یونان کشتی حادثہ

سب سے نیچے پاکستانی؛ درمیان میں خواتین اور بچے ؛ اور سب سے اوپر شامی، فلسطینی اور مصری۔ ان کے مطابق انہیں ایڈریانا [ڈوبنے والی کشتی] میں مردہ مچھلیوں کی طرح ٹھونس دیا گیا تھا جس میں زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ وہ ایک خوفناک طبقاتی نظام تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی اگر اوپر آنے کی کوشش کرتے تو انہیں بیلٹوں سے مارا جاتا اور انہیں کھانے اور پانی سے محروم رکھا گیا۔ سمگلروں نے پاکستانیوں کا کھانا سمندر میں پھینک دیا اور پاکستانیوں کو تہہ خانے میں اس طرح رکھا گیا کہ ان میں سے سینکڑوں اپنی جان بچا سکنے کے کسی بھی موقع سے محروم، بے بسی کے عالم میں سمندر میں ڈوب گئے۔
خوفزدہ مسافر ہر لمحہ مدد کے لیے فون کرتے رہے، انسانی ہمدردی کے کارکنان انہیں یقین دلاتے رہے کہ انہیں بچانے والی ٹیمیں بس پہنچ ہی رہی ہیں۔ عین اسی وقت، یورپی سرحدی اہلکار، کشتی کی حالت فضائی فوٹیج کی مدد سے دیکھ رہے تھے جنہیں اس بات کا یقین تھا کہ مسافروں کو بچا لیا جانا ایک بہادرانہ کارروائی ہوگی۔ اس کے باوجود ایڈریانا کئی بین الاقوامی اور یورپی انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں، درجنوں اہلکاروں، یونانی کوسٹ گارڈز کے عملے اور دیگر قریبی بحری جہازوں کی موجودگی میں گزشتہ ماہ ڈوب گئی، جس میں 600 سے زائد تارکین وطن، جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی ہلاک ہوئے۔ سیٹلائٹ کی تصویریں، محفوظ شدہ عدالتی دستاویزات، زندہ بچ جانے والوں اور اہلکاروں کے انٹرویوز، اور آخری گھنٹوں میں نشر ہونے والے ریڈیو سگنلز کی ہلچل بتاتی ہے کہ موت کا یہ کھیل روکا جا سکتا تھا۔
یونانی حکام نے صورت حال کو معمولی اور برے طریقے سے لیا۔ بحریہ کے میڈیکل جہاز یا ریسکیو ماہرین کو بھیجنے کے بجائے یونانی حکام نے ایک ایسی بچاؤ ٹیم بھیجی جس میں صرف چار نقاب پوش مسلح افراد شامل تھے۔ یہ مایوس کر دینے والی انسانی خودغرضی کی کہانی ہے۔ یہ کشتی یونانی حدود میں پہنچنے سے پہلے مالٹا سے گزری تھی جنہوں نے بچاؤ کے لیے کچھ نہیں کیا۔ حالانکہ اٹلی بھی کشتی کی خراب صورت حال سے آگاہ تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ یونان مدد کے لیے سنجیدہ نہیں تھا اور اس نے جہاز کو اٹلی کا مسئلہ سمجھتے ہوئے اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یونان اور سمگلرز کے مقاصد ایک ہو گئے تھے جو مہاجرین کو ہر قیمت پر اٹلی بھیجنا چاہتے تھے۔
ایڈریانا پر سوار، تقریباً 750 مسافروں میں ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ گھبراہٹ اور مایوسی بڑھتی گئی۔ ان کے پاس سامنے نظر آ رہی یقینی موت سے بچنے کے لیے کرنے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ زندہ بچ جانے والوں نے اس وقت کی دھکم پیل اور بدامنی کو بیان کیا جب وہ کسی ایسے بچاؤ کا انتظار کر رہے تھے جو کبھی نہیں آنے والا تھا۔ ایڈریانا کا ڈوبنا بحیرہ روم میں دیرینہ تعطل کی ایک انتہائی مثال ہے۔ چونکہ یورپی سیاست کا جھکاؤ دائیں بازو کی طرف بڑھ رہا ہے اس لیے پناہ گزینوں کا ہر نیا آنے والا جہاز ایک ممکنہ سیاسی بحران ہے۔ یورپی ممالک بچاؤ اور مدد سے زیادہ پناہ گزینوں کو روک دینے یا انہیں کہیں اور دھکیل دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
جہاز کے سفر کے تیسرے دن جہاز پر مکمل افراتفری اور وحشت پھیل گئی کیونکہ یہ واضح ہو گیا تھا کہ 22 سالہ مصری کپتان جو اپنا زیادہ تر وقت سیٹلائٹ فون پر گزارتا تھا، راستہ بھٹک گیا تھا۔ جب تہہ خانے میں ٹھونسے گئے پاکستانیوں نے اوپری عرشے کی طرف تازہ ہوا اور روشنی لینے کے لیے آنا چاہا تو کپتان کے ساتھ کام کرنے والے مصری مردوں نے انہیں چمڑے کے بیلٹوں سے بار بار تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے واپس نیچے دھکیل دیا۔ ناصرف یہ بلکہ انہیں کھانا اور پانی دینے سے بھی انکار کر دیا گیا، چنانچہ پاکستانیوں میں سے کچھ شاید جہاز ڈوبنے سے پہلے ہی پیاس اور گھٹن سے مر گئے تھے۔
اگلے دن، 13 جون، دوپہر 1 بجے، آسمان پر امید کی ایک کرن نمودار ہوئی۔ یہ نچلی پرواز کرتا ہوا ایک طیارہ تھا جسے شاید صورت حال کا جائزہ لینے کے بھیجا گیا تھا۔ فرنٹیکس، یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی، کو الرٹس موصول ہو چکے تھے کہ ایڈریانا مشکل میں ہے۔ پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں فرنٹیکس کمانڈ سینٹر میں زنگ آلود نیلے رنگ کی ماہی گیری کی کشتی کی تصاویر مسلسل نمودار ہو رہی تھیں۔ اب تک فرنٹیکس نے جہاز کو بڑی مصیبت میں بھانپ لیا تھا اور یونانی حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ مدد کے لیے فوراً پہنچیں۔ اگلے دو گھنٹوں میں، یونانی کوسٹ گارڈ کا ایک ہیلی کاپٹر جہاز کے پاس پہنچا۔ اس کی فضائی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ جہاز کے اوپری عرشے پر لوگ اپنے ہاتھ ہلا کر مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔
نوال صوفی، ایک اطالوی کارکن، نے گھبرائے ہوئے تارکین وطن کی کالیں وصول کیں۔ ”مجھے یقین ہے کہ وہ [امدادی کارکن] آپ کو بچا لیں گے،“ نوال نے انہیں بتایا۔ ”لیکن حوصلہ رکھیں۔ یہ فوری نہیں ہو گا۔“ مدد کی کالیں سنتے ہوئے، قریب سے گزرتا پہلا بحری جہاز، لکی سیلر، منٹوں میں موقع پر پہنچ گیا۔ دوسرا بحری جہاز، فیتھ فل وارئیر، تقریباً ڈھائی گھنٹے میں وہاں پہنچا۔ بے چارے تارکین وطن پریشانی میں جان بچانے کی کالیں کر رہے تھے۔ الارم فون، ایک غیر منفعتی گروپ جو تارکین وطن کی جان بچانے کی کالز وصول کرتا ہے، نے یونانی حکام، فرنٹیکس اور اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ذمہ دار ایجنسی کو فوری اور بار بار بتایا کہ ایڈریانا تباہی کے دہانے پر ہے اور اس میں موجود لوگوں کو فوری طور پر بچانے کی ضرورت ہے۔
جیسے ہی رات ہوئی، فیتھ فل وارئیر کے کپتان نے یونانی کنٹرول سینٹر کو بتایا کہ ایڈریانا ”خطرناک طریقے سے ہل رہی ہے۔“ علاقے سے دور ایک یاٹ پر دو بچوں کے ڈینش والد، ہنریک فلورنیس نے بتایا کہ انہوں نے اس رات جان بچانے کی ایمرجنسی کالیں سنی تھیں۔ لیکن خود یونانی کوسٹ گارڈز نے اس وقت ایسا کوئی مشن نہیں بھیجا جو ڈوبتے ہوئے ایڈریانا کو بچا سکے۔
جیسے ہی 14 جون کی آدھی رات قریب آئی، یونانی کوسٹ گارڈز کا جہاز 920، جو واحد سرکاری جہاز جائے وقوعہ پر بھیجا گیا تھا، ایڈریانا کے قریب پہنچا۔ 920 کا مشن کبھی بھی واضح نہیں ہو سکا کہ وہ وہاں پر کیا کر رہا تھا، جیسا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کے پہنچنے اور قریب تین گھنٹے تک ایڈریانا کے قریب تیرتے رہنے کے دوران کیا ہوا۔ یونانی کوسٹ گارڈز نے پہلے جہاز کو کھینچنے سے انکار کیا لیکن پھر جہاز کو رسی سے باندھنے کا اعتراف کیا، لیکن کہا کہ یہ جہاز کے ڈوبنے سے چند گھنٹے پہلے ہوا تھا۔ یونانیوں نے کہا کہ وہ کشتی کو بچانا چاہتے تھے جبکہ ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یونانی تارکین وطن کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر اٹلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یونان، دنیا کی سب سے اہم سمندری قوموں میں سے ایک، ایڈریانا کو بچا سکتا تھا۔ بحریہ کے طبی وسائل کے حامل جہاز، فرنٹیکس الرٹ کے 13 گھنٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ سکتے تھے۔ 13 گھنٹے ایڈریانا کو بچانے کے لیے کافی وقت تھا۔ اس دوران، جہاز ایک بار بائیں، پھر دائیں جھکا، اور پھر الٹ گیا۔ جو لوگ عرشے پر تھے وہ سمندر میں جا گرے۔ گھبرائے ہوئے لوگ اندھیرے میں ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے، زندہ رہنے کے لیے ہوا تک پہنچنے کی شدت سے کوشش کر رہے تھے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، کوسٹ گارڈز کے ایک اہلکار نے اپنے ڈیک لاگ پر صاف ستھری اور بظاہر بلاتعطل لکھاوٹ میں لکھا کہ صبح 2 : 06 بجے، جہاز نے ”دائیں جانب زبردست جھکاؤ لینا شروع کیا، اور زبردست ہلچل اور چیخ و پکار مچ گئی۔“ ”چند ہی سیکنڈوں میں جہاز الٹ گیا، جس کے نتیجے میں عرشے پر موجود لوگ سمندر میں گر گئے، اور کشتی ڈوب گئی۔“
اس کے ساتھ ہی سینکڑوں پاکستانی نوجوان، بشمول ایک 14 سالہ بچہ، جو صرف اپنے مظلوم خاندانوں کی مدد کرنا چاہتے تھے، ڈوب گئے۔ ایڈریانا کے اندر بند سیکڑوں دوسرے، جن میں خواتین اور چھوٹے بچے بھی شامل تھے کو کوئی موقع نہیں ملا۔ وہ الٹے پلٹ گئے، وہ جہاز کی دیواروں اور ملبے سے پٹک گئے اور تیزی سے نگلتے ہوئے سمندر نے انہیں جہاز سمیت چند سیکنڈز میں نیچے اتار لیا۔ اپنے اختتام کے قریب، ایک نوجوان جو اپنے خاندان کو غربت سے نکالنے کی امید پر ترک وطن کر رہا تھا، اور جو اب سمندر میں ڈوبا ہی چاہتا تھا، ایک آخری بار اپنے کزن کے سامنے نمودار ہوا۔ یونان کے مہاجر مرکز سے، بڑا کزن اپنے چھوٹے بھائی کے آخری الفاظ یاد کرتا ہے : ”میں نے آپ سے کہا تھا کہ ہم مرنے والے ہیں۔ میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ ہمارے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔“ اس بچے کی لاش کبھی برآمد نہیں ہو سکی۔
کمشنر راولپنڈی ڈویژن لیاقت علی چٹھہ نے اس اندوہناک سانحے سے صرف چند ہی دن پہلے اٹک جم خانہ کلب کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ”سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ کو بہترین تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اٹک میں جدید جم خانہ قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ سہولت 47 کنال اراضی پر قائم کی جائے گی جبکہ سوئمنگ پول اور آؤٹ ڈور کھیلوں کی سہولیات بشمول بیڈمنٹن، اسکواش، ٹینس کے علاوہ ممبران کو رائڈنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔“ اس واقعے کے کچھ ہی دن بعد حکومت پنجاب نے غریب ڈپٹی کمشنرز کو نئی فارچیونر لینڈ کروزر خرید کر دیں تاکہ وہ ترک وطن اور سفری مصائب سے محفوظ رہ کر معاش کا بندوبست کر سکیں۔ ترجیحات واضح ہیں۔

