ہم آج کہاں کھڑے ہیں؟
اس بات پر بحث لاحاصل ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی ملک اور خاص طور پر ہندوستان جنگ مسلط کر سکتا ہے لیکن اس بات پر بحث اور غورو فکر وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے خلاف معاشی جنگ برپا کر کے اور اندرونی سیاسی ابتری اور امن و مان کوبگاڑ کر اس مملکت خدادا پر ایسی کاری ضربیں لگائی جائیں کہ یہاں کاروبار کرناممکن نہ رہے اور یہی بے چینی اور ابتری پہلے سے معاشی طور پرآفت زدہ ملک کو مزید پستیوں میں لے جائے گی جس کا خدانخواستہ کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہے کیونکہ ایسی بے چینی اور تباہ حالات کا قوم مشکل سے ہی مقابلہ کر سکتی ہے لہذا پاکستان دشمن طاقتوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایٹمی ملک پر فوجی حملہ کرنے کی بجائے اس پر معاشی حملہ کیا جائے جو فوجی حملے کے مقابلے میں کہیں موثر، آسان، کم خرچ اور کاری ہے اور یہ کاری وارکامیابی سے جاری ہیں کیونکہ آج کے جدید دور میں ایٹم جیسے خطرناک ہتھیار کے حامل ملک کوطاقت سے نہیں بلکہ معاشی طور پر ہی مغلوب کیا جاسکتا ہے اورہم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
بلاشبہ امریکہ اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور کا کردار ادا کر رہا ہے اور دنیا کے ہر کونے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے وہ کسی بھی مہم جوئی سے نہیں چوکتا اور نہ ہی اس کے ہاں معافی کا کوئی خانہ موجود ہے وہ جب چاہے جہاں چاہے دنیا کے کسی ملک کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا ہے اور بجا رہا ہے۔ پاکستان امریکہ کا ہمسائیہ ملک نہیں ہے بلکہ اس سے سات سمندر پار والا تعلق ہے اوراس تعلق کا فیصلہ قیام پاکستان کے فوری بعد ہی ہمارے اس وقت کے فیصلوں سازوں نے کر دیا تھا جنہوں نے اس وقت کی دوسری سپر پاور سوویت یونین جو کہ ہماری جغرافیائی حدوں کے کافی قریب تھی اور کسی حد تک اسے ہمسائیگی کا اعزاز بھی بخشا جا سکتا تھا لیکن شاید اس وقت کوئی مصلحت یا منطق ہو گی جس کی وجہ سے سات سمندر پار والے تعلق کو اہمیت دی گئی اوریوں پاکستان امریکہ کا اور ہندوستان روس کا تعلق دار بن گیااور دونوں نوزائیدہ ملک دو عالمی طاقتوں میں بٹ گئے۔
ہم نے جس دو قومی نظریئے کا سہارا لے کر بھارت سے اپنا حصہ لیا تھا اس دو قومی نظریئے کی بنیاد ہندو مسلم دو قومیں تھیں۔ ہندوستان کی اس وقت کی مقبول جماعت کانگریس ہر ہندوستانی کو ایک قوم کا فرد قرار دیتی تھی لیکن پہلے علامہ محمد اقبال اور ان کے بعد محمد علی جناح نے یہ طے کیا کہ ایک قوم کا تصور عملاً ناممکن ہے اور اگر ہم انگریزوں سے وہ وہ ہندستان واپس نہیں لے سکتے جو ان کے قبضے سے پہلے ہمارا تھاتو ہمیں مسلمانوں کے لئے اسی متحدہ ہندوستان میں سے ایک الگ ملک ضرور حاصل کر لینا چاہئے جہاں ہم ہندو ثقافت سے محفوظ رہ کر اپنی پسند کی زندگی گزر سکیں۔ اس کے لئے فضا پہلے سے تیار تھی اور 1940 میں ایک علیحدہ ملک کے حصول کے لئے اعلان کے بعدصرف سات برس کے مختصر عرصے میں پاکستان وجود میں آگیا جس نے دنیا کو بھی حیران کر دیا اور بھارت کی پریشانی میں اضافہ کر دیا۔ پاکستان کے حکمرانوں نے انگریز سے آزادی کے فوری بعد ہی ایک اور غلامی کو ترجیحی دی اور امریکی غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیااور یہ آج پچھتر برس کے بعد یہ طوق گلے سے نکالنے کے لئے بے چین ہیں لیکن اب یہ طوق ہمارے لئے پھانسی کا پھندہ بن چکا ہے ہم پاکستانیوں اور ہماری قیادت نے اس مملکت خداداد کے ساتھ جو سلوک کیا اس کو دہرانے کا مطلب اپنے زخموں پر خود ہی نمک پاشی کرنا ہے۔
تھوڑا سا اور ماضی میں چلے جائیں تو تاریخ میں کتنی ہی اپنے وقت کی ناقابل تسخیر سلطنتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور اپنے پیچھے صرف داستانیں چھوڑ گئیں یا پتھروں کی بنی عمارتیں جو آج کے دنیا میں اس عمارتوں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔ سوویت یونین جیسی عالمی طاقت راتوں رات ختم ہوگئی اور اس کا نام و نشان مٹ گیا حالانکہ یہ ایک صرف فوجی طاقت نہیں تھی بلکہ ایک نظریئے کی بھی علمبردار تھی۔سوویت یونین کے کیمونسٹ نظریئے کو دنیا بھر میں بڑی پذیرائی ملی لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ یہ کیمونسٹ ریاست اپنے ساتھ اپنے غیر انسانی نظریئے کمیونزم کو بھی لے ڈوبی۔ دوسری بچ جانے والی طاقت امریکہ ہے جو کہ بلاشبہ اس وقت انسانی تاریخ کی سب سے طاقت ور حکومت ہے۔ لیکن امریکہ بھی ایک عام آدمی کے غیر علانیہ استحصال کے سرمایہ دارانہ نظام کا مرکز ہے اور پوری دنیا کی حکمرانی کے لئے بے چین ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ کسی ملک پر براہ راست حکمرانی کی جائے بلکہ اب زمانہ معاشی حکمرانی کا ہے اور امریکہ معاشی ہتھیار کو کامیابی سے استعمال کرتے ہوئے دنیا کے بیشتر کم وسیلہ ملکوں پر بلاواسطہ حکمرانی کر رہا ہے اور ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جس کی قسمت کے فیصلے آج بھی امریکہ کی مرضی و منشا کے مرہون منت ہیں۔ آئی ایم ایف وہ کاری ہتھیار ہے جس کو امریکہ دنیا کی کمزور معیشت والی ریاستوں کو کنٹروک کرنے کے لئے کامیابی سے استعمال کرتا ہے۔
اس طویل تمہید کا مقصد یہ ہے کہ معاشی اور سیاسی بحرانوں میں گھر کرہم آج کہاں کھڑے ہیں کیا ہمارا ماضی کا فیصلہ درست تھا یا ہم آج جو فیصلے کر رہے ہیں وہ درست ہیں اور ان فیصلوں کے بعد ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ امریکہ سے فاصلے کی دوری کے باوجود اس کے اتحادی والا فیصلہ درست تھا یا آج روس اور ہمسائیہ دوست ملک چین کے ساتھ معیشت کی بگاڑ کو ٹھیک کرنے کے لئے امریکہ کی مرضی کے بغیر جومعاہدے کئے جا رہے ہیں کیا وہ درست ثابت ہوں گے اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گااور وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے۔


