تقسیم ہند: پنجاب اور فسادات


14 اگست سنہ سینتالیس کو ہندوستان برطانوی تسلط سے آزاد ہو گیا اور ایک نئی مملکت پاکستان وجود میں آئی۔ تاریخی طور پر مسلم لیگ کی بنیاد انیسویں صدی کے شروع میں مشرقی بنگال میں رکھی گئی لیکن شمالی ہندوستان نے مسلم لیگ کی زیر قیادت تحریک پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا خاص طور سے علیگڑھ یونیورسٹی کے طلبا نے تقسیم ہند اور پاکستان کے قیام کے لیے زبردست تحریک چلائی اور ہندوستان کے گاؤں گاؤں جاکر پاکستان کا مقدمہ پیش کیا۔ قصہ مختصر یہ کہ چودہ اگست کو پاکستان وجود میں آ گیا۔

تقسیم ہند کے بعد آبادی کی منتقلی کی کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی جس کی وجہ سے میں پورے پنجاب فسادات پھوٹ پڑے اور معصوم اور امن پسند عوام جو صدیوں سے ساتھ ساتھ رہ رہے تھے اچانک انسان سے وحشی درندے بن گئے۔ دونوں طرف خون کی ہولی کھیلی گئی پنجابیوں نے خوب ایک دوسرے کا خون بہایا اور کئی لاکھ افراد لقمہ اجل ہوئے اس کے علاوہ لوٹ مار، آتشزدگی اور آبروریزی کے واقعات سے انسانیت کی جس طرح تذلیل ہوئی وہ شاید تاریخ کبھی نہ بھلا پائے گی۔

بٹوارے کے اس عمل میں ایک اندازے کے مطابق ایک ملین سے زیادہ لوگ مارے گئے اور ڈیڑھ کروڈ افراد ہجرت پر مجبور ہوئے انہیں اپنی شناخت مٹا کر ایک اجنبی زمین پر بسنے کے لیے اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنا پڑا۔ کچھ ایسا ہی کلکتہ اور بہار میں بھی ہوا اور وہاں بھی قتل و غارتگری کا بازار گرم ہوا اور سینکڑوں ہزاروں معصوم لوگ فسادات میں مارے گئے۔ یوپی، سی پی اور دیگر علاقوں سے لوگ نقل مکانی کر کے نئے وطن جانے کے لئے ریل گاڑیوں کے ذریعے روانہ روانہ ہوئے اور اکثر منزل تک پہنچنے سے پہلے شہید کر دیے گئے چونکہ تمام راستے مشرقی پنجاب سے ہو کر گزرتے تھے جہاں ہندو اور سکھوں کے مسلح جتھے ٹرینوں پر حملہ آور ہوتے اور بے دردی سے مہاجرین کو قتل کر دیتے بعض اوقات صرف لاشوں اور زخمیوں سے بھری گاڑیاں لاہور کے اسٹیشن پہنچتیں کچھ یہی حال یہاں سے ہجرت کرنے والے شرنارتھیوں کا ہوا ان کو بھی مقامی مسلم گروہوں نے اسی طرح لوٹا اور تہ تیغ کیا۔

مغربی پنجاب میں فساد۔ قتل و غارتگری کی سب سے بھیانک واقعات راولپنڈی اور اس کے نواحی علاقوں میں ہوئے۔ کہوٹہ کے قریب تھوبا خالصہ نامی گاؤں اور اس کے اطراف میں انسانیت کا جنازہ نکال دیا گیا۔ اکالی دل کے لیڈر ماسٹر تارا سنگھ کے اہل خانہ کو حسن ابدال میں زندہ جلا دیا گیا اس نے اپنے انتقام کی آگ بجھانے کے لیے سکھوں کے جتھے ترتیب دیے جنہوں نے پنجاب سے گزرنے والی ٹرینوں اور قافلوں پر حملے کئیے معصوم بچوں اور عورتوں کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ الغرض دونوں طرف انسانیت سسکتی رہی اور وحشت و بربریت کا عفریت ناچتا رہا۔ پنجاب میں باقاعدہ لوٹ مار اور قتل و غارتگری کے واقعات مارچ سے ہی شروع ہوچکے تھے اور جولائی کے بعد ان کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہو گیا۔ انسان درندہ بن گیا۔ اور ہندوستان تقسیم ہو گیا۔

جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد ہندوستان میں گورا راج کے خلاف تحریکیں شروع ہو چکی تھی جس میں ہندو اور مسلمان برابر کے شریک تھے۔ ہندوستان چھوڑ دو۔ سول نافرمانی اور انڈین نیشنل آرمی کھل کر برطانوی سامراج کے خلاف سامنے آ گئے۔

جنگ کے بعد برطانیہ بھی مالی طور پر بہت کمزور ہو چکا تھا اور اس کے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ ہندوستان پر مزید قابض رہتے لیکن انگریز کسی صورت میں بھی سالم ہندوستان چھوڑنا نہیں چاہتا تھا انہوں نے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا پلان بنایا۔ چودہ اگست سنہ سینتالیس کو برطانیہ نے ہندوستان آزاد کردینے اور ایک نئی ریاست پاکستان کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس سے چند ماہ پیشتر برطانیہ نے سرحدوں کی تقسیم کے لئے سر ریڈ کلف کی سربراہی میں باؤنڈری کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے انتہائی عجلت میں پنجاب اور بنگال کے درمیان سرحد مقرر کر دیں جو ہمیشہ متنازعہ رہیں۔

تقسیم سے پہلے انگریزوں کی ایما پر 1937 میں یونینسٹ پارٹی ( جو کانگریس کی بغل بچہ جماعت تھی ) کے مسلمان وزیر اعلیٰ سر سکندر حیات اور جناح صاحب کے درمیان جناح/ سکندر پیکٹ کرایا گیا جس کے بعد قائداعظم والی مسلم لیگ کو پنجاب میں کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ اسی مفاہمت کے نتیجے میں سکندر حیات کی حکومت نے 1940 کا لاہور ریزولیوشن ہونے دیا، ورنہ پنجاب میں مسلم لیگ کا کے مخالف گروہ ”سر شفیع لیگ“ کا دھڑا قابض تھا جس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سر محمد اقبال المعروف علامہ اقبال تھے۔

پنجابی جاگیرداروں کو جب واضح اشارہ مل گیا کہ ہندوستان کا بٹوارہ ہر صورت ہونا ہی ہے تو انہوں نے بھی قائد اعظم مسلم لیگ کی حمایت شروع کردی کی کیونکہ اس بٹوارے میں ان کا فائدہ تھا وہ سکھ اور ہندو ساہو کاروں کے قرضوں میں جکڑے ہوئے تھے بٹوارہ کے بعد انہیں اس سے نجات ملنے کا یقین تھا۔ اور ساتھ ہی ان کی چھوڑی ہوئی زمینیں اور جائیدادیں بھی ان کے قبضے میں آ جائیں گی۔ یہی وہ ترغیبات تھیں جن کی وجہ سے انگریزوں کے پروردہ اور القابات سے نوازے گئے۔

خان بہادر۔ سر۔ جاگیردار۔ مخدوم اور گدی نشین اچانک مسلم لیگی بن کر تحریک پاکستان میں شامل ہو گئے۔ آزادی کے فوراً بعد لاہور میں قائم ریونیو کے ریکارڈ آفس نذر آتش کردی گئی جس کے نتیجے میں سارے کھاتے تلف ہو گئے اور قرضوں کا سارا ریکارڈ بھی ختم ہو گیا۔ اور پنجاب میں ایک نئی اشرافیہ نے جنم لیا جو پہلے سے زیادہ طاقتور تھی۔

باؤنڈری کمیشن دونوں ملکوں کے درمیان سرحدیں کھینچ رہی تھی لیکن آخر وقت تک عام آدمی بے خبر ہی رہا کہ اس کا مستقبل سرحد کے کس جانب ہو گا۔ یہی نہیں انگریز نے آبادی کے انتقال کا بھی کوئی منصوبہ نہیں بنایا جس کے نتیجہ میں لوگ افراتفری اور بے سر و سامانی کی حالت میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ایک عظیم انسانی المیہ رونما ہوا جس میں لاکھوں افراد قتل ہوئے اور خون کی جو لکیر کھینچی گئی اس کے لگائے زخم آج بھی رس رہے ہیں۔ دونوں فریقین نے اس قتل عام کو اپنی اپنی شہادت اور قربانی سے تعبیر کیا۔ لیکن ہر دو فریق آج تک اس صدمہ کو نہ تو بھلا پائے اور نہ ہی ان کے دلوں سے اپنی سابقہ مٹی کی محبت کم ہوئی۔

میں بہت سے ہندو اور سکھوں سے ملا جو اب بھارتی شہری ہیں اور اچھی زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے دلوں میں اب تک لاہور، گجرانوالہ اور وہ آبائی جگہیں جہاں سے انہوں نے یا ان کے بزرگوں نے ہجرت کی گئی تھی اب بھی آباد ہیں۔ اسی طرح ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کے خوابوں میں امرتسر۔ لکھنؤ، دلی اور حیدرآباد آج بھی اسی طرح سجے ہوئے ہیں۔

اردو ادب میں اس انسانی المیہ پر بہت کچھ لکھا گیا۔ شاعروں و ادیبوں نے قتل و غارتگری کی وہ داستانیں تحریر کیں جن کو پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ منٹو، کرشن چندر، امرتا پریتم، ساحر، بیدی، خشونت سنگھ اور گلزار نے بٹوارے کے دوران ہونے والے واقعات اور خونریزی پر رلا دیا۔ ایک نیا ادب تخلیق ہوا جس میں اس انسانی المیہ کو اجاگر کیا گیا۔ منٹو کا بشن سنگھ آج بھی سرحد پر کنفیوزڈ کھڑا سوال کر رہا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ بٹوارے کا دکھ دونوں طرف ایک سا ہے۔

گلزار صاحب نے بھی اس کرب کی اپنی شاعری میں خوب منظر کشی کی۔ ان کی دلگداز نظم ”ماں میں آیا تھا“ رلا دیتی ہے اسی طرح امرتا پریتم نے بھی تقسیم ہند کے موضوع پر دردناک افسانے لکھے اور اپنی شاعری میں بھی اس درد کو بیان کیا۔ امرتا کی نظم ”آج آکھاں وارث شاہ نوں“ سوال کرتی ہے کہ راوی کو خون میں کیوں نہلا دیا گیا۔ اسی طرح منٹو اور کرشن چندر نے بھی اس انسانی المیہ پے بہت لکھا۔ کرشن چندر کی کہانی ”غدار“ بہت پر اثر ہے اور بہت سے سوالات اٹھاتی ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

تقسیم ہند کے دوران پنجاب میں بدترین خونریزی ہوئی بالخصوص مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آنے والے پنجابی اس کے زیادہ شکار اور بے گھر ہوئے جبکہ مقامی پنجابی اس افراتفری اور خونریزی سے نہ صرف محفوظ رہا بلکہ کسی حد تک ہندو اور سکھوں کی جائیدادوں کی لوٹ مار اور قتل و غارتگری سے مستفیض بھی ہوا۔ ستم ظریفی یہ کہ مقامی پنجابی رات سویا تو ہندوستان میں اور صبح جب جاگا تو ”اصلی تے وڈا پاکستانی“ بن گیا جبکہ وہ جنہوں نے جدوجہد کر کے ملک بنایا اور قربانیاں دیں بے نام ہو گئے یہی نہیں بلکہ ان کی حب الوطنی بھی مشکوک ہوئی۔

کیسے کیسے ایسے ویسے ہو گئے۔
ایسے ویسے کیسے کیسے ہو گئے

تقسیم سے پہلے اس طرف کے پنجاب میں متمول اور بڑے زمینداروں یا تو ہندو تھے یا سکھ جبکہ مقامی مسلمان کی اکثریت ان کے مزارعے اور کسان تھے۔ اور جو چند مسلمان جاگیردار تھے بھی وہ محض انگریزوں کی عنایتوں کے مرہون منت تھے مثلاً حیات فیملی، مخدوم، چوہدری، ٹوانہ اور دوسرے بہتوں کو انگریزوں کی غلامی اور وفاداری نبھانے کر صلے میں خطابات اور مربعوں سے نوازے گئے ورنہ یہ ان کے گھوڑوں کے سائیس یا قبروں کے مجاور تھے۔ ان خاندانوں کی تفصیلات ایک سر ہنری گریفن کی کتاب The Punjab Chiefs میں درج ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے ثمرات پنجاب نے خوب حاصل کئیے آور آج تک حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن ایک عام پنجابی اور مراعات یافتہ پنجابی دو الگ گروہ ہیں۔ عام پنجابی کا استحصال بھی کم وبیش اتنا ہی ہوا اور ہو رہا ہے جتنا کہ باقی دوسرے صوبوں کے عوام کا۔ لیکن شاید اس کو اس کا ادراک نہیں اور المیہ یہ ہے کہ وہ بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر وہی زبان بول رہا ہے جو اس کی اشرافیہ کا بیانیہ ہے اور وہ بھی دوسری قومیتوں کو خود سے کم پاکستانی اور مسلمان سمجھتا اور غداری کے سرٹیفیکیٹ جاری کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے باقی تین صوبوں کی اکثریت اس سے متنفر ہے اور لفظ ”پنجابی“ استحصال کا استعارہ بن چکا ہے۔

بنگالیوں کا پاکستان کی تشکیل میں سب سے زیادہ حصہ تھا لیکن ان کا بھی بری طرح استحصال کیا گیا۔ بنگال میں لفظ پنجابی ایک گالی کی طرح بولا جانے لگا وہ ہر مغربی پاکستانی کو نفرت سے ”پونزابی“ کہ کر پکارتے تھے۔ چونکہ بنگالی بہتر سیاسی شعور رکھتے تھے اور جغرافیائی طور پر بھی دور تھے لہذا ایک زبردست جدوجہد کے بعد الگ ہو گئے۔ جبکہ آج باقی تین صوبوں کے عوام اپنے حقوق کی جب بات کرتے ہیں تو بجائے یہ کہ ان کی سنی جائے اور جائز مطالبات تسلیم کئیے جائیں ان کو دشمن کا ایجنٹ اور علیحدگی پسندی سے تعبیر کیا جا رہا ہے جو کسی بھی طور مناسب نہیں اور اس طرز عمل سے علاوہ نقصان اور کچھ نہیں ہونے والا جو ملکی سالمیت کے لئے زہر قاتل ہے۔ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

Facebook Comments HS