اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ سے معذرت کے ساتھ

محترم اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ ہماری سیاست کے بڑے نام ہیں ان کی صوبائی سے وفاق کی وزارتوں تک کا سفر ان کی جدوجہد اور سیاست کے اعترافات کے زمرے میں آتے رہے ہیں ان حضرات کی وکلا کے حقوق، آئین کی بلا کسی روک ٹوک کے بالادستی و نفاذ کے لئے کاشوں کا ہر ایک معترف رہا ہے۔ یہ قانون کی بالادستی کو بھی دین کے ایک رکن کے برابر کا درجہ دیتے رہے ہیں۔ جمہوریت کے لئے تو یہ حضرات اس طرح بلکتے رہے جیسے کوئی بچہ روٹی کے لئے بلکتا ہو۔ مگر اوروں کی طرح ان کے بھی قانون کی بالادستی، عدلیہ اور ججوں کی آزادی، اور جمہوریت کے معیار کی بھی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ یہ تینوں چیزوں کو وہ خالص معنوں میں لینے کی بجائے اسے اضافی یا relative معنوں میں لیتے ہیں۔ میرا غالب گمان ہے کہ یہ دونوں قابل احترام وکلا قانون کی بالادستی، عدلیہ و ججوں کی آزادی اور جمہوریت کو زمان و مکان کے معیار سے مشروط رکھتے ہیں۔
حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں دونوں وکلا حضرات نے کہا تھا کہ جب بھی قانون اور آئین کے خلاف سنگین خلاف ورزی ہوگی وہ ضرور آواز اٹھائیں گے اور خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کریں گے (ہو سکتا ہے انہوں نے کسی اور ترتیب سے باتیں کی ہوں لیکن مفہوم بالکل یہی تھا) اسی طرح کئی مواقع پر اعتزاز احسن صاحب نے قومی اسمبلی اور مختلف پریس کانفرنس کے حوالے دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے خلاف تقریروں پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ ملک بھر کے وکلا 2007 کی طرز پر تحریک شروع کرسکتے ہیں۔ اسی طرح کے خیالات کا اظہار ان کے وکیل جناب لطیف کھوسہ نے بھی کئے تھے۔
اس موقع پر نہ جانے کیوں مجھے جسٹس قاضی فائز عیسٰی بری طرح یاد آگئے جن کو کراچی کے ایک نامور غنڈے اکرم چیمہ نے جو رکن قومی اسمبلی ہونے کے علاوہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی تھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دن دہاڑے، سرعام گالیاں ہی نہیں دی تھیں بلکہ قتل کی بھی دھمکیاں دی تھیں۔ سپریم کورٹ اس واقعہ پر خاموش رہی لیکن آپ دونوں بھی خاموش رہے جس طرح آج آپ حضرات جسٹس بندیال پر زبانی حملوں کے خلاف کھل کر مقابلے کے لئے سامنے آئے ہیں اسی طرح آپ جسٹس فائز عیسٰی کے معاملے میں آگے نہیں آئے تھے۔ ایسا کیوں تھا؟ کیا آپ کی نظر میں میں بلوچستان کا جج سپریم کورٹ کا جج نہیں بن سکتا تھا؟
بار ایسوسی ایشنز خاص کر پاکستان بار کونسل نے جب چیف جسٹس بندیال کی جانب سے یکطرفہ طور پر بنچوں کی ذاتی پسند کی بنیاد پر تشکیل کے خلاف ملک گیر طور پر آواز اٹھائی تو آپ دونوں خاموش رہے اور اس ایشو کو عوام تو چھوڑیئے وکلا کے مفاد کے خلاف بھی نہ جانا۔
