ کھایا نہ پیا اور اب دیکھو ایک ہنگامہ برپا کر رکھا ہے اس نے۔ ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آتا۔

چرواہا، رضا صاحب سے مخاطب ہوا۔ بات دراصل یہ ہے رضا صاحب کہ یہ بکرا کوئی معمولی جانور نہیں ہے اس نے اپنی تمام عمر راست بازی میں گزاری ہے ساری زندگی ایک ایک قدم بہت پھونک پھونک کر اٹھایا ہے یہ زہد و تقویٰ کے اعلی ترین مقام پر فائز ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ اس نے اتنی مشقت کیوں اٹھائی ہے۔

رضا صاحب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا انکھیں پھٹی پڑیں تھیں چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا وہ چرواہے کو ایسے گھور رہے تھے جیسے کوئی پچھل پیری رات کے سناٹے میں ان کے سامنے آ کھڑی ہو۔

چرواہے، نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ اس نے یہ ساری مشقت اس لیے اٹھائی تھی کہ ایک دن وہ خدا کی راہ میں قربان کیا جائے گا اور وہ خدا کی راہ میں محض جان کا نذرانہ پیش نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ وہ اپنے خدا پر ایک ایسی زندگی نچھاور کرنا چاہتا تھا کہ جو اس کی منظور نظر ہو۔ لیکن جب سے یہ آپ کے گھر آیا ہے اس کا زاویہ نگاہ بدل گیا ہے فکر کے چند نئے پہلووں نے اسے آ گھیرا ہے اس پر وہ حقیقت آشکار ہوئی ہے جو اب تک اس سے پوشیدہ تھی۔ وہ سمجھ گیا ہے کہ اس کے جسم کا ایک ایک حصہ ذائقہ دار اور مرغوب غذائیں پکانے میں استعمال کیا جائے گا۔ پر تعیش دسترخوان سجائے جائیں گے آسودہ حال اور حریص انسان اس کے گوشت پر دعوتیں اڑائیں گے جبکہ نادار اور ضرورت مند کو اس کی اوجڑی پر ہی گزارا کرنا ہو گا۔ اس کی کھال کے حصول کے لیے لڑائی جھگڑے ہوں گے جس سے قیمتی ملبوسات تیار کیے جائیں گے اور بازاروں میں امراء کی خوش لباسی اور سرمائے کے حصول کے لیے سجا دیے جائیں گے۔

چرواہے، نے ذرا توقف کیا اور مجمع پر ایک نظر ڈالی جو حیران و پریشان چرواہے کو تکے جا رہا تھا۔ چرواہا بات جاری رکھتے ہوئے مزید گویا ہوا۔ رضا صاحب یہ بکرا انسانوں کی اشتہا، ان کی خود نمائی اور عقائد کی سفاکیت کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہتا۔ رضا صاحب یہ بکرا حرام موت مرنے کے لیے تیار نہیں۔

حرام موت کا سننا تھا کہ رضا صاحب ہتھے سے اکھڑ گئے اور آگے بڑھ کر چرواہے کا گریبان پکڑ لیا اور غصے کے عالم چیخنے لگے۔ ابے پاگل ہو گیا ہے کیا تو، یہ کیا اول فول بکے جا رہا ہے۔ قربانی کر رہے ہیں ہم اس کی سنت رسول ہے اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور تو اور یہ بکرا بھی پورے دو دانت کا ہے قربانی بھی جائز ہے۔ اور تو اسے حرام موت کہہ رہا ہے تیری یہ مجال۔ لوگوں نے رضا صاحب سے چرواہے کا گریبان چھڑوایا۔

رضا صاحب، نے خود پر قابو پاتے ہوئے چرواہے سے پوچھا۔ ایک بات تو بتاؤ یہ بکرا تو بے زبان ہے اور ہم نے تمھیں بھی اس سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ تو پھر ہم یہ کیسے یقین کر لیں کہ جو کچھ تم کہۂ رہے ہو یہ بکرا بھی ویسا ہی محسوس کر رہا ہے۔

