یوم تقدیس قرآن
اس وقت مغرب اور مشرق کے درمیان ایک کشمکش ہے جس کی بنیاد مغرب کے برداشت اور عدم برداشت کا فلسفہ ہے مغرب کا مقدمہ یہ ہے کہ مسلمان قرآن کریم اور حضرت محمد ﷺ کے متعلق جذباتی ہیں اور ان کے حوالے سے کوئی بات برداشت نہیں کرتے۔ بلا شبہ مسلمان واقعی جذباتی ہیں اور قرآن کریم اور جناب رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کوئی بات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، یہ بات عیب نہیں بلکہ خوبی اور کمال ہے، اس لیے کہ یہ قرآن کریم اور نبی کریم کے ساتھ محبت اور کمٹمنٹ کی علامت ہے۔ جہاں تعلق ہو، وہاں غصہ آتا ہے اور جہاں محبت ہو وہاں غیرت ہونا بھی فطری بات ہے۔ غصہ اور غیرت دونوں فطری تقاضے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اس لیے ہر چیز کی حدود متعین کر کے جائز و ناجائز کے دائرے بیان کیے ہیں کہ غصہ کہاں آنا چاہیے اور کہاں نہیں۔
جذبات اور ردعمل کا اظہار درست، قابل فہم بلکہ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ لیکن جذبات سے مغلوب ہو کر اپنے ہی ملک میں قومی و نجی املاک اور سفارت خانوں کو تباہ کرنا درست اقدام نہیں۔ ایک غلطی کے ازالے کے لیے ردعمل میں دوسری غلطی کا ارتکاب گھر پھونک تماشا دیکھ والا معاملہ ہے۔ وقتی جذباتی تسکین سے منفی نتائج کشید کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
مغربی ممالک میں وقتاً فوقتاً دینی مقدسات کی بے حرمتی دیدہ و دانستہ کی جاتی ہیں ”، تاکہ مسلمان ردعمل میں حدود سے تجاوز کریں اور وہ مسلمانوں کی انتہا پسندی کا پروپیگنڈا کرسکیں یہی“ اسلاموفوبیا ”ہے۔ اسے اظہار رائے کی آزادی سے تعبیر کرتی ہیں اس لیے مسلم حکمرانوں اور دینی راہنماؤں کو مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے قوانین کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کے مقابلے میں مغرب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہمارے سامنے کوئی بائبل یا حضرت عیسٰی علیہ السلام پر تنقید کرے ہمیں غصہ نہیں آتا۔ بالفاظ دیگر ہم نے اپنے اجتماعی اور معاشرتی معاملات میں بائبل اور حضرت عیسٰیؑ کا حوالہ ترک کر دیا ہے جبکہ مسلمان ابھی تک قرآن کریم اور حضرت محمد کے دائرے سے نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ درست ہے کہ مسلمانوں کا تمام تر کمزوریوں اور خرابیوں کے باوجود آج بھی سب سے بڑا حوالہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم کی ذات اقدس ہے۔
مغربی اقوام اور ہمارے درمیان اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مغرب اصل توریت اور انجیل سے محروم ہے۔ جبکہ قرآن کریم آج بھی محفوظ ہے۔ مصاحف عثمانیہ میں سے کئی نسخے یہاں تک کہ حضرت علی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک نسخہ لندن، جرمنی، ترکیہ اور یمن میں موجود ہے، اہم بات یہ ہے کہ مصاحف عثمانی اور مصحف علوی میں کوئی فرق نہیں جو اعجاز قرآن کی دلیل ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ مغرب کی تہذیبی و ثقافتی کشمکش اور اختلاف کی سب سے بڑی بنیاد یہی ہے کہ مسلمان اپنے اجتماعی اور معاشرتی معاملات میں قرآن و سنت کے حوالے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔
قرآن کریم کی حفاظت کا اللہ کی طرف سے ایک ”فول پروف سسٹم“ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ کو اتنی بار دہرایا، سنا اور سنایا جائے کہ اس میں کسی حرف کی کمی بیشی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
اسی لیے قرآن کریم کو بھی حفاظت کے ظاہری اسباب سے بے نیاز کر دیا گیا۔ کسی کتاب کی بقا اور حفاظت کے ظاہری اسباب تختی، کاپی قلم، ڈسک، سی ڈی اور کیسٹ جیسے اسباب موجود ہوں تو کتاب کا وجود بھی ہے، اور اگر ان اسباب کا وجود باقی نہ رہے تو کسی کتاب کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ لیکن قرآن کریم ان تمام اسباب سے بے نیاز ہے کہ ان میں سے ایک سبب بھی باقی نہ رہے تب بھی قرآن کریم پر اس کا رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ وہ لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے اور اتنی بار پڑھا اور سنا جاتا ہے کہ کتاب کے وجود اور بقا کے ظاہری اسباب کی موجودگی یا غیرموجودگی اس کے لیے ایک جیسی ہے۔
حفاظ کا وجود قرآن کریم کی حفاظت کا تکوینی نظام ہے اور اس کے ہوتے ہوئے قرآن کریم میں کسی رد و بدل کا کوئی امکان نہیں رہا۔ اسی لیے انٹرنیٹ پر کئی ویب سائٹس کے ذریعے قرآن کریم میں تحریف کی اب تک کی جانے والی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہیں۔ ایک آٹھ دس سال کا بچہ ان تمام سورتوں اور آیات کو چھان پھٹک کر کے تحریفات کو بے نقاب کر سکتا ہے۔
سرور کائنات ﷺ نے قرب قیامت کی نشانیوں میں ایک بڑی علامت ”یتقارب الزمان“ بیان فرمائی ہے جس کا ترجمہ زمانے کا ایک دوسرے کے قریب ہونا ہے۔ یعنی ”فاصلے سمٹتے چلے جائیں گے“ ۔ آج کا دور اس کا مصداق ہے۔ جدید مواصلاتی نظام نے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کو اس طرح ایک دوسرے سے پیوست کر دیا ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں رونما ہونے والا کوئی واقعہ آناً فاناً دنیا بھر میں نہ صرف پھیل جاتا ہے بلکہ معاشرتی اور سیاسی طور پر اثر انداز بھی ہوتا ہے۔
جوں جوں فاصلے سمٹ رہے ہیں اور خیالات و افکار ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے کے ساتھ انسانی معاشرہ میں نت نئی تبدیلیوں اور نئے نئے مسائل کا سامنا بھی مشاہدات و تجربات کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ یہ بات ایک واضح حقیقت کا ہے کہ مذہب انسان کی بنیادی روحانی، اخلاقی اور نفسیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ انسان کے ذہن و قلب اور خیالات و جذبات کا رخ موڑنے کا سب سے زیادہ موثر ذریعہ بھی ہے۔ گلوبل سوسائٹی میں مذہب کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ انسانی سوسائٹی کو مذہب کے معاشرتی کردار سے الگ تھلگ کرنے کا مغربی فلسفہ فرسودہ تصور کیا جانے لگا ہے۔ اس لیے انسانی سوسائٹی کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل اور باہمی اختلافات کے اظہار کو ان کے حقیقی دائروں میں محدود رکھنے کے راستے تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلام ایک عالمگیر دین ہے، عقائد و احکام اور روایات و اقدار کے حوالہ سے اس کی دعوت کسی قوم، نسل یا علاقہ کے لیے نہیں بلکہ پوری نسل انسانی کے لیے ہے۔ اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اگر انسانی سوسائٹی ایک بار پھر مذہب کے معاشرتی کردار کی ضرورت محسوس کرنے جا رہی ہے تو مذہب کی اصل تعلیمات یعنی آسمانی وحی اور صاحب وحی پیغمبر کی تشریحات کا محفوظ ذخیرہ صرف اسلام کے پاس ہے۔ یوم تقدیس قرآن کے موقع پر ضروری ہے کہ ہم جذبات اور حمیت دینی کا سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے حوالے سے اظہار یک جہتی کر رہے ہیں وہاں ہم اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا بھی ہوں، اور اسلام کی بنیادی تعلیمات یعنی قرآن کریم اور سنت نبوی کو آج کی فکری، علمی اور نفسیاتی ضروریات کے تناظر میں پیش کرنے کا اہتمام کریں تاکہ کسی بھی انصاف پسند اور حقیقت شناس شخص کے لیے اسلام کی دعوت کو نظر انداز کرنا ممکن نہ رہے۔ جبکہ
ہمارا تو عالم یہ ہے :
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے ہیں کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
اس کے لیے دعوت کا ماحول اور افہام و تفہیم کا لہجہ و اسلوب لازمی شرط ہے اور مختلف مذاہب کے راہنماؤں کے درمیان مکالمے کا فروغ اس کا ناگزیر تقاضا ہے۔ ہمارے خیال میں بین المذاہب مکالمہ کا فروغ جہاں اس لیے ضروری ہے تاکہ مذاہب کے درمیان شدت پسندی اور محاذ آرائی کو کم کر کے انسانی سوسائٹی کو باہمی تصادم سے بچایا جائے اور مذہب کا معاشرتی کردار انسانی سوسائٹی کے لیے خوف اور نفرت کا پیغام بننے کی بجائے امن و سلامتی اور فلاح و بہبود کی نوید ثابت ہو۔ یہ مکالمہ اس لیے بھی ہماری ملی و دینی ضرورت ہے کہ اسلام کی دعوت کا اور قرآن و سنت کے اصل پیغام و تعلیمات کو دنیا کے تمام انسانوں اور طبقات تک پہنچانے کی راہ ہموار ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم جذبات و احساسات کے ساتھ حمیت دینی کو امت مسلمہ کے وقار کا ذریعہ بنانے کے لیے تقدیس قرآن کے تعلیم قرآن کو عام کرنے کا اہتمام کریں


