محرومیوں کی سائنس
افسوس میرے بچگانہ خیالات پر، لیکن انہیں بیان کیے بغیر مجھے چین نہیں آئے گا۔
میرے ہسپتال میں ایک مریضہ آئی، جو ایک جلدی مرض میں مبتلا تھی، جس میں جلد سانپ کی کینچلی کی طرح اترتی رہتی تھی، پھر ایک عورت جسے پیشاب کی نالی کا انفیکشن تھا اور اس کے گھر والے اس سے گھن کھاتے تھے، اور ایک بوڑھے بابا جی ( جو اکیلے آئے تھے ) اور جن کا پیٹ بہت سافٹی سافٹی تھا، میں ایک ڈاکٹر ہونے کے ناتے اپنے پروفیشنل ببل میں ہی رہا، حالانکہ وہ سب میری طرح انسان تھے۔ یا وہ عورت جس کی میں نے ہسٹری لی اور وہ دو ہفتے میں میری آنکھوں کے سامنے، زندگی کی بازی ہار گئی۔ اس کے چلانے سے سب ڈسٹرب ہوتے تھے۔ جیسے ایک بڑھیا سے ڈسٹرب ہو کر اس کے بیٹے نے اسے عید والے دن گالیاں نکالیں۔ کیسے سماعت اور بینائی اور ظاہری قوت و کشش کھو جانے کے بعد انسان پر گزرتی ہے۔ یہی زمانے کی ریت ہے۔ کہانیاں رہ جاتی ہیں۔ چند دھندلی تصویریں، ڈائریاں اور کہانیاں جو بسا اوقات دلوں کے صندوق توڑ کر باہر آ جاتی ہیں لیکن انہیں تلف ہو جانا چاہیے۔ تیری اور میری طرح جب میری ذات کے خفیف سے رخ سے تجھے گھن آ گئی۔ جب مجھے پتا چلا کہ تمہیں نروس بریک ڈاؤن ہو چکے ہیں اور تم کیسے نفسیاتی بیماریوں سے نمٹ رہی ہو لیکن پھر بھی وہی ہوا، تمہارے معیارات غیر حقیقی ہیں۔ اور دو گھنٹے کی بے ترتیب گپ شپ اپنی موت آپ مر گئی۔
انسانی تعلقات کی اتنی کم شیلف لائف ہوتی ہے، میں جانتا تو تھا لیکن مجھے افسوس ہوا، جب اپنی زندگی کے محسن کو سلام تک نہ کر سکا۔ کاغذ جلا جلا کر بھسم کر دیے اور وقت ملاقات ایک مایوسی اور نراشا۔ جیسے بچے کھلونوں سے اکتا جاتے ہیں توڑ ڈالتے ہیں۔ گوشت پوست کے بنے ہوئے ہم بونے خود کو انسان کہنے والے۔ دو بول تسلی کے نہیں بول سکتے، کسی پر چار پیسے نہیں لگاتے، مسکرا کر بات تو درکنار آنکھ بھر کو دیکھ نہیں سکتے۔ لیکن ہم جنتوں کے وارث ہیں۔ ہمیں وہم ہے ہمیں محبتیں مل جائیں گی۔ ہماری زندگیوں میں برکت شامل ہو جائے گی۔ پھر ہوتا کیا ہے، ہم نظریں بھی نہیں ملا سکتے، منہ مقفل ہو جاتے ہیں، سوالات رہ جاتے ہیں، شکوے اور توقعات ٹوٹنے کا غم۔ پھر شاعر بنتے ہیں، داستانیں لکھی جاتی ہیں، دھنیں بنتی ہیں، پینٹر کے برش سے لہو ٹپک ٹپک کر کینوس کو زندہ کر ڈالتا ہے۔ آرٹ کی پیدائش ہوتی ہے۔ دکھ کی کوکھ سے کوئی سارتر بنتا ہے، کوئی اینجلو، کامیو اور کوئی محی الدین نواب، کوئی بازیگر، سب کا ماخذ ایک ہے، دکھ، نراشا اور مایوسی اور محرومی۔
کسی کے لمس اور آواز کی محرومی، کسی کو لقمے کی بھوک، کسی کو کپڑے کی، مکان کو محرومی، نام، شہرت اور واہ واہ کی بھوک اور۔ خوف، ذہنی انتشار، مدوجزر جنہیں بتانے کے لیے لوگوں نے فینسی ورڈز بنا رکھے ہیں۔ پھر شام ہو جاتی ہیں، شباب اور شراب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں، اور محرومیاں دلہنوں کی طرح سج سنور کر بالا خانوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ ستار سر چھیڑتے ہیں اور دل کسی ویرانے میں روتے کتے کی طرح اپنے زخم چاٹنے لگتا ہے۔ یہ ہے انسان کا شرف، اس کے رتبے کی معراج۔
منہ بند حسرتوں کو سخن آشنا کرو
توڑو سکوت، ساز غزل ابتدا کرو