چرواہے، نے کچھ دیر توقف کے بعد عرض کیا۔ رضا صاحب زبان فکر کے لیے ضروری ہوتی ہے احساس کے لیے نہیں۔ زبان دلیل مہیا کرتی ہے زندگی نہیں۔ کامل محبت کا احساس بڑی خاموشی سے رگوں میں سرایت کرتا ہے۔ رحم، محبت، شفقت یہ محض لفظ نہیں ہیں یہ تو جذبے ہیں۔ اور جذبے کسی مخصوص عقیدے یا نقطہ نظر کے تحت پروان نہیں چڑھتے۔ مخصوص نقطہ نظر اور عقیدے کے تحت تو صرف بھینٹ چڑھائی جاتی ہے۔

چرواہا، اپنی بات جاری رکھتے ہوئے۔ رضا صاحب میری گزارش ہے کہ آپ اس بکرے کی قربانی سے باز رہیے۔ یہ بہت تکلیف میں ہے اسے وقت درکار ہے کیوں کہ جو بت اس نے بڑی مشقت سے تراشا تھا وہ اب پارہ پارہ ہو چکا ہے۔ یہ اپنے وجود کی کرچیاں سمیٹنے میں مصروف ہے جو نہ جانے کتنے ہی ماہ و سال پر پھیلی ہوئی ہیں کیوں کہ زہد و تقوی کا وہ بت یہ خود ہی تو تھا۔

چرواہے نے ایک دفعہ پھر کچھ دیر توقف کیا رضا صاحب کی آنکھوں میں جھانکا۔ جہاں موسم کروٹ بدل رہا تھا تندی اور سختی کی جگہ نرمی اور رحم نے لے لی تھی۔ چرواہے، نے اپنی بات جاری رکھی۔ رضا صاحب اس بکرے پر رحم کیجیے یہ واپس جانا چاہتا ہے۔

رضا صاحب، نے حیرت سے پوچھا واپس جانا چاہتا ہے آخر کہاں جانا چاہتا ہے یہ۔ رضا صاحب کی آواز بہت دور سے آتی محسوس ہو رہی تھی ان کے حواس کہیں گم ہو کر رہ گئے تھے۔

چرواہا، پھر گویا ہوا۔ یہ واپس اپنے ریوڑ میں اپنے بچوں کے پاس جانا چاہتا ہے یہ انھیں سچائی بتانا چاہتا ہے اسے ڈر ہے کہ کہیں اس کے بچے بھی اسی سراب کے پیچھے نہ نکل کھڑے ہوں کہ جس کے پیچھے بھاگتے اس نے اپنی زندگی گنوا دی تھی۔ شاید اس طرح وہ اپنے وجود کی کرچیاں سمیٹنے میں کامیاب ہو جائے۔ شاید وہ بت پرستی سے نجات پا جائے۔

رضا صاحب، نے بکرے کی آنکھوں میں ذرا جھانکا تو لرز اٹھے۔ رسی چرواہے کے ہاتھ میں تھمائی اور گھر کے اندر چلے گے۔ اور مجمع خاموشی سے سر جھکائے اپنی اپنی قربان گاہوں کی طرف لوٹ گیا۔

چرواہے نے بڑی ہمدردی سے اپنی اپنی قربان گاہوں کی طرف لوٹتے مجمع کو ایک نظر دیکھا اور بکرے کو ساتھ لیے گیت گاتا چل دیا۔ چرواہا گیت گاتا جاتا اور بکرا اس کے پیچھے سر دھنتا جاتا

چرواہا گیت گا رہا تھا۔
زندگی اک ادھ کھلی گرہ ہے کوئی
تمام عمر جسے گھورتے ہوئے گزری
کہیں یہ کھل نہ جائے اک دن
کہیں یہ دھوکا نظر کا نظروں میں آ نہ جائے
کہیں یہ پردہ اٹھے تو منظر بدل نہ جائے
جہاں جسم اور روح کے تقاضے کچھ اور ہی ہوں
محبتوں کے جہاں ارادے کچھ اور ہی ہوں
جہاں نہ میں ہوں نہ تم ہو شاید
جہاں یہ سائے کچھ اور ہی ہوں
جہاں نہ کوئی زبان ہو۔ نہ لفظ ہوں۔ نہ معنی ہوں
جہاں آوازوں کے دائرے بھی ہمشکل ہوں
شناخت تاریخ کا جبر ٹھہرے
ہماری پہچان کچھ اور ہی ہو

 

Facebook Comments HS