کسی کو بتانا نہیں!


میری دوست وہ بالکل نہیں تھی نہ ہی جاننے والی۔ وہ تو وانی کی بھی دوست نہیں تھی لیکن اس کے جاننے والی ضرور تھی وہ سب سے پہلے رضی کی دوست بنی تھی۔ لیکن وہ تو امریکہ چلا گیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا رضی کے ساتھ بھی بس نیٹ تک یاری سی۔ میں نے ایک دفعہ اسے کہا بھی تھا یہ کیا بات ہوئی یہ کس طرح کی یاری ہوئی۔ اس نے کہا لوگ نیٹ پہ شادی کرلیتے ہیں تم کیا جانو! ”Out Dated بڈھے“ تو میں آنے خاموشی میں عافیت جانی۔

رضی کی بھی وہ کوئی بہت گہری دوست نہ تھی لیکن دونوں اچھے شناسا ضرور تھے۔ مجھے تو وہ نیٹ پر ملی۔ اس نے لکھا ”میں فرانسیسی ہوں“ ابھی زیادہ اردو نہیں جانتی میں جنوری میں پاکستان تھی (کوئٹہ، پشاور، لاہور ) ۔ نہیں پاکستانی قوم دہشت گرد قوم نہیں ہے۔ لیکن میں بڑی تکلیف اذیت اور کرب سے گزری ہوں۔ میں اپریل میں دوبارہ لاہور آنا چاہتی ہوں۔ میں اپنے ویزے کے انتظار میں ہوں۔ میں ان لوگوں سے ملنا چاہتی ہوں جو مجھے تمہارے ملک ( پاکستان ) کو سمجھنے میں مدد دیں سکیں۔

میں ایک فوٹو گرافر بھی ہوں۔ میں تیزاب گردی کا شکار چہروں ”فیکٹری مزدوروں اور تیسری صنف کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔ لیکن اگر تمہارے خیالات کچھ اور ہیں تو میں تمہاری بہت شکر گزار ہوں گی۔ میرے پہلے بھی کچھ دوست ہیں وہ سب جوان ہیں لیکن اب میں ڈھلتی دھوپ کی چھاؤں میں بیٹھنا چاہتی ہوں۔ میں بھی تمہاری طرح کی عاشق ہوں۔

پھر کبھی کھار اس کے ساتھ نیٹ چیٹ ہونے لگی۔ اس نے بہت ساری باتیں کیں۔ وہ اپنی زندگی کی چالیس بہاریں دیکھ چکی تھی اور میں پچاس۔ دونوں کی باتوں میں جھجک نہیں تھی۔ میں جرنلسٹ تھا مجھے ایسی عورتیں ملتی رہتی تھیں۔ اس نے چند منٹوں میں میرے سامنے اپنی زندگی اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔ مجھے اس کی یہ عادت بہت اچھی لگی لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیا کسی کو بتانا نہ۔ شاید اسی وجہ سے میرا اس کے ساتھ ایک تعلق بن گیا۔ لیکن اس تعلق میں کوئی رشتہ نہیں تھا۔

کوئی عہد کوئی وعدہ نہیں تھا بس اس نے لاہور آنا اور ایک دو دفعہ ملتا تھا۔ شاید ایک دفعہ بھی نہ ملے اسے وقت ہی نہ ملے۔ اور ہوا بھی ایسے ہی۔ وہ مجھے ایک بار ہی لاہور ملی تھی۔ وہ مجھے دوست بھی کہتی تھی۔ لیکن بے تکلف دوست سے بلا تکلف کہنے لگی، وہ زندگی کی تیرہویں بہار دیکھ رہی تھی جب اسے پتہ چلا کہ وہ اپنے والدین کی لے پالک دوست ہے تو گھر سے اپنے والد کے دوست کے ساتھ بھاگ گئی جو خزاں کے قریب تھا۔

جب اپریل میں میں اس سے ملا تو اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے میں نے اسے کریدا اس نے کہا ہاں اس کے ساتھ چند راتیں گزار کر ہی میں مزید آزاد خیال ہوئی۔ میں نے خود ہی اس کے ساتھ سب کچھ کیا۔ لیکن اس کے چہرے پر ذرا برابر حیا، ندامت، افسوس یا پچھتا وال نہیں تھا۔ چیٹنگ کے دوران اس نے بتایا تھا کہ سب سے زیادہ وقت وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہی اور یہ عرصہ بھی سات آٹھ سال سے زیادہ کا نہیں۔ اس شوہر سے وہ ایک بیٹے کی ماں بنی۔ بیٹا اب جوان تھا خاوند کو تو کب کا الوداع کہہ چکی لیکن سال چھ مہینے بعد اس کی مدد ضرور کر دیتی کیونکہ مسلسل بیمار رہنے سے وہ کچھ کمانے کے قابل نہ رہا تھا۔

وہ بھلے سے اپنے والدین کی لے پالک اولاد تھی لیکن پھر بھی اس کے والدین اس کے لیے پیرس میں دو فلیٹ چھوڑ گئے تھے۔ جن کی آمدن پہ وہ عیش کرتی پھر رہی تھی۔ ہر ملک میں اس کے ایک دو عاشق ضرور تھے۔ اس نے بتایا جب میں اس ملک میں جاتی ہوں تو ان سے ملاقات ضرر کرتی ہوں اگر ملاقات نہ کروں تو وہ مجھے دوبارہ یاد بھی نہیں آتے۔

اس نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے کئی سالوں سے ”ایک بوڑھے برگد کے سائے میں ہے جو اس کی ہر ضرورت اور خواہش کو پورا کرنا اپنا مقصد حیات سمجھتا تھا لیکن اب وہ کینسر زدہ ہے اور کینسر اس کے پورے جسم میں سرایت کرچکا ہے۔ اب وہ کسی کام کا نہیں رہا اس لیے وہ ڈپریس ہے لیکن تم یہ بات کسی کو نہ بتا نا! آج لاہور سے جاتے ہوئے ائر پورٹ سے اس کا whatsapp پہ ٹہلتا الوداعی بوسہ موصول ہوا۔

وہ کوئی دو مہینے لاہور رکی مجھے صرف ایک بار دو تین گھنٹے کے لیے ملی ہم ایک مشہور کیفے میں ملے سارا وقت وہ میرے ساتھ اس لاہوری معشوق کی باتیں کرتی رہی جس کے عشق میں وہ آج کل بے حال ہو رہی تھی۔ ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتی رہی کہ وانی کو نہ بتانا۔ میں نے پوچھا تم کیوں کہتی رہتی ہو کہ یہ نہ بتانا وہ نہ بتا نا۔ کہنے لگی مجھے اپنے بیٹے کے سوا کسی کی پرواہ نہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ عشق کسی اور سے کرتی ہے لیکن راتیں کسی اور کے ساتھ گزارتی ہے، جس کے ساتھ عشق تھا وہ لڑکا تھا تینتیس سال کا اور جس کے ساتھ مزے تھے وہ تھا صرف چھبیس سال کا۔

دونوں اس سے بارہ اور بیس سال چھوٹے تھے۔ رات کے راز کے بارے میں اس نے بتایا کہ اگر وہ یہ راز نہ کھولے تو سو نہیں سکتی۔ کیوں کہ وہ عشق میں ہے۔ اور اسے نیند نہیں آئے گی ایسے وہ تھک کر سو جاتی ہے۔ نہیں تو نیند کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں۔ جس سے عشق تھا اس پر راز کھولنے کی خواہش ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کیوں کہ ابھی اس کی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ عورتوں کے ساتھ سونا پسند کرتی ہے یا مردوں کے ساتھ۔ وہ کتھک ڈانسر تھا اور این سی اے سے منی ایچر دی پڑھائی کرچکا تھا۔ پانچ بچے اس نے اپنے اپنے معشوق سے دوبارہ ملنا تھا۔

کیفے میں بیٹھی وہ بے چین ہو گئی۔ کہنے لگی آؤ کسی باغ میں بیٹھتے ہیں۔ ہم ایم ایم عالم روڈ سے کمپنی باغ کی طرف چل پڑے۔ اپریل کا آغاز تھا خوشگوار موسم دھوپ چھاؤں دونوں اچھے لگ رہے تھے۔ اس نے کالا کرتہ، کھلے گلے والا اور کالا پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ کار میں وہ کچھ قریب ہو