فوجی عدالتیں تو ایک عرصے سے کام کررہی تھی جو یقینی طور پر انسانی حقوق اور فئیر ٹرائل کے بنیادی اصولوں کے سخت خلاف ہے اور اس پر بہت بلند آواز سے بولنا چاہئے۔ لیکن فوجی عدالتیں تو عمران خان کی حکومتوں میں بھی کام کرتے رہے اور 29 سویلین افراد پر مقدمات چلے انہیں سزائیں بھی ہوئی تھی کچھ پھانسی بھی پا گئے۔ شاید آپ کو بلکہ یقینی طور پر آپ کو معلوم ہوگا کہ”2019 میں پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سیٹھ وقار یونس مرحوم نے ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے تقریباً 200 افراد کو رہا کیا تھا کیونکہ ملزمان کو صفائی کا پورا موقع فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف عمران خان کی ظالم حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرکے اسٹے آرڈر یعنی حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ اب 2023 ہے آج تک اس کیس کی دوبارہ سماعت نہیں ہوئی، وہ لوگ آج آج بھی جیلوں میں سو رہے ہیں اور پتہ نہیں ان میں سے کتنے مر-گئے ہوں گے۔ اس پر نہ اعتزاز احسن کو اعتراض رہا اور نہ ہی لطیف کھوسہ کے پیٹ میں کوئی مروڑ اٹھا” (سلیم صافی کی وال سے)۔
ادریس خٹک کے بارے تو آپ دونوں حضرات خوبی جانتے ہوں گے جنہیں عمران خان کی حکومت کے آتے ہی اٹھالیا گیا تھا اور دو سال تک جبری گمشدگی کا شکار کرکے پھر فوجی عدالت سے سزا دی گئی ہے۔ ادریس خٹک ایک سنجیدہ سیاسی کارکن اور دانشور ہیں جن کے بارے میں تمام ادبی و سیاسی حلقے چار سال سے آواز اٹھا رہے ہیں بلکہ سوشل میڈیا کا وہ مسلسل موضوع بنے رہے ہیں اور آپ دونوں حضرات کو ٹوئٹر و فیس بک کے ذریعے ادریس خٹک کے بارے پوری تفصیلات موصول ہوتی رہی ہیں، لیکن اس پر آپ کی توجہ کیوں نہیں جاتی؟ اس طرح تو اپنی خاموشی کا اظہار نہ کریں۔ ادریس خٹک کے بعد بھی اس کے اور گھر والے ہیں انکی کم از کم سپریم کورٹ میں شنوائی کے لئے تو زور دیں۔
اعتزاز احسن صاحب اور لطیف کھوسہ کی حالیہ پریس کانفرنس کا بھی حوالہ دینا ضروری ہے جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ جہاں کہیں اور جب کبھی بھی آئین و قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہوگی وہ قانون اور آئین کی بالادستی کے لئے ہمیشہ میدان عمل میں ہوں گے اور لوگوں کے بنیادی حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
آپ کو 2001 سے معلوم ہے کہ ملک میں جبری گمشدگی ایک متعدی بیماری کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ بلوچستان، سندھ اور پختونخواہ خاص طور پر جبری گمشدگیوں، عقوبت خانوں، ماورائے عدلیہ قتل اور ٹارچر کا شکار ہیں۔ پنجاب سے بھی وی لاگرز اٹھائے گئے تھے ۔ کیا میں آپ لوگوں سے پوچھ سکتا ہوں کہ قانون اور آئین کی کن آرٹیکلز کے تحت لوگوں کو وردی پوش اغوا کر کے لے جاتے ہیں کیا گمشدگیاں آئین اور قانون کے مطابق ہوتی ہیں جو آپ حضرات لا تعلق رہے کہ کم از کم کسی لاپتہ فرد کا کیس ہی لڑ لیتے؟ کیا آپ حضرات نے کبھی اس ایشو پر احتجاج کیا۔ کیا آپ نے کبھی عدلیہ سے پوچھا کہ وہ جبری گمشدگیوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہی ہے۔ جبری گمشدگیاں تو ایسا جرم ہے جس میں متاثرہ فرد کو اس کے تمام آئینی اور انسانی حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ کبھی یہی خیال آیا کہ لاپتہ فرد کے خاندان کس کرب سے گزرتے ہیں؟ ہر وقت انکھیں دروازے کی آہٹ پر ہوتی ہے، دن بھر پولیس، فوج، سرکاری اداروں، اور وزرا کے گھروں کے چکر لگاتے ہیں کہ کسی طرح اپنے بیٹے، شوہر اور خواتین کا کچھ اتا پتا تو معلوم ہو۔
نیز جب لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو کسی کی ہلاکت یا سڑک پر پڑی ہوئی لاش کا علم ہوتا تو تمام گھر والے مختلف اسپتالوں کے مردہ خانوں پر روتے دھوتے ہر لاش کا جائزہ لیتے ہیں گھر کا ہر فرد روزگار تباہ کر کے صرف تلاش میں ہے، کھانا پینا ختم۔ بچے اسکولوں سے باہر۔ کونسی عدالت ہے جس کے متاثرین نے چکر نہ لگائے ہوں۔ آپ کے پسندیدہ جسٹس چوہدری افتخار نے ایک فیصلے کے ذریعے بلوچستان سے آنے والے متاثرین کو سپریم کورٹ کی قریبی جگہ پر بیٹھنے سے منع کردیا۔ اور آپ دونوں حضرات نے سابق چیف جسٹس کے اس فیصلے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی کیونکہ اشرافیہ کے اس کھیل میں کہاں پہاڑوں سے اتر کر گندے لباسوں میں لوگ اور ان کی خواتین اور بچے آجاتے ہیں۔ کیا آپ دونوں نے کبھی جبری گمشدگیوں کا کیس لے کر عدالتوں میں گئے؟ آپ دونوں کو پتہ ہے کہ 2010 میں جب اقوام متحدہ کے جبری گمشدگی سے متعلق ورکنگ گروپ پاکستان آیا تھا اور اس نے مطالبہ کیا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف قانون بنایا جائے۔ جس پر آپ کی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ قانون بنایا جائے گا اور آج تک قانون نہیں بنا۔ آپ دونوں نے بھی جبری گمشدگیوں کا قانون بنانے کے لئے اس طرح بلند آواز سے بات نہیں کی جس طرح آج کل آپ حضرات کر رہے ہیں۔
اسی طرح آپ دونوں نے کبھی عقوبت خانوں میں ٹارچر پر کبھی بات نہیں کی اور نہ ہی جیسے بلند پایہ قانون دانوں نے ملک میں ٹارچر کے خلاف قانون بنانے کی بات کی۔ کیونکہ ٹارچر اشرافیہ کا ایشو نہیں ہے۔ جب آپ کی ہی پارٹی کے رہنما فاروق حمید نائیک ٹارچر کے خلاف اسمبلیوں سے بل بنانے کی کوشش کر رہے تھے تو آپ دونوں لاتعلق رہے۔
میں یہ دکھڑا صرف اس ۔ئے لکھ رہا ہوں کہ آپ دونوں وکلاء حضرات لوگوں کی نظروں میں قانون کے رکھوالوں کے ہراول دستوں میں شامل ہیں لہٰذا اپنے اس اعزاز کو گرنے نہ دیں اور غریب لوگوں کو قانونی و آئینی حقوق کے تحفظ فراہم کرنے میں اپنا گراں قدر کردار ادا کریں گے۔
یوں آپ دونوں کے دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں کہ جب بھی قانون کی بالادستی ، عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کے خلاف اقدام کئے جائیں گے آپ حضرات برداشت نہیں کریں گی۔ابھی تو ایسے بہت سے واقعات ہیں جن پر آپ حضرات خاموش رہے چلئے میں یہیں ختم کرتا ہوں زیادہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا ہوں نہ ہی زیادہ واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں۔
Facebook Comments HS

