عید ِغدیر اور سات صدیوں بعد سید فخرالدین بلے کا نیا قول ترانہ


حضرت امیر خسرو نے اپنے مرشد سرکار حجرے نظام الدین اولیاء کے حکم کی تعمیل میں قوالی کی بنیاد رکھی تھی۔ قوالی کا مکمل نصاب بھی ترتیب دیا تھا۔ قوالی اس محفل کو کہا جاتا ہے کہ کہ جس کا آغاز قول ختم المرسلین کے اعلان ولایت سے کیا جاتا ہے۔ گویا کہ من کنت مولا ، فھذا علی مولا ۔ اور یہ قول پڑھنے والے کو قوال کہا جاتا ہے اور جس محفل میں پڑھا جائے اسے قوالی کہتے ہیں۔ پوری دنیا میں گزشتہ سات صدیوں سے قوالی کا یہی باضابطہ طریقہ رائج تھا اور خیر سے جاری ہے۔ گزشتہ سات سو سالوں سے قوالی کا آغاز حضرت امیر خسرو کے ہی تخلیق کردہ قول ترانہ اور اختتام بھی حضرت امیر خسرو کے تخلیق کردہ رنگ پر ہوتا آیا ہے لیکن انیس سو ستر کی دہائی کے وسط میں سید فخرالدین بلے شاہ صاحب نے حضرت امیر خسرو کے سات سو سال بعد نیا قول ترانہ اور نیا رنگ تخلیق کرکے صاحبان علم و عرفان کو حیرت زدہ کردیا۔ ریڈیو پاکستان ملتان نے سید فخرالدین بلے کے تخلیق کردہ اس نئے قول ترانے اور رنگ کی نہایت عمدہ دھنیں تیار کیں۔ پاکستان اور بھارت کے نامور قوالوں سید فخرالدین بلے کے تخلیق کردہ قول ترانے اور رنگ کو قوالی کی محافل میاں پڑھنا شروع کردیا۔ علامہ طالب جوہری ، علامہ سید احمد سعید کاظمی ، علامہ پیر نصیرالدین نصیر گولڑہ شریف والے ، لکھنؤ کے علامہ ابن حیدر ، حضرت احمد ندیم قاسمی ، صوفی بابا جی حضرت اشفاق احمد ، علامہ ضمیر اختر نقوی ، علامہ شیرازی محسن نقوی سمیت آسٹریلیا ، امیریکہ ، اٹلی ، ایران ، بھارت اور پاکستان کے متعدد مذہبی اسکالرز اور مشائخ ، محققین اور شعراء نے سید فخرالدین بلے کے اس نئے قول ترانہ اور رنگ کو تخلیقی معجزہ قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور انداز میں پزیرائی کی۔ ایران کے شہر قُم کے ممتاز اسکالر علامہ سید کلب حسن نونہروی صاحب نے

سید فخرالدین بلے کے اس فقیدالمثال تخلیقی معجزے کو موضوع بنا کر ایک انتہائی عمدہ تحقیقی مقالہ بھی لکھا کہ جسے عالمی اخبار ، انگلینڈ نے شائع کیا۔
من کُنتُ مولاہ فَعَلی مولاہ ۔

و مَن کُنتُ مولاہ ،فھٰذا علی مولا

اب ملاحظہ فرمائیے ۔ مندرجہ بالا قول سیدالمرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بنیاد پر امیر خسرو کے 700سال بعد وہ قول ترانہ جو سیّد فخر الدین بَلّے نے تخلیق کیا ،جسے سن کر علامہ طالب جوہری نے تاریخ ساز کارنامہ اور معرفت کاانمول خزانہ قرار دیا تھا۔

امیر خسرو کے سات سو سال بعد

سیّد فخر الدین بَلّے کا قول ترانہ

من کُنتُ مولاہ فَعَلی مولاہ، ۔۔۔ و مَن کُنتُ مولاہ ،فھٰذا علی مولاہ،

اللہ تو واللہ ھُوَ اللہ ُ اَحد ہے

وہ قادرِ مطلق ہے’ وہ خالق ہے،صمد ہے

احمدمیں اِدھر "میم” اُدھر”مِنّیِ و مِنھہ "

ادراک ہے ، اک عقل کی حد ہےاک پردہء

……..

