نئی زندگی کا مثالی تشخص
جو کہنا ہے، کہہ دیجیے
آپ جو کہنا چاہتے ہیں، کہہ دیجیے۔ آپ جو لکھنا چاہتے ہیں، ضرور لکھیے۔ آپ جو بولنا چاہتے ہیں، بول دیجئے۔ آپ وہی کہیں گے جو حقیقت ہے، آپ وہی لکھیں گے جو لکھا جا چکا ہے، آپ وہی کریں، جو بولنا ہے، آپ وہی بولیں گے، جو حقیقت ہے۔ درحقیقت ہے۔ حقیقت اور بے حقیقت کا تعلق انسان کے روئیے اور سوچ پر دلالت کرتا ہے۔ بات کرنے، کہنے اور لکھنے کا ایک اسلوب، ایک ڈھنگ اور ایک قرینہ ہوتا ہے۔ اس سلیقہ سے واقفیت و مشاقی کا فن؛ بات، قول اور جملے کی حقیقت کو بیان سے زیادہ واضح، تحریر سے زیادہ روشن اور اظہار سے زیادہ مفصل پیرائے میں ڈھالنے کا فن اپنے وجود میں ہمیشہ رکھتی ہے۔
انسانی پرستش: خواہش اولیں
انسان کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ اسے چاہا جائے، اسے سراہا جائے، اس کی پرستش کی جائے، اسے خوش رکھا جائے، اس کا دل بہلایا جائے، اس سے ہمدردی کی جائے، اس کے لیے اپنا آپ لٹا دیا جائے، یہ ایسی منہ زور خواہشیں ہیں جو انسان ازل سے تاحال اپنے ساتھ چپکائے ہوئے ہے اور ان کی تکمیل کے لیے در، در بولائے بولائے پھرتا ہے۔ اس روئیے اور سوچ کی اصلاح لازم ہے۔ دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو بغیر کسی غرض کے کسی کے لیے اپنا تن، من اور دھن نثار کر دے۔ ایسی تخریب آمیز سوچ معاشرے کے اعتدال منحرفانہ رویے کو جنم دیتی ہے۔ اس روئیے کی اصلاح ضروری ہے۔
ہمدرد اور غم خوار کی ضرورت
انسان چاہے کتنا ہی بہادر اور مضبوط اعصاب کا مالک کیوں نہ ہو؛اسے ہمیشہ ایک مخلص ہمدرد اور غم خوار کی ضرورت رہتی ہے جو اس کے زخم پرامید کا پھاہا رکھے، اس کے آنسو پونچھے اور روشن مستقبل کی پر تیقن امید دلائے۔ درحقیقت غم خوار و غم آشنا وہی ہے۔
زندگی میں درد
زندگی میں درد کا ہونا بہت ضروری ہے۔ درد کی شدت روگ بن کر جب روح کو ڈستی ہے تو انسانی شعور اس درد کی لذت سے جس طور پر محظوظ ہوتا ہے، اس کیفیت کی تفہیم بیان سے عاجز ہوجاتی ہے۔ درد کی یہ میٹھی کسک انسانی حواس پر تازیانے کا کام کرتی ہے جس کی مدھم لے روح کی تعمیر و تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
خود ساختہ رشتے
خود ساختہ رشتے اجنبی راہرو کی طرح ہوتے ہیں کہ جو پہلی نظر میں حسیں اور جاذب نظر دکھائی دیتے ہیں۔ خوبصورتی اور دلکشی کا یہ سحر قرب کے اضطراب کے پچھتاوے کا ڈنک بن کر روح کی حساسیت کو اس قدر شدت سے ڈستا ہے کہ احساس زیاں کے کرب مسلسل سے رہائی کی صورت موت سے قبل کسی صورت میسر نہیں آتی۔
دنیا کے ہنگامے اور تنہائی
دنیا کے ہنگاموں سے خود کو الگ کر لینے سے دنیا کے ہنگاموں میں فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح دنیا کے ہنگاموں میں مبتلا ہو جانے سے اس کے مجموعی ماحول پر آپ کی جزوی شخصیت غالب نہیں آ سکتی۔ دنیا کی بساط پر انسان اپنی حیثیت کو متعین نہیں کر سکتا۔ شکست اور فتح کا اختیار کسی اور کے پاس ہے۔ انسان ایک مہرے کی طرح مناسب چال کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مشکل کے بعد آسانی لازم ہے
زندگی میں اگر ہم یہ سمجھ جائیں کہ ایک زندہ شخص کو خوشحالی اور مفلوک الحالی دونوں سے واسطہ پڑے گا؛بیماری بھی آئے گی اور تندرستی بھی۔ اچھی چیزوں کا عمل دخل بھی رہے گا اور اس کے بر عکس چیزوں کا اختلال جاری رہے گا۔ یہ بات آسانی سے اس وقت سمجھ آ جائے گی جب ہمارے ذہن میں اللہ کا یہ فرمان تازہ رہے کہ ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔ جب دنوں کے پھیر کی یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے تو انسان زندگی میں درپیش دقتوں اور مشکلات کا با آسانی مقابلہ کر لیتا ہے۔
سزا:کتنی اور کیسے؟
جس شخص کو آپ نے بغیر کسی قصور کے ایک مدت تک اذیت میں رکھا ہے اس سے فقط]سوری[ کہہ دینے سے وہ تو معاف کر دے گا مگر آپ خود کو کیسے معاف کریں گے؟ کسی کو قصور وار ہونے کے باوجود اتنی سزا مت دو کہ وہ سزا اور جزا کے فرق سے بے نیاز ہو جائے۔
طبیعت اور مزاج کا اختلاف فطری ہے
جس طرح ہم کسی کو دیکھتے، سوچتے اور سمجھتے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ وہ بھی ہماری طرح ہمیں دیکھے، سوچے اور سمجھے۔ طبیعت اور مزاج کا اختلاف فطری ہے۔ اس اختلاف میں جس قدر مطابقت ہو سکتی ہے، اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ کسی کو ضد بنا لینا اچھا رویہ نہیں ہے۔
بے رخی کا رویہ
کچھ لوگ اپنے بے رخی کے روئیے سے غم خواروں اور دردمند دوستوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دیتے ہیں۔ ایسے لوگ عمر بھر قسمت اور مقدر کا رونا تو روتے ہیں لیکن اپنے روئیے کی اصلاح نہیں کرتے۔ اصلاح کرنی چاہیے۔
سچا انسان
جو سچا ہوتا ہے اس کا دل اور ضمیر مطمئن ہوتا ہے، چاہے ساری دنیا اسے جھوٹا سمجھے۔ اس کے برعکس جس نے جھوٹ کا سہارا لیا ہوتا ہے وہ ضمیر کے چابک کھا کھا کر اپنے ہوش و حواس سے عاری ہو جاتا ہے کہ دنیا اسے پاگل کہہ کے ہنستی ہے اور وہ دنیا کو پاگل کہہ کے ہنستا ہے۔
لوگوں کی ہماری زندگی میں مداخلت:
بعض لوگ خواہ مخواہ ہماری زندگی کے خارجی و داخلی معاملات میں حائل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں نظر انداز مت کریں۔ اگر آپ انھیں مسلسل نظر انداز کریں گے تو وہ اور شدت سے آپ کے قریب ہونے کی کوشش کریں گے۔ ان کے اس رویے کی شدت میں اضافہ آپ کی بے رخی اور نظر اندازی کے تسلسل کی وجہ بنتی ہے۔ ایسے لوگوں کو پہلے پہل بہت سا وقت دے کر ان پر اپنی شخصیت اور افکار اس طرح واضح کریں کہ انھیں کامل محسوس ہو جائے کہ ہم نے کسی غلط شخص کا انتخاب کیا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ایسی نفسیات رکھنے والے لوگوں سے دامن چھڑایا جا سکتا ہے۔ مروت اور لحاظ کا موزوں اور مناسب استعمال بہت سی الجھنوں اور خود ساختہ مصیبتوں کا بہترین حل ہوتا ہے۔ کسی کی ذات اور کردار کو مشکوک نگاہوں سے مت دیکھیے کہ یہ اچھا عمل نہیں ہے۔ انسان در اصل اپنے رویوں کی اصلاح نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسروں کو اذیت دینا کو اپنے لیے راحت سمجھتا ہے۔ رویوں کی اصلاح ہو جائے تو انسان ایک بھرپور اور کامیاب سماجی زندگی گزارنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ رویوں کی اصلاح کیجیے۔ پلیز!
آس: ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے
انسان ہو یا کوئی قیمتی چیز؛اس کو حاصل کر نا جب ناممکن ہو جائے، تب بھی اسے حاصل کرتے رہنے کی آس مت ٹوٹنے دیجیے۔ آس میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ آس جب یقین میں بدل جاتی ہے تو ناممکن کو ممکن بننے پر مجبور کر دیتی ہے۔
عزت اور ذلت کا انحصار
عزت اور ذلت کا انحصار روپے پیسے سے نہیں ہوتا۔ عزت خدا کی طرف سے عطا ہوتی ہے بشرط کہ وہ جسے دینا چاہے، جہاں تک ذلت کا تعلق ہے تو وہ انسان اپنے روئیے اور اعمال بد سے وصول کر لیتا ہے۔ جو لوگ خود کو عزت اور ذلت کے تصور سے ماورا کر لیتے ہیں، درحقیقت وہی عزت کے لائق ہوتے ہیں حالاں کہ انھوں نے کبھی عزت کی خواہش نہیں کی ہوتی۔
جھوٹ سے سچ کی شناخت
جھوٹ کو سچ سے کبھی نہیں جیتا جا سکتا۔ جتنا بڑا جھوٹ ہو گا سچ اس کے مقابلے میں خود اتنا ہی چھوٹا محسوس کرے گا۔ جھوٹ کو جھوٹ کی تلوار سے کاٹ دیجئے۔ سچ کو جھوٹ کا ملمع چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سچ اپنی ذات میں کسی چیز کی آمیزش برداشت نہیں کرتا۔
انا: تخریب زیست ہے
اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ انسان اپنی انا کو بچانے کے لیے رشتوں کو خواہ وہ اولاد ہی کیوں نہ ہو؛قربان کر دیتا ہے۔ انا رشتوں کو ایسے چاٹ جاتی ہے جیسے دیمک لکڑی کو۔ رشتوں کو انا کی بھینٹ مت چڑھنے دیجیے۔ رشتے ایک بار بکھر جائیں تو دوبارہ جوڑنے کے لیے جگہ جگہ سمجھوتوں، مصلحتوں اور مجبوریوں کے بد نما پیوند لگانا پڑتے ہیں۔
احساس تنہائی:ذریعہ تعمیر یا تخریب
جس کا دنیا میں کوئی نہیں ہوتا وہ خود کو اس احساس تنہائی میں مرنے کے لیے کیوں چھوڑ دیتا ہے؟ ہر انسان اپنی ذات میں تنہا اور اکیلا ہی ہوتا ہے۔ دنیا میں جب تنہا آیا ہے تو دنیا میں دوسروں سے مل جل کر رہنا اتنا ضروری کیوں خیال کر لیتا ہے۔ جس کا کوئی نہیں ہوتا؛دراصل اس کا کوئی اس لیے نہیں ہوتا کہ رب تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اس کا کوئی نہ ہو؛ تاکہ یہ میری طرح خود کو تنہا سمجھ کر باقی اور ثابت رہنے کی پوزیشن میں آ جائے۔ تاریخ کے اوراق پہ نظر ڈال کر دیکھیے۔ چند ایک لوگ ہیں جو اپنی ذات میں بالکل تنہا تھے۔ ان کا کوئی نہ تھا۔ اس کے باوجود ان چند تنہا لوگوں نے دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھا اور کائنات کے رخ کو بدلنے پہ قادر ہوئے۔ اپنے آپ کو تنہا مت خیال کریں۔ محنت کیجئے اور جو کرنا، بننا اور بنانا چاہتے ہیں بنیے، کیجئے اور بنائیے۔ دیر کس بات کی ہے اور غم کیسا؟ آگے بڑھیے! شاباش۔
دل کا حال:کیا انسان جان سکتا ہے؟
کوئی شخص خواہ کتنے ہی بلند مقام پر کیوں نہ ہو، کتنے ہی اعلیٰ روحانی مقام اور مرتبے پر فائز کیوں نہ ہو؛وہ دوسروں کے دلوں کا حال نہیں دیکھ سکتا اور نہ جان سکتا ہے۔ رب تعالیٰ اگر اپنے مقرب اور برگزیدہ بندوں کے دل کی کیفیات آشکار کر دے تو یہ الگ بات ہے۔ رب تعالیٰ جس قدر اور جس حد تک ایک انسان پر دوسرے انسانوں کے احوال کھولنا چاہتا ہے، کھول دیتا ہے۔ کسی انسان میں یہ صلاحیت اور دعویٰ نہیں کہ وہ دوسروں کے دلوں کے احوال کو ٹٹولتا پھرے اور رائے زنی کرے۔ رب تعالیٰ ستار ہے۔ وہ اپنے بندوں کے جہاں عیب چھپاتا ہے وہاں لوگوں کی سوچوں کو بھی ہم سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہم نے کیا کھایا، پیا اور کیا۔ اس کو بھی پوشیدہ رکھتا ہے۔ انھیں صفات کے پیش نظر رب خود کو ستار کہلواتا ہے۔
سچ کا دامن تھامے رکھیئے
بعض دفعہ سچ بولنے والا جھوٹ بولنے والوں کے آگے جھکنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ حالات چاہے کتنے ہی سنگین اور تند کیوں نہ ہو، سچ کا دامن تھام رکھنے سے جیت ہمیشہ سچ کی ہوگی۔ سچ کو منوانے اور جھوٹ کو ہرانے میں وقت لگتا ہے، بس ہمت نہ ہارو کہ درختوں پر پکنے والے پھلوں کا ذائقہ ڈالی پر پکے ہوئے پھل کی نسبت زیادہ لذیذ اور فرحت بخش ہوتا ہے۔


