پاکستانی نصابی کتابیں اب اتنی بھی غیر معیاری نہیں ہیں
آج کل کمپیوٹر کی کچھ ٹیکنالوجیز، بز ورڈ بنی ہوئی ہیں۔ چوں کہ یہ ٹیکنالوجیز پاکستان میں تخلیق نہیں کی گئی ہیں، لہٰذا ان کمپیوٹر ٹیکنالوجیز کے درست علم تک عام پاکستانیوں کی رسائی ایک خاصا مشکل کام ہے۔ جو پاکستانی ملک سے سے باہر چلے گئے ہیں اور ان ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں، وہ ان ٹیکنالوجیز کے درست علم سے کسی حد تک واقف ہیں لیکن چوں کہ زیادہ تر ایسے پاکستانیوں کی اردو واجبی ہے، اس لیے وہ اردو میں ان ٹیکنالوجیز پر کتابیں نہیں لکھ سکتے۔
اگر لکھیں گے تو عام اردو بولنے والے پاکستانیوں کی سمجھ میں ان کی بات نہیں آئے گی۔ پھر اردو میں کوئی تکنیکی کتاب لکھنے کے لیے جس پیہم جذبے کی ضرورت ہے، وہ ایسے تکنیکی افراد میں مفقود نظر آتا ہے کیوں کہ وہ اپنے شعبوں میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ ان کے پاس ایسی کتابیں لکھنے کے لیے وقت دستیاب نہیں ہوتا۔ اردو زبان میں لکھنے والے زیادہ تر شعر و شاعری، تاریخ اور حالات حاضرہ دائرے سے باہر نہیں نکلتے۔ وہ ان کا کمفرٹ زون ہے۔
پھر ٹیکنالوجیز اور ان کی پروگرامنگ کا عمل اردو زبان کو قبول نہیں کرتا جو ایک اہم مسئلہ ہے۔ غرض کمپیوٹر جو زندگی کے ہر شعبے کی ضرورت بن کر رہ گیا ہے، عام پاکستانی ان کمپیوٹروں پر چلنے والی ٹیکنالوجیز کے حصول سے اتنا ہی خوف کھاتا ہے جتنا کہ انگریزی زبان کے حصول سے۔ اگر وہ یہ خوف دور بھی کر لیں تو ایسے عالم کہاں سے آئیں گے جو اردو زبان میں ان تکنیکی علوم کی روزانہ بنیادوں پر اشاعت کرسکیں۔
اس موقع پر وطن عزیز میں کچھ ایسے افراد سامنے آئے ہیں جو ملک سے باہر بیٹھ کر کمپیوٹر ٹیکنالوجیز کی کتب لکھ رہے ہیں۔ ان کی تصنیف کردہ اردو کتب کا معیار دیکھنے سے قبل ان پاکستانی نژاد مصنفین کی اخلاقیات کو دیکھنا ازحد ضروری ہے۔ یہ مصنفین بعض اوقات مذہبی روپ میں سامنے آتے ہیں اور بعض اوقات ایک کامیاب دنیاوی شخص کے روپ میں۔ اس ظاہری سراپے کا مقصد محض عام پاکستانی شخص کے دل میں اپنا احترام قائم کرنا ہوتا ہے۔
ایسے مصنفین اپنی کتب کی مارکیٹنگ کے لیے انٹرنیٹ پر لائیو سیشن کرتے ہیں۔ پہلے تو وہ اپنا کمرہ سجاتے ہیں تاکہ کیمرے میں ان کا بیک گراؤنڈ دیکھنے والے سامعین پر رعب پڑے۔ کبھی وہ ایک شیشے کی دیوار کے سامنے بیٹھے کافی پی رہے ہوتے ہیں اور ان کے پس منظر میں غیر ملکی ماحول اور گاڑیاں چل رہی ہوتی ہیں۔ یورپ اور امریکا کی سرزمینوں میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ بندے کی شکل جیسی تیسی ہو، کیمرے میں اس بندے کی تصویر بڑی جاذب نظر آتی ہے۔
تو ایسے پاکستانی نژاد مصنفین جب انٹرنیٹ سامعین کو اپنا تعارف پیش کرنے کے لیے کیمرہ آن کرتے ہیں تو کچھ قدرتی ماحول اور کچھ ان کا اپنے کمرے کا مصنوعی ماحول پاکستانی عوام پر خاصا رعب ڈالتا ہے۔ کچھ مصنفین مذہبی انداز اختیار کرتے ہیں۔ الغرض ایک منصوبہ بندی کے بعد ان لائیو سیشن شروع ہوجاتا ہے۔ ایک ایسا ہی لائیو سیشن ایک روز قبل میں نے فیس بک پر دیکھا جو تین سے چار منٹ پر مشتمل تھا۔
اس لائیو سیشن کا آغاز حسب معمول پاکستان کے تعلیمی نظام کو کوسنے سے شروع ہوا۔ جو دو افراد وہ لائیو سیشن کر رہے تھے، ان کا مقصد اردو زبان میں لکھی گئی چند کتابوں کی فروخت تھا جن کا موضوع کمپیوٹر ٹیکنالوجیز تھیں۔ انھوں نے اس بات کو بنیاد بنایا کہ پاکستان میں اعلیٰ جماعتوں کی درسی کتب میں طلبہ کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ کمپیوٹر کا ماؤس کس طرح استعمال کرنا ہے۔ جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ باتیں دوسری جماعت کے طلبہ کو سکھائی جاتی ہیں۔
اتنا کہہ کر انھوں نے مصنف کی کتب کا تعارف پیش کیا، مصنف کیمرے کے سامنے موجود نہ تھے۔ دونوں اینکرز نے پاکستانی درسی کتب کو فرسودہ قرار دیا اور پاکستانی نژاد مصنف کی اردو میں لکھی گئی کمپیوٹر ٹیکنالوجیز کی ان کتب کو بہترین اور اعلیٰ معیار کی کتب قرار دیا۔ ساتھ ہی یہ تڑکا بھی لگایا کہ اگر کسی غریب یا متوسط طبقے کے شخص کو لاکھوں روپے کی ملازمت حاصل کرنی ہے تو چند سو روپوں کی یہ کتاب خریدیں اور ہزاروں روپے یونیورسٹیوں اور کالجوں کی فیسوں میں برباد کرنے کے بجائے بس گھر بیٹھ کر ان کتابوں کو پڑھیں۔ اور پھر ان کا پروگرام ختم ہو گیا۔
اگرچہ یہ بات مجھے بھی عجیب لگی کہ گیارہویں یا بارہویں جماعت کی نصابی کتاب میں یہ کیوں بتایا جا رہا ہے کہ کمپیوٹر کے ماؤس کو رائٹ کلک کرنے سے کیا رزلٹ آئے گا۔ لیکن اس بات کو کوسنے اور شکایتی انداز میں بیان کرنا درست نہیں۔ شاید پاکستان میں درسی کتب بل کہ ہر شے کا مطالعہ کیے بغیر اور دوراندیشی اپنانے کے بجائے اس پر منفی رائے دینا ایک عام چلن ہو گیا ہے۔ جو اچھے اور سنجیدہ طلبہ ہیں، انھیں اس رائے کی ضرورت نہیں ہے لیکن جو طلبہ اپنا وقت برباد کرچکے ہیں، وہ ضرور ایسے چرب زبانوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ اسی روز ایک عجیب اتفاق ہوا جس سے مجھے پاکستان کی درسی کتب پر فخر کرنے کا موقع ملا۔
اعتراض یہی اٹھایا گیا تھا کہ اعلیٰ تعلیمی جماعتوں میں یہ کیوں بتایا جا رہا ہے کہ کمپیوٹر کے ماؤس کا رائٹ کلک کرنے سے کیا عمل ہو گا۔ اسی روز میں ایک ای۔ کانفرنس میں بہ طور ایک طالب علم موجود تھا۔ اس کانفرنس کال کو ایک مایہ ناز ڈاکٹر لیڈ کر رہے تھے جو کمپیوٹر ٹیکنالوجیز کی دنیا کے ماہر ہیں۔ اس کانفرنس میں ایک پروگرامر نے جو سعودی عرب سے حصہ لے رہا تھا، سوال کیا : ”ڈاکٹر صاحب! مجھے سعودی عرب میں موجود فرنٹ اینڈ سے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے انفیورا کے مین نیٹ کے لنک کو پورا ٹائپ کرنا پڑتا ہے کیوں کہ وہ نوڈ کے اندر کنٹرول وی کے بٹن دبانے سے پیسٹ نہیں ہوتا۔ میں کیا کروں؟“ ڈاکٹر صاحب نے بڑے تحمل سے جواب دیا : ”جس مقام پر پیسٹ کرنا ہو، وہاں ماؤس کا رائٹ کلک پریس کر دیں۔“ جس سنجیدگی سے ڈاکٹر صاحب نے اس بات کا جواب دیا تھا، اس سے میں سمجھ گیا کہ یہ مسئلہ عموماً کمپیوٹر پروگرامرز کو درپیش ہوتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے نہ ہی اس پروگرامر کا مذاق اڑایا، نہ اسے کوسا، نہ یہ کہا کہ بھئی! یونیورسٹی میں اتنے سال کیا کیا جو ماؤس کے رائٹ کلک کے اس حیرت انگیز فائدے کو نہیں جانتے۔ بل کہ انھوں نے اسے ایک عمومی مسئلہ سمجھا اور اس کا سادہ حل بیان کر دیا۔ اب میری سمجھ میں آیا کہ پاکستانی نصاب میں نصاب سازوں نے اس نکتے کو کیوں شامل نصاب کیا ہے۔
اس پورے قصے کا مرکزی خیال یہی ہے کہ کسی بھی نصابی کتاب کو برا بھلا نہیں کہنا چاہیے۔ پاکستانی نصابی کتب آپ کو اس بات سے پر گز نہیں روکتیں کہ آپ دیگر نصابی کتب یا موضوعاتی مقالے مطالعہ نہ کریں۔ علم تو ایسی شے ہے جو جگہ جگہ لائن لگا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اور پھر ٹیکنالوجی تو اس سے آگے کی شے ہے کیوں کہ اس میں تغیر ہے۔ جاوا کے طلبہ آج آسانی سے پروگرامنگ کرتے ہیں، آج سے تیس چالیس سال قبل وہ نوٹ پیڈ پر کی جاتی تھی اور بڑے مضحکہ خیز انداز میں کی جاتی تھی۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ طلبہ کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کی جائے کہ ماضی خراب تھا، حال اچھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صرف کتاب خرید کر اسے پڑھنے والے افراد کو اس بات کا بھی شعور ہونا چاہیے کہ استاد کے بغیر کوئی بھی علم حاصل نہیں ہو سکتا ۔ بالخصوص ٹیکنالوجی تو استاد کی رہنمائی کے بغیر سیکھی ہی نہیں جا سکتی کیوں کہ ٹیکنالوجیز سیکھنے میں سینکڑوں نہیں بل کہ ہزاروں مقامات پر طلبہ غلطی کرتے ہیں اور استاد ہی ان کی اصلاح کرتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکنالوجیز کی اردو میں لکھی گئی کتابیں چند سو روپوں میں فروخت کرنے والے پاکستانی نژاد تارکین وطن افراد اپنی اخلاقیات پر توجہ دیں۔ صرف یہی دیکھ لیں کہ انھوں نے کیا صرف ایک دو کتابیں پڑھ کر ٹیکنالوجی کا علم سیکھا ہے یا سینکڑوں کتب اور کئی اساتذہ کی صحبت اختیار کر کے یہ علم سیکھا ہے۔ ساتھ ہی طلبہ میں بھی اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ ملکی و غیر ملکی تعلیمی درس گاہوں میں دی جانے والی تعلیم ایک Structured طریقے سے ڈیزائن کی جاتی ہے۔
سینکڑوں اساتذہ، ماہر نفسیات اور ہزاروں کتب نصاب سازی کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ اب طلبہ خود سوچیں کہ انڈسٹری میں اربوں روپے کی مشینری اور اربوں روپے کے پراجیکٹ میں کس طالب علم کو شامل کیا جائے گا؟ اس طالب علم کو جو محض چند سو روپوں کی کتب خرید کر گھر بیٹھ کر انھیں پڑھ کر آیا ہے، یا پھر اس طالب علم کو جو پوری لگن اور سنجیدگی سے کئی اساتذہ کی رہنمائی اور سینکڑوں کتب کے مطالعے کے بعد ملازمت کے حصول کا امیدوار ہے۔ اس لیے تمام طلبہ کو چاہیے کہ وہ علم اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بازاری اور سستی کتب کے بجائے صرف یونیورسٹیوں میں دی جانے والی تعلیم پر بھروسا کریں۔