اللہ ُ غنی مولا’ اللہ ُ قوی مولا

اللہ ُ خفی مولا’ اللہ ُ جلی مولا

اللہ ُ ولی مولا’ اللہ ُ عَلِی مولا

مولا کا نبی مولا’ مولا کا ولی مولا

لاریب نبی مولا’ واللہ علی مولا

……..

من کُنتُ مولاہ ،فَعَلی مولاہ،

من کُنتُ مولاہ ،فھٰذا علی مولاہ،

……..

لَو کَانَ نبی بعدی’ فی الحق علی مولا

وَاجعل لی وزیری ومن اھلِی اخی مولا

……..

مَن کُنتُ مولاہ’ فعلی مولا

من کُنتُ مولاہ’ فھٰذا علی مولا

……..

الطاھر و الشاّھد، الصّالح و الذَاہد

المومن و الصائم ‘ صدیق و صفی مولا

……..

مَن کُنتُ مولاہ، فعلی مولا

من کُنتُ مولاہ، فھٰذا علی مولا

……..

السیّد وا لسّاقی’ المھدی و الہادی

القاری و الداعی’ ہمرازِ نبی مولا

……..

مَن کُنتُ مولاہ’ فعلی مولا

من کُنتُ مولاہ’ فھٰذا علی مولا

……..

ایلی وعَلی عَالی ،مولودِ حرم والی

درحالِ رکوع بخشش’ بِصوّم سخی مولا

……..

مَن کُنتُ مولاہ’ فعلی مولا

من کُنتُ مولاہ’ فھٰذا علی مولا

……..

فی الخندق و فی الخیبر،فی البدر واُحد حیدرؑ

قتّالِ حُنین اولیٰ’ ذوالبرقہ علی مولا

……..

مَن کُنتُ مولاہ’ فعلی مولا

من کُنتُ مولاہ’ فھٰذا علی مولا

……..

معراجِ ِ نبی برحق’ معراجِ ِ علی برحق

ہے کعبہ ء مولامیں بردوشِ نبی مولا

……..

مَن کُنتُ مولاہ’ فعلی مولا

من کُنتُ مولاہ’ فھٰذا علی مولا

……..

مِن لَحمِکَ لَحمِی و بالقولِ علی مِنّی

مولا کا اخی مولا’ مولا کا وصی مولا

……..

مَن کُنتُ مولاہ’ فعلی مولا

من کُنتُ مولاہ’ فھٰذا علی مولا

……..

ہم اوّل و ہم آخر’ ہم ظاہر و ہم باطن

ہم مولا و ہم قرآں’ ہم نورِ نبی مولا

……..

مَن کُنتُ مولاہ’ فعلی مولا

من کُنتُ مولاہ’ فھٰذا علی مولا

……..

اِقرار کُنَم بَلّے ‘ من بندہ ء مولائی

اللہ و نبی مولا’ واللہ علی مولا

……..

مَن کُنتُ مولاہ، فعلی مولا

من کُنتُ مولاہ، فھٰذا علی مولا

…….

ان کی بیاض میں اس قول کا مقطع یہ بھی موجود ہے۔

ہر سالک و عارف کا بَلّے یہی مسلک ہے

اللہ و نبی مولا، واللہ ُ علی مولا

{یہ ہے وہ قول ترانہ جو امیرخسرو کے 700سال بعد سید فخرالدین بلے نے تخلیق کیا}

سیّد فخر الدین بَلّے کا ایک قابلِ قدر تخلیقی کارنامہ

علامہ سید احمد سعید کاظمی :کی تحریر سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے

قولِ سید المرسلین حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "من کنت مولاہ ….فھذا علی مولاہ "کی جو "نئی تصریحی تہذیب” جناب سیّد فخر الدین بَلّے صاحب نے فرمائی ہے۔ وہ ان کی علمی قابلیت،روحانی ذوق،بالخصوص بارگاہِ سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے کمال عقیدت و محبت کی آئینہ دار ہے۔

