لسانی تکنیک ’بہ مقابلہ‘


لسانی تکنیک کے ضمن میں ’میں /ہم، وہ /دوسرے‘ پران کی انفرادی حیثیت میں بات کی جا چکی ہے۔ اجتماعی حیثیت میں ’ہم اور وہ‘ لسانی تکنیک کا استعمال مشترکہ معاملے /مسئلے پر سامنے آتا یا لایا جاتا ہے ۔ یہ اخبار کی پالیسی اور اس کے رجحان پر منحصر ہے۔ فریقین کے بیانات پر مبنی سرخیاں برابر برابر چھاپی جاتی ہیں۔ ’بالمقابل‘ سیاست دان اردو صحافت کی سرخیوں میں ’بہ مقابلہ‘ ہوتے ہیں۔

ایک بیانیے میں بیک وقت کئی لسانی تکنیک ایسے کام کر رہی ہوتی ہیں جیسے ذرائع ابلاغ کے پیغامات پر ( بیک وقت کئی) ابلاغیاتی نظریات ؛بہرحال منتخب بیانیے میں ’بہ مقابلہ‘ کی لسانی تکنیک حاوی ہے۔ تحریر میں شامل تمام سرخیاں بینر لائن ہیں، اگر اشتہار نے بینر لائن کی جگہ لے لی ہے تو سرخی اس کے نیچے ہے۔

1۔ احتجاجی تحریک کا آغاز ہفتے سے کریں گے، عمران خان ؛مارچ کے شرکا ڈی چوک آئے تو دھونی دیں گے، رانا ثنا (بینر لائن)

شیروں کی فوج کا سردار گیدڑ ہوتو وہ ہار جائے گی، ملکی مفاد اسی میں ہے کہ حکومت سے جلد نجات ملے، پی ٹی آئی چیئر مین (پہلی ذیلی سرخی)

پاگل اور احمق شخص سے کوئی بات نہیں ہو سکتی، لانگ مارچ کو سپورٹ کرنے والے صوبوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، قوم کو گمراہ کرنے والا کسی کا لاڈلا نہیں، وفاقی وزیر داخلہ (دوسری ذیلی سرخی)

یہ 22 ستمبر 2022 کی روزنامہ جنگ کی بینر لائن ہے اور آج 7 جولائی 2023 ؛وفاقی وزیر داخلہ نے تقریباً نو ماہ قبل ہی خبردار کر دیا تھا کہ لانگ مارچ کو سپورٹ کرنے والے صوبوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس سرخی میں کیا شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے کی سماعت کا عندیہ تھا؟ وگرنہ اس دھمکی آمیز ابہام سے پالا نہ پڑتا کہ ’صوبوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘ ؛صوبوں کے خلاف کارروائی سے کیا مراد ہے؟ یہ تو حکومتی مشینری ہو سکتی ہے، بعد کی کارروائیوں اور گرفتاریوں سے قارئین واقف ہیں۔

دیگر ابہامات میں ’ملکی مفاد اسی میں ہے‘ اور ’قوم کو گمراہ کرنے والا‘ شامل ہیں۔ ’ملکی مفاد‘ وہ راگنی ہے جو نئی سر زمین کی یہ پہلی نسل اپنی پیدائش سے ایک کان سے سنتی آئی ہے اور دوسرے کان سے نانی (جنہیں ہم بوا کہتے تھے ) کی باتیں کہ امروہہ میں ہمارے آموں کے دو باغ تھے، صحن سے آسمان نظر آتا تھا، ہم کہتے بوا آسمان تو یہاں کھڑکی سے بھی نظر آتا ہے، جواب میں بوا کی نظریں آسماں کو یوں دیکھتیں جیسے کسی اجنبی کو پہچاننے کی کوشش کر رہی ہوں، ان کی بیگانہ اور شک بھری خالی نظریں واپس آتیں یہ کہتے ہوئے کہ ’یہ آسماں کوئی اور ہے‘ ۔

یہ ہماری بوا کا وہ آسماں نہیں تھا جو انہیں امروہہ کے صحن سے دکھائی دیتا تھا، پھر خبریں سن سن کے بوا کا آخری گلہ کہ کیا ملا پاکستان بنا کے؟ ہم نے پوچھا بوا کیا کہہ رہی ہیں؟ کیا ملا پاکستان آ کے؟ کہنے لگیں اے نہ! آ کے تو جو قسمت میں ملنا تھا مل گیا یہ موا پاکستان بنا کے کیا ملا؟ موا پاکستان؟ بوا آپ بھی نا۔ ادھر سیاست دان ازل سے اپنی جانیں ملکی مفاد میں ہلکان کر رہے ہیں اور انہوں نے حلف اٹھایا ہے کہ ابد تک یہی فریضہ اپنی جانوں پر کھیل کر انجام دیتے رہیں گے اور ادھر بوا کے لیے موا پاکستان۔

’قوم کو گمراہ کرنے والا‘ ؛یاد رہے کہ گمراہی کا نتیجہ دنیاوی و اخروی زندگی میں عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑے گا نیز یہ بھی یاد رہے کہ یہ مولانا کا عبرت آموز انتباہ نہیں بلکہ ثنا اللہ کی شان عمران میں ثنا خوانی ہے۔

بقیہ سرخی شیر، گیدڑ، پاگل، احمق اور لاڈلا جیسے الفاظ سے مرصع ومسجع ہے۔ یہ عوامی زبان ہے، عوامی نمائندے عوامی زبان نہیں بولیں گے تو پھر کون سی زبان بولیں گے؟ عوام پسند صحافت عوامی زبان میں نہیں ہوگی تو کیا انگریزی میں ہوگی؟ یہ ہے ”بولی“ کے دائرے کا سفر، عوام سے عوامی نمائندوں، عوامی نمائندوں سے عوام پسند صحافت اور عوام پسند صحافت سے دوبارہ عوام تک ؛ یوں یہ دائرہ تمام ہوا۔ اس دائرے کے جو دو بڑے پڑاؤ ہیں وہاں سے یہ بولی ”زبان“ کے سفر کا آغاز کر سکتی تھی اور اپنی منتہا کے لیے یہ پڑاؤ سنگ میل ثابت ہوتے لیکن یہ گھوم پھر کر وہیں آ گئی اور زیادہ شد و مد کے ساتھ آئی، کیوں؟ کیوں کہ اب اس میں سیاسی و صحافتی زبان کے اوزان بھی ہیں ؛نتیجہ ان سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی سڑک پر سینہ ٹھوک کے یہ زبان بولیں گے تو ان کے منہ سے تو کف بعد میں اڑے گا، مدیر اخبار کی سرخیوں میں یہ پہلے ہی اڑا چکے ہیں، ہم نے تو یہاں تک چھینٹے محسوس کیے۔

2۔ مارچ یا اپریل میں الیکشن کی پیشگوئی، باجوہ نے زرداری، مراد علی شاہ سے ڈیل کی، عمران خان (پہلی بینر لائن)

بلاول اپنے پیسوں پر دورے کر رہے ہیں تو کیا نجی دورے ہیں؟ پی پی اور نون لیگ کے پاس فنڈنگ کی رسید نہیں، صحافیوں سے گفتگو (دوسری ذیلی سرخی)

لاہور (خبر ایجنسیاں۔ مانیٹرنگ نیوز)

عمران صاحب ڈیل تو آپ باجوہ کو تا حیات ایکسٹینشن کے ذریعے چاہتے تھے، مریم اورنگ زیب (دوسری بینر لائن)

الیکشن پیش گوئی سے نہیں آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ہوتے ہیں، پی ٹی آئی چیئر مین کے بیان پر رد عمل (دوسری ذیلی سرخی)

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں )
مندرجہ بالا بینر لائنیں ایک ہی تاریخ کی ہیں۔

لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئرمین صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس خبر میں کہاں کا جواب بس لاہور ہے، کس مخصوص جگہ یا موقعے کا ذکر نہیں۔ دوسری خبر میں وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں عمران خان کی الیکشن کے بارے میں پیش گوئی پر ردعمل پر اظہار کرتے ہوئے سوال کیا۔ اور میڈیا کو جاری بیان میں عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ۔ خبر کی تفصیل میں یہی ہے کہ وزیر اطلاعات نے کہا، سوال کیا، میڈیا کو جاری بیان میں جواب دیا وغیرہ۔

ایک جماعت کے رہنما نے بیان دیا، صحافیوں نے اس بیان پر مخالف و حکومتی جماعت کا موقف حاصل کیا، چٹ پٹی مصالحے دار ’بینر‘ بریانی تیار۔ ’بہ مقابلہ‘ لسانی تکنیک منہ در منہ۔ الزامات و جوابی الزامات کی تکنیک ہے۔ کم از کم ملکی صحافت میں یہی ہے اور قومی سیاسی مزاج بھی یہی ہے۔

3۔ اصلی شیر آج زمان پارک سے نکلے گا، تحریک انصاف؛عمران سب سے بڑا گیدڑ، ثاقب نثار نے پورا سرٹیفکیٹ نہیں دیا، مریم نواز (بینر لائن)

بگڑی اولادوں کا سیاسی مستقبل ختم، حماد اظہر ؛عدلیہ کی بجائے اپنی فکر کرو، عمران نے ایسی بیماری کا بہانہ بنایا جس کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتی، لیگی نائب صدر (ذیلی سرخی)

مسلم لیگ (نواز گروپ) کی جماعت کا نشان شیر ہے (جو کاغذ پہ چھپا ہوتا ہے ) ، حماد اظہر کے مطابق ’اصلی شیر‘ عمران ہے، اخبار نے حماد اظہر (کے بیان ) کو تحریک انصاف کا قائم مقام ٹھہرایا۔ شیری خصوصیات کی ضد گیدڑی اوصاف ہیں، ہم سب نے شیر کی ضد گیدڑ ہی پڑھی ہے لہٰذا جواب میں یہی کہنا بنتا تھا جو مریم نواز نے کہا۔ اشیا ء و اصحاب اپنی ضد سے پہچانے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ (نون) کی سیاست میں پورا خاندان ملوث ہے تو حماد اظہر نے بگڑی اولادیں کہا، عمران خان کیوں کہ سیاسی اولاد نہیں لیکن مسلم لیگ (نون) نے جواب تو دینا تھا اور بیان کی نوعیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے دینا تھا لہٰذا مریم نواز نے مائیک پر آہستہ سے کہا کہ عمران کو ایسی بیماری ہے جس کا نام لیتے ہوتے بھی انہیں لجا آتی ہے، سرخی نویس نے سوچا ہو گا ان کی لجا ہماری لجا اور بیان کی سرخی میں مریم نواز نہیں بلکہ ’لیگی نائب صدر‘ لکھا۔

دوطرفہ سیاسی محاذ آرائی کی اخبار نے بینر لائن میں صف بندی کی ہے ؛ ’بہ مقابلہ لسانی‘ تکنیک کا استعمال۔

5۔ پی ٹی آئی کارکن کی موت گاڑی کی ٹکر سے ہوئی، پنجاب حکومت؛وزیر اعلیٰ اور آئی جی نے جھوٹ بولا، عمران خان

عمران جھوٹ نہ بولیں، نگران وزیر اعلیٰ؛پولیس تشدد سے ہلاکت نہیں ہوئی، IGپنجاب؛ ظل شاہ کو شہید کیا گیا، جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، پی ٹی آئی چیئر مین

یہ انسانیت کا سوال ہے سیاست کا نہیں، میں یہاں قلم توڑتی ہوں۔

Facebook Comments HS