بالوں میں آئی سفیدی اور کینیڈا کے مشاعرےکی صدارت


خواتین و حضرات !

آج کی محفل مشاعرہ میں صدارت کی کرسی پر بیٹھنا میرے لیے عزت’ اعزاز اور فخر کی بات ہے لیکن میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میری صدارت میں میری شاعری اور دانشوری کا دخل کم ہے اور انٹرنیشنل آرٹس کونسل کینیڈا کے روح رواں شعیب ناصر اور ان کے ادبی دوستوں کی محبت’ چاہت اور اپنائیت کا دخل زیادہ ہے۔عین ممکن ہے ان دوستوں نے میرے سفید بال دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہو۔

دوستو ! میں اپنی زندگی کے نصف صدی کے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر بڑے وثوق سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ جوں جوں انسان کے بال سفید ہونے لگتے ہیں اس پر اپنی ذات’حیات اور کائنات کے کچھ راز بھی منکشف ہونے لگتے ہیں میری ایک غزل کے چند اشعار ہیں

ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں

کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں

ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے

یہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں

جو بالوں میں سفیدی آ گئی ہے

تو پھر جا کر کہیں خود پر کھلے ہیں

ان بالوں کی سفیدی سے مجھ پر زندگی کا ایک راز منکشف ہوا جس نے مجھے ایک چھوٹی سی نظم لکھنے کی تحریک دی آپ بھی سن لیں۔ نظم کا عنوان ہے

تھوڑا سا فاصلہ

ایک ہاتھ لیتا ہے

ایک ہاتھ دیتا ہے

اور دونوں ہاتھوں میں

فاصلہ ہے تھوڑا سا

جس کو پار کرنے میں

سر کے کتنے بالوں میں

چاندی گھر بناتی ہے

عمر بیت جاتی ہے

آج کی اس محفل مشاعرہ میں جب کئی مہاجر شاعروں اور شاعرات نے سات سمدر پار پاکستان کے حیران کن اور پریشان کن حالات و واقعات کے بارے میں غزلیں اور نظمیں سنائیں  تو مجھے بخش لائلپوری کا ایک شعر یاد آیا جو کچھ یوں ہے

ہمارا شہر تو چھوٹا ہے لیکن

ہمارے شہر کا مقتل بڑا ہے

خواتین و حضرات !

ایک وہ زمانہ تھا جب معاشروں میں ادیبوں اور شاعروں کو وزیروں اور سرمایہ داروں سے زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ اس دور کے ادیب اور شاعر دانشور ہوا کرتے تھے اور وہ دانشور قوم کی ذہنی تربیت کرتے تھے انہیں ایک بہتر انسان بننے کی تحریک دیتے تھے لیکن پھر شاعری میں تفریح اور ENTERTAINMENT بڑھتی گئی اور دانائی اور ENLIGHTENMENT کم ہوتی گئی اور اجتمائی دانائی اور لوک ورثہ کے وہ راز جو سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہوتے تھے مشاعروں کی واہ واہ تک محدود ہو گئے۔

شاعری  اور دانائی کی گہری دوستی کی ایک مثال عالمی شاعری کے تراجم ہیں  جو ہمیں عالمی گائوں کا شہری بناتے ہیں ۔ وہ شاعری جو ردیف اور قافیے کی بیساکھیوں پر چلتی ہے وہ عالمی ادب کی دنیا میں زیادہ دور تک سفر نہیں کر سکتی کیونکہ ترجمے میں دانائی کا ترجمہ آسان اور لفظوں کی جادوگری کا ترجمہ کرنا مشکل ہے۔

پابلو نرودا کے ایک مصرعے

LOVING IS SHORT FORGETTING IS LONG

کا ضمیر احمد نے اردو میں یوں منظوم ترجمہ کیا تھا

عشق ہوتا ہے مختصر لیکن

دیر لگتی ہے بھول جانے میں

ہم تک چلی کے پابلو نرودا’  میکسیکو کے اوکٹاویو پاز اور مشرق وسطیٰ کے خلیل جبران تراجم کے راستے سے ہی پہنچے ہیں۔

ایک وہ زمانہ تھا جب قوم کے ہیرو ان کے شاعر ہوا کرتے تھے۔ جب میں ایران گیا تو مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ تہران کے چوراہوں پر ان کے جن پسندیدہ شاعروں کے بت بنے ہوئے تھے ان میں حافظ اور سعدی اور رومی اور بابا طاہر شامل تھے لیکن پھر مختلف قوموں میں شاعروں اور دانشوروں  سے زیادہ کھلاڑیوں سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں نے مقبولیت حاصل کرنی شروع کر دی۔

دوستو !

میں شاعری کی ہی نہیں باقی تمام فنون لطیفہ کی بھی دل کی گہرائیوں سے عزت کرتا ہوں چاہے وہ موسیقی ہو رقص ہو یا ڈارمہ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ فنون لطیفہ انسانوں کے دلوں میں سوز پیدا کرتے ہیں گداز پیدا کرتے ہیں نرمی پیدا کرتے ہیں ان کی سنگدلی کو کم کرتے ہیں اور انہیں انسان دوستی کے فلسفے سے متعارف کرواتے ہیں تا کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو سکین اور ایک دوسرے سے سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود عزت اور احترام سے زندگی گزارنا سیکھ سکیں۔ فنون لطیفہ ہمیں مہذب انسان بناتے ہیں۔

اب میں آپ کو اپنی دو غزلیں سناتا ہوں امید ہے آپ کو پسند آئیں گی

پہلی غزل کے چند اشعار

ہمارے گھر کی ہر اک چیز بے گھروں کی طرح

شریر بچوں کی بے ربط خواہشوں کی طرح

ہمارے عہد کے ذی ہوش خانداں سوچیں

وہ دلدلوں کی طرح ہیں کہ ساحلوں کی طرح

جدا ہوئے وہ گھروں سے تو یوں لگا سب کو

ٹپک پڑے ہوں وہ آنکھوں سے آنسوئوں کی طرح

بہت سے لوگ دلوں کے قریب تھے پر اب

بکھر گئے ہیں زمانے میں فاصلوں کی طرح

زمانہ چھپتا ہے ان شاعروں سے اب خالد

جو شہر زیست میں آئے ہیں آئنوں کی طرح

اور دوسری غزل کے چند اشعار

یہ جو ٹھہرا ہوا سا پانی ہے

اس کی تہہ میں عجب روانی ہے

ایک عورت جو مسکراتی ہے

اس کی غمگیں بہت کہانی ہے

کتنی محنت سے ہم نے حاصل کی

ایسی ہر چیز جو گنوانی ہے

ایک چاہت جو عارضی سی لگے

اس کی تاثیر جاودانی ہے

جس کو قوس قزح کی خواہش تھی

اس کی بے رنگ اب جوانی ہے

اس کو گھر بیٹھ کر گنوائو گے

شام خالد بہت سہانی ہے

میں مشاعرے کے آخر میں منتظمین اور سامعین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ٹورانٹو میں ایک خوبصورت ادبی محفل سجائی اور امریکہ سے آئے ہوئے معزز اور محترم مہمان شاعر عابد رشید کو کینیڈا میں خوش آمدید کہتا ہوں وہ اپنے مختصر قیام کے دوران جان گئے ہونگے کہ کینیڈا کے باسی اپنے مہمانوں کو اپنے ذہنوں ’ دلوں اور گھروں کے دروازے کھول کر خوش آمدید کہتے ہیں۔  امید ہے ان کا کینیڈا کا قیام دلچسپ بھی ہوگا اور معنی خیز بھی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail