آبادی کا بم۔ کیا کوئی بم ڈسپوزیبل اسکواڈ اس کے لئے بھی ہے کہ نہیں


آپ کو ایک کہانی سناتی ہوں۔ ہمارا دفتر جس عمارت میں ہے یہ اور اس کے اس پاس کی زمینیں ایک ہی خاندان کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے اپنی زمینوں پر چند کوارٹر بنا رکھے ہیں جنہیں وہ غربت زدہ لوگوں کو دے دیتے ہیں اس کوارٹر کے بدلے دو افراد اس خاندان کی خدمت کرتے ہیں جس کے عوض چھت اور دو افراد کا کھانا دیا جاتا ہے۔ بجلی کے بل اور دیگر اخراجات کے لئے خاندان کے باقی افراد کچھ نہ کچھ کرتے ہیں اور یوں اپنی زندگی کی گاڑی چڑھائی پر کھینچتے ہیں دریا کے مخالف سمت تیرتے ہیں۔

اسی طرح کا ایک خاندان ان کوارٹروں میں رہا کرتا تھا۔ پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ باپ کسی زمانے میں مستری تھا لیکن رفتہ رفتہ نشے کا شکار ہو کر اس روزگار سے بھی گیا۔ ماں اور ایک بیٹی کوارٹر کے عوض خانوں کے گھروں میں جھاڑو برتن کا کام کرتی تھیں۔ غربت تھی اور بیٹیاں بوجھ لگتی تھیں لہذا جس کسی کا رشتہ آیا ماں نے تین بیٹیوں کو رخصت کر دیا۔ سب سے بڑی بیٹی کی شادی کے وقت عمر چودہ برس تھی۔ بچی بیاہ کر کراچی چلی گئی۔

اس کا شوہر عمان میں کام کرتا تھا شادی کے بعد دو مہینے گزار کر عمان چلا گیا۔ مشترکہ خاندانی نظام تھا چھوٹے دیور نے ایک دو مرتبہ بھابھی کے کمرے میں نقب لگائی اور شور مچانے پر بھاگ گیا۔ ساس نے بہو کو سمجھایا کہ شور مت کرو جو ہو گیا سو ہو گیا لیکن جب تیسری مرتبہ بھی یہ سب ہوا تو لڑکی سسرال سے میکے آ گئی۔ دوسری طرف اس کے شوہر نے عمان میں دوسری شادی کر رکھی تھی لیکن بیوی کو یہی کہتا تھا کہ تم گھر واپس چلی جاؤ۔ لڑکی نے ماں کے گھر ہی ایک بچی کو جنم دیا۔ اس سے چھ ماہ قبل ماں بھی ایک اور بیٹی پیدا کر چکی تھی۔ اسی اثنا میں لڑکی کے بڑے بھائی نے جو بمشکل 18 سال کا تھا اسی محلے میں ایک افیئر چلایا اور بات اس حد تک بڑھی کہ شادی کرنی پڑ گئی۔ غربت کی شادی کے لئے خانوں سے کچھ پیسے ادھار لئے جس کے بدلے منجھلے بیٹے کو چھ مہینے کے لئے خانوں کے گھر گروی رکھ دیا مطلب بغیر تنخواہ کے مزدوری پر لگا دیا۔

بھائی کی شادی ہوئی اور کچھ عرصے بعد اس گھر میں تیسرا بچہ بھی آ گیا۔ غربت، دو کمروں کا گھر اور گیارہ افراد جس میں سے تین افراد کی عمریں دو سال سے بھی کم تھیں۔ ماں بیٹیاں سارا دن خانوں کے گھر میں جتی رہتیں اور 9 سال کی ایک بچی اپنی چھوٹی بہن اور بھانجی سنبھالتی۔ اس بچی کی آنکھوں میں زندگی کے لئے جو بیزاری تھی وہ میں نے اس عمر تو کیا کسی عمر کے انسان میں نہیں دیکھی۔ پھر اس گھر میں مزید ایک بچہ پیدا ہو گیا بھائی کا دوسرا بچہ۔

اسی اثناء میں جرگہ کے شدید دباؤ پر اس لڑکی کو واپس کراچی بھیج دیا گیا۔ پھر یکایک ایک دن وہ خاندان واپس اپنے گاؤں چلا گیا۔ کچھ عرصہ قبل اس لڑکی کی ماں سے ملاقات ہوئی تو بیٹی کا پوچھا اس نے بتایا کہ پہلے تو وہ اسے کراچی لے گیا لیکن پھر اسے جا کر افغانستان بیچ آیا ہے منجھلا بیٹا ماموں کے پاس کراچی چلا گیا ہے وہاں سے مزدوری کر کے پیسے بھیجتا ہے اور گھر چل رہا ہے۔ بڑا بیٹا جس کے دو بچے ہیں اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نشہ کرنے لگ گیا ہے اور جو دو پیسے لاتا تھا اب وہ بھی نہیں لاتا۔

یہ ہمارے ملک کے غربت کے مارے خاندانوں کی بہت عام کہانیاں ہیں۔ غربت، نشہ اور بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے نتیجے میں بچیوں بچوں اور عورتوں پر ہونے والے تشدد میں اضافہ۔ یہ ایک شیطانی دائرہ ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے لیکن اسے توڑنے کی کوششیں بہت کمزور اور کم ہیں حکومت اس میں سے کسی مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کے لئے تیار نہیں اور لوگ اس مسئلے کو سمجھنے کو تیار نہیں کہ اپنے وسائل کو دیکھتے ہوئے فیملی پلاننگ کوئی غلط کام نہیں بلکہ عقلمندی ہے۔

بچے بھلے ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں لیکن انہیں سرمایہ تربیت اور تعلیم کے ذریعے ہی بنایا جا سکتا ہے بغیر پلاننگ کے اس سرمائے میں اضافہ اس بچے کے ساتھ بھی زیادتی ہے جو ابھی دنیا میں آیا ہے اور ان کے ساتھ بھی جو پہلے ہی چوتھائی روٹی کھا رہے ہیں اور سکول کے بجائے سڑکوں پر ماسک، غبارے بیچ رہے ہیں اور روز اپنے آپ کو درندوں سے بچانے کی کوشش میں لہولہان ہو رہے ہیں خدارا اپنے پر رحم کریں ان بچوں پر رحم کریں جو بچے اس دنیا میں آ گئے ہیں انہیں جینے دیں ایک محفوظ اور خوبصورت زندگی جو ہر بچے حق ہے جو ہر انسان کا حق ہے۔ آبادی کے اس بم کو ناکارہ بنانے کے لئے کیا کوئی بم ڈسپوزیبل اسکواڈ ہے یا نہیں۔

Facebook Comments HS