ماحولیاتی انصاف


ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ اورموثر حل؛سماجی اور ماحولیاتی انصاف کی فراہمی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔آج سے دس بیس سال پہلے اگر پاکستان میں کوئی ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کی بات کرتا تھا تووہ انسان کسی اور ہی سیارے کی مخلوق لگتا تھا۔کالج کے زمانے میں اوزون لیئر اور گرین ہاوس کے اثر کے بارے میں پڑھتے ہوئے لگتا تھا جیسے یہ ہماری دُنیا کی بات نہیں ہو رہی ہے۔ چند ہی سالوں میں پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو بخوبی دیکھ لیاہے۔اب ہر کوئی ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر بات کررہا ہے۔بلکہ یہ مسئلہ اب سنگین نوعیت کا ہے لیکن اس مسئلہ کا حل اس کے اصل حل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔وہ مسئلہ کیا ہے اور اس کا ممکن حل کیا ہو سکتا ہے؟ اس پر آج کے مضمون میں بات کریں گے۔ماہرین کے مطابق ایک مسئلے کی کئی وجوہات ہو تی ہیں۔
Climate Justice کیا ہے؟ یہ کس طرح ہماری دُنیا اور ماحولیات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔؟
"ماحولیاتی انصاف، ماحولیاتی بحران کو سماجی، نسلی اور ماحولیاتی مسائل سے جوڑتاہے۔ یہ دُنیا بھر میں کم آمدنی والی اور ماحولیات تبدیلی سے متاثرہ کمیونٹیز، لوگوں اور مقامات پر موسمیاتی تبدیلی کے غیر متناسب اثرات کو تسلیم کرتا ہے جو اس مسئلے کے لیے کم سے کم ذمہ دار ہیں۔”
ایک ٹریننگ سیشن کے دوران سینئر صحافی بدرعالم نے بتایا کہ”ماحولیاتی انصاف کے بارے میں بات کرنا اس لئے ضروری ہے۔اس میں امیر ممالک کی جانب سے غریب ممالک کی معاونت نہ کرناایک اہم مسئلہ ہے۔ کیونکہ ترقی پذئز ممالک کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں اور نہ ہی وہ ان مسائل سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔اس ضمن میں ترقی پذئر ممالک، ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔اس لئے اُن کو انصاف اور وسائل مہیا کئے جانے چاہئیں۔ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات،امیر ممالک کی غلط پالیسوں، ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور قدرتی وسائل کا بے درریغ استعمال کا سبب ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ذمہ داری لیں اور اس کا ازالہ کریں۔فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیں۔”
موحولیاتی تبدیلی سے پاکستان بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔یوں تو یہ فہرست طویل لیکن اس کی چند مثالیں درجہ ذیل ہیں۔لینڈ سلائیٹنگ،پانی کی سطح کا نیچ چلے جانا، دریا میں پانی کم ہونے سے سمندر کا پانی واپس دریا میں آنااوردریائی زمینوں میں چلے جانا، اور فصلوں کا ضائع ہونا ہے۔سمندری حیات اور پرندوں کانایاب ہونا شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہ ممالک، علاقوں اور لوگوں کو انصاف دیا جائے۔کلائنمنٹ چینج کا حل تو نکل آیا ہے لیکن ماحولیاتی انصاف کی فراہمی نہیں ہو سکی ہے۔اس لئے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے لئے صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ماحولیاتی انصاف کیلئے آگہی ضروری ہے اور اس کیلئے شعور بیدار کرنا ہوگا۔ماحولیاتی انصاف صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔بلکہ یہ تمام مخلوقات کیلئے ہے۔
ماحولیاتی ماحول، مستقبل کیلئے انصاف اور صاف کیسے بنائیں؟
اس سلسلے میں اہم اور بنیادی نقطہ نظر یہ ہے کہ اس میں رنگ ونسل، مذہب، زبان، خطے اور طبقے کی بنیاد پر تفریق نہیں ہو نی چاہئے بلکہ نسل انسانی اور کل کائنات کیلئے مشترکہ فیصلے ہونے چاہئیں۔بدلتے وقت اور حالات کے ساتھ ہم کو بدلیں اور پالیسیاں بنائیں۔اب ہم چیزیں کہنے نہیں بلکہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے متعلق آگاہی کیلئے کام کرنے والے سماجی کارکن جیمس رحمت کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی انصاف کیلئے ضروری ہے کہ انسان یہ احساس کریں اُن کے منفی کردار کی وجہ سے کائنات کے دیگر جانددار کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ ہمیں ساحل سمندر اور پہاڑی علاقوں میں کس قدر فضائی اور آبی آلودگی کو بڑھنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جیمس رحمت کا کہنا ہے کہ اب ہمیں ماحولیاتی تبدیلی کو نصاب میں شامل کرنا ہو گا اور بچوں کوعملی طور اس طرح کی سرگرمیاں میں شامل کرنا ہو گا جس سے ان کے اندر ماحول دوست رویے پروان چڑھیں۔
اس ضمن میں یونیسیف اور دیگر ادارے کیا کر سکتے ہیں؟
ماحولیاتی انصاف کے لیے بچوں اور نوجوانوں کی جدوجہد کو تسلیم کریں۔ان کی بامعنی شرکت کی حمایت کریں اور شراکت کے مواقع کو آسان بنائیں۔نوجوانوں کی زیر قیادت ماحولیاتی انصاف کی سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ تک رسائی کی سہولت فراہم کریں۔یاد رہے کہ ماحولیاتی انصاف نے اس خیال سے جنم لیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی تاریخی ذمہ داری امیر اور طاقتور لوگوں اور ممالک پر عائد ہوتی ہے اور پھر بھی یہ غیر متناسب طور پر غریب اور سب سے زیادہ کمزور لوگوں اور ممالک پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے ممکنا حل کیلئے تمام ممالک کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک،معاشروں اور انسانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ماحولیاتی تبدیلی سے ہمارا پورا ملک بُری طرح متاثرہ ہو رہا ہے۔ موسموں میں تبدیلی، آب وہوا میں فرق اور فضائی آلودگی یہ ایسے خطرناک مسائل ہیں جنہوں نے ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کوداؤ پر لگا دیا ہے۔
پاکستان کی سطح پر حکومت، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کو میڈیا کے ساتھ مل کر عام لوگوں میں آگہی اور شعور کو بیدار کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنے ملک کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچا سکیں اور اپنے آنے والی نسلوں کو محفوظْ، خوشحال اور سرسبز ملک دے سکیں۔

Facebook Comments HS