قائدِ طلبا شہید نجیب احمد

شہید نجیب احمد 10 جون 1965 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے ان کے والدین آگرہ سے ہجرت کر کے پاکستان کے صنعتی شہر کراچی میں آباد ہوئے۔ والد سید ظریف احمد پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور اردو اسپیکنگ ہونے کے باوجود ان کی سیاسی وفاداریاں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تھیں وہ اس جماعت کے اچھے اور برے ادوار میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہے۔ نجیب شہید اپنے چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور سب کی آنکھ کا تارا تھے انہوں نے لٹل فوکس اسکول کراچی سے میٹرک اور پریمیئر کالج کراچی ہی سے بی کام کیا۔
ضیاء الحق کے بدترین مارشل لاء میں انہوں نے پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو فعال کیا جب ضیاء الحق نے بھٹو ازم کے ماننے والوں پر زمین تنگ کر رکھی تھی اور پیپلز پارٹی کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ پی پی پی کی اس وقت کی شریک چئیر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے انہیں طلباء کو منظم کرنے کا ٹاسک سونپا جسے نجیب نے تن، من، دھن کی بازی لگا کر پورا کیا یہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ہی فیضان تھا کہ وہ جلد ہی طلباء کے ہر دلعزیز رہ نما بن گئے۔
شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ کو ان کی پارٹی میں احتراماً ”بی بی“ کہا جاتا ہے تاہم نجیب بی بی کو ”سسٹر“ کہہ کر مخاطب کرتے بی بی کو بھی ان کی جانثاری پر بڑا ناز تھا۔ انہوں نے صرف مارشل لاء ہی نہیں بلکہ کراچی کی لسانی تنظیم کے کاری واروں کا قلم کی طاقت سے جواب دیا اور ضیاء کی باقیات کلاشنکوف اور منشیات کے کلچر کی جگہ قلم اور کتاب اور مکالمے کو فروغ دیا۔ ان کے جانے سے قیادت کا جو خلاء پیدا ہوا اسے پر نہیں کیا جاسکتا۔
وہ طلباء جنہوں نے انہیں دیکھا بھی نہیں ان سے ایسے محبت کرتے ہیں جیسے وہ ان کے ساتھ جمہوری اداروں کے استحکام کی جد و جہد میں مصروف ہیں ان کے افکار اور یادیں اس طرح طلباء کی زندگی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اگر قاتلوں نے انہیں زندگی سے محروم نہ کیا ہوتا تو تعلیمی ادارے اس طرح بے آسرا نہ ہوتے۔ 1989 میں کراچی میں امن مارچ کے انعقاد کا سہرا بھی انہی کے سر ہے اس یادگار امن مارچ سے خطاب کرتے ہوئے نجیب نے کہا تھا کہ انہوں نے ضیا الحق کی آمریت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے اور ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں راج ہو گا تو صرف امن پسند طلباء کا جن کے ہاتھ میں کتاب اور قلم ہوں گے۔
شہید دو بار پی ایس ایف کے صدر منتخب ہوئے، جب تک وہ حیات رہے ہر آمر اور فاشسٹ کا جانفشانی سے مقابلہ کرتے رہے۔ 1988 میں جب ضیاء ایک ناقابل یقین طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوا تو نجیب اس وقت طلباء کے ”قائد طلباء“ بن چکے تھے جب اس وقت کی نگران حکومت کی طرف انتخابات کا اعلان ہوا تو نجیب نے کراچی کی سیاسی فضا سے قطع نظر کھل کر پی پی پی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور اسے کامیاب بنایا۔ اور 16 نومبر 1988 کو صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں ہونے والے انتخابات میں پورے ملک میں بھٹو دے نعرے وجن گے کی گونج تھی۔
بالآخر 2 دسمبر 1988 کو نجیب کی ”سسٹر“ ، مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم اور بھٹو کی بیٹی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اس دن ایوان صدر ”جئے بھٹو“ کے نعروں سے گونج رہا تھا اور نعرے لگانے والا کوئی اور نہیں شہید نجیب تھا وہ دن بھٹو ازم کے ماننے والوں کے لیے عید سے کم نہیں تھا۔ وفاق پرست خوشی سے جھوم رہے تھے اور ملک کو صحیح راستے پر چلانے والی رہ نما میسر آ چکی تھی مگر بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے دشمنوں کو یہ خوشی پسند نہ آئی نجیب پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹکنے لگے 6 اپریل کو نجیب کو پہلے سے گھات لگائے قاتلوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا۔ نجیب پانچ دن موت سے نبرد آزما رہنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گئے خدا انہیں اس دنیا کی تمام نعمتیں عطا کرے کیونکہ شہید مرتا نہیں اسے اس دنیا میں بھی رزق مل رہا ہے بس وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔

