عوامی خدمت اور سماجی تحفظ کا ادارہ پاکستان بیت المال
تحریر: عامر فدا پراچہ
(منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال)
پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے مجھے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے لگ بھگ ایک سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی ٹیم کا بھی شکر گزار ہوں جن کی بدولت محدود وسائل کے باوجود غریب اور نادار افراد کو سماجی خدمات کی فراہمی کے لئے گزشتہ ایک سال میں ہم نے بہت سے اہداف مکمل کیے اور کم بجٹ کے باوجود شیلٹر ہومز سمیت کسی پروگرام کو بھی بند نہیں کیا۔ میں جناب آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں جنھوں نے ادارے کے مختلف پروگراموں کی افادیت کے پیش نظر ہماری گزارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ سالوں کی نسبت پاکستان بیت المال کے سالانہ بجٹ میں علاج معالجہ اور سویٹ ہومز کے یتیم بچوں کے لئے ماضی کی نسبت معقول اضافہ کیا۔
اس ادارے کا قیام سال 1992 میں عمل میں لایا گیا۔ پاکستان بیت المال ہیڈ کوارٹر کے علاوہ ادارے کے سات علاقائی اور صوبائی دفاتر جبکہ ملک کے تمام اضلاع میں ضلعی دفاتر اور پراجیکٹس موجود ہیں۔ پاکستان بیت المال جیسے وفاقی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد میرا نقطہ نظر تبدیل ہو گیا ہے کیونکہ اس ادارے نے میرے اندر انسانیت کا احساس اور اس کی خدمت کا جذبہ پہلے سے بھی زیادہ اجاگر کیا ہے۔ اس ادارے کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد میری زندگی میں ایک خوشگوار باب کا اضافہ ہوا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کے مقابلے میں اور کوئی کام اہمیت نہیں رکھتا۔
اس لئے یہ خوش قسمتی ہے کہ خدا نے مجھے اس عہدے سے نوازا جہاں بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں خوشیاں لانے کا باعث بنا ہوں۔ مجھے یہ اعتراف ہے کہ میں کوئی پیشہ ور لکھاری نہیں ہوں لیکن اپنا فرض منصبی سمجھتا ہوں کہ اپنی ان چند سطور اور اس مؤقر اشاعتی ادارے کے توسط سے پاکستان کے ایک بڑے مسئلے کے بارے میں لوگوں کے اندر شعور اجاگر کرنے کی ایک اپنی سی کوشش کروں کیونکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں غربت ایک انتہائی سنگین اور اہم مسئلہ ہے۔
ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت سینتیس فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں غربت کا وسیع تفاوت بھی پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جہاں ایک طرف اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں دس فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں وہاں قلعہ عبداللہ، خاران، ہرنائی اور بارکھان جو بلوچستان کے اضلاع ہیں وہاں غربت کا تناسب تقریباً نوے فیصد ہے۔
اس لئے ملک کے ان علاقوں کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے جہاں غربت کی شرح بلند ہے خاص طور پر جنوبی پنجاب، سابق فاٹا، تھر اور بلوچستان کے علاقوں کا احساس محرومی دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ علاج معالجے کے لئے وسائل نہ رکھنے والے مریضوں ، اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مالی رکاوٹوں کا سامنا کرنے والے طالبعلموں ، گلیوں میں بھیک مانگتے ، سڑکوں کے کنارے سوتے ہوئے اور ایک وقت کی روٹی کمانے کے لئے محنت مزدوری اور مشقت کرتے ہوئے لوگوں کی حالت زار ایک عام اور حساس انسان کو جھنجھوڑ نے کے لئے کافی ہے۔
تاہم اس مسئلے کا غور طلب پہلو یہ ہے کہ اس کے حل کے لئے آخر کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی اور اطمینان ہے کہ پاکستان بیت المال جیسا قومی ادارہ ایسے ضرورت مند افراد کے لئے امید کی ایک کرن ہے۔ یہاں میں یہ وضاحت بھی کرتا چلوں کہ پاکستان بیت المال لوگوں کو بھکاری بنانے کے اس عمومی تاثر کے بالکل برعکس غربت کے خاتمے کے لئے دیر پا اور مستحکم پراجیکٹس اور ان کی افادیت کو یقینی بنانے کے لئے کام کرتا ہے تاکہ لوگ ان پراجیکٹس سے مستفید ہو کر معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔
پاکستان بیت المال کے جملہ پراجیکٹس میں بے سہارا یتیم بچوں کے لئے ملک بھر میں 46 سویٹ ہومز، خواتین میں ہنر مندی کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے ایک سو تریسٹھ ( 163 ) ویمن ایمپاورمنٹ سنٹرز، ایک سو انسٹھ ( 159 ) چائلڈ لیبر ویلفیئر سکولز، اٹھارہ شیلٹر ہومز، روٹی سب کے لئے پروگرام کے تحت بائیس فوڈ ٹرکوں ، دس اضلاع میں بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کا کیش پروگرام او ڈبلیو ایس پی (OWSP) ، معذور افراد کی بحالی، سول سوسائٹی /این جی اوز کی سپورٹ، ضرورت مند مریضوں کے علاج معالجے اور طلباء و طالبات کے لئے تعلیمی وظائف جیسے مفید پروگرام شامل ہیں جن سے لاکھوں ضرورت مند شہری مستفید ہو رہے ہیں۔
پاکستان بیت المال کے تمام پروگراموں کی افادیت کو مزید بہتر کرنے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینا ہماری اولین ترجیح رہا ہے۔ الحمدللہ! ہم نے مقامی ڈونرز سے لے کر بین الاقوامی ڈونرز تک کو ہمارے مختلف منصوبوں میں شامل کیا ہے جس سے وسائل اور کارکردگی میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ پاکستان بیت المال نے پچھلے ایک سال میں سویٹ ہومز میں 4,408 بچوں کی پرورش و کفالت کے لئے 24.700 ملین روپے خرچ کیے ہیں۔
شیلٹر ہومز میں 891,375 کے قیام و طعام اور 5,993,789 افراد کو شیلٹر ہوم میں کھانے کی فراہمی پر 40.280 ملین، روٹی سب کے لئے پروگرام کے تحت اب تک 5,070,614 افراد کو کھانے کی فراہمی پر 34.521 ملین جبکہ یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کے پروگرام کے لئے دس اضلاع میں 857 خاندانوں میں 162.4 ملین روپے تقسیم کر چکا ہے۔ محدود بجٹ کے باوجود ویمن ایمپاورمنٹ سنٹرز میں نہ صرف خواتین کو مفت فنی تربیت مہیا کی جا رہی ہے بلکہ خواتین کو کرایہ کی مد میں آنے جانے کے لئے پچاس روپے روزانہ کے حساب سے وظیفہ بھی دیا جاتا ہے جبکہ پچھلے ایک سال میں 14,490 خواتین کو فنی تربیت کی فراہمی پر 4.6 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
چائلڈ لیبر بحالی کے سکولوں میں پچھلے ایک سال کے دوران 18,787 طلباء و طالبات کی تعلیم پر 4.5 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں ، ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو مفت کتابیں ، سٹیشنری، یونیفارم اور ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جار ہا ہے۔ لاہور میں قائم اولڈ ہوم میں رہنے والے بزرگوں پر پچھلے سال 16.29 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ علاج معالجے کی مد میں اس ادارے نے کینسر کے 44,918 ، امراض قلب کے 3,686 ، جنرل میڈیسن کے 17,804 ، سرجیکل کیسز کے 5,033 ، آنکھوں کی سرجری کے 38,633 ، اور ڈائلاسیز کے 813 مریضوں کے لئے 7.21 بلین روپے کی امداد جاری کی ہے۔
اس کے علاوہ ادارہ سپیشل فرینڈز میں 1996 وہیل چیئرز تقسیم کر چکا ہے۔ مستحق افراد کو مصنوعی اعضاء کی فراہمی کے لئے پاکستان بیت المال سینکڑوں افراد میں دس کروڑ سے زائد رقم خرچ کر چکا ہے جبکہ 1982 مستحقین کو آلہ سماعت فراہم کرنے پر ساڑھے چھ کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انفرادی مالی امداد کی مد میں 1807 غریب و نادار افراد کو 474,020,000 روپے کی امداد مہیا کی گئی۔ تعلیمی وظائف کی مد میں 25,335 مستحق طلباء و طالبات میں 729 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں 18844 سپیشل فرینڈز کو 261,267,500 روپے کی مالی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ ہنرمند خواتین کو 2252 سلائی مشینیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ پاکستان بیت المال غریب و نادار مریضوں کو مفت طبی علاج فراہم کرنے والا ایک بڑا سرکاری ادارہ ہے۔ جب میں اس ادارے میں آیا تو انکشاف ہوا کہ مالی مسائل کے سبب ہزاروں ننھے پھولوں کو کو کلیئر امپلانٹ (cochlear implant) کے آپریشن کے لئے دی جانے والی امداد معطل ہے۔
میں نے اس سلسلے میں ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے حکومت سے پاکستان بیت المال کے سالانہ بجٹ میں اضافے کی درخواست کی اور اب اس اضافے سے ہم بہت سی معصوم زندگیوں کو مسکراہٹ لوٹا رہے ہیں۔ ان تمام پروگراموں میں شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پہ وسائل کی تقسیم پاکستان بیت المال کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ اس وقت ادارے میں سینکڑوں ڈیلی ویجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ مالی مشکلات کی وجہ سے ہمارے اوپر متعدد پراجیکٹس بند کرنے کے لئے دباؤ تھا جس کی وجہ سے یہ ڈیلی ویجرز بے روزگار ہو جاتے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسی لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے نہ کہ ان سے روزگار کے مواقع واپس لینا ہے۔
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ کسی کے روزگار پر آنچ نہ آئے اور پاکستان بیت المال سے وابستہ ڈیلی ویجر ملازمین کے چولہے جلتے رہیں۔ پاکستان بیت المال کے تمام منصوبہ جات کی افادیت کا دائرہ کار وسیع کرنے اور پاکستان کے ہر ضرورت مند کو اس کی دہلیز تک امداد پہنچانے کے لئے یہ قومی ادارہ مخیر حضرات اور ڈونرز کے صدقات و عطیات و امداد کا بہترین مصرف ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ کہاوت ہے کہ عظیم طاقت عظیم ذمے داریاں عائد کرتی ہے۔ میں یہ عہد کرتا ہوں کہ جب تک اس منصب پر فائز رہوں گا پاکستان میں غربت کے خاتمے کی جنگ اس وقت تک لڑتا رہوں گا جب تک یہ جنگ جیت نہ جاؤں۔ اللہ ہمیں پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ہمت عطا کرے۔
نوٹ: پاکستان بیت المال کے پراجیکٹس اور ان سے مستفید ہونے اور عطیات جمع کرانے کے لئے درخواست گزاروں اور مخیر حضرات و ڈونرز کے لئے راہنمائی کا طریقہ کار ہماری ویب سائٹ www.pbm.gov.pk پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے یا ادارے کی ہیلپ لائن 080066666 پر کال کر کے معلومات لی جا سکتی ہیں۔

