شمالی سندھ میں ڈکیتوں کا راج


سرزمین سندھ جسے وادیٔ مہران بھی کہا جاتا ہے آج کل ڈاکوؤں کے گھیرے میں ہے، کراچی سے لے کر کشمور تک ہر طرف سے ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور خونریزی کی خبریں آ رہی ہیں۔ سندھ میں کوئی ایسا سورج نہیں نکلتا جس دن ڈکیتی، اغوا اور لوٹ مار کے واقعے پیش نہ آتے ہوں، سندھ سے چھپنے والی روزنامہ اخباریں ایسی خبروں اور واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ شمال سندھ کے حالات تو بد سے بدتر ہو گئے ہیں جہاں پر لوگ رات تو رات  دن کو بھی محفوظ نہیں۔

یہاں کی شاہراہیں اب عام آدمیوں کے لیے مکمل طور پر غیر محفوظ بن چکی ہیں۔ یہ سڑکیں اب ڈاکوؤں کے بچھائے ہوئے جال مانند محسوس ہوتی ہیں۔ حال ہی میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ ڈکیتوں نے سوا کسی ڈر اور خوف کے سڑکوں پر جانے والی گاڑیوں کو روک کر نہ صرف آرام سے لوٹ مار کی ہے بلکہ کئی بندوں کو بھی اغوا کیا ہے۔

اتر سندھ یعنی گھوٹکی، سکھر، شکارپور، کندھ کوٹ کشمور کے اضلاع میں تو ڈکیتوں نے ظلم کے وہ داستان رقم کیے ہیں جن کو سن کو کوئی بھی انسان لرز سکتا ہے۔ کندھ کوٹ کشمور ضلعے میں تو ڈاکو بنا لگام اور روک ٹوک کے دن دھاڑے سڑکوں پر منظم طریقے سے کارروائیاں کرنے لگے ہیں اور اس علاقے سے تقریباً تیس سے زائد آدمی بچوں سمیت تاوان کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ اس ضلعے میں ڈاکوؤں کی دیدہ دلیری دیکھنے جیسی ہے، ایک دن وہ کسی بندے، کسی راہ جاتے مسافر کو اغوا کرلیتے ہیں اور دوسرے دن ان کو زنجیروں میں باندھ کر ان کو مار پیٹ کر وڈیو بنا کر ان کی وڈیو فیس بک پر ڈال دیتے ہیں اور تاوان مانگتے ہیں۔

گزشتہ اتوار والے دن پر بھی ایسی ایک وڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں ڈاکوؤں نے نئے بننے والے کندھ کوٹ گھوٹکی پل پر کام کرنے والے تین مزدوروں کی وڈیو وائرل کی جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈکیتوں نے ان محنت کشوں کے ہاتھ پاؤں زنجیروں سے باندھ ڈالے ہیں اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ یہ محنت کش جن کے نام مظہر، شفیق اور جمشید ہیں کچھ دن پہلے دریائے سندھ پر بننے والے اس نئے پل پر کام کرتے اغوا کیے گئے تھے اور تاحال پولیس ان کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی ہے۔

ڈکیتوں نے اس طرح کی وڈیو پہلی بار خود ہی بنا کر وائرل نہیں کی بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار وہ اس طرح کی وڈیو بنا کر خود ہی وائرل کرتے رہے ہیں تاکہ مغویوں کے ورثا اپنے قریبی رشتے داروں پر ہوتے ہوئے یہ مظالم دیکھ کر ان کو چھڑوانے کے لیے تاوان کی رقم ادا کریں۔ اس وقت کندھ کوٹ کشمور ضلعے میں عرفان سموں جو کہ ڈاکوؤں سے مقابلوں اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی میں بہت مشہور بھی ہے مقرر ہے جو ڈکیتوں سے نمٹنے اور مغویوں کو آزاد کرانے کے لیے سر توڑ کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن اس علاقے میں ڈاکوؤں کے اوپر وڈیروں اور سرداروں کا ہاتھ بھی ان ڈکیتوں کی حفاظت کا ضامن بنا ہوا ہے۔ جس کا اعتراف ایک دو ماہ پہلے اس وقت کے ایس ایس پی امجد شیخ نے بھی کیا تھا۔

سندھ کے ان اضلاع میں اغوا برائے تاوان اب باقاعدہ ان علاقے باسیوں کے لیے درد سر بن گیا ہے، اور یہ صرف اس علاقے باسیوں کے لیے ہی کیوں پنجاب اور دوسرے صوبوں کے لوگ بھی یہاں بلا کر اغوا کیے جاتے ہیں۔ ان ڈکیتوں کا باقاعدہ ایک نیٹ ورک بنا ہوا ہے اور وہ مختلف طریقوں سے وارداتیں کر کے لوگ اغوا کرتے ہیں۔ کبھی وہ کسی عورت کے آواز کے ذریعے کسی مرد کو عشق کے جھوٹے ناٹک میں پھنسا کر اغوا کر لیتے ہیں تو کبھی کسی کو لڑاکو مرغے اور گائے بھینس دینے کا دلاسا دے کر اپنے پاس بلا کر اسے اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں۔

ان اغوا کاروں کے انداز اپنے اپنے ہیں اور نرالے بھی۔ دو تین سال پہلے تو کشمور کندھ کوٹ میں سندھ کے لوک فنکار جگر جلال کو محفل موسیقی میں شرکت کی دعوت دے کر اغوا کیا تھا، اور کچھ ماہ پہلے ڈاکوؤں نے شکار پور کے ایک نئے شاعر کو شعر سننے کے بہانے بلا کر اپنا مغوی بنایا۔ مطلب تو ان کے انداز نئے اور نرالے ہیں۔ کچھ دن پہلے کی سندھی اخبار پنھنجی اخبار کی یہ خبر بھی پڑھنے لائق ہے جس میں شکار پور میں ڈکیت عورت کے گروہ کا سرگرم ہونے کی بات سامنے آئی ہے، اس گروہ نے اس اخبار کے رپورٹر اور کیمرا مین کو نہ صرف یرغمال بنایا بلکہ ان سے لوٹ مار بھی کی، اس طرح کا ایک اور واقعی بھی بیان کرتا چلوں جس میں ڈاکوؤں نے کرم پور کے قریب ایک مسافر کوچ کو روک کر ان کے مسافروں سے لوٹ مار کی اور بعد میں آسانی سے فرار ہو گئے۔

شمال سندھ جسے عام طور پر اتر سندھ کہا جاتا ہے وہاں پر بچوں کی اغوا کے بہی بہت سارے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ اغوا ہونے والا کندھ کوٹ کا چار سال بچہ امرت کمار تو پولیس نے بازیاب کروا لیا ہے، لیکن اس علاقے سے اغوا ہونے والے بہت سارے بچے اپنے والدین سے ملنے کے لیے منتظر ہیں اور ان کے والدین روتے ہوئے اپنے معصوم بچوں کا رستہ دیکھ رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک بچہ کندھ کوٹ کا رہنے والا سات سالوں کا فرحان سومرو ہے جس کو کچھ دن پہلے اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جھاڑیوں میں وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر بھی رکھا گیا تھا اور تاوان کی رقم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بازیاب ہونے والے بچے امرت کمار کی بھی بالکل اسی طرح کی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر رکھی گئی تھی جس کے بعد حکومت فل ایکشن میں آئی اور آخرکار اس بچے کو بازیاب کرایا گیا۔ اس وقت جیکب آباد اور کشمور کندھ کوٹ اضلاع میں موجود ہندو برادری سخت بے چینی میں مبتلا ہے، چن چن کر ہندو برادری کے بندوں اور بچوں اغوا کیا جا رہا ہے کیوں کہ ان کا تعلق بیوپار سے ہے تو ڈاکوؤں کے لیے اس برادری کے لوگوں کو اغوا کرنا سونی چڑیا پھنسانے کے مترادف ہے۔ اور یہ ہی وجہ ہے کہ عید والے دن کشمور اور جیکب آباد اضلاع کے تقریباً 90 خاندان سندھ چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے اور ان کے جانے کا بڑا سبب بدامنی ہی تھی۔ ان علاقوں میں موجود ہندو آبادی اب امن امان کی عدم موجودگی سے اپنی دھرتی چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

سکھر کے سنگرار والے علاقے سے اغوا ہونے والی ہندو بچی پریا کماری بھی ابھی تک ڈاکوؤں کے چنگل میں ہے، اس کو اگست 2021 میں اغوا کیا گیا تھا اور اب تک وہ ظالموں کے قید میں ہے، اس معصوم بچی کی والدہ کی روتی ہوئی وڈیو کچھ دن پھلے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تہی جس کے بعد یہاں کے ایس ایس پی نے اس سے مل کر بچی کی بازیابی کی خاطری تو کرائی تہی لیکن وہ بچاری تا حال آزاد کروائی نہیں گئی۔

پریا کماری، فرحان سومرو جیسے نہ جانے کتنے معصوم اور مظہر، شفیق اور جمشید جیسے نہ جانے کتنے محنت کش اور اپنے اندھیرے گھر کا چراغ روشن کرنے والے اس وقت ان ڈاکوؤں کے قید میں ہیں اور اپنی آزادی کے منتظر ہیں۔ ان اضلاع میں لگے ہوئے پولیس افسران اپنی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ان مغویوں کو چھڑایا جائے لیکن کہیں پر تو کھوٹ ہے جو یہ باندی اب تک آزاد نہیں ہو سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments