ناکام بغاوت کے کچھ زاویے
9 مئی کا واقعہ جس کو فوج کے ترجمان نے سیاہ دن قرار دیا، وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کی سازش قرار دیا اور بانی تحریک انصاف نے اس کو اپنی گرفتاری پر عوامی ردعمل قرار دیا، جبکہ اب تک کی تحقیقات سے ثابت ہوا یہ بغاوت کی ایک غیر منظم کوشش کی تھی۔ جس کا بنیادی مقصد فوج پر دباؤ ڈالنا اور اس کو مذاکرات پر مجبور کرنا تھا۔ اس دن آرمی چیف جنرل عاصم منیر ملک سے باہر تھے۔ ان کے بعد فوجی معاملات کی نگرانی جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا کر رہے تھے۔
فوج نے شرپسندوں پر گولی چلانے کی بجائے پرامن اور منظم رہنے کا فیصلہ کیا۔ جو بلوائی جس مشن کے لئے بھیجے گئے تھے وہ ناکام گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ پھر جیسے ہی ان شرپسندوں، بلوائیوں اور ان کے سرغنہ کو ہوش آیا تو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ پہلے گرفتاریاں ہوئی پھر پریس کانفرنس میں اعلان لاتعلقی ہوئے۔ لیکن اس سارے معاملے میں پارٹی سے سب سے پہلے بغاوت کرنے والی راولپنڈی وومن ونگ کی جنرل سیکرٹری پلوشہ عباسی تھی۔
جنہوں نے 10 مئی کو ہی اپنی جماعت کے متشدد پسندانہ اقدامات کی مذمت کی اور پارٹی سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد تحریک انصاف خواتین ونگ کی صدر کنول شوذب نے ان کو پارٹی کے عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ گزشتہ روز اس حوالے سے پلوشہ عباسی سے میں نے کچھ سوالات پوچھے جن میں انہوں نے حیران کن انکشافات کیے۔ میں نے پوچھا آپ نے تحریک تحریک انصاف میں شمولیت کیوں اختیار کی؟ وہ بولی مجھے عمران خان کا نظریہ پسند تھا۔ وہ جمہوریت کی بات کرتے تھے۔ تبدیلی کا نعرہ لگایا، احتساب اور کرپشن کے خاتمے کا بیانیہ بنایا، یوتھ کی بات کرتے تھے، پڑھے لکھے تھے، میں نے پوچھا عمران خان آپ کی توقعات پھر پورے اترے؟ وہ ہنس کر بولی ہمیں بیوقوف بنایا گیا عوام کو بڑے بڑے خواب دیکھا کر صرف لنگر خانے، صحت کارڈ اور پناہ گاہیں ملیں۔ شروع میں مجھے اتنی حقیقت معلوم نہیں تھی جب پارٹی میں ایکٹیو ہوئی تو حقیقت سامنے آنے لگی، آہستہ آہستہ پتہ چلنا شروع ہوا کہ یہ وعدے اور دعوے سب سیاسی نعرے اور جھوٹے بیانیے تھے۔
میں نے پوچھا خواتین ونگ میں عہدے کیسے ملتے تھے۔ بولی پارٹی عہدوں پر زیادہ پرانی خواتین ہوتی تھی لیکن بعض کو سفارش کی بنیاد پر عہدے ملے۔ عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت سے مطمئن ہیں؟ بالکل نہیں، ساڑھے تین سال فوج ساتھ رہی، سیم پیج کا نعرہ لگتا رہا لیکن ڈلیور کرنے میں پھر بھی کامیاب نہیں ہوئے، ہمارے پوری فیملی نے فیصلہ کر لیا تھا آئندہ عمران خان کو ووٹ نہیں دینا۔ کوئی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ قوم کو خودمختار بنانے کی بجائے لنگر خانوں پر لگادیا گیا۔
رجیم چینج سیاسی نعرہ تھا، صرف پروپیگنڈا کیا گیا اس میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ پروپیگنڈا کرنے کی عمران خان میں خصوصیت ہے وہ اس میں ماہر ہیں۔ باقی جماعتوں نے پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کو سنجیدہ نہیں لیا، اس لیے پیچھے رہ گئی۔ میں نے پوچھا 9 مئی کے واقعات کے متعلق کوئی پلاننگ کی گئی؟ پلوشہ نے کہا پوری تحریک انصاف میں کوئی مرد اور عورت عمران خان کی مرضی کے بغیر بول نہیں سکتا۔ جی ایچ کیو، کورکمانڈر ہاؤس اور دیگر فوجی تنصیبات پر جانے کی پلاننگ عمران خان کی تھی۔ فوجی تنصیبات پر حملوں کا مقصد فوج کو بلیک میل کرنا تھا تاکہ آرمی چیف سے بات چیت ہو سکے۔ ریڈ لائن کراس کرنی تھی وہ تحریک انصاف نے کرلی لیکن عمران خان کا پلان فیل ہو گیا۔ میں نے پوچھا آپ نے حملوں کے اگلے دن کچھ سکرین شاٹ شیئر کیے تھے، ان واقعات میں کنول شوذب کا کیا رول تھا۔ بولی تحریک انصاف کی مرکزی عہدیدار خواتین کے وٹس گروپس بنے ہیں جن کو کنول شوذب چلاتی ہے۔ کنول شوذب نے ہی تمام وٹس ایپ گروپس میں 9 مئی کو میسج شیئر کیے کہ تمام خواتین بچوں کو ساتھ لے کر جی ایچ کیو اور تمام کور کمانڈر ہاؤسز پہنچیں۔ عورتوں اور بچوں کو بطور شیلڈ استعمال کیا گیا۔ کیونکہ ان پر کوئی گولی نہیں چلا سکتا تھا۔ عمران خان نے اپنے کارکنوں کی نفسیات سے کھیلا، وہ ڈیڑھ سال سے لوگوں کی ذہن سازی کر رہے تھے۔ 9 مئی کو اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ میں نے پوچھا عمران خان گرفتاری پر ایسا ردعمل کیوں آیا؟ جبکہ اس سے قبل بھی سیاستدان گرفتار ہوتے رہے ہیں؟ پلوشہ نے بتایا عمران خان کو رینجرز نے گرفتار کیا تو پوری جماعت نے مل کر فوج پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔
جس طرح کی ذہن سازی فوج مخالف ہوئی تھی تو ظاہر ہے تمام کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کرنے کو ترجیحی دی کیونکہ پارٹی قیادت کی جانب سے ہدایات بھی یہی ملی تھیں۔ عمران خان کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا سیاست سے کبھی کسی کو باہر نہیں کیا جا سکا، نواز شریف کو 1999 میں مشرف نے ہٹایا، پھر باجوہ نے بھی ہٹایا، لیکن ان کو سیاست سے باہر نہیں کیا جا سکا۔ فی الحال عمران خان کا کوئی چانس نہیں ہاں مستقبل میں شاید ان کو موقع مل جائے۔
میں نے پوچھا اس وقت دو خواتین سیاست میں زیادہ متحرک ہیں جن میں مریم نواز اور آصفہ بھٹو ہیں ان دونوں میں سے کس کو جوائن کرنا پسند کریں گئیں۔ پلوشہ بولی آصفہ بھٹو کے ساتھ کام کر سکتی ہوں، لیکن مریم نواز ایک بہادر خاتون ہیں، مردوں سے لڑی ہیں وہ بھی اپنے باپ کی خاطر، وہ اچھی بیٹی ہیں انہوں نے اپنے باپ کی خاطر مشکلات برداشت کیں اور جیل بھی گئی۔ نون لیگ آج تحریک انصاف سے بدلہ لے رہی جبکہ پیپلز پارٹی بدلے پر یقین نہیں رکھتی۔


