اہانت مذہب کے الزام کی بنیاد پر مسیحی آبادی پر حملہ


مورخہ 30 جون 2023 بروز جمعہ بعد از نماز جمعہ ضلع سرگودھا کے نواحی گاؤں چک نمبر 49 شمالی میں مشتعل و مسلح ہجوم نے چک نمبر 49 شمالی کی مسیحی آبادی کی جانب حملہ آور ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں کے رہائشی ہارون شہزاد نامی شخص نے فیس بک آئی۔ ڈی پر اسلام مخالف پوسٹ کی ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مسیحی لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر نہ معلوم جگہوں پر بھاگ گئے ہیں۔ جبکہ ملزم ہارون شہزاد کے خلاف تھانہ کینٹ سرگودھا میں پرچہ درج ہے اور ہارون شہزاد تا حال پولیس سے مفرور ہے۔

36 سالہ ہارون شہزاد چک نمبر 49 شمالی سرگودھا کا رہائشی ہے، 4 بچوں کا باپ ہے اور پیشے کے اعتبار سے وہ ایک رنگ ساز ٹھیکیدار ہے۔ 5 بھائی اور دو بہنوں سمیت کل 9 فیملی ممبرز ہیں اور بھائیوں میں اس کا دوسرا نمبر ہے اور ان کا گھر گاؤں کی مسجد سے متصل واقع ہے۔

ہارون شہزاد کے دوست نعمان، بھتیجا داود اور چند خواتین مشتعل ہجوم کے ہاتھوں جسمانی تشدد کا نشانہ بنے تاہم پولیس اور قانون نافد کرنے والے اداروں کی موقع پر بر وقت مداخلت سے دونوں اشخاص اور ہارون شہزاد کے دو رشتہ دار خواتین کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا اور علاقے کو اپنی تحویل میں لے کر جگہ جگہ پولیس چیک پوسٹ بنا دیں۔ ضلع کے ایس ایس پی خود وقفہ وقفہ سے راونڈ لیتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیتے رہے۔ جو لوگ موقع پر بھاگ نہ سکے انہوں نے خود کو چھپا کر اپنے گھروں میں بند کر لیا، جن میں ہارون شہزاد کے دو سگے بھائی گلفام اور صنوبر بھی شامل تھے۔

دو دن بھوکے پیاسے اور خود کو چھپائے ہوئے دونوں بھائیوں گلفام اور صنوبر کو رات کے پہر پولیس کی حفاظت اور تحویل میں لینے کے بعد تھانہ کینٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ دونوں بھائیوں نے گزری صورتحال کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 49 چک میں لگ بھگ 2۔ 3 مساجد ہیں اور دن میں پانچ بار نماز ادا ہوتی ہے اور ہر نماز ادا کرنے کے بعد ہجوم مسیحی آبادی کا رخ کر لیتا تھا اس لیے جن لوگوں نے خود کو اپنے گھروں میں بند کر لیا تھا پولیس کا ان کو بازیاب کروانا مشکل ہو گیا تھا۔

ہارون شہزاد کے بھائی عرفان کے مطابق ”عمران اللہ ولد منور حسین عرف ڈان نامی شخص جو کہ چک نمبر 49 شمالی کا رہائشی ہے۔ ایک آوارہ گرد اور نشے کا عادی انسان ہے اور علاقہ میں ’ڈان‘ کے نام سے مشہور ہے اور ہارون شہزاد کے ساتھ اس کی پرانی ذاتی رنجش ہے جس کہ وجہ سے وہ الزام لگایا ہے“ ۔

ایف آئی آر کے مطابق مورخہ 30 جون 2023 بروز جمعہ سہ پہر 4 بج کر 25 منٹ پر عمران اللہ ولد منور حسین عرف ڈان نامی شخص جو کہ چک نمبر 49 شمالی کا رہائشی ہے تھانہ کینٹ سرگودھا میں درخواست دی کہ ہارون شہزاد ولد یونس مسیح ساکن چک نمبر 49 شمالی نے اپنے نام سے ایک فیس بک آئی۔ ڈی بنائی ہوئی ہے۔ اور مورخہ 28 جون 2023 کو ہارون شہزاد نے اپنے فیس بک آئی ڈی پر ایک پوسٹ شیئر کی تھ۔

میں نے اور مسمی حسن الیاس ولد الیاس احمد نمبر دار ساکن چک نمبر 49 شمالی اور عتیق الحسن شاہ ولد سید صدیق حسین ساکن چک نمبر 49 شمالی نے یہ پوسٹ ہارون شہزاد کی فیس بک آئی۔ ڈی پر با چشم خود دیکھی ہے جو کہ ہارون شہزاد نے مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے ہیں اور شعائر اسلام کی توہین کی ہے۔ مسمی ہارون شہزاد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے درخواست سردست صورت جرم 295۔ اے ایف آئی آر درج کر دی گئی۔

اس کی مجموعی صورتحال کے مطابق ملزم ہارون شہزاد مفرور ہے، اس کے گھر کے افراد میں سے 2 خواتین اور 4 مردوں سمیت ٹوٹل 6 افراد پولیس کی حراست میں ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ علاقہ پر پورا کنٹرول ہے اور لاء اینڈ آرڈر ہر صورت میں قائم رکھا جائے گا۔ جبکہ سرگودھا کی سول سوسائٹی آرگنائزیشن اور مسیحی مذہبی جماعتوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں مسیحی سیاسی راہنما سینیٹر کامران مائیکل، طاہر خلیل سندھو، اعجاز عالم اور طارق مسیح گل نے ٹیلی فون پر مقامی سیاسی و سماجی راہنماؤں میں ثناور بالم (ضلعی ممبر برائے انسانی حقوق سرگودھا ) اور مشتاق گل کے ساتھ رابطہ کیا اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے ساتھ بات کی۔

مقامی سطح پر چیئر مین پی۔ ایم۔ اے طاہر نوید چوہدری، مشتاق گل، ثناور بالم ایڈووکیٹ (ضلعی ممبر برائے انسانی حقوق ) اور دیگر مذہبی و سیاسی قیادت ہارون شہزاد کی فیملی کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں۔ اور وہ اس معاملہ میں ضلع کی انتظامیہ سے کوارڈینیشن میں ہیں۔

”آج کی آخری اطلاعات کے مطابق ہارون شہزاد کی عبوری ضمانت منظور منظور کر لی گئی ہے“

(مصنف گورنمنٹ آف پنجاب کے Human Rights & Minority Affairs Department کے رکن ہیں)

Facebook Comments HS