قول کی تصریحی و صوتی تہذیب کا جو کام حضرت نظام الدین اولیاء نے امیر خسروؒ کے سپرد فرمایا تھا’ بَلّے صاحب کی یہ نئی تصریحی تہذیب اسی کا تکملہ نظر آتی ہے۔ حقیقت ِ ولایت کمال عشق خداوندی اور محبت ِایزدی ہے۔ جس کا قطب مدار مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا وجودِ گرامی ہے۔ قوالی کا مفاد ساز سے سوز پیدا کر کے عشقِ الٰہی کی حرارت سے دلوں کو گرمانا ہے۔ اس لئے اس کی روح و رواں منبعِ عشق و محبت کی شان میں قولِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "من کنت مولاہ …. فھذا علی مولاہ” کا قرار پانا قوالی کے مفاد کا عین مقتضیٰ ہے۔ لفظ مولا میں مولا ئے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب کے جو فضائل و کمالات مخفی تھے۔ بَلّے صاحب نے اس نئی تصریحی تہذیب میں نہایت حسن و خوبی کے ساتھ ان کا اظہار کیا ہے۔ جو قابلِ داد اور موجب ِ ستائش ہے۔ اہلِ ذوق حضرات اس سے محظوظ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبولیت ِعامہ کا شرف عطا فرمائے ۔آمین

سید فخرالدین بلے کے ہاں رجب المرجب ، شعبان المعظم ، ذوالحجہ اور ربیع الاول کے مہینے اہل بیت اطہار ع کی نسبت سے حد درجہ عقیدت و احترام سے منائے جاتے تھے۔ رجب کی چھ تاریخ کو بہت اہتمام کیا جاتا اور اسے چھٹی شریف بھی کہا جاتا تھا۔ جب کہ تیرہ رجب المرجب کو جناب امیرالمونین ع مولا مشکل کشا ٕ وصی ٕ رسول داماد رسول زوج ِ بتول ، حسنین کریمین ع کے بابا سرکار مولا حضرت علی ابن ابی طالب ع کا جشن ظہور منایا جاتا ۔ محفل ِ سماع نذر و نیاز اور دیگر لوازمات کا خاص خیال رکھا جاتا۔ جب تک صحت نے اجازت دی تب تک تو حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی صاحب اور ان کے ہمراہ اکثر مفتی غلام مصطفی رضوی اور ممتاز احمد طاہر سیال جبکہ مخدوم سجاد حسین قریشی صاحب بھی اپنے چند احباب کے ہمراہ تشریف لایا کرتے۔ جید عالم دین اور مفسر قرآن عظیم روحانی پیشوا جناب سرکار حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب اور ان کے ساتھ محو گفتگو یہ تینوں چاروں قرآن فہم بھی ہیں اور عربی ۔ فارسی اور شناس بھی۔ ہاں البتہ ہمارا یہ مشاہدہ بھی ہے کہ قوالی کی محفل ہورہی ہوتی تو یہ چاروں اور چند ایک دیگر احباب گفتگو سے اجتناب برتتے۔ اور ان کی زبان پر درود شریف اور آنکھوں سے اشک جاری رہتے۔ قوالی کی محفل کے آغاز گویا کہ من کنت مولا ۔ فھذا علی مولا۔ کا ابھی ساز شروع ہی ہوتا تو ان کا جھومنا بھی ۔ نہایت جھوم جھوم کر قول سماعت فرماتے اس کے بعد حمد ۔ نعت ۔ منقبت اہل بیت اطہار ع اور منقبت اولیا ٕ نہایت احترام کے ساتھ سنتے اور پھر جب خواجہ کی دیوانی یا مورے خواجہ جیسا کلام پڑھا جاتا تو یہ جھوم جھوم جاتے خوب خوب داد بھی دیا کرتے اور نذرانے بھی اور پھر جب قوالی کے اختتام پر رنگ پڑھنا شروع کیا جاتا تو اس سے قبل ہی یہ چاروں پانچوں اور ان کے ساتھ ہی دیگر شرکاۓ محفل قوالی بھی تعظیما” اٹھ کھڑے ہوتے اور تمام تر رنگ نہایت ادب کے ساتھ کھڑے ہوکر سنتے ۔ اور آخر میں دعا کا اہتمام ہوا کرتا۔

Facebook Comments HS