دانہ نہیں یاں دام بچھا ہے
افسانہ:محمد حمید شاہد
احمدال نامی گاؤں پر نظر پڑنے تک مجھے یوں لگتا جیسے سارا منظر یک لخت بدل جاتا تھا۔ جو پہلے تھا پھر ویسا نہ رہتا۔ پنڈی گھیب جانے کے لیے مجھے یہیں سے گزرنا ہوتا تھا۔ پشاور روڈ پر ترنول تک پھنسی ہوئی ٹریفک سے بچنے کے لیے کشمیر روڈ سے ائر پورٹ کی طرف جاتے ہوئے جو راستہ پنڈی کوہاٹ روڈ سے جا ملتا تھا، ممتاز سٹی سے ہوتا ہوا، میں اس پر ہو لیتا تھا۔ جہاں یہ نئی بستی بسائی جا رہی تھی وہاں کبھی ہر طرف کھیت ہی کھیت تھے۔
ائر پورٹ کی نئی عمارت شہر سے باہر اس طرف کھلے میں بنائی گئی تو پورے علاقے میں پراپرٹی ڈیلروں نے کسانوں سے اونے پونے زمینیں خریدیں اور کھیت رہائشی پلاٹوں میں بدل ڈالے تھے۔ پھامڑہ، بجنیال، ڈھوک وراچہ، ڈھوک مکھن والی اور دوسری ساری ڈھوکوں ڈھلوں والے اپنے کھیتوں کی قیمت وصول کر کے کہیں اور نکل گئے تھے۔ اب وہ گندم کاشت کرنے کی مشقت نہیں اٹھاتے ہوں گے۔ یہ سارا علاقہ بارانی تھا اور یہاں کے کسانوں کی زندگی بہت مشقت والی تھی مگر مجھے لگتا تب کسان اس مشقت والی مصروفیت سے زندگی کشید کیا کرتے تھے۔
کیا اب بھی وہ اپنی زندگیوں سے ویسے ہی خوش ہوں گے؟ میں اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ خیر جب وہ یہاں تھے تو گندم کے علاوہ یہاں وہاں ہاڑی ساونی کچھ اور فصلیں بھی کاشت کرتے ہوں گے کہ ڈھور ڈنگروں کے پیٹ بھی تو بھرنے ہوتے تھے مگر انگریزی سال کا دسواں مہینہ پڑتے ہی وہ اپنے سوئے پڑے کھیتوں کو جگاتے تھے۔ کوئی ہل چلا رہا ہوتا، کوئی وٹ بندی کرتا، کوئی سہاگہ پھیرتا تو کوئی دمبی سٹی، باتھو، پوہلی یا دوسری جڑی بوٹیاں چن رہا ہوتا۔
زمین بوائی کے لیے تیار ہو جاتی تو بارش کا انتظار کیا جاتا۔ ایسے میں خدا بہت یاد آتا تھا۔ وہ بار بار آسمان کی سمت دیکھتے اور دعا بھری ہتھیلیوں سے وہاں دستکیں دیتے۔ مری کی سمت سے بادلوں کی ٹکڑی ادھر کا رخ کرتی تو جیسے اس کی انگلی تھام کر خوش خوش کھیتوں کی طرف بھاگ پڑتے تھے۔ بارش کا جھبڑا پڑ جاتا تو گنگناتے :
”سوہنی چلدی ہوا ماہیا
موسم بارش دا
تو چھیتی چھیتی آ ماہیا۔ ”
زمین وتر پکڑ لیتی تو بیج کا چھٹا مارتے اور ہل سہاگے سے اسے زمین میں دبا دیتے۔ اس کے ساتھ ہی ایک بڑا مرحلہ مکمل ہو جاتا۔
ایسے دنوں میں، میں جب جب ادھر سے گزرتا زمین اپنا رنگ بدلتی نظر آتی اور کسان بھی وہاں یوں مصروف دکھائی دیتے جیسے وہ انہی کھیتوں سے اگے تھے اور کسی نہ نظر آنے والی آنول نال کے ذریعے زمین سے جڑے ہوئے تھے۔ بیجوں سے کونپلوں کے جتھے پھوٹ کر زمین کا سینہ چیرتے ہوئے باہر نکلتے تو یوں لگتا جیسے دور دور تک سبز رنگ کا قالین بچھ گیا ہو۔ فصل سر اٹھا کر اونچی ہو جاتی، اتنی اونچی کہ اس میں سٹے پڑنے لگتے تو ہوائیں چلنے لگتیں۔
فصل ایسے میں سرخوشی سے لہراتی تھی کچھ ایسے جیسے سبز فراک پہنے سہیلیاں ہاتھوں میں ہاتھ دیے دور تک رقص کرتے ہوئے جا رہی ہوں۔ میرے اگلی بار وہاں سے گزرنے تک فصل تیار ہو کر سنہری ہو چکی ہوتی یا پھر کسان کٹائی یا گہائی میں مصروف ہوتے۔ کٹائی میں ایک ساتھ اٹھتی درانتاں جب مٹھی بھری فصل کو ایک ادا سے کاٹ کر الگ ہوتیں اور کسان ”ہلا ہو“ کا ہنکارا بھرتے یا گہائی کے وقت یہی کسان بیلوں کی جوڑی کو کھلواڑے کے بیچوں بیچ ایک دائرے میں بچھی فصل کو کچلنے کے لیے دوڑا رہے ہوتے یا ”شاوا بھئی شاوا“ کے نعرے لگاتے ہوئے دانے اور بھوسے کو الگ کرنے کے لیے اسے ترینگل سے فضا میں اچھال رہے ہوتے تو یقین جانیے میں بھی اس منظر سے زندگی کشید کرتا تھا۔ مگر اب وہ لوگ نہیں رہے۔ جب کھیت کھلیان نہیں رہے تو وہ لوگ یہاں کیسے رہ سکتے تھے۔
شاہ پور پہنچنے تک کھیت پھر سے سانس لینے لگتے۔ فتح جنگ، ڈھوک سیداں، تاجہ بارا، نتھیں ملکاں، ڈھوک شکرا اور پھر احمدال کے اس گاؤں تک جو کبھی سڑک کے دائیں جانب ایک ڈھلوان میں تھا، اور اب سڑک کے بائیں بھی پھیلتا جا رہا تھا دور دور تک کھیتوں میں لہلہاتی یہی زندگی تھی۔ تاہم جو نہی احمدال گزرتا کھیت کھلیان سمٹ سکڑ کر یوں ہو جاتے جیسے کسی نے ان کی سرسبز کترنیں کاٹ کر ننھی منی سیاہ پہاڑیوں کے دامنوں پر ٹانک دی ہوں۔ کٹی پھٹی زمینیں اور سیاہی مائل چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں اس گاؤں کے فوراً بعد آنے والے موڑ سے شروع ہو جاتیں۔ اگلے موڑ کے بعد کھوڑ آ جاتا۔ تیل کے کنووں سے شہرت پانے والا گاؤں۔
کھوڑ کا قدیم گاؤں تو شاید سڑک سے پیچھے ہٹ کر کہیں تھا۔ شاید کا لفظ میں نے اس لیے کہہ دیا کہ میں وہاں کبھی گیا نہیں تھا۔ اسی سڑک پر آئل کمپنی کا کلب تھا۔ ساتھ ہی گھوم کر بازار کی طرف جاتی سڑک کے دوسری طرف افسروں کے بنگلے تھے۔ چھوٹے ملازمین کے کوارٹر ڈاکخانے کی چھوٹی سی عمارت کے عقب میں تھے۔ یہیں تک میرا آنا جانا رہا یا زیادہ سے زیادہ بازار تک چلا جاتا تھا۔ چند دکانوں پر مشتمل بازار بسوں کا اڈا بھی تھا۔
میرے بڑے بھائی کا سسرال اگرچہ اخلاص تھا جو پنڈی گھیب کے پہلو سے بل کھا کر نکلتے نالہ سیل کا پل پار کرتے ہی دائیں جانب آباد تھا مگر ان کی بارات یہیں کھوڑ آئی تھی۔ تب ان کے سسر ابھی ریٹائر نہیں ہوئے تھے اور کلب کے معاملات کی نگرانی کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ یہیں کلب کے ساتھ والے دو کمروں کے کوارٹر میں رہتے تھے۔ پوسٹ آفس والی عمارت کے سامنے والے میدان میں شامیانے لگا کر باراتیوں کے استقبال اور چائے پانی کا اہتمام کیا گیا تھا۔
تب نہیں، کچھ عرصہ بعد تب، جب کہ میں آٹھویں میں پڑھتا تھا اور گرمیوں کی چھٹیوں میں بھائی کے سسرال کھوڑ گیا تھا تو اٹک آئل کمپنی کے اس کلب کی دونوں عمارتیں دیکھی تھیں۔ موسم گرما کے لیے عمارت نئی تھی اور جدید طرز تعمیر رکھتی تھی۔ اس میں سوئمنگ پول تھا۔ بڑوں کے لیے الگ اور بچوں کے لیے الگ۔ وہیں بار تھا اور افسروں کی وقت گزاری کے لیے کچھ اور مشاغل کا سامان۔ گرمیوں میں بھائی کے سسر، جنہیں ہم چاچا میاں کہہ کر بلاتے تھے، یہیں ڈیوٹی دیتے تھے۔
گرم دوپہر میں چھوٹے سے کوارٹر میں گرمی سے جی گھبرایا تو میں باہر نکلا اور کلب کی اسی عمارت کی طرف چلا گیا تھا۔ اس روز سوئمنگ پول کے ارد گرد چھول داریاں بندھی ہوئی تھیں اور اندر سے عورتوں کے قہقہے چھلک چھلک کر باہر آرہے تھے۔ میں نے تجسس میں دو چھول داریوں کے درمیانی شگاف سے جھانک کر دیکھا تو ایک گوری کے ساتھ دو اور عورتوں کو سوئمنگ پول میں پانی اچھالتے ہوئے پایا۔ اتنے مختصر لباس میں، قبل ازیں میں نے کسی عورت کو نہیں دیکھا تھا۔ کسی گوری کو محض ایک چڈی اور مختصر سی انگیا میں پانی کے بیچ ٹانگیں چلاتے دیکھنا تو ایسا تھا کہ میں دیکھتا رہ گیا تھا۔ میں دیکھتا رہا یہاں تک کہ مجھے چاچا میاں نے پیچھے سے آ لیا تھا۔
چاچا میاں مجھے گردن سے پکڑے پکڑے اور منھ پر انگلی رکھ کر کوئی آواز نہ نکالنے کا اشارہ کرتے ہوئے چھول داریوں سے پرے لے گئے۔ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے انہوں نے میری گردن چھوڑ دی اور دونوں ہاتھوں سے کندھے تھامتے ہوئے اپنے سامنے کھڑا کر لیا تھا۔ میں ڈر رہا تھا مگر چاچا میاں کا چہرہ پر سکون رہا صرف اتنا کہا: ”بری بات“ اور کندھے چھوڑ دیے۔ مجھے ڈر کے بجائے شرمندگی نے آ لیا تھا صرف اتنا کہہ پایا ”کوارٹر میں بہت گرمی تھی“ اور سر جھکا لیا۔
”یہیں کھڑے رہو، میں ابھی آتا ہوں۔“
یہ چاچا میاں نے کہا تھا اور وہ کلب کی عمارت میں گم ہو گئے تھے۔ میں وہیں کھڑا رہا یوں جیسے شرم کی رسی سے میرے قدم زمین میں ٹھکے کسی نہ نظر آنے والے کھونٹے سے بندھ گئے تھے۔ کچھ دیر بعد چچا میاں عمارت سے باہر نکلے اور سیدھا میری طرف آئے۔ ان کے ہاتھ میں چابیوں کا ایک گچھا تھا۔ انہوں نے اس گچھے میں سے ایک چابی الگ سے دکھاتے ہوئے مجھے کہا:
”یہ کلب کی دوسری عمارت کے سامنے والے دروازے کی چابی ہے۔“
پہلے تو مجھے سمجھ نہ آئی کہ چاچا میاں مجھے وہ چابی کیوں دکھا رہے ہیں اور جب انہوں نے مجھے یہ بتا کر چابی تھمائی کہ دروازہ کھولتے ہی سامنے نظر آنے والے ہال میں جاکر میں آرام کر سکتا تھا کہ وہ ٹھنڈا تھا، تو مجھے یقین نہ آیا تھا کہ وہ مجھ پر اتنا مہربان تھے۔ جب چابیوں کا گچھا میں نے تھام لیا تو چاچا میاں نے ایک بار پھر واپس لے کر مجھے وہی چابی دکھائی جو پہلے دکھائی تھی اور تاکید کی:
”صرف یہ چابی۔ اور وہیں آرام کرنا کسی اور کمرے میں مت جانا، ٹھیک۔“
”جی، ٹھیک سامنے والے ہال میں۔“
اس بار چابیوں کا گچھا میں نے چابیوں کے کڑے سے نہیں، اسی خاص چابی سے تھاما تھا جو میرے استعمال میں آنے والی تھی اور وہاں سے کلب کی دوسری عمارت کی طرف چل دیا۔ میں نے دو تین قدم ہی لیے ہوں گے کہ مجھے اپنے عقب سے آواز سنائی دی:
”اسی ہال میں رہنا۔ پنکھے چلا کر سو جانا صوفے پر یا قالین پر ۔ ہو سکتا ہے میں ادھر آؤں۔“
”جی ٹھیک۔“
میں نے اچھا بچہ بن کر کہا:
”جاتے ہی سو جاؤں گا۔“
کلب کی سرمائی عمارت کا دروازہ کھولتے اور اندر داخل ہوتے ہی میں سو جانے کا وعدہ بھول گیا تھا۔
۔
دونوں عمارتوں کے لیے مخصوص سرسبز قطعات کے درمیان گتھی ہوئی جالی کی آہنی باڑ تھی اس لیے مجھے گھوم کر دوسری طرف سے جانا پڑا تھا۔ سامنے کا گیٹ بند تھا اور چاچا میاں کے مطابق اس کے اپنے کوارٹر کے عقبی حصے میں ایک چھوٹی سی گزر گاہ تھی جو اس کے استعمال میں رہا کرتی تھی، مجھے بھی وہیں سے جانا تھا۔ میں نے اس شاندار اور قدیم قلعہ نما عمارت کو پہلے ذرا فاصلے سے دیکھا تھا۔ سرخ اینٹوں سے بنی عمارت کے سامنے کی طرف پنج دری برآمدہ تھا، ہر در کے اوپر محراب تھی۔
برآمدے کی چھت، عمارت کے دوسرے حصے کی چھت سے نصف اونچائی پر جا کر ایک ڈھلوان بناتے ہوئے ختم ہو جاتی تھی۔ وہ دروازہ سامنے تھا جس کی چابی میں نے اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان دبا کر کڑے میں جھولتی دوسری چابیوں سے الگ کر رکھی تھی۔ چابی دروازے کے تالے میں لگائی تو دروازہ کھلتے ہی کلب کے اندر کی حیران کن وسعت مجھ پر چڑھ دوڑی تھی۔ اب اگر میں اسے ایک مدت کے بعد دیکھوں تو ممکن ہے مجھے وہ اتنی وسیع نہ لگے جتنی تب لگی تھی۔
اونچی چھت اور لمبی زنجیر سے لٹکتا انگنت قمقموں والا فانوس، اوپر تک اٹھی دیواروں پر ٹنگے بجلی کے پنکھے اور سامنے کی دیوار میں نصب انگیٹھی جس کی چمنی کو راہ دیتا ابھار اوپر چھت تک جا رہا تھا سب کچھ مل کر عمارت کے اس حصے کی وسعت کے احساس میں اور بھی اضافہ کر رہے تھے۔ یہ حیرت قدرے کم ہوئی تو تجسس مجھے ان تصاویر تک لے گیا جو لکڑی کے فریموں میں تھیں۔ فریم تعداد میں چار تھے۔ ان سارے فریموں میں کسی بہت بڑھیا کیمرے سے کھینچی گئی تیل کے کنووں کی تصویریں تھیں۔
تیل کے کنووں کو میں نے ان کھمبوں سے پہچانا تھا جو اس علاقے میں ہونے کے سبب میرے مشاہدے میں آتے رہے تھے۔ دو فریم سامنے کی دیوار پر انگیٹھی کے دونوں طرف اور دو ہی دائیں دیوار پر تھے۔ اس ہال میں داخل ہونے والے دروازے کی دیوار پر کوئی فریم نہ تھا کہ وہاں اس مقصد کے لیے جگہ نکالی ہی نہ جا سکتی تھی۔ دروازے کے دونوں طرف دو کھڑکیاں تھیں جن پر دبیز ریشمی پردے پڑے ہوئے تھے۔
چوتھی دیوار کے دائیں بائیں دو دروازے تھے ایک لکڑی کے کواڑوں والا جس پر سفید روغن کیا گیا تھا اور اس کے اوپر چھوٹی سی ”پول روم“ کی تختی نصب تھی۔ دوسرا صاف شفاف شیشے والا جس پر انگریزی میں وہی لفظ ”بار“ لکھا ہوا تھا جو میں نے دوسرے کلب کی اس کھڑکی پر لکھا ہوا دیکھا تھا جس کے پیچھے الماریوں میں خوب صورت بوتلیں بڑے سلیقے سے سجائی گئی تھیں۔ میں نے دونوں ہاتھ اس شیشیے والے دروازے پر رکھ دیے اور اندر جھانکنے لگا۔
کچھ بوتلیں بڑی تھیں اور کچھ چھوٹی۔ بوتلوں کی بناوٹ عام استعمال میں آنے والی بوتلوں سے مختلف تھی اور ان کے محلول کی رنگت یا شاید بوتلوں کی رنگت ایسی تھی کہ ایک قطار کی بوتلیں دوسری قطار کی بوتلوں سے مختلف لگتی تھیں۔ ایک طرف اونچے پیندے والے گلاس ترتیب سے رکھے ہوئے تھے اور ایک شیشے کی بالٹی نما برتن بھی جس میں لوہے کا چھوٹا سا چمٹا پڑا ہوا تھا۔
میرا تجسس حد سے بڑھا ہوا تھا۔ میں نے دروازہ کھول کر اندر جانا چاہا تو اندازہ ہوا کہ اسے تالا لگا ہوا تھا؛ شیشے کے دروازے میں نصب ایک چھوٹا سا تالا۔ میں لگ بھگ بھاگ کر اس صوفے کی طرف گیا تھا جس پر آتے ہوئے چابیوں والا گچھا پھینکا تھا۔ سب سے چھوٹی چابی فوراً نظر آ گئی۔ میں نے اسے شیشے والے دروازے کے تالے میں لگا کو گھمایا تو تالا کھٹک کر کے کھل گیا۔
اس کھٹکے سے میرے اندر کا کھٹکا بھی جاگ گیا تھا۔ ایسے میں چاچا میاں آ گیا تو ؟ میں مڑا اور اس دروازے کو چٹخنی لگا دی جس سے وہ اندر آ سکتا تھا۔ اگرچہ چاچا میاں کے آنے کا خوف پوری طرح زائل نہ ہوا تھا مگر اتنا اطمینان تھا کہ ان کے دروازہ کھٹکھٹانے پر میں قدرے سنبھل سکتا تھا۔ یہ سوچ کر میں پھر بار میں داخل ہو گیا۔ بوتلیں سیل بند تھیں۔ میں نے کئی بوتلوں کو الٹا کر اور ان کے بند دہانے جھٹکے دے دے کر ہتھیلی سے ٹکرائے کہ شاید کچھ بوندیں ٹپک پڑیں اور ان کا ذائقہ چکھ سکوں مگر ناکام رہا۔ یہاں سے مایوس ہوا تو میں نے بار کے دوسری طرف کھلنے والے ایک اور شیشے کے دروازے سے جھانکا۔ اس طرف بھی ایک کمرہ تھا۔ یقیناً یہ وہی کمرہ ہو گا جس کا بند چوبی دروازہ میں نے بار میں داخل ہونے سے پہلے دیکھا تھا۔
میں شیشے کے دروازے سے دیکھ سکتا تھا کہ کمرے کے وسط میں ایک بہت بڑا میز پڑا ہوا تھا۔ اس میز پر سبز کپڑا مڑھا ہوا تھا۔ میں اندازہ کر سکتا تھا کہ یہ کمرہ ہال کے مقابلے میں بہت چھوٹا اور قدرے تاریک تھا۔ بے دہانی میں میرے ہاتھوں کا بوجھ شیشے والے دروازے پر بڑھا تو دروازہ ایک دم کھل گیا۔ میں لڑکھڑاتا اندر میز تک چلا گیا اور دونوں ہاتھ اس کے کناروں پر ٹکا دیے جو میز کے وسطی حصے کے مقابلے میں ابھر کر چاروں طرف فریم سا بنا رہے تھے۔
میز کے وسط میں ایک اور فریم تھا۔ کسی دھات کا بنا ہوا تکونی فریم جس میں مختلف رنگوں کے بال ایک خاص ترتیب میں رکھے ہوئے تھے۔ اوپر والے کونے میں ایک، پھر دو ، اسی طرح اگلی تین قطاروں میں بالترتیب تین، چار اور پانچ۔ یوں کل ملا کر پندرہ بال تھے۔ اس سے پہلے کہ میں میز کے وسط سے کوئی بال اٹھاتا اور ان سوراخوں کی طرف لڑھکاتا جو میز کے چاروں کونوں کے علاوہ آدھے میں دائیں بائیں فریم کے ساتھ تھے میری نظر سامنے والی دیوار پر پڑی۔
دیوار پر نہیں، اس دیوار پر ٹنگے تین فریموں پر ۔
فریموں پر بھی نہیں ان میں موجود تصویروں پر ۔
نہیں، تصویروں پر نہیں وہاں سے جھانکتی تین جوان لڑکیوں پر ۔
لڑکیاں جو الف ننگی تھیں۔
نیم تاریک کمرہ۔ اس کے وسط میں سبز کپڑا مڑھا ہوا بڑا سا میز۔
اس میز کے دوسری طرف کھڑا ہوا میں۔ اور تین بے لباس لڑکیاں، وہ مجھے گھور رہی تھیں۔
ان کے بدنوں پر اتنا لباس بھی نہ تھا جتنا سوئمنگ پول میں نہاتی عورتوں کے بدنوں پر میں دیکھ آیا تھا۔ ایک سنسنی تھی جو میرے وجود میں تیر گئی تھی۔ میں نے بھاگ کر شیشے کے دونوں دروازے پار کیے اور وہ چٹخنی کھولی جو کچھ دیر پہلے لگا کر گیا تھا۔ پھر وہ دروازہ کھولا جس سے کچھ دیر پہلے میں اندر آیا تھا۔ میں وہاں سے دور تک دیکھ سکتا تھا۔ اس راستے کو بھی جہاں سے میں کلب کے اس حصے میں داخل ہوا تھا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ میں نے لمبا سانس لیا۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر چھاتی کو اوپر نیچے دبایا کہ دل کی تیز دھڑکن معمول پر آ جائے اور قمیض کا دامن الٹا کر اس پسینے کو پوچھا جو ماتھے اور کنپٹیوں سے بہتا تھوڑی سے ٹپکنے لگا تھا۔
۔
باہر کوئی نہ تھا اور اندر ایک نیم تاریک کمرے میں تین جوان لڑکیاں تھیں۔
میں نے چٹخنی ایک بار پھر چڑھا دی تھی۔ اس بار کمرے میں واپس آیا تو میری نظر میز پر نہیں اس بلب پر پڑی تھی میز کے عین وسط میں چھت سے یوں لٹکایا گیا تھا کہ وہ نیچے تک آ گیا تھا۔ میں نے اس بلب کا سوئچ فوراً تلاش کر لیا تھا۔ بلب روشن ہوتے ہی ساری لڑکیاں روشنی میں نہا گئی تھیں۔ اب میں ایک ایک فریم کے پاس جا رہا تھا اور تب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بے لباس ضرور تھیں ان میں سے کوئی پوری طرح ننگی نہ تھی۔ شاید یہی سبب رہا ہو گا کہ بدن سے وہ ساری سنسنی معدوم ہو گئی تھی جو بلب روشن کرنے اور انہیں قریب سے دیکھنے سے پہلے تھی؛نیم تاریکی کے سبب اور شاید ایک فاصلے کے سبب۔ اب میں ہر ایک تصویر کے پاس کھڑا دیکھ رہا تھا اور کسی ایسے مصور کے فن پاروں کو دلچسپی سے ایک اور رخ سے دینے پر مجبور تھا جس کے دستخط تو ہر پینٹنگ پر موجود تھے مگر میں انہیں ڈھنگ سے پڑھنا ممکن نہیں تھا۔
میں دیکھ رہا تھا کہ آئل کلر سے کینوس پر بنائی گئی ہر تصویر میں مصور نے کچھ ایسا اعجاز دکھایا تھا کہ وہ سب حقیقی سے زیادہ حقیقی لگتی تھیں اور شاید نہیں بھی۔ کوئی پینٹنگ ایک ہی وقت میں حقیقی بھی ہو سکتی تھی اور غیر حقیقی بھی اس کا اندازہ مجھے پہلی بار ہو رہا تھا۔ بہت ملائم ہاتھ سے برش چلاتے ہوئے اور بالوں، آنکھوں کے کناروں پر بنتی چنٹوں، ہونٹوں پر عموداً کھچی ہوئی لکیروں، گردن کی ابھری ہوئی رگوں کے درمیان حلقوم کے ابھار، چھاتیوں کے بھرواں گداز، ناف کے اندر بنتے بھنور اور رانوں کے بیچ کے ایک ایک بال کو الگ دکھا دینے کا قرینہ ایسا تھا کہ میں وہ تصویریں حیرت سے دیکھنے پر مجبور تھا۔ اگرچہ یہ سب کچھ ہر تصویر میں ایک سی ریاضت کی عطا تھا مگر تینوں تصویروں میں کچھ تھا جو انہیں الگ اور مختلف کر دیتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ تھا جس نے مجھے چونکایا اور جس کے سبب ہر تصویر حقیقی نہ رہی تھی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلی تصویر کی لڑکی دیکھتے ہی مجھے ”ہری تھی من بھری تھی، راجہ جی کے باغ میں، دو شالا اوڑھے کھڑی تھی“ والی پہیلی یاد آ گئی تھی۔ ہم اس پہیلی کو ”مکئی“ کہہ کر فوراً بوجھ لیا کرتے تھے۔ اس پہیلی کے یہاں یاد آنے کا سبب یہ نہیں ہے کہ اس لڑکی کی رنگت مکئی کے دانوں جیسی تھی۔ وہ تو تھی مگر واقعہ یہ ہے کہ اس کے بال بھی ویسے ہی سنہرے تھے جیسے مکئی کے بھٹے کے سبز دوشالے کے اندر سے نکلتے ہوئے بال، تاہم یہاں لڑکی نے ان کی دو چٹیائیں بنا کر کندھے سے آگے ڈال لیا تھا۔
اس نے گلے میں جو مالا اور کانوں میں بالیاں پہنی ہوئی تھی ان میں موتیوں کی جگہ مکئی کے دانے تھے۔ دونوں چٹائیں جہاں تک گندھی ہوئی تھیں وہاں مکئی کے سبز غلاف کے ٹکڑے یوں بل دے کر باندھ لیے گئے تھے جیسے گندھی ہوئی چٹیا کو ربن سے باندھا گیا ہو۔ اس اہتمام سے دونوں چوچیوں کو ایک آڑ میسر آ گئی تھی۔ غور کرنے پر ناف کا بھنور مکئی کے دانے جیسا لگتا تھا۔ باقی کا سارا پیٹ تختی جیسا ہموار اور صاف جلد لیے ہوئے تھا۔
ناف کے نیچے عین ٹانگوں کے بیچ مکئی کا چھلا ہوا بھٹا پڑا تھا جس کے ایک خاص ترتیب میں دانوں کو دکھانے کے لیے بہت باریک کام کیا گیا تھا۔ مکئی کے دانوں کی ہر دو قطاروں کے درمیان سے سنہری ریشے نکل کر بہم ہوتے تھے یوں جیسے ان کی چٹیا گوندھ لی گئی ہو۔ انہی سنہری ریشوں میں بھٹے کے عقب سے نمودار ہونے والے ہم رنگ بال بھی گندھ گئے تھے۔
دوسری تصویر کی لڑکی گھنگھریالے بالوں، موٹے ہونٹوں اور حد درجہ سیاہ رنگ جلد رکھنے والی تھا۔ سیاہ اور چمکدار جلد۔ اگر آپ نے سیاہ انگور دیکھ رکھے ہیں، رس سے بھرے ہوئے، اتنے کہ ان کی تنی ہوئی جلد میں بھی چمک آ گئی ہو تو یوں ہے کہ مجھے اس تصویر کو دیکھ کر انہی انگوروں کا خیال آیا تھا تاہم تصویر میں انگور کہیں نہیں تھے۔ اس نے گھنگھریالے بالوں کو اوپر لے جاکر یوں باندھا ہوا تھا کہ اس پر کسی پرندے کے گھونسلے کا گمان ہوتا تھا۔
مصور نے اسی گھونسلے میں ایک چھوٹا سا انڈا بھی رکھ دیا تھا۔ اپنے سفید رنگ کی وجہ سے انڈا بالوں میں بہت نمایاں نظر آتا تھا۔ دونوں کانوں میں کسی بالی یا بندے کی جگہ سفید دھاگے میں پروئے ہوئے دو انڈوں نے لے لی تھی۔ دو ہی انڈوں کے چھلکے چوچیوں پر یوں چپکے ہوئے تھے جیسے اوپر گھونسلے سے گر کر ٹوٹے تھے۔ انہی ٹوٹے ہوئے انڈوں سے نکلا بے رنگ اور زردی مائل لعاب پیٹ پر بہتا دکھایا گیا تھا۔ زیر ناف گھنگھریالے بال بھی گھونسلا بنائے ہوئے تھے جس میں ایک انڈا یوں دکھایا گیا تھا جیسے کوئی پرندہ اسے سیتے سیتے کچھ وقت کے لیے چھوڑ کر ابھی اڑا تھا۔
وہ کام جو پہلی تصویر میں بھٹے اور مکئی کے دانوں سے لیا گیا تھا اور دوسری تصویر میں انڈوں سے، وہی کام تیسری تصویر میں رنگوں سے لے لیا گیا تھا۔ یوں تو پوری تصویر میں رنگوں کا استعمال فن کارانہ تھا مگر وہاں جہاں سے لڑکی عریاں اور یہ پینٹنگ فحش ہو سکتی تھی وہاں رنگوں کی کئی تہیں چڑھا کر ایک اور جہت کا التباس پیدا کر لیا گیا تھا۔ لڑکی کے رنگ کو گندم گوں کہا جاسکتا تھا تاہم اس میں قدرے سبز اور سنہری ہو جانے والے سیب کی سی رنگت بھی جھلک دے رہی تھی۔
ان تینوں جدا جدا نقش رکھنے والی دلکش لڑکیوں کی عمر ایک سی تھی مگر آخری تصویر والی لڑکی کے کٹے ہوئے بال اسے زیادہ جواں دکھا رہے تھے۔ بال سیدھے تھے اور بہ مشکل کاندھوں کو چھو پا رہے تھے۔ کندھوں سے نیچے تصویر میں کوئی اور آڑ میسر نہیں کی گئی تھی سوائے جلد پر چڑھائی گئی رنگوں کی کئی تہوں کے۔ دونوں بغلوں کی سیدھ میں سامنے اب اگر کچھ نمایاں تھا تو وہ کچھ اور نہیں دو سیب تھے ؛ پہلو بہ پہلو وہاں رکھے ہوئے دو سیب جیسے وہ اس لڑکی کا سینہ نہیں تھا ایک بڑی رکابی تھی جس میں انہیں رکھ دیا گیا تھا۔ دونوں سیبوں کی ڈنڈیاں جہاں سے اٹھی ہوئی تھیں وہاں دائرے میں گہرے رنگ استعمال ہوئے تھے۔ ناف کے نیچے سیب نہیں، گندم کے دانے کو بڑا کر کے پینٹ کیا گیا تھا؛ گہرے رنگوں کی تہیں چڑھا کر ، اور یہ رنگ ہی تھے جو اس تصویر کا حجاب تھے اور نہیں بھی۔
جب مجھے لگا کہ باہر کسی نے دروازے پر دستک دی تھی تو میں پہلی دو میں نہیں اسی آخری تصویر میں گم تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اسی روز شام کو وہاں سے چلا آیا تھا مگر اب لگتا ہے جیسے میں وہیں کہیں رہ گیا تھا۔ وقت لمحہ لمحہ ہو کر گزرتا رہا ہے۔ کہنے کو سارا منظر بدل گیا ہے مگر واقعہ یہ ہے اب جہاں میں ہوں وہ مقام اس تصویر کے اندر ہی کہیں پڑتا ہے باہر نہیں ؛باہر اگر کچھ ہے تو بس ایک التباس ہے، دھوکا ہے۔
۔


