مقدس گائے اور جنسی ہوس
آج جس موضوع پر قلم اٹھا یا ہے وہ میرا ذاتی پیشہ بھی ہے اور پیشہ بھی وہ کہ جس پر ہمیشہ فخر رہا ہے لیکن تواتر سے ملتی ہوئی خبروں نے دل کو مضطرب سا کر دیا آج پھر کسی دیہات، گاؤں یا کسی نواحی علاقے کی خبر نظر سے گزری پوری مکمل خبر پڑھنے کی نہ ہی ہمت تھی اور نہ ہی حوصلہ کہ جب ایک اور دینی مدرسے کے استاد نے 7 سالہ ننھے طالب علم کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔
آج سے پہلے بھی اس طرح کی خبریں پڑھی ہیں اور کئی با ر والدین کو یہ کہتے بھی سنا کہ ہمارا بچہ یا بچی اس استاد کے رویے کی شکایت اکثر کرتا/ کرتی تھی لیکن ہم اس کا کوئی بہانہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا کرتے تھے آخر ہم کب تک اپنے بچوں سے لاپرواہی اور ان پر اعتبار نہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ وہ ایک بچہ جو کسی بھی درندگی کا شکار ہوا ہے اس کی ساری زندگی کس عذاب، نہ کردہ گناہ کی سزا کاٹتے ہوئے گزرے گی اس کی ذہنی حالت کیا اور کیسی رہے گی کیا وہ کبھی اپنے کسی رشتے اور تعلق پر بھروسا یا اعتبار کرسکے گا / کر سکے گی کیا دنیا اس کا ماضی اور اس ماضی میں کی گئی زیادتی کی سزا مزید کتنی زیادتیوں کی صورت میں اسے دے گی اور دیتی رہے گی۔
اس متاثرہ بچی یا بچے کے علاوہ اس ماحول میں موجود تمام بچوں کا ساری عمر استاد جیسے مخلص، مہربان اور شفیق رشتے سے اعتبار اٹھ جاتا ہے پھر نہ ہی استاد استاد رہتا ہے نہ ہی انسان بس پھر ایک درندے کی سی شبیہ ہمیشہ کے لئے ان تمام بچوں کی یادوں میں رہتی اور ہم اس بات کو شاید اس شدت سے محسوس ہی نہیں کرتے کہ جس کو نہ صرف محسوس کیا جانا اس پر مثبت انداز میں کام کرنا ضروری ہے۔
ایک سوال جو بار بار ذہن میں آتا ہے کہ بطور والدین کیا ہم پر کوئی تربیت کی بھی ذمہ داری نہیں ہے
لیکن کیا ہم یہ دیکھتے ہیں کیا کبھی سوچتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ کر کیا رہے ہیں اور ان کو کیسا مستقبل دے رہے ہیں بات شروع ہوتی ہے ہے بچے کی تعلیم و تربیت سے وہ انسان جس سے بچہ اپنے والدین کے بعد سب سے پہلے ملتا اور اسی کے پاس بھیجا جاتا ہے وہ ہے ایک استاد اور چونکہ ہمارا ملک ایک اسلامی اور ترقی پذیر ملک ہے سب سے پہلے نام نہاد مذہب کے ٹھیکیداروں کے پاس بھیجا جاتا ہے اور پھر ان پر اندھا اعتماد بھی کیا جاتا ہے یہ جانے بغیر کہ بچے کی حفاظت اور مکمل نشوونما کے لئے آپ ہی کو نہایت چھان پھٹک کہ بعد بچے کے لئے کسی جگہ اور استاد کا انتخاب کرنا ہے اور وقتاً فوقتاً اسے دیکھتے بھی رہنا ہے کیا کبھی یہ بھی سوچا کہ یہ نام نہاد علمائے کرام جو کہ استاد جیسے عظیم منصب پر بھی فائز ہے کس کس طرح کے افعال ان معصوم بچوں کے ساتھ انجام دیتے ہیں جس کی آئے دن ہم خبریں سنتے رہتے ہیں دینی مدارس میں بچے اور بچیوں لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان عصمت دری کے واقعات اب ایک معمول بنتے جا رہے ہیں خاص مکتبہ فکر اس میں ملوث نہیں لیکن تمام مکا تب فکر مل کر بھی اس کو ختم نہیں کر سکے ہیں۔
یہ ایک خطرناک ماحول بن رہا ہے استاد ایک محترم رشتہ اور تعلق ہے جو والدین کہ بعد ہمیں اس دنیا میں کامیابی کے تمام تر راستے نہ صرف دکھاتا بلکہ ان پر چلنے کے لئے تمام تر ضروری لوازمات، ہتھیاروں اور علوم سے آراستہ بھی کرتا ہے اس کی ذات سے ایسے گھناؤنے عمل کی توقع ہی انتہائی نا قابل یقین ہے ایسے میں کچھ مٹھی بھر منفی، غیر انسانی حرکات و ذہنیت کے جو کہ دنیا کے ہر حصے، ہر شعبے اور ہر پیشے میں موجود ہوتے ہیں اس پیشے کو داغدار کرتے ہیں۔
اب بات کرنا چاہوں گی اسکولز، کالجز اور یونیورسٹی کے اساتذہ کرام کا بچیوں یا ملازمت کے لئے آنے والی خواتین کے ساتھ جو رویہ رہتا ہے پھر چاہے وہ گومل یونیورسٹی کے ڈین آف آرٹس کے پروفیسر ہوں، سندھ یونیورسٹی جامشورو ہو یا پھر شہید بینظیر یونیورسٹی کے اساتذہ ہوں سب ہی شامل ہیں ام اداروں کے نام لینا اس لیے ضروری تھا کہ ان کے حوالے سے کئی واقعات منظر عام پر آچکے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد ایسی ہے کہ نہ ہی وہ کہیں ریکارڈ پر موجود ہیں اور نہ ہی کسی نے ان کے خلاف کوئی آواز اٹھائی اور سب ہی آزادانہ اپنے مکروہ فعل کو سر انجام دینے میں مگن ہیں۔
بحیثیت والدین کبھی ہم یہ نہیں سوچتے کہ وہ بچہ یا طالب علم جو ابھی کچھ دیر قبل خوشگوار موڈ کے ساتھ سب کے درمیان تھا یہ اچانک اسکول، مدرسہ، کالج یا یونیورسٹی کے نام کیوں خوفزدہ ہو گیا ہے ہر بار قصور بچے یا طالب علم کاہی نہیں ہوتا اور استاد کی تعظیم و تکریم اپنی جگہ میں خود ایک استاد ہوں مگر استاد کو مقدس گائے نہ سمجھیں اور اس نقطے پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے اپنے بچے پر اعتماد کیجیئے اور اس کو اپنی بات کہنے اور خود میں بچے کی بات کو سننے اور سمجھنے کی اہلیت پیدا کیجئے اور بحیثیت استاد چاہے وہ دینی مدارس کے ہوں یا اسکولز، کالجز کے ہوں اپنے اردگرد نظر رکھیں کیونکہ جوابدہ ہم بھی ہیں اسی ماحول میں دیکھتے ہوئے نظر انداز کر دینا یا جان بوجھ کر صرف نظر کرنا بھی ظالم کے ساتھ دینے کے مترادف ہے سوچیئے کہ دنیا کے سب سے بڑے منصف کی عدالت میں گواہی کے لئے تو آپ بھی پیش ہوں گے گر آپ عینی شاہد تھے اور خامش تھے تو کیوں؟

