کرسی کی جنگ اچھی نہیں


پچھلے سال کی بات ہے جب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے اتحادی اور اس وقت مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الہی کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ان سے ملاقات کے لئے لاہور آئے تھے اور انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی کرسی پر بیٹھے دیکھا گیا تھا جبکہ پرویز الہی اپنے بیٹے کے ساتھ سامنے والی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تھا کہ پبلک آفس ہولڈر نہ ہوتے ہوئے وہ کیوں وزیر اعلی کی کرسی پر بیٹھے۔ اعتراض کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ بھی شامل تھیں جنہوں نے اپنے ٹویٹ میں سوال کیا تھا، یہ نیازی صاحب کس حیثیت سے وزیر اعلی کی کرسی پر براجمان ہیں؟ اس ٹویٹ کے مقابلے میں عمران خان کی حمایت میں بولنے والے بھی کم نہیں تھے۔

چند ماہ پہلے نگران وزیر اطلاعات کے پی، سیکرٹری انفارمیشن کی کرسی پر بیٹھنے لگے تو انہیں اچھا نہیں لگا اور صوبائی وزیر کو اپنی کرسی پر بیٹھنے سے روک دیا۔ نگران وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وہ سیکریٹری انفارمیشن سے نگران کابینہ کے زیر استعمال گاڑیوں کی معلومات لینے گئے تھے لیکن انہیں سیکریٹری انفارمیشن نے اپنی کرسی پر بیٹھنے سے روکتے ہوئے دوسری کرسی پر بٹھا دیا اور معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

مجھے مفتاح اسماعیل کی یاد آ گئی ہے جنہوں نے اسحاق ڈار کے لیے اپنی وزارت کی کرسی خالی کردی تھی اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران استعفی پیش کیا تھا۔ مفتاح اسماعیل آج بھی بجھے بجھے سے نظر آتے ہیں، کیا کریں کرسی چیز ہی ایسی ہے۔

سکول وین میں ونڈو سیٹ نہ ملنے پر بچوں کے درمیان جھگڑا ہم سب نے دیکھا نہیں تو سنا ضرور ہے اور اپنی گاڑی میں ہر بچے کا کھڑکی کی طرف بیٹھنے کی خواہش کرنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن اب ہم بات کریں گے بڑوں کے درمیان اس جھگڑے کی جو چند روز قبل مالٹا سے لندن جانے والی پرواز میں ہوا جب دو افراد لڑ پڑے، دونوں کی خواہش تھی کہ جہاز کی کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھا جائے۔ پہلے سے موجود مسافر نے دوسرے مسافر کو کھڑکی والی نشست پر بیٹھنے نہیں دیا۔ یہ جھگڑا امریکی اور برطانوی مسافروں کے درمیان تلخ کلامی سے شروع ہوا اور تھپڑوں تک پہنچ گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاز کے باقی مسافر بہت دیر تک لڑائی ختم کرانے کی کوشش کرتے رہے۔

چند ماہ پہلے بھارت میں ایک بس کے اندر سیٹ کے معاملے پر دو خواتین کی آپس میں لڑائی کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔

تقریباً سات سو سال پرانی کرسی کو کیسے دوبارہ طاقتور اور مضبوط بنا دیا گیا، اس پر بھی گفتگو کر لیتے ہیں۔ تاریخی سینٹ ایڈورڈ کی کرسی جو پہلی مرتبہ 1308 میں کنگ ایڈورڈ دوم کی تاجپوشی کے موقع پر استعمال ہوئی تھی، حال ہی میں چارلس کی تاجپوشی کے وقت دوبارہ استعمال کی گئی ہے، اب اس کرسی کو سلام کرنا بنتا ہے۔

ہندوستان پر انگریز کی حکمرانی کے دوران عام شہری بے پناہ مظالم کا شکار ہوئے تھے، اکثر انگریز مؤرخین نے برطانوی ظلم و ستم کو منظر عام پر آنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس زمانے میں برطانوی اعلیٰ حکام ملازمین کے ساتھ نامناسب سلوک کرتے تھے اور عجیب قوانین نافذ تھے۔ کچھ سال قبل ہندوستان میں برطانوی دور کے پوسٹ کارڈز کی خصوصی نمائش منعقد ہوئی جو انگریز حکمرانوں اور اعلی افسران کی سوچ کی عکاسی کرتی تھی۔ برطانوی نوآبادیاتی نظام حکومت میں ایک عام شہری کو اجازت نامے کے بغیر انگریز افسر کے سامنے کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس اجازت نامے کو ضلع کا ڈپٹی کمشنر جاری کر سکتا تھا جس کے لئے مکمل کوائف، معاشرے میں مقام اور حیثیت کی تفصیلات دینا ضروری ہوتا تھا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ کرسی کو سلام کرنا کیا ہوتا ہے۔ کرسی کا مقام دنیا کی نظر میں اشرف المخلوقات سے کہیں زیادہ ہو جاتا ہے جب کوئی طاقتور اس پر بیٹھتا ہے۔ پسندیدہ کرسی کی خواہش انسان کی انسان سے لڑائی کروا دیتی ہے، خواہ گاڑی، ٹرین یا ہوائی جہاز میں مرضی کی سیٹ کو حاصل کرنا ہو، سرکاری یا پرائیویٹ دفتر میں پسندیدہ عہدے کی گھومنے والی کرسی کی خواہش ہو، اقتدار اور وزارت کی کرسی اچھی لگے یا پھر کسی اور اعلی عہدے کی کرسی پر نظر ٹھہر جائے، نشہ کہیں یا جادو، حقیقت یہی ہے کہ جو انسان کرسی حاصل کر لے اسے کوئی اور نظر نہیں آتا ہے اور جو شخص کسی اور کو طاقتور کرسی پر بیٹھا دیکھ لے تو اس کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔

معاملہ سارا اختیارات کا ہوتا ہے، اگر اختیارات نہیں ہیں تو بڑی سے بڑی کرسی بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی کرسی پر بیٹھے ہوئے انسان کو بھی لوگ سلام نہیں کرتے ہیں جب یہ احساس ہو جائے کہ کرسی خالی ہونے لگی ہے یا پھر کرسی پر بیٹھا ہوا انسان کٹھ پتلی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں کوئی بڑا عہدہ یا یوں کہہ لیں کہ ان کی اوقات سے بلند مقام مل جائے تو انہیں باقی لوگ کمتر اور کیڑے مکوڑے نظر آنے لگتے ہیں۔ دولت، طاقت، اختیار، صحت، خوبصورتی، زندگی، شہرت اور عہدہ اللہ تعالٰی کی عطا کردہ ایسی نعمتیں ہیں جن کا حقدار بننا یا اپنے پاس روک کر رکھنا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے، اس لیے پسندیدہ کرسی کے لئے مخلوق خدا سے نہ لڑیں۔ اس دنیا میں سب کچھ فانی ہے اور ریٹائرمنٹ لازمی ہے، نوکری ہو، اقتدار یا پھر زندگی۔ حاصل پر ناشکری کر کے لاحاصل کے پیچھے نہ بھاگیں اور اس چیز پر غرور نہ کریں جو آپ کی ملکیت نہیں ہے۔

Facebook Comments HS