کچھ سردار کاشان مسعود کے بارے میں
کاشان مسعود! صرف ایک نام نہیں بلکہ وہ صدائے بازگشت ہے جس سے، مجھ سمیت آزاد کشمیر کے کئی نوجوانوں کے اذہان پر ثبت وہ نقوش ابھر آتے ہیں جو کسی انسان کی شخصی تشکیل کے ابتدائی مراحل سے متعلق ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ میں سن 2000 کی دہائی کے اوائل میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اس تحریک کے بانیوں میں سردار کاشان مسعود کا نام سر فہرست تھا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں چودہ سال کی ایک متجسس لڑکی تھی۔ میرے کچے ذہن میں کچھ ایسے پکے سوالات تھے جن کا جواب نصاب کی کتب میں ملنا محال تھا۔ ان سوالوں سے برپا ہوئے ذہنی طوفان کے بیچ ہچکولے کھاتی میرے نظریات کی کشتی کا رخ کب کاشان مسعود کی تعلیمات اور پیغام کی جانب مڑا، مجھے شعوری طور پر اس بات کا اندازہ بھی نہ ہو سکا۔ ان کا پیغام اس پر سکون کنارے کی طرف ایک اشارہ تھا جس تک پہنچنے کے لیے میری کشتی کو کئی طوفانوں کا سامنا کرنا تھا۔ مگر وہ سفید، پر امن، پر سکون کنارہ اس قدر حقیقت پسندانہ تھا کہ اس کے لیے میں نے سرخ چھینٹے اڑاتا ہر خون کا دریا پار کرنے کی ٹھان لی تھی۔ میرے اس پر جوش و پر خطر نظریاتی سفر میں میرا بڑا بھائی، راجا سرمد بھی اسی شدت سے محو سفر تھا۔ یہ ایک ایسا آگ کا دریا تھا جس میں میرے اور میرے بھائی ایسے کئی سرخ پوش عرف ”کامریڈ“ عرف ”دہریے“ اپنے استادوں کی وسیع النظر فکر کے بادبانوں تلے، سرخ شمعیں اٹھائے چل دیے تھے۔
پہلے پہل کاشان مسعود کا تعارف جو میری یادوں میں ثبت ہے وہ یہ تھا کہ یہ کامران مسعود کے بھائی ہیں اور کامران مسعود ہمارے سر نئیر کے دوست ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس حلقہ فکر سے باقاعدہ نظریات کا تعلق قائم ہوا تو کاشان صاحب پھر ہمارے لیے مزاحمتی سیاست کے رہنما کہلائے۔ یعنی نیشنل سٹوڈینٹ فiڈریشن (این ایس ایف) کے مرکزی صدر۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ میں ایک ”لڑکی“ ہونے کے باوجود خود کو اس سیاسی و فکری گروہ کے نظریات سے وابستہ سمجھتی تھی ورنہ یہ ایک میل ڈامیننٹ دھڑا تھا اور ان کی عوامی سرگرمیوں میں وجود زن کا کوئی نشاں ڈھونڈنا ایسے ہی تھا جیسے اندھیرے کمرے میں کالی بلی کا سراغ لگانا۔
گھر میں میری تشفی اس گفتگو اور بحث سے ہو جاتی جو میں اور بھائی برملا کرنے پر ابو سے جوتے کھاتے اور اماں سے لعن طعن سنتے مگر چونکہ ہم دو تھے اس لیے ہمت نہ ہاری۔ بھائی کا تعلق کاشان صاحب سے براہ راست بن گیا اور میرا بھائی کی وساطت سے۔ اب بھائی شام گئے تک ڈاک خانہ بازار میں گاہے گاہے سجتی سیاسی محفلوں اور خود کاشان صاحب کے گھر میں منعقد ہونے والی سیاسی و فکری نشستوں میں جو کچھ بھی سنتا/جانتا گھر آ کے مجھے اس سب سے آگاہ کرتا۔ یوں بھائی میرا کامریڈ فیلو بھی تھا اور پوسٹ مین بھی۔ ساتھ ہی ساتھ سکول سے سر نئیر اور ان کے ہم خیال اساتذہ کی بدولت لیفٹ کا لٹریچر بھی ہاتھ لگنے لگا، جو نصاب کی کتابوں میں چھپا کر پڑھنا ایک روٹین بن گیا۔
بھائی ایک دن این ایس ایف کا جھنڈا گھر لے آیا، بڑی تگ و دو سے میں نے اور بھائی نے صحن میں لگے نلکے کے قریب کھڑے سب سے اونچے دھریک (نیم) کے درخت پر اسے ڈنڈے سے باندھ کے لہرایا، ادھر جب ابو (حق مغفرت کرے) شام کو آئے تو بس پھر وہی ہمارے جھنڈے کا ڈنڈا اور میرے اور بھائی کی ہنسی دباتی نیچی نگاہیں! خیر!
یہی وہ صدائے بازگشت ہے جس سے تحریر کے ابتدا میں میں نے کاشان مسعود کو تشبیہ دی ہے کہ ان کا نام سنتے ہی اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں کا منظر آنکھ میں گھوم جاتا ہے۔ اور مجھے کامل یقین ہے کہ اس طرح کے تجربے کی میں اکیلی سزاوار نہیں ہوں۔ کئی ایسے آزاد کشمیری ہم عمر و ہم عصر طالب علم ہوں گے جو میری اس تحریر سے ریلیٹ کر پائیں گے۔ کاشان صاحب کی رہنمائی میں اس سفر پر چلنا ایک جانب تو اس وقت کے حساب سے باعث مقصد حیات بنا مگر دوسری جانب ایسی مشکلوں، رکاوٹوں کا باعث بنا کہ بہت کم عمری میں دوستیوں کی بجائے دشمنیاں نبھانے کا موقع ملا۔
یوں گمان ہوا کہ ہماری اس جدوجہد میں کشمیر کی آزادی تو بہت دور کا مرحلہ ہے پہلی جنگ تو شخصی آزادی کی جنگ ہے۔
ابو اور ان کی جینریشن کے باقی والدین کو کاشان مسعود سے ذاتی اختلاف کم زیادہ اس بات کی فکر رہتی تھی کہ این ایس ایف کی سرگرمیوں پر مقامی پولیس اور ”بیرونی“ حساس اداروں کی کڑی نظر رہتی تھی اور ہر دوسرے چوتھے دن کسی نہ کسی کی گرفتاری، جبری گم شدگی یا دھمکی آمیز رقعوں کی خبر شہر بھر کو بے چین کیے رکھتی تھی۔ اور کوئی والدین یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی اولاد کو عمر کے اس حصے میں کچھ ایسا بھگتنا پڑ جائے۔
کاشان مسعود کے زیر صدارت جب 11 فروری اور 18 فروری یوم وفات اور پیدائش قائد مقبول بٹ پر این ایس ایف کی ریلیاں نکلتیں تو یقین جانیے جھنجھلاہٹ، غصے اور افسوس سے میں اپنا دل مسوس کر رہ جاتی کہ بطور لڑکی میں ان ریلیوں کا حصہ نہیں بن سکتی تھی۔ ہمارے گھرانے کے معاملے میں اس بات کا کریڈٹ میرے والد مرحوم کو جاتا ہے کہ جنہوں نے ہم سے بچپن ہی سے مقامی سیاسی جلسوں میں تقاریر کروائیں۔ مگر ابو کو چونکہ این ایس ایف سے نظریاتی اختلاف تھا لہذا ان ریلیوں میں شرکت کی اس طرح سے اجازت نہیں تھی جیسی کہ باقی پاکستان نواز سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں ہوتی تھی۔
خیر میرے ابو ایک اصولی آدمی تھے، نظریاتی اختلاف کی بنا پر انہوں نے کبھی کسی کی شخصی قابلیت سے انکار نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے سکول کی سالانہ ہفتہ وار تقریبات کے حصہ مباحثہ کے لیے میری بڑی بہن کی تقریر کاشان مسعود سے لکھوائی۔ کچھ عرصے بعد تک کاشان مسعود ہم سب میں سے زیادہ گہرے دوست ابو کے بن گئے تھے۔
تب تک خیر کاشان صاحب مسلم لیگ نواز جوائن کر چکے تھے۔ اس سیاسی تدبیر کا ذکر آگے چل کر تفصیل سے آئے گا۔ کاشان صاحب کے دورہ نون لیگ میں ابو اور کاشان صاحب کا ساتھ یوں تھا جیسے بیلوں کی جوڑی کہ دو نہیں ہوں گے تو زمین میں ہل نہیں چلے گا اور ہل نہیں چلے گا تو فصل کیسے بوئی جائے گی۔ دور دراز علاقوں میں کاشان صاحب کے ساتھ جانا، لوگوں کے مسائل سننے، اور ان کا حل نکالنے کے لیے۔ نہ دن دیکھنا نہ رات، نہ سڑک دیکھنا نا گاڑی۔
خیر ہم ابھی اسی دور میں واپس چلتے ہیں جہاں کاشان صاحب صدر این ایس ایف تھے اور میں این ایس ایف کی متوالی۔ ہوا یوں کہ 2006 کے آزاد کشمیر جنرل الیکشن میں کاشان صاحب نے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔ یہ سن کر آزادی کے متوالے تو ہکا بکا رہ گئے، ہائیں؟ یہ کیونکر ممکن ہو کہ ایک مزاحمتی سیاسی جماعت کا لیڈر مین سٹریم الیکشن پراسس کا حصہ بنے؟ کیونکہ مین سٹریم الیکشن کا حصہ بننے کے لیے ہر ٹکٹ ہولڈر یا آزاد امیدوار کو یہ حلف اٹھانا ہوتا ہے کہ ”وہ کشمیر اشو“ پر نظریہ پاکستان کا حامی ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان جیسے پراپیگنڈا نعرے کو عملی جامہ پہنانے میں مکمل ایمانداری شو کرے گا۔
اب آزادی پسند یا خودمختار کشمیر کا نعرہ بلند کرنے والا لیڈر یہ حلف کیسے اٹھا سکتا تھا؟ اس اقدام پر ہم ایسے کچے، پر جوش اذہان بہت مشتعل اور خائف ہوئے، دھواں دار مباحث، تقاریر، گفتگو اور ہر اپنے سینئر کو ہم نے گلے سے پکڑ لیا کہ بھئی یہ تو ہمارا لیڈر ”غدار“ نکلا، اب ہم کس سہارے اپنی جد و جہد جاری رکھیں؟ وغیرہ۔

مگر کاشان صاحب جیسے زیرک دماغ انسان نے اس عدم اعتمادی کی فضا میں اپنے حواریوں کو ان کے تئیں یا عوامی چہ مگوئیوں کے سہارے نہ چھوڑا بلکہ ان کو اعتماد میں لیا، ہر سوال کا جواب دیا، پریس کانفرنس کی، محلے میں گھر گھر جا کر اپنا موقف سمجھایا کہ ”نظام کو بدلنے کے لیے نظام کا حصہ بننا پڑتا ہے۔“
گویا یہ میری زندگی کا پہلا (اور شاید آخری) فارمل سیاسی سبق تھا جس پر میں عمل پیرا بھی ہوئی کہ سیاست کرنی ہے تو ”ڈپلومیسی“ سیکھو۔ تا عمر ایسی خصلتیں لے کر چلنا مجھ جیسوں کے لیے محال ثابت ہوا سو سیاست کو خیر آباد کہہ دیا اور علم اور ریسرچ کے ذریعے اپنی بات دنیا تک پہنچانے کی ٹھانی۔
خیر! الیکشن سر پر آئے کھڑے تھے اور ہمارا سیاسی لیڈر پہلی مرتبہ مین سٹریم پلیٹ فام سے سیاسی منظر نامے پر آ رہا تھا لہذا الیکشن کی تیاریاں شروع۔ ہمارے گھر میں بھی یوں بھی ابو کی سیاسی وابستگیوں اور سرگرمیوں کے باعث الیکشن کے دنوں میں خاصی ہل چل رہتی تھی، آئے روز میٹنگز، بیٹھکیں، ووٹر لسٹ کی تیاری وغیرہ۔ اماں چونکہ سرکاری ملازمت کرتی تھیں لہذا ان کی ڈیوٹی لگتی تھی مختلف پولنگ سٹیشنوں پر لہذا وہ بھی ایک پہلو ہوتا تھا الیکشن پراسس کے ساتھ جڑے رہنے کا۔
ابو کے نقش قدم پر چلتی میں اب 18 سالہ متجسس و باغی لڑکی اپنے لیڈر کی کیمپین چلانے نکل پڑی۔ مجھے یاد ہے کیسے کالج سے واپس آ کر تپتی دوپہروں میں میں ایک رجسٹر اٹھا کر دن بھر محلے میں پھرتی رہتی تھی۔ اس رجسٹر پر میں نے محلے کے جن گھروں کے افراد کی تعداد ناموں سمیت مجھے یاد تھی ان کے نام درج کر رکھے تھے اور میں سب سے جا کر سائن لے رہی تھی کہ ادھر مجھے سائن کر کے دیں کہ آپ ووٹ کاشان صاحب کو ہی دیں گے۔ اپنے سائن کے ساتھ کوئی بات لکھ کر دے دینا میرے نزدیک پتھر پر لکیر کے برابر تھا / ہے اس لیے میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوتی کہ آج اتنے ہو گئے آج اتنے۔ یہ ووٹ تو پکے ہیں۔
محلے والے مجھے حیرت سے دیکھتے کبھی ہنستے مگر یہ سچ ہے کہ کسی ایک نے بھی میری حوصلہ شکنی نہیں کی۔ نا کسی نے رعب جمایا نہ مذاق اڑایا۔ بلکہ بس حیرت سے تکتے سنتے اور سائن کر دیتے۔ آج میں یہ سب سوچوں تو مجھے بھی حیرت ہوتی ہے کیسے کیسے میں بیکری والے پائی رفیق کے گھر، منیاری والے پائی لطیف کے گھر، لوہاروں کی دکان والے پائی صدیق کے گھر، سبزی فروٹ والی پائی پتہ نی کون سے کے گھر، ایسی ایسی اپنی کلاس فیلوز کے گھر جن کے یہاں میں کبھی عید پر بھی نہیں گئی تھی، ریحانہ آنٹی کے گھر، اور پتا نہیں کہاں کہاں کس کس کے گھر۔ میری لسٹ میں سو سے زیادہ سائن ہو گئے تو مجھے لگا میرا کام ”ڈن“۔ آج مجھے اپنی اس احمق پنے پر ہنسی بھی آ رہی ہے مگر تب یہ میرے لیے ایک بہت بڑا عملی سیاست کا حصہ بننے جیسا اقدام تھا جس کو، خوف اور کئی دوسری بنا پر مجھے چھپا کر بھی رکھنا تھا۔
مگر میرا ذہن تب یہ کیلکولیٹ نہ کر پایا کہ جس گھر گھر سے تم سائن لے رہی ہو وہ اس کا تذکرہ کہیں بھی کر سکتے ہیں۔ خیر میں کون سا رکنے والی تھی یا یہ بات کون سا واقعتاً ڈھکی چھپی تھی۔ بس وہ سب بچپن لڑکپن کی آنکھ مچولی جیسا تھا کہ پتا ہے بھی کون کہاں چھپا ہے مگر دکھ نہیں رہا۔ خیر! وہ سگنیچر رجسٹر آج بھی میری کتابوں کی کسی الماری میں محفوظ ہو گا کتابوں جریدوں کے کہیں درمیان۔
انہی دنوں میری اٹھارہویں سالگرہ آ گئی اور عین سالگرہ کے روز ہی ابو مجھے ساتھ لے گئے شناختی کارڈ بنوانے کے لیے، جس پر میں نادرا کے ملازموں سے الجھ پڑی کہ یہ پاکستان کا کارڈ کیوں بنواؤں میں۔ خیر شناختی کارڈ سے شدید اختلاف کے باوجود بنوا لیا مگر جو فائدہ اس کا ہو گا یہ تو میرے لڑاکا ذہن نے سوچا ہی نہ تھا کہ بھئی ووٹ کاسٹ کرنے کے قابل ہو جاؤں گی۔
اپنے شناختنی کارڈ کا پہلا صحیح استعمال میں نے 2006 کو کاشان مسعود کے انتخابی نشان ”باز“ پر انگوٹھا لگا کر کیا۔ یہ الیکشن ہمارے گھر کے سیاسی طور پر جمہوری ہونے کی سب سے بڑی مثال تھا۔ میں نے اور بھائی نے کاشان صاحب کو ووٹ کیا، اماں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو اور ابو نے اپنی مرضی کے آزاد امیدوار کو۔ کاشان مسعود اپنے سٹیشن یعنی ہجیرہ کے مرکزی سپلائی بازار سٹیشن سے جیت گئے۔ یہ جیت تا عمر ہماری یادوں میں ثبت رہے گی۔ ہمیں لگا جیسے تحریک آزادی کشمیر سے جڑی کوئی کامیابی ہم نے حاصل کر لی ہے۔
مگر آج صبح سویرے جب میری آنکھ بھائی کی طرف سے بھیجے اس وٹس ایپ میسج سے کھلی کہ ”کاشان صاحب اب ہم میں نہیں رہے“ تو سارا دن ان کا چہرہ ان کی باتیں اپنا بچپن ہماری تحریکیں سب ذہن کے پردے پر چلتا رہا۔ آنکھ جھلملاتی رہی!
مگر مجھے یقین ہے کاشان مسعود صرف ایک نام ہی نہیں تھا جو اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے وہ خود میں ایک نظریہ تھا، جسے رہتی دنیا تک یاد بھی رکھا جائے گا اور بطور طریق زندگی اپنایا بھی جائے گا۔


