کراچی کا ایک برہنہ مرد

کراچی میں جس برہنہ مرد کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے وہ مرد نہیں سماج کی ایک بڑی آبادی کی تصویر ہے۔ چند برس پہلے مینار پاکستان لاہور میں ایک ایسا ہی وحشیانہ قسم کا واقعہ پیش آیا تھا۔ سماج میں بزور جبر جتنا اخلاق کو کنٹرول کیا جائے گا یہ واقعات اتنے ہی بڑھتے جائیں گے۔ کیمرے کی ایجاد نے نفس کے اس وحشی پن کو ہم تک پہنچا دیا ورنہ یہ عمومی سی بات تھی کہ مرد کو جہاں موقع ملا یا اس نے موقع بنایا کپڑے اتار دیے۔ کوئی ایک عشرہ قبل اس موضوع پہ افسانہ لکھا تھا جو پاکستان میں تو کوئی چھاپنے کو تیار نہ تھا ہمسایہ ملک سے بھی یہی کہا جاتا رہا کہ یہ انچ ونچ کو علامت دے دیں بلکہ ہٹا ہی دیں تو سوال یہ ہے کہ کیا کسی مرد افسانہ نگار نے تکون اور تہوں کو علامت دی؟ جب سب مرد افسانہ نگار اپنا حوالہ دیں گے۔
قصہ مختصر یہ افسانہ راشد جاوید احمد کے ادبی رسالے پین سلپ میگزین میں پہلی بار پچھلے سال شائع ہوا۔ جس میں مرد کے برہنہ پن کے اثرات سماج پہ کیا ہوتے ہیں اس کی عکاسی ہے، ساتھ ہی ساتھ مرد کو سمجھ لینا چاہیے کہ سچی محبت اسے کیوں نہیں ملتی۔ سچی محبت دینے والوں کو ہی سچی محبت ملتی ہے ورنہ نفس کے ہاتھوں انسان سسکتا سسکتا مر جاتا ہے۔ جگہ جگہ کپڑے اتار دینا مردانگی نہیں درندگی ہے۔
افسانہ ”جگنوؤں کے دیس میں“
دور دور تک پانی، گھنے درختوں کی چھا یہ، مدھر چلتی ہوائیں، چاروں اور ایک سحر انگیز کیف۔ یہاں خواہ مخواہ ہی مو ر محو رقص رہتا ہے۔ شام ہوتے ہی اس کے بچپن کی کلی اور کلی میں بیٹھی معصومیت کِھل اْٹھتی۔ رنگ برنگی تتلیاں اِدھر اْدھر اْڑتی پھرتیں۔ کبھی تلسی پر، کبھی رات کی رانی کی کسی ٹہنی پر، کبھی دن کے راجے کی گود میں، کبھی گلاب اور کبھی موتیے سے آنکھ مچولی اور ان کے آگے پیچھے ساتھ ساتھ جگنو بھی آنکھ مچولی کرتے چلے آتے۔
لیکن اگر چھت سے نظارہ کریں تو سامنے وسیع و عریض باغ میں جگنو رات کے تاروں کی طرح چمکتے نظر آتے۔ اس کی معصومیت آسمان کے تارے اور زمین کے جگنوؤں کی اور کھنچی چلی جاتی۔
آسمان کے ستارے تو شفاف چاند کے سنگ اٹکھیلیاں کرتے مگر یہ زمین کے ستارے کتنے بھیانک چمکتے ہیں۔ درختوں کی اْوٹ سے اچانک کبھی کوئی جانور اپنے جسم کے ایک بھیانک لوتھڑے کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے نمودار ہوتا اور اْسے اپنی اور بْلاتا۔ اشارے کرتا۔ آنکھوں سے کچھ سمجھانے کی کوشش کرتا۔ جو اسے سمجھ نہ آتا تھا۔
آسمان کا چاند فوراً اْسے آواز دیتا اور وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی جاتی اور جا کر دھڑکتے دل کے ساتھ سہمی ہوئی سو جاتی۔
اْف۔
یہ تو درجن انچ دراز ہے درجن انچ طویل جاناں۔ سوچو میرا کیا حال ہو گا۔ سوچو ذرا سوچو۔ بنانے والے نے کس فرصت میں بنایا ہو گا اور مجھے دیکھو دنیا کے سب سے بڑے نیوز چینل کی سب سے بڑی خبر میں ہی ہوں مگر اِن کو علم ہی نہیں۔ جب کہ میں اس دنیا کے سب سے بڑے نیوز چینل کا ہی ملازم ہوں۔ جہاں بھی جاتا ہوں لڑکیاں مجھ پر مکھیوں کی طرح مرتی ہیں۔ چینل والوں کو جس خبر کا علم نہیں ہو تا اِن کو نجانے کیسے ہو جاتا ہے۔
اْف کیا بتاؤں تمہیں؟ میں جب ہاٹ ہوتا تھا تو مجھے بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ اس ظالم حسن کو چھپا بھی نہیں پاتا تھا۔ عرب کی عورتوں کے حسن عظیم کی طرح یہ خود ہی باہر نکل کر دعوت عام بن جایا کرتا تھا اور پھر۔ یہ لڑکیاں بھی حسین مرد کو کہاں چھوڑتی ہیں۔ ساری دنیا کی حسین لڑکیاں مجھ پر مرتی تھیں۔ لیکن میں۔ میں نے کبھی کسی کی طرف اِسے اْٹھا کر تو کیا، آنکھ اْٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔
جس حسن پہ دنیا بھر کی لڑکیاں مرتی تھیں۔ میرا وجود اْس سے تنگ آ گیا تھا۔ میں نے ڈاکٹر سے مشورہ کیا اور ایک سرجری کے بعد اسے چند پور کٹوا کر قابل برداشت کروا لیا۔ تب مجھے علم ہوا کہ یہ تو ابھی بھی عورت کے لئے دیوتا ہے۔ وہ طول دراز اور قوی پہ مرتی ہے۔ میں اب کیا کرتا مجھے بنانے والے نے بنایا ہی بہت فرصت میں تھا۔ کسی خاص عورت کے لئے۔ آہ میں اسے ابھی بھی اوب جاتا ہوں۔ تو سوچتا ہوں اس کو ایک اور سرجری سے آدھ درجن دراز کروا لوں لیکن پھر جب سے تم کو دیکھا ہے۔ لگتا ہے بنانے والے نے فرصت سے جو بنایا ہے، تمہارے لئے ہی بنایا تھا۔ تمہیں اتنا بڑا ہی پسند ہو گا ناں۔ یہ تمہارا ہے میری جان، یہ تمہارے لئے ہی بنایا گیا ہے۔ اتنا خاص، کسی بہت خاص کے لئے۔
آسمان سے ایک ستارا ٹوٹا اور زمین کی اور دوڑتا ہوا چمکتا ہوا تیزی سے آتا، کہیں درمیان میں ہی گم ہو گیا۔ لگتا تھا کسی جن یا فرشتے نے اسے زمین پہ آنے سے روک دیا ہے۔
”سینکڑوں لڑکیاں ایسی کہ اْن کا دم نکلے“
یہ کہتے ہوئے وہ اپنا ہاتھ ریل کی دونوں پٹریوں کے بیچ لے آیا، جہاں یہ دونوں کسی ٹیکنیکل خرابی کے باعث ایک ہو رہی تھیں اور اس جگہ کو دیر تک خاص احساس تفاخر سے سہلاتا رہا۔ جیسے کسی کی یاد میں سہلا رہا ہو۔ جیسے کسی کے خیال سے نہا رہا ہو۔ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر کہنے لگا،
میں نے ساری دنیا پھِری ہے، صحراؤں جیسی عورت کہیں نہیں اور دنیا بھر کی عورتیں کہتی ہیں کہ میرے جیسا مرد کہیں نہیں دیکھا۔ کسی مساج سینٹر گیا تو وہ ہاتھوں میں لے لے کر چوم لیتیں کہ ہائے کیا حْسن ہے۔ زمین والوں کو ایسے کہاں نصیب۔ کسی پارلر گیا تو ویکس کرتے کرتے ہاتھوں سے ہونٹوں سے لال کر دیتیں۔ کبھی بحری جہاز پہ جانا ہو تا تو گوریاں دور سے ہی حْسن تلاطم کو دیکھ کر دوڑی چلی آتیں۔ اور پیار کرنے لگتیں۔ یہ گوریاں بھی بڑی مزے کی محبت کرتی ہیں۔ ان کے ہونٹوں سے آگ نکلتی ہے۔ وطن واپس آیا تو دوستوں کی محفل میں ایک بار شرط لگ گئی، کس کا حسن سب سے بڑا ہے۔ جب ناپا تو اپنا ہی مینار حسن بازی لے گیا بلکہ کچھ سینٹی میٹر اوپر ہی تھا۔ تب سے سب دوست پیار سے آٹھ انچا ہی کہتے ہیں۔ ایک ظالم یار کی تو محبت ہی عجیب ہے کہتا ہے ”لو آ گیا شہزادہ چھ فٹ اونچا اوپر سے، آٹھ نیچے سے۔ اور سونے پہ سہاگا کہ مشروم کے ٹاپ پہ ایک تل بھی ہے اور تل پہ کس لڑکی کی جان نہیں نکلتی۔“
لیکن میں نے کبھی اپنے حسن پہ فخر نہیں کیا۔ بس دل کرتا ہے حسن حْسن سے ملے، دل دل سے ملے، بدن بدن سے ملے، روح، روح سے ملے۔ سوچ، سوچ سے ملے۔ اور لگتا ہے اب یہ سب مل گیا ہے۔ تو پھر تم سے کیسا پردہ، تم تو اپنی ہو۔ بنی ہی میرے لئے ہو۔ تم تو یوں بھی کوئی قدرتی وگر میکسیمائزر لگتی ہو سچی۔
دیکھو گی؟ نکالوں باہر؟ یہ بھی تو تمہارا اپنا ہی ہے۔ کہتا ہے اسے چاہنے والے آ گئے ہیں۔
روشنی آج آسمان سے ایک روشن چمکتا تارا خا مو شی سے ٹوٹا اور زمین کی طرف رواں ہو گیا بہت تیز تھی، رفتار بہت تیز تھی، اتنے ٹوٹے تاروں کو دیکھ کر لگنے لگا ہے خاک ہو جانے والوں کی رفتار تیز ہی ہوا کرتی ہے۔ آج بھی کسی فرشتے یا جن نے اس کو راستے میں ہی روک لیا۔ اور وہ نجانے کہاں خاک ہو گیا۔
زندگی بہت حسین ہے، مگر حْسن خود سوچتا ہے کہ تمہیں زندگی کا حْسن کیسے دے؟ تمہارے کچھ سپنے ہوں گے، ارمان ہوں گے، خواب ہوں گے۔
مگر یہ سب کہانیوں میں ہی ہوتا ہے۔ ڈراموں، فلموں میں ہوتا ہے۔ ویسے سوچتا ہوں تمہیں تو آدھ درجن لمبا بھی چھوٹا سا ہی لگتا ہو گا ناں۔ مگر نارمل تو یہی ہو تا ہے۔ باقی سب تو ہوائی باتیں ہیں۔ یہ چھوٹا سا ہے، موٹی مرغی کے دیسی انڈے کی طرح۔ لیکن ہے خالص، دیسی، پیور۔ خالص گوشت زیادہ لذیذ ہو تا ہے۔ مگر بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔
بس اسی لئے کہتا ہوں، بندر نا بنو، ادرک کا سواد چکھ لو۔ یہ تمہیں پھر کبھی نہیں ملے گا۔ چھوٹا نقصان بھی نہیں پہنچاتا۔ ہوتا بھی ہارڈ ہے۔ ایک دم آئرن راڈ، اس کو کْشتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خالص خوراک کی خالص پیداوار ہے، پائیدار ہے، دلدار ہے۔ گھنٹوں کے مزے، میری تو بیویاں مجھے کہتی ہیں ”سجناں آپ بڑے رومانٹک ہیں، ہائے اللہ برداشت ہی نہیں ہوتے، آدھ درجن لمبا ہے، مگر آٹھ سو وولٹ دیتا ہے،
میں نے جب سے تم کو دیکھا ہے ناں، آٹھ سو نہیں ہزار وولٹ آتا ہے پورا۔ اصل میں کچھ لو گوں کے زندگی میں آنے سے انسان کو اپنی اصل اہلیت کا اندازہ ہو تا ہے۔ اور وہی اصل میں اس کا حق دار ہو تا ہے، لہذا تم ہی اصل حق دار ہو۔ صرف تم۔
آ جاؤ۔ بس ایک بار سہی۔ میں تو عورتوں کے بس کی بات ہی نہیں۔ عرب شہزادے جو شکار پہ آتے ہیں، میں تو اْن کو شانت کرتا ہوں۔ یہ دولت، یہ گاڑیاں، یہ بنگلے، سب تحائف تو میرے الٹے ہاتھ کی جاگیر ہیں۔ لیکن میں پھر بھی کہوں گا، اصل مالکن تم ہو۔
آج پھر آسمان سے ایک چمکتا ستارا ٹوٹا اور زمین کی اور کھنچا چلا آیا۔ مگر آج بھی کسی فرشتے یا کسی جِن نے اسے روک لیا۔
”چھوٹا ہے، پر موٹا ہے“
بڑی شرارتی ہو۔ یہی چوائس ہے ناں تمہاری۔ بھلا تمہیں کیسے پتا چلا کہ میرا ”چھوٹا ہے، پر موٹا ہے“ او ناٹی گرل، ۔ بس چوکا انچ ہے۔ جیسے چھوٹا خاندان، زندگی آسان۔
شادی کے بعد بتاؤں گا تمہیں، ایٹم کی طاقت۔ ایٹم ہوتا چھوٹا ہے مگر بم بنا سکتا ہے۔ تمہیں میں بم بنا دوں گا۔
آج پھر آسمان سے تارا ٹوٹا اور تیزی سے زمین پہ گرنے ہی والا تھا کہ کسی فرشتے یا جِن نے ہمیشہ کی طرح اْس کا راستہ روک لیا۔
یہ کائنات کا مالک بھی نرالا ہے کہ کبھی کبھی شیطان سے فرشتوں کے سے کام لے لیتا ہے۔
ویسے کبھی تم نے سوچا ہے کہ شیطان اور فرشتوں کے کتنے کتنے طویل ہوں گے۔ ہوں گے بھی یا نہیں؟ میرا خیال ہے فرشتوں کو تو یہ طاقت عطا ہی نہیں ہوئی۔ کیو نکہ یہ حیوانی طاقت ہے اور جب کوئی یہ طاقت کھو دیتا ہے، فرشتہ بن جاتا ہے۔
واہ واہ۔ حیوانوں کو فرشتہ بنا دیتا ہے اور تمہیں تو فرشتے بھاتے ہیں۔ ہے ناں؟ فرشتوں کو ہی پسند کرتی ہو ناں؟ اور بندہ فرشتہ خاص عمر کے بعد ہی بنتا ہے۔ جب اس سے حیوانی طاقت چھین لی جاتی ہے۔
عورت کی نفسیات کا اگر بغور مطالعہ کریں تو وہ کبھی بھی جوان مرد کو پسند نہیں کرتی۔ جوان مرد تو اس کے کسی بھی قسم کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔ ابھی تو اس نے خود تجربات کرنے ہوتے ہیں، مطمئن کرنا اسے کہاں آتا ہے۔ وہ جوان مرد کی طرف صرف بچے کے لئے کھنچی چلی جاتی ہے۔ پسند فرشتے کو کرتی ہے۔ یوں بھی جوان عورت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ اس کا لمس و نم سوکھے شجر کو لہرا دیتا ہے۔ تم سمجھ رہی ہو نا، جوان مرد عورت کی معاشرتی ضرورت ہے اور فرشتہ عمر اس کی دِلی چوائس۔
میں بھی تو اب ایک فرشتہ ہی ہوں
آسمان سے آج اکٹھے دو ستارے ٹوٹے اور چمکتے ہوئے، دوڑتے ہوئے زمین کی طرف آہی رہے تھے کہ کسی فرشتے یا جن نے اْسے روک لیا۔
میرے پاس ہے ہی کیا؟ کچھ بھی تو نہیں۔
ایک چھوٹا سا گوشت کا لوتھڑا ہی تو ہے۔ تم کو اس سے کیا ڈر؟ کیا خوف؟ تم تو ہر طرح محفوظ ہو۔ بس یہ پیاسا ہے، بہت پیاسا۔ لڑکیاں اس کو دھتکار دیتی ہیں۔ تم ایسی نہیں ہو، حساس ہو سمجھتی ہو کہ احساس کس کو کہتے ہیں۔ میرا بھی تو دل ہے ناں، وہ بھی تو محبت کے خواب دیکھتا ہے کہ کوئی اس کو بھی اپنی قوت لمس و نم سے خود فریبی میں مبتلا کر دے۔
جتنی خشک زمین ہو گی اْسے اتنا ہی زیادہ پانی چاہیے ہو گا۔ اسے اتنی ہی پیاس بھی لگی ہوگی۔ میں نے جب سے تم کو دیکھا ہے لگتا ہے تم چشمۂ آب ہو۔ پہاڑوں سے نکلتا تازہ شفاف پانی، جو میری پیاس بجھا دے گا۔ مجھے ہرا بھرا کر دے گا۔
سمجھو تو یہ کسی ثواب سے کم نہیں۔ ایک بے جان لوتھڑے کو جان دینا مسیحائی ہے۔ میں نے کب کوئی عمومی تقاضا کیا ہے؟ بس مسیحائی کی بھیک مانگی ہے، جس کے لئے تم کو شاید منتخب کیا گیا ہے۔
آسمان سے آج تین ستارے ٹوٹے اور زمین کی طرف آنے لگے فرشتوں یا جنوں نے انہیں آج بھی روک لیا۔ آخر یہ فرشتے یا جن چاہتے کیا ہیں کہ زمین ستاروں سے کہیں بھر نہ جائے۔ کیا ستارے اس کے ماتھے کا ہی جھومر بنے رہیں؟
کیا تمہارے دل کی گھنٹیاں اب بھی نہیں بجیں؟
کیا اب بھی تم بے قرار نہیں ہوئیں، اسے دیکھ کر؟ اپنے جانو کی جان کو دیکھ کر؟ اب بھی بدن میں آگ نہیں لگی؟ کیا اب بھی ارمانوں نے کروٹ نہیں لی؟
یہ دیکھو، اِس طرف سے دیکھو، یہ دیکھو انچز ٹیپ سے ناپ رہا ہوں۔ دیکھو۔ دیکھو یہ دیکھو۔ اس طرف سے بھی دیکھو۔ اب بتاؤ؟ کیا اب بھی اس کو ہاتھوں میں تھام لینے کو دل نہیں کیا؟ کیا اب بھی اِس کو لولی پاپ بنانے کو دل نہیں کیا؟ اب بچ کے دکھاؤ۔ سارے کا سارا حْسن تمہیں قید کر کے بھیج دیا ہے۔
اس نے ساری کی ساری تصاویر اور تحریر ڈیلیٹ کر کے یہ نیا نمبر بھی بلاک کر دیا۔
آج آسمان سے بہت سے ستارے ٹوٹ کر زمین کی گود میں آ رہے ہیں۔ مسلسل آرہے ہیں۔ مگر یہ فرشتے یا جنوں کو پتا نہیں کیا بیر ہے ان سے۔ راستے میں ہی روک لیتے ہیں۔ میں تو آسمان پرجا نہیں سکتی اور فرشتے یا جن اِن کو زمین پہ آنے نہیں دیتے۔ راز کیا ہے۔ یہ سمجھ سے باہر ہے۔ اب تو جگنو بھی اس دیس کو چھوڑ گئے ہیں۔ اب تو تتلیاں بھی نظر نہیں آتیں۔ اگر کوئی اِکا دْکا تتلی آہی جاتی ہے تو بے رنگ ہوتی ہے۔ ہم نے ان کے بھی رنگ اْڑا دیے ہیں۔
وہ دوڑ کر چھت پر گئی۔ اب ہر طرف اونچی اونچی عمارتیں بن چکی ہیں۔ دور دور تک لہلہاتا سبزہ اب کہیں نظر نہیں آتا۔ عمارتوں کے سرے ایک دوسرے سے جْڑے ہوئے ہیں۔ سانس بھی لینا دشوار ہے۔ مگر سامنے وہ باغ جوں کا توں قائم ہے۔ عمارتوں کے عین وسط میں آ گیا ہے۔ اور چھت کے بھی بس ایک سائیڈ سے دکھائی دیتا ہے۔ وہ آج بھی جگنو دیکھنے اْسی کو نے میں جا کھڑی ہوئی، جہاں کبھی بچپن میں ہوا کرتی تھی۔ آج دور دور تک کوئی ایک بھی جگنو دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ شاید ان جانوروں کی کثرت سے خوف زدہ ہو کر ہجرت کر گئے ہیں۔ ان جانوروں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ پہلے کوئی کسی درخت کی اوٹ سے نکل آتا تھا اور اپنے بدن کا آلہ جراحی پکڑ کر ہلاتا رہتا۔ آج بہت زیادہ ہیں۔ ایک کا تو آلہ درخت کے تنے کے ساتھ لپٹتا ہوا اوپر کو اْٹھا ہوا ہے۔ اور شاید ہَوا سے خزاں کے بیمار پتوں کی طرح جھول رہا ہے۔ باقی سب اپنے اپنے ہاتھوں میں تھا مے فٹ بھر، آدھ درجن انچ دراز، ایک پور، دو پور تین پور لانبے جانوروں کو ایک خاص ردھم سے جنبش دے رہے ہیں۔
تھپ تھپ تھپا تھپ۔
پریوں و حوروں کی سسکیوں اور چڑیلوں کے قہقہوں سے فضا میں خوف بڑھتا جا رہا تھا۔

