محبت: کمالِ ذات کا جزو لاینفک
محبت وہ جذبہ ہے جو قلب سیلم پہ اترتا ہے اور روح کو شادماں کرتا ہے ، تپتی دھوپ میں نرم ٹھنڈی چھاؤں سا معلوم ہوتا ہے ۔۔
لیکن تمہیں کیسے سمجھ آئے گی کہ محبت دراصل کیا ہے تم نے کبھی محبت نہیں کی اور میں سمجھتی ہوں جس نے کبھی محبت نہیں کی وہ کبھی کامل انسان نہیں بن سکتا ، کیونکہ محبت نہ کرکے وہ عاجزی سیکھنے سے محروم رہا ۔
بس تم مان لو ناں
کہ محبت انسان کو کامل کرتی ہے یہی محبت تو ہے جو خدا سے مانگنا سیکھاتی ہے ۔۔
اپنی ذات کی نفی کی کرکے سارا ہی مزاجِ محبوب کے مطابق ڈھل جانا بھی محبت ہی کی کرامت ہوتی ہے ورنہ یہ نفسا نفسی کا دور ہے یہاں کون کس کی سنتا ہے سبھی خود پسندی میں مبتلا ہیں ایسے میں اپنی ذات کو مٹا دینا ایک فن ہے اور ایسا صرف وہی کرسکتے ہیں جو اس دنیا میں سیکھنے آئے ہیں ، یہی لوگ ہوتے ہیں جو خدا کی مخلوقات سے محبت کرنے لگتے ہیں ، صرف انسانوں سے نہیں جانوروں اور پرندوں تک کی محبت بھی ان پہ حاوی ہو جاتی ہے۔
لیکن مجھے لگتا ہے تمہیں میری بات ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی ۔۔خیر چھوڑو
تم تو کبھی اپنوں سے دور نہیں رہی ، اگر تم دور رہتی تو جانتی کہ
اپنوں کی آواز بھی کتنی بڑی نعمت ہے ، جب ہفتوں بعد کسی اپنے کی آواز کانوں میں پڑتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ زندہ رہنے کو صرف پانی ہوا اور روشنی ہی ضروری نہیں ہیں کسی شدید اپنے ہی آواز ہوتی ہے جو سنائی دے تو ہوا پانی اور روشنی بھی تب جاکر ضروری لگتے ہیں ورنہ تو یوں ہی بے معنی سے لگتی ہے ہر شے ۔۔
وہ جن آوازوں سے سر درد ہوجاتا تھا اگر اپنوں سے دوری ہو تو وہی سر درد دو بارہ ہونے کی تمنا بھی ہونے لگتی ہے ۔
ایسے میں جب کبھی اپنوں کی آواز کانوں میں پڑجائے تو جسم کا رواں رواں آلۂ سماعت بن جاتا ہے
اس آواز میں بھی اتنی تاثیر ہوتی ہے کہ برسوں کا بیمار چند پلوں میں ٹھیک ٹھاک ہوجائے۔
اور کچھ آوازیں تو ایسی محبوب ہوتی ہیں کہ برسوں سے کومے میں پڑا آدمی بھی ہوش میں آجاتاہے
یہ ترس کہو تڑپ کہو یا کچھ بھی مگر یہ سب محبت ہی کے دم سے ممکن ہوتا ہے
اور پھر لمس۔۔
تمہیں پتہ ہے یہ محبت اور اپنائیت میں لمس کیا شے ہے؟
لمس کی تو الگ ہی دنیا ہے بلکہ صرف الگ ہی نہیں مکمل دنیا ۔
جب بخار میں کوئی تپ رہا ہو اور کوئی آکر ماتھے پہ ہاتھ رکھے اور کہے تم ٹھیک ہو ۔
دوری ہو تو یہ ہاتھ کا لمس بھی کتنا یاد آتا ہے تم یقین نہیں کروگی ، اسی لمس کو سوچ کر یاد کرکے برسوں گزارنے پڑتے ہیں ۔
ہم تو ایسے ہی کہ ہماری پریشانیاں ختم نہیں ہوتیں اسلئے ہم تو ہر وقت اپنے محبوب کا لمس چاہتے ہیں
جو ہر پریشانی میں ہمارا ہاتھ اپنے نرم گرم ہاتھوں میں تھامے اور کہے کوئی نہیں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔
رو پڑیں تو سینے سے لگا کر ہمارے آنسو اپنے اندر اتار لے۔ ۔
سنو
اب آنکھیں بند کرکے لمبے سانس لو تمہیں کسی اپنے کا لمس ضرور یاد آئے گا ، جو برسوں سے تمہیں میسر نہیں ہوگا اب سننے اور کرنے کے بعد لگے گا واقعی لمس جاندار ہوتا ہے
جو محسوس ہوتا ہے
دکھوں بیماریوں میں مسیحا بنتا ہے
اور کبھی تحفظ بنتا ہے جیسے باپ اور بھائی کا لمس ۔
مجھے لگتا ہے ہر شخص کو ایسے لمس کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جب وہ میلوں کی مسافت پہ ہو تو لمس کو یاد کرکے اپنوں کو رو برو محسوس کرسکے۔
بس تم اپنوں سے دور جاکر ان کے لمس پہ گرد نہ پڑنے دینا، بلکہ تنہائی میں بیٹھ کر محسوس کرتی رہنا تمہیں لمس کی زندگی پہ یقین ہوجائے گا ۔۔
لیکن پہلے تم یقین کرلو کہ یہ محبت ہی ہے جو کامل بنا دیتی ہے
محبت ہی دوریوں کا احساس ختم کرنے والا معجزہ ہے ۔
صرف اتنا یاد رکھنا کہ جب ایسا معجزہ ہو تو دنیا میں موجود کوئی بھی شے معمولی نہیں لگتی ہر چیز کے وجود کا مطلب سمجھ آنے لگتا ہے۔۔
Facebook Comments HS


