لفظ تالہ اور چند گزارشات
سوال یہ ہے کہ:
ایک آرٹیکل جس میں لفظ تالے کا ذکر ہوا ہے آج کل ٹاک اف دا ٹاؤن ہے اگر یہ آرٹیکل سکول، کالج یا یونیورسٹی کے بچے اور بچیوں تک پہنچ جائے تو اس کے ان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ کیا ہر لڑکا ہر لڑکی کو دیکھ کر تالہ تالہ نہیں کہے گا؟ کیا ہر لڑکا اب ہر لڑکی سے پوچھنے کی جسارت نہیں کرے گا کہ کیا اس کی V کو تالہ تو نہیں لگا ہوا؟
· کیا اس آرٹیکل کو پڑھنے والے ہر شخص کے ذہن میں یہ خناس سما نہیں جائے گا کہ اسے ہر راہ چلتی عورت، عورت کی بجائے V کے طور پر نظر آئے جس میں سے وہ اپنی سواری سمیت گزر جا نا چاہتا ہے؟
· کیا پاکستان میں جنسی گھٹن نہیں ہے؟
· کیا اس آرٹیکل نے مردوں میں جنسی تلذذ پیدا نہیں کیا؟
· پنجابی میں اس لفظ کا متبادل گالی ہے اور کیا گالی بکنے والا اور گالی سننے والا اس لفظ کے معنی اور شدت کو محسوس کرتا ہے؟
· کیا ہر مرد محدود تر معنوں میں عورت کو V نہیں سمجھتا؟ اگر نہیں سمجھتا تو کیا اب وہ اسے ایسا سمجھنا نہیں شروع کر دے گا؟
· اس لفظ کی کھلے عام ڈسکشن سے کیا عورت صرف V نہیں بن گئی جب مرد کا اب فوری دھیان اس لفظ کی طرف جائے گا تو عورت اسے بطور V نظر نہیں آئے گی؟
· کیا یہ لفظ نو خیز ذہنوں حتی کہ بوڑھے ”بچوں“ میں ہیجان خیزی اور تلذز پیدا کرنے کا باعث نہیں بنا؟
· کیا اس آرٹیکل کو پڑھنے والے لوگ اس لفظ کو اب باآسانی ادا نہیں کر رہے؟
· کیا انگریزی لفظ V، وی جا۔۔۔ کی صوری شکل نہیں ہے؟
· کیا اگر V کسی عضو کی صوری شکل ہے تو کیا P کسی دوسرے عضو کی صوری شکل نہیں ہے؟
· کیا لفظ V کی شکل، کو وی۔ جائی۔ سے مستعار لیا گیا ہے؟
· تو کیا لفظ P، کو پی۔ ن۔ سے مستعار نہیں لیا گیا؟
· کیا یہ جاننے کے بعد ہمارے ذہنوں میں وی سے وائلن اور پی سے پینسل کی منضبط ہونے والی شکلیں ذہن میں موجود رہیں گی اور یہ نئی شکلیں نہیں بنیں گی؟
· کیا لفظ V کو عورت کا متبادل بنانے والی خود ایک عورت نہیں ہے؟ یہ کسی مرد کی کارروائی تو نہیں ہے۔
· کیا اس آرٹیکل کے بعد عورت کی عزت اور منزلت میں اضافہ ہوا ہے یا کمی ہوئی ہے؟
· کیا وہ پوشیدہ اور عریاں الفاظ کو ملفوف ادبی انداز میں پیش کرنے سے قاصر تھیں؟ کیا الفاظ اتنے تہی دامن ہو گئے ہیں کہ انھیں ملفوف انداز میں پیش نہیں کیا جا سکتا تھا؟
· کیا بڑھتی عمر اور ہارمونز کی کمی کے دور میں ایسے الفاظ کہنے اور سننے سے معنی کھو دیتے ہیں؟
· چونکہ آپ ڈاکٹر ہیں لہذا اب آپ زچگی یا جنسی یا دیگر مسائل کو روانی سے بلا تفریق عمر اور جنس سر عام کہہ دینے کو عورتوں کی بھلائی کی خاطر کہنا اچھا سمجھتی ہیں؟
· کیا امریکن کھلی سوسائٹی کے قوانین اور اخلاقیات پاکستان کی بند سوسائٹی کے لئے قابل عمل ہیں؟
· ذرا سوچیئے ہر مرد اپنی بیٹیوں اور بہوؤں سے اس ٹاپک کو کھلے عام پاکستان میں ڈسکس کر سکتا ہے؟
· اگر میری بیٹی یہ آرٹیکل پڑھ کر مجھ سے کچھ سوال کر بیٹھے تو کیا میں اس کا جواب دے سکتا ہوں؟
· کیا میرا بیٹا میرے سے یہ سوال کر سکتا ہے کہ کیا اس کی ماں کی V کو تالہ لگا ہوا تھا؟
· کیا وہ لڑکی جو بہت منہ مار چکی ہو اب علامتی طور پر V Lock بنوا کر پاکدامن بن سکتی ہے؟
· کی یہ لڑکیوں کے لئے ترغیب کا باعث نہیں ہے کہ وہ علامتی طور پر V Lock کا ٹیٹو بنوا کر اپنی پاکدامنی ثابت کرنا شروع کر دیں؟
· یہ ایک دور جاہلیت کی غلط رسم ہے اگر کہیں موجود ہے تو اس کا سد باب کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ چند خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کو بنیاد بنا کر صرف اپنی اہمیت جتلانے کی خاطر عورت کو ضلالت کی پست ترین مقام تک پہنچا دیا جائے۔ یہ کام ملفوف الفاظ میں کیا جا سکتا تھا اور ادب تو ہے ہی چیزوں کو ملفوف کر دینے کا نام تو کیا کوئی قاصر تھا کہ اپنا پیشہ ورانہ مافی الضمیر کھلے اور عریاں الفاظ میں کرے۔ یہ مجبوری تھی یا جھوٹی شہرت کی ہوس جو کہ پانی کا ایک عارضی بلبلہ ہے جلد ختم ہو جائے گا لیکن اس عریاں لفظ کا تالہ جو ذہنوں کو لگ گیا ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کے ذہنوں کے ساتھ چپک نہیں جائے گا؟ ممکن ہے محترمہ نے امریکن کھلے ذہن کو پاکستان پر منطبق کرتے ہوئے عمومی طور پر یہ بات کر دی ہو اور اس کے مضمرات کو مد نظر نہ رکھا ہو اس کا مارجن انھیں دیا جانا چاہیے۔
· اس لفظ V کے ذکر عام سے اس لفظ کی غلاظت اور ننگا پن ڈائلیوٹ ہوا ہے کہ یہ لفظ اب عورتوں اور مردوں میں ڈسکس ہو رہا ہے اور مرد چسکا لے رہے ہیں۔ نقصان یہ ہوا ہے کہ جب کوئی بھی لفظ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے تو وہ لفظ فحش نہیں رہتا وہ لفظ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے پھر اس لفظ کا لوگ نوٹس ہی نہیں لیتے فل وقت تو یہ لفظ اپنی پوری شدت اور برہنگی کے ساتھ موجود ہے خدا را اس لفظ کو ڈائلیوٹ مت کریں اس برہنگی کا حصہ نہ بنیں بلکہ یہ بھی ایک پیغام ہے کہ برہنہ لفظوں کو ملفوف طور پر بیان کیا جا سکتا ہے اور ایسے الفاظ کو ملفوف طور پر ہی بیان کیا جانا یا ہونا چاہیے۔ ایک ڈھلتی عمر کے شخص پر ایسے ننگے الفاظ کی شدت ختم ہو چکی ہوتی ہے لیکن ان نوخیز ذہنوں کا کیا کیا جائے کہ جن کے ذہنوں پر ان الفاظ نے مرتسم ہو جانا ہے۔


