ڈبل ڈیکر بس کے سفر کی یادیں اور باتیں
لاہور سے وابستہ بچپن کی یادوں میں ایک یاد ڈبل ڈیکر بس کا سفر ہے، جو نہیں بھولتا اور آج بھی یاد ہے۔ دس، بارہ سال کی عمر میں جب اپنے والد گرامی احمد علی سراج صاحب کے ساتھ سیر کو کہیں جانا ہوتا تو دو منزلہ بس میں بیٹھنا ہے، کی فرمائش اور کبھی ضد ہوا کرتی تھی۔ یہ بات ساٹھ کی دہائی کے اختتام اور ستر کی دہائی کے شروع کی بات ہے۔ ان دنوں یہ دو منزلہ بس جو ڈبل ڈیکر کہلاتی تھی، بچوں کے لئے ایک عجوبہ سواری سے کم نہ ہوا کرتی تھی۔
بس کے پچھلے دروازے سے سوار ہوتے ہی سیڑھیاں اوپر منزل کو جاتی تھیں، بھاگ کر اوپر پہنچ جاتے اور کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھ کر باہر کے نظارے دیکھتے۔ تازہ ہوا کے جھونکوں سے بھی لطف اندوز ہوتے۔ اونچی اور تیز بھاگتی بس میں سوار باہر کے بھاگتے مناظر بہت اچھے لگتے۔ کسی بس ٹاپ پر جب بس کھڑی ہوتی تو بالائی منزل سے نیچے سواریوں کے رش اور ان کی دھکم پیل دیکھ کر اوپر منزل کی سواریاں بہت محفوظ ہوتی تھیں۔ اس ڈبل ڈیکر نے جب کہیں موڑ لینا ہوتا تو آنکھیں خود بخود بند ہو جاتیں۔
اس دور میں ڈسپلن کا یہ عالم تھا کہ کنڈیکٹر باوردی ہوا کرتا تھا جو پیسے لے کر ٹکٹ ضرور دیتا تھا۔ وہ سادگی، امن و شانتی اور بھولے پن کا دور تھا۔ چونکہ آبادی بہت کم تھی اس لئے سڑکوں پر رش وغیرہ نہیں ہوا کرتا تھا، لوگوں کے اندر ایک دوسرے کا احترام اور ادب کچھ کچھ موجود تھا۔ اس دور میں ہم لاہور کینٹ میں رہائش پذیر تھے۔ غلام احمد پارک بس سٹاپ سے بس کے ذریعے ریلوے اسٹیشن جایا کرتے تھے۔ وہ بہت اچھے دن تھے۔ کسی شاعر نے بچپن کے بارے کہا تھا کہ،
وہ شرارتیں وہ شوخیاں میرے عہد طفل کے قہقہے
کہیں کھو گئے میرے رات دن، اس بات کا ملال ہے
تاریخ کے شواہد بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان کے چند سالوں بعد ہی لاہور کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بس چلنا شروع ہو گئی تھی۔ اس وقت گورنمنٹ کے کنٹرول میں چلنے والی لاہور اومنی بس سروس کہلاتی تھی جو برطانوی کمپنی کی تیار کردہ بسیں استعمال کرتی تھی۔ ان بسوں کا مرکزی اڈہ ریلوے اسٹیشن پر ہی ہوا کرتا تھا جہاں بسیں اور ڈبل ڈیکر کھڑی ہوا کرتی تھیں۔ یہیں سے شہر کے مختلف علاقوں کو اور دوسرے شہروں کو بسیں روانہ ہوتی تھیں اور واپس یہیں پہنچ کر کھڑی ہوا کرتی تھیں۔
گورنمنٹ بسوں کے ڈپو کے نام سے مشہور اس جگہ پر یہاں سرخ رنگ کی بسیں، ڈبل ڈیکرز کھڑی ہوا کرتی تھیں۔ اس ڈپو کے دو راستے ہوا کرتے تھے۔ ایک راستہ سامنے تھا جو سڑک گڑھی شاہو کو جاتی تھی اور دوسرا راستہ عقب میں تھا۔ بعد میں لاہور اومنی بس سروس کو پنجاب اربن ٹرانسپورٹ کے تابع کر دیا گیا تھا۔ سکول، کالج طالب علموں کے لئے رعایتی بس کارڈز پر مہریں اور دستخط بھی اسی اڈے پر موجود اومنی بس سروس کے دفتر سے لگا کرتی تھیں۔
یہ سہولت بھٹو دور میں طلباء کو فراہم کی گئی تھی۔ اس گم شدہ لاہور کی سڑکوں پر مختلف علاقوں کو جانے والی بسوں کو مختلف نمبرز دیے ہوتے تھے۔ بس وہی نمبر لوگوں کو یاد رہتے کہ فلاں نمبر کی بس اس علاقہ میں جاتی ہے، یوں لوگ باآسانی مطلوبہ بس تک پہنچ جاتے۔ ان نمبروں میں بس نمبر ایک، بس نمبر دو ، بس نمبر تین اور بس نمبر چار، زیادہ مشہور تھیں جو تقریباً لاہور کے اہم علاقوں کو جاتی تھیں، یاد پڑتا ہے کہ شاید 5 نمبر روٹ کی بس بھی چلا کرتی تھی۔
12 کی بس ریلوے اسٹیشن سے شالا مار باغ کے راستے واہگہ بارڈر تک جایا کرتی تھی۔ ان دنوں لاہور کا پاگل خانہ بہت مشہور ہوا کرتا تھا۔ اس وقت 4 نمبر کی بس اس پاگل خانہ کے سامنے سے گزرتی تھی۔ کسی کو طنزیہ یا مذاق سے کچھ کہنا ہوتا تو کہا جاتا کہ اس کو چار نمبر بس پر بٹھا دو ۔ یہ جملہ بہت عام تھا۔ وہ پاگل خانہ آج بھی موجود ہے لیکن چونکہ اس کا نام اب مہذب ہو چکا ہے اس لئے لوگ بھی محسوس نہیں کرتے، اگر وہاں جانے کا کہہ دیا جائے۔
ان دنوں میں لاہور اومنی بس سروس کا سب سے لمبا روٹ کرشن نگر سے شروع ہو کر لوئر مال، مال روڈ، ریگل چوک، ملکہ کا بت (آج کا چیئرنگ کراس) ، ریلوے اسٹیشن، گڑھی شاہو، دھرم پورہ، صدر بازار، کینٹ کے راستے ہوتا ہوا آر اے بازار (رائل آرٹری بازار) پر ختم ہوتا تھا۔ اسی طرح شاہ نور اسٹوڈیو سے براستہ ریلوے اسٹیشن داروغہ والا تک، شاہ نور اسٹوڈیو سے براستہ ریلوے اسٹیشن چوبرجی، ایم اے او کالج، جین مندر، سول سیکرٹریٹ، جی پی او چلا کرتی تھیں۔
سڑکوں پر ان روٹس کی بسیں بھاگتی نظر آیا کرتی تھیں۔ یہ ڈبل ڈیکر بسیں مکمل طور پر کب ختم ہوئیں اس بارے متضاد باتیں مضامین میں پڑھنے کو ملتی ہیں تاہم ستر کی دہائی کے اختتام تک یہ ڈبل ڈیکر بسیں شاید برائے نام رہ گئی تھیں۔ بعد میں فیروز پور واقع اڈے پر ان سب بسوں کی نیلامی کردی گئی تھی۔ غالباً یہ 1980 کے شروع کی بات ہے۔
لاہور میں ڈبل ڈیکر بس کب شروع ہوئی؟ اس حوالے سے پرانے مضامین میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ معروف صحافی واصف ناگی کے مطابق لاہور میں ڈبل ڈیکر بس کا آغاز اتوار 2 ستمبر 1951 کو ہوا تھا۔ سڑکوں پر چلنے سے ایک روز پہلے ان ڈبل ڈیکر بسوں کی پنجاب اسمبلی کے سامنے نمائش کی گئی تو دیکھنے والوں کا تانتا بندھ گیا تھا۔ لاہوریوں نے ان کو حیرت کی نگاہوں سے دیکھا اور ڈبل ڈیکر بسوں میں بہت دلچسپی لی سارا دن لوگ ان بسوں کو دیکھنے کے لئے آتے رہے اور بس کی دوسری منزل پر سفر کرنا سب کے لئے پسندیدہ مشغلہ بن گیا۔
بسوں کے رواں دواں ہونے کے بعد ان کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا۔ بعد ازاں طلباء کے لئے بھی ان کو مختص کیا جانے لگا، اور ان کو سفر میں خصوصی رعایت بھی دی جانے لگی تھی۔ طلباء کے لئے دس پیسے کا ٹکٹ ہوا کرتا تھا۔ جو بعد میں پچیس پیسے کا ہو گیا تھا۔ کالج کے طلباء کے لئے مختص کردہ ڈبل دے کر بسیں کالج کے اوقات میں طلباء کو مختلف علاقوں کے بس سٹاپوں سے لے کر کا کالج تک پہنچاتی تھیں۔ ہر کالج کا نام ڈبل ڈیکر کی پیشانی پر لکھا ہوتا تھا۔
عام مسافروں کے لئے یک طرفہ کرایہ چار آنے ہوا کرتا تھا لیکن مختلف روٹس پر بسوں کے اسٹاپ سے بھی کرائے ہوا کرتے تھے، جو وقت کے ساتھ بدلتے بھی رہے۔ پچاس کی دہائی کے وسط سے لے کر شاید ستر کی دہائی کے اختتام تک یہ ڈبل ڈیکر لاہور کے عام شہریوں میں ایک پسندیدہ ٹرانسپورٹ کے طور پر مقبول رہی۔ اس زمانے کے اخبارات میں شائع شدہ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ آبادی کم ہونے کے باوجود ڈبل ڈیکروں میں سواریوں کی رش سے اس کی مقبولیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
ان ڈبل ڈیکر بسوں کی مقبولیت اتنی زیادہ بڑھی کہ ان کو باقاعدہ اشتہاری مہم کے لئے بھی استعمال کیا جانے لگا تھا۔ اس دور کی مقبول ترین سروس اور باٹا شو کمپنیوں نے ان کا خوب استعمال کیا۔ 1965 کی جنگ کے حوالے سے ڈبل ڈیکر بس کے بھارتی فوجیوں کے ہاتھ لگنے کا واقعہ بھی تاریخ میں ملتا ہے جو جنگ کے کالم نگار واصف ناگی نے لکھا تھا اور جس کا حسن نثار نے اپنے ایک کالم میں بھی ذکر کیا تھا۔ ناگی صاحب کے مطابق ان دنوں ریلوے اسٹیشن تا واہگہ بارڈر تک ایک ڈبل ڈیکر بس چلا کرتی تھی، جو رات گیارہ بجے واہگہ بارڈر پر کھڑی رہتی اور صبح سویرے واہگہ کی سواریاں لے کر شہر کو چل پڑتی تھی۔
جنگ کے بالکل آغاز میں جب بھارتی فوجیں اندھیرے میں لاہور کے اندر داخل ہو گئیں اور پھر ردعمل ملنے پر جب واپس بھارتی علاقے میں جانا پڑا تو وہی ڈبل ڈیکر بس واہگہ بارڈر سے ساتھ لے گئے تھے اور امرتسر میں لوگوں کے سامنے پاکستانی ڈبل ڈیکر کی نمائش کرتے رہے اور بتاتے رہے کہ لاہور پر قبضہ کر لیا ہے۔ ڈبل ڈیکر بسوں کا یہ پہلا دور بہترین عوامی ٹرانسپورٹ کے لحاظ سے ایک بہترین دور کہا جاسکتا ہے۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ لاہور کی سڑکیں اور لاہوری ڈبل ڈیکر سے محروم رہے لیکن پھر وقت نے پلٹا کھایا۔
کہتے ہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ کئی دہائیوں کے بعد لاہور کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر ایک بار پھر نمودار ہو کر پرانی تاریخ کو دہرا رہی ہے لیکن اس بار اس کی سواریاں عام شہری نہیں بلکہ سیاح ہیں۔ لاہور میں محکمہ سیاحت کی طرف سے سیاحوں کے لئے پہلی بار ڈبل ڈیکر کا آغاز ہو چکا ہے سیاح ان ڈبل ڈیکر بسوں کے ذریعے پورے لاہور کے چھتیس سے زائد مقامات اور عمارتوں کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ اس کی ابتداء 2015 میں ہوئی تھی۔
سیاحوں میں مقامی شہری سکولوں کے بچے بھی شامل ہیں۔ لہور، لہور اے کے نام سے شروع ہونے والی اس پہلی سیاحی ڈبل ڈیکر بس کی ٹکٹ دو سو روپے رکھی گئی تھی۔ محکمہ سیاحت کی طرف سے سیاحتی ڈبل ڈیکر بسوں کو مختلف روٹس پر چلایا جا رہا ہے تا اہم جو مزے ماضی میں عوام الناس کو ملا کرتے تھے وہ اب صرف سیاحوں کو ہی میسر ہیں۔





