میں نے سندھو سوکھتے دیکھا

ڈھاکہ ڈوب گیا پھر ابھر بھی گیا، اگر صدیق سالک آج زندہ ہوتا تو دوسری کتاب لکھتا کہ میں نے ڈوبا ہوا ڈھاکہ ابھرتے ہوئے دیکھا۔ میں ڈھاکہ کے زخموں کو یہاں بیان نہیں کروں گا لیکن ہاں سندھ کے دردوں پر ضرور بات ہو گی۔ یہ تھوڑا سا عجیب ضرور ہو گا کہ پچھلے سال ڈوبی ہوئی سندھ کے دردناک مناظر دیکھ کر بھی میں سندھو کو سوکھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ دراصل مسئلہ سندھ ڈوبنے کا نہیں لیکن سندھ اور سندھو سوکھ جانے کا ہے اور سندھ میں خشک سالی کی وبا کے ابھرنے کا ہے۔ جب کسی کو کس چیز کا شدت سے انتظار ہوتا ہے وہ چیز جب اسی کے پاس اچانک آتی ہے تو وہ فوائد یا نقصان دنوں کا سبب بنتی ہے۔ پانی سندھ کے لیے ہمیشہ دیوتا رہا ہے، پانی ہی سندھ کا عشق ہے، جس کا تصور حسن درس کی شاعری میں موجود ہے۔ ”ساری سندھ محبوب کا سایہ ہے جو پانی پر زندہ رہتا ہے“ ۔
سندھ اور پانی کا تعلق ازلی ہے۔ تبت اور کیلاش کی وادیوں اور برفانی آنگن سے بہتے ہوئے اس عظیم دریا کا رخ اور راستہ سندھ دھرتی کی طرف ہوتا ہے، پانی کا سندھ سے یہ عشق مصنوعی نہیں بلکہ فطری ہے۔ ان دونوں پریمیوں کو آپس میں ملنے کے لیے راستوں میں بہت ساری دشواریاں دیکھنی پڑتی ہیں، سال کا آدھے سے اوپر حصہ سندھو دریا پانی کو لبوں تلے لانے کے لیے ترستا رہتا ہے۔ سندھ کو تحفے میں سوائے دردوں کے اور کوئی گفٹ نصیب ہی نہیں ہوا، سندھ کبھی پیاس میں تڑپتی رہتی ہے، کبھی انصاف کے لیے عدالتوں کے احاطوں میں اداس نظر آتی ہے، کبھی معیشت کے مرجھا جانے سے مفلوج ہونے لگتی ہے، کبھی غیروں کے ہاتھوں اپنی جوانیاں مرتے دیکھ کر بار بار مرتی رہتی ہے اور کبھی وسائل کو غیروں کے ہاتھوں میں دیکھ کر ماتم کرتی رہتی ہے۔
سندھ کے ہزاروں درد ہیں ہر درد کی اپنی اپنی کہانی ہے اگر ہر درد بیان کریں تو لفظوں کی انرجی ختم ہو جائے گی لیکن دردوں کی شدت میں کمی ہرگز نہیں آئے گی۔ سندھو دریا فطرت کا گفٹ ہے جو لاکھوں زندگیوں کی بقا کا واحد ذریعہ ہے جس کے سوکھ جانے سے لاکھوں زندگیاں متاثر ہونے لگتی ہیں۔ پچھلے دو دہائیوں سے سندھ پر شدید آبی دہشتگردی کے کالے بادل چھائے رہے ہیں۔ کبھی سندھو کے چاندنی جیسے جسم پر کشتیوں کا رقص رچا رہتا تھا اب وہاں ریت اڑ رہی ہے۔ کبھی المنظر پر حسین جوانیاں محبت کی فرائض سر انجام دینے کے لیے سندھو کے پانی سے وضو کرتی تھی اب ان کے پاس صرف سندھو کے جسم پر پڑی ریت سے تیمم کرنے کا آپشن ہی بچا ہے۔ کبھی سندھ اور پانی کی لب مہران پر ڈیپ کسنگ کا دنیا میں چرچا تھا اب وہاں مہران کے لب کسنگ کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ سندھ کو جب پانی کی ضرورت ہوتی ہے تب پانی کی اک بوند کو بھی سندھ کی طرف آنے کی زحمت نہیں دی جاتی لیکن جب بارشوں کی آمد کے دن آتے ہیں تب پانی کو سندھ کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ پانی آخرکار تباہی کا باعث بن جاتا ہے۔
سندھو دریا میں پانی کی قلت کی وجہ سے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی حوالے سے سندھ کو انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ سندھ کی اسی فیصد آبادی کا روزگار سندھو دریا پر مبنی ہے۔ زراعت، ماہی گیری اور دیگر ماحولیاتی عناصر کے متعلق سندھو دریا سندھ کا معاشی، ماحولیاتی اور سماجی قلعہ ہے۔ سندھو دریا میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان زراعت کو ہو رہا ہے کیونکہ سندھ اک ایگریکلچرل ریجن ہے جہاں ہر قسم کا فصل اگتا ہے جس کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً چاول، گندم، کپاس اور گنا وغیرہ۔
اس کے بعد دوسرا بڑا نقصان ماحولیات کا ہو رہا، دریا میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے ڈیلٹا کسی صحرا کا دیکھ دے رہا ہے، مچھلیاں نایاب ہو گئی ہیں، پرندوں کے کئی نسل ہجرت کر گئے ہیں، درختوں کی جڑیں بھی دیکھنے میں نہیں آ رہیں، گراؤنڈ واٹر کا معیار گر گیا ہے پانی پینے کے قابل ہی نہیں رہا اور سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ دریا میں مسلسل پانی کی کمی کی وجہ سے سمندر آگے بڑھ رہا ہے۔ جس سے ساحلی علاقے آنے والی چند دہائیوں میں شدید خطرے کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ سندھو دریا جو کیلاش اور تبت کی وادیوں سے سفر کرتا آخر سندھ کے اضلاع سجاول اور ٹھٹھہ کی حدود میں آ کر سمندر سے گلے لگتا ہے۔ سندھو دریا اور سمندر آپس میں گلے لگ کر جو کسنگ کرتے ہیں وہ اک بڑے وقفے کے بعد کرتے ہیں، اس لیے جب دریا کا پانی آنے میں دیر کرتا ہے تو سمندر خود آگے آنے کی کوشش کرتا ہے۔
مسلسل پانی کی موجودگی کی وجہ سے 400 ملین ٹن ریت آگے بڑھ کر سمندر کو آگے آنے سے روکتی تھی لیکن اب دریا کے راستے میں مصنوعی رکاوٹوں کی وجہ سے ریت سمندر تک نہیں پہنچ رہی۔ اب گورنمنٹ کے اعداد و شمار یہ ہیں کہ ٹھٹھہ اور سجاول کے ان تعلقہ کھارو چھان کی 100 فیصد، گھوڑا باری کی 61 فیصد، شاہ بندر کی 60 فیصد اور جاتی کی 83 فیصد زمین سمندر کے پیٹ میں غرق ہو گئی ہے۔ سمندر کے مسلسل آگے حرکت کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ پر موجود تمر کے جنگلات ختم ہو گئے ہیں، پلو مچھلی نایاب ہو گئی ہے، زراعت کی تباہی کی وجہ سے اسی فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لپیٹ میں ہے، تازہ زمینی پانی کے اجسام (Fresh Water Aquifers) میں مسلسل سمندری پانی کی دخل (Seawater Intrusion) زمینی پانی کی کوالٹی کو متاثر کر رہی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں زندگیاں اک بڑے خطرے میں ہیں۔ پچھلے سال جب میں اپنی ریسرچ تھیسز ساحلی علاقوں میں پانی کی کوالٹی پر کر رہا تھا میں نے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے (Samples) لیے اور جب ان کو لیبارٹری میں جا کر چیک کیا تو سارے نمونوں (Samples) میں مختلف پیرامیٹرز کے نتائج ڈبلیو ایچ او کے معیار سے مختلف تھے، ایسا پانی جو جانور بھی نہ پی سکیں وہ پانی وہاں انسان پی رہے تھے، جن کی مجبوری تھی وہاں کوئی بھی اور آپشن نہیں تھا۔
یہ سارے مناظر دیکھ کر سندھ اکیسویں صدی میں اک مظلوم بستی لگتی ہے جہاں ہر چیز موجود ہے لیکن سندھ کے اصل وارثوں کو وہ میسر نہیں۔ سندھ کے اثاثے اور وسائل غیروں کے پنجوں میں قید ہیں سندھ ہر موڑ پر اداس ہے۔ اس لیے بھلے سندھو کے جسم پر پانی رقص کر رہا ہو لیکن میں نے جو دیکھا سندھ اور سندھو کو سوکھتے ہوئے دیکھا اگر سندھو میں کبھی پانی نہ بھی ہو تو سندھ پھر بھی ڈوبتا ہوا نظر آتا ہے۔
اداسیوں کے ساگر میں ڈوبے ہوئے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔ سندھ اکیسویں صدی کا اک اداس مرثیہ ہے جس دھرتی کے ہر احاطے پر صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔

