کتاب تبصرہ: آنگن از خدیجہ مستور


خدیجہ مستور کے ناول کی کہانی کوئی تاریخی کہانی نہیں، یہ ہر دور کی کہانی ہے۔ یہ آج کی کہانی ہے۔ اسے پڑھتے آپ کو لگے گا یہ آپ کے شہر آپ کی آج کی ریاست کی کہانی ہے۔ یہ دو نظریوں میں جینے اور ان کے ٹکراؤ کی زد میں آ کر ٹوٹ بکھرنے کی کہانی ہے۔ یہ شراب کی تلاش میں نکلتے اور اس کی چاہ میں مٹ جانے کی کہانی ہے۔

اس ناول کا ہر کرداروں علامتی معانی رکھتا ہے۔

عالیہ ایک ایسا کردار ہے جو حقائق اور افسانے کے بیچ میں جکڑی ہوئی ہے جسے زندگی کی حقیقتیں چیخ چیخ کر زندگی کے ماتم سمجھاتی ہیں مگر کتابوں کی دنیا اندر ہی اندر اس کی شخصیت کو دہرا کرتے چلے جاتی ہیں۔ عالیہ جو ہمیشہ ایک نظریے کے خلاف کھڑی رہ کر زندگی کے حقائق کی اہمیت اجاگر کرتی ہے جو زندگی کی بنیادی ضروریات پر نظریے کے داعی جمیل کو ٹھکرا دیتی ہے اور دل ہی دل میں اسی نظریے کی وجہ سے باپ اور بڑے چچا کو قصور وار سمجھتی ہے مگر آخر میں کار کوٹھی اور پیسے کے مالک ڈاکٹر کو بھی ٹھکرا دیتی ہے چونکہ اس میں اس نظریے کو ڈھونڈنے سے قاصر رہتی ہے جس کے خلاف اس کی عمر بھر کی تمام کہانی گزری تھی۔

عالیہ ایک ملک کی دو حصوں میں تقسیم کا ایک استعارہ ہے جو دو مختلف نظریات میں پلتے پلتے کسی ایک طرف کی بھی نہیں رہتی جو خود اپنے کردار اور شخصیت کو بالآخر دو حصوں میں بانٹ بیٹھی ہے۔ ایک ریاست کے دو حصوں میزن بنٹ جانے کی طرح وہ بھی دو متضاد حصوں میں ڈھل چکی تھی وہ حصے جو ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے رہتے ہیں۔

عالیہ جو کبھی خود کر سمجھ نہیں پاتی جو اس قدر حساس ہے کہ صفدر ہو کہ اسرار میاں، کریمن بوا ہو کہ شکیل سب کی تکلیف اپنے اندر محسوس کرتی ہے مگر یہ سمجھ نہیں پاتی کہ باپ اور بڑے چچا کی طرح وہ بنیادی فنا کے نظریے کی قائل ہے جس میں اپنا آپ، اپنا خاندان اور اپنی زندگی سب ڈبو دیے جاتے ہیں۔

آنگن 940 1 کی نہیں یہ آج کی بھی کہانی ہے۔ یہ ہر اس دور کی کہانی ہے جب جب بنی نوع انسان کو نظریے کے خوبصورت خواب دکھا کر اسے اپنے مطلب کے لئے استعمال کیا گیا۔ کس طرح ہر معاشرے میں ہر وقت مختلف نظریات ایک دوسرے کے خلاف دست و گریباں رہتے ہیں اور اور کس طرح انسانوں کی زندگیوں کی قیمت پر نظریے سواری کرتے ہیں

یہ ہر اس دور کی کہانی ہے جب جب آزادی کا نعرہ لگا کر میٹھے خوابوں کی رنگ برنگے گولیاں بیچی گئیں جن سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ یہ ناول اسی نارسائی کی داستان ہے جو ہمیں تقسیم برصغیر کے ہر بڑے ناول میں نظر آتی ہے پھر چاہے وہ قدرت اللہ شہاب کا ناخدا ہو، خدیجہ مستور کا آنگن، منٹو کا نیا دور یا قرۃ العین حیدر کا اندھیری رات کے مسافر۔

نظریے کے خوبصورت سفر پر نکلنے والے بہت دیر بعد سمجھ پاتے ہیں کہ کس طرح وہ سراب کی تلاش میں دربدر کیے گئے ہیں۔ آپ کو آنگن ”ہر اس آزادی کی کہانی لگے گا جس کا نعرہ آپ نے زندگی میں سن رکھا ہے چاہے وہ“ حقیقی آزادی ”کی صورت ہو یا“ پاکستان زندہ باد ”کی شکل میں، ووٹ کو عزت دو کی حالت میں یا“ سب سے پہلے پاکستان ”کی صورت۔

انسان بڑی مشکل سے سمجھ پاتا ہے کہ نظریہ اس دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ یہ انسانوں کو ریوڑ میں بدل کر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی لائحہ عملی ہے اور شاید اسی لئے افراد کو اس کی رونمائی ایک اعلی خصوصیت کے طور پر کروائی جاتی ہے اور ان سے یہ چھپایا جاتا ہے کہ دراصل یہ ان کے گلے کا پھندا ہے۔

ایک خاندان جس کے آدھے افراد نظریے کو جیتے ہوں جبکہ بقیہ جو زندگی جینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نظریے کو جینے والے گھر کے باقی افراد کو سمجھا نہیں پاتے کہ آخر اس نظریے کی تکمیل سے، ہزار قربانیوں کے بعد ، تاریخ کا پنا بدل دینے سے ان کی زندگیوں میں کون سی خوبصورتی شامل ہو گی۔

یوول نوح حراری کے مطابق آج کا انسان آج تک صرف اس لئے زندہ ہے کہ وہ مستقبل کے حسین وعدوں پر ایمان رکھتا ہے۔ نظریہ بھی مستقبل کا ایک حسین وعدہ ہی ہے جو اپنے ساتھ اصل میں بہار لا سکے گا کہ نہیں اس کا جواب کوئی نہیں جانتا۔

بڑے چچا جن کو آزادی کے بعد دکان چلانے کے لئے بیس تیس ہزار کے سرمایہ کی بجائے صرف زندگی کی قیمت پر تین ہزار کی امداد ملتی ہے۔ نہ ان کے گھر کی بجلی روشن ہوتی ہے نہ گھر میں ٹھاٹ باٹ واپس آ پاتے ہیں۔ نظریہ جیت جاتا ہے مگر انسان ہار جاتے ہیں۔

بڑی چچی اور اماں نظریات کے تیز رفتار طوفانی سمندر میں حقائق کے اونچے لمبے گلیشیر کی مانند کھڑی ہے جو نظریے کا جہاز ڈبو تو نہیں سکتا مگر اسے زخمی کرنے سے کسی طور باز نہیں آتا۔ جن کی تمام تر ریاست، تمام تر حکومت اپنے گھر اور خاندان کی حد تک ہے اور جب ان کی ریاست بھوکی بیٹھی ہو، ان کے گھر کے افراد کے پاس پہننے کو کپڑے نہ ہوں او ر ان کے دالان کے پردے جگہ جگہ سے پھٹ چکے ہوں وہ برٹش انڈیا کی سیاست کو سر میں ماریں۔ ان کی گھر کی ریاست بھوک کے ہاتھوں اجڑ رہی ہو تو ان کو کسی بھی سیاسی لیڈر کے وعدوں اور خوابوں میں کوئی رنگ دکھائی دینے سے قاصر رہے گا۔

تہمینہ باجی اور نجمہ پھوپھی ایک ہی خاندان کی دو مختلف سمتیں ایک اس قدر دبائی گئی کہ اپنی ہی ماں سے بات نہ منوا سکے اور دوسری اس قدر بآواز کہ اس کہ آواز دبانے کی ہمت کوئی نہ کر سکے۔ ایک جسے مانگنے سے مرنا آسان لگے دوسری جسے اپنے لئے کسی سے کچھ بھی مانگنا نہ پڑے جو خود اپنے لئے جی سکے۔ یہ اور بات کہ انجام دونوں کے ہی خواب ناک نہ نکلے۔ انجام دونوں حالتوں کا کم و بیش ایک سا نکلا۔ نجمہ پھوپھی اس بات میں شاندار نکلیں کہ ہاریں بھی تو موت کی دہلیز تک نہ پہنچیں، پھر سے کھڑے ہونے کے ان کے پاس ہزار مواقع!

آپ دائیں بازوں سے تعلق رکھتے ہوں کہ بائیں سے، سیاستدان کے ساتھ ہوں یا اسٹیبلشمنٹ کے، اس ناول میں آپ کو ایک آئینہ ضرور نظر آئے گا جس میں آپ کو اپنی صورت میں ایک قربانی کا جانور دکھائی دے گا۔ آپ کا نعرہ جو بھی ہو انجام آپ کا وہی ہے جو بڑے چچا، جمیل بھیا اور عالیہ کا ہوا۔

عالیہ کے ماموں جیسے لوگ بیوروکریسی کی صورت نظام کی نعمتوں سے لطف اٹھاتے رہیں گے جو ہر امید اور خواب کو روند کر اپنے مفاد کو معتبر ترین سمجھتے محفوظ کشتی پر سوار رہتے ہیں۔ جبکہ ذہین افراد کے لئے نظریہ ایک تیر بہدف نسخہ ثابت ہوتا رہے گا جو ان کے دماغوں کا صحیح اور مفید استعمال بھی کرے گا اور وقت پڑنے پر ان سے نجات بھی دلوائے گا۔

ناول کا انجام بتاتا ہے کہ نظریہ پر چلنے والے افراد کا آخری انجام ہار ہے

جسے جان قربان کرنے کا شغف لگا ہو اس کی جان قربانی کے کام ہی آتی ہے چاہے وہ قربانی اللہ کی راہ میں ہو یا کسی بت، کسی سیاسی پارٹی کے لئے، زندگی جینے میں اس کا کوئی بھی حصہ نہیں ہوتا۔ پھر ہر قربانی کے جذبے کے حامل فرد کو کہانی کے آخر میں سننا پڑتا ہے کہ

”میں نے آپ کو ہرا دیا بجیا۔“

ایک جاہل چھمی بھی ایک پڑھی لکھی ذہین عالیہ کو ہرانے کے قابل ہو جاتی ہے اگر عالیہ بھی کسی نظریے کا شکار ہو چکی ہو تو۔

میں سمجھ نہیں پاتی کہ یہ ناول نظریے کا جشن مناتا ہے کہ اس کا نوحہ پڑتا ہے مگر مجھے اس میں سوائے زندگی کے ماتم کے اور کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا۔ ایک زندگی جو اپنی ضروریات اور نظریات کے بیچ میں پس کر رہ جاتی ہے اور ایک نظریہ جو ہمیشہ ناآسودہ رہتا ہے، ایک خواب جو کبھی پورا نہیں ہو پاتا۔ زندگی کس کس اور اپنی تکمیل کے لئے لپکتی ہے مگر انجام کار ہمیشہ آدھی ادھوری رہ جاتی ہے۔

”عالیہ کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ بہت دور سے ریتلے میدانوں میں سے چل کر آ رہی ہے۔ تھکن سے نڈھال، جنم جنم کی پیاسی“ ۔

خدیجہ مستور نے نہایت عمدگی سے ایک ایسے منظرنامے کو اپنے ناول میں پرویا ہے جو کبھی بھی پرانا نہیں ہوتا، حالات و واقعات اور کرداروں کے نام چاہے مختلف ہوں مگر منظرنامہ ہمیشہ ایک سا ہو گا۔

Facebook Comments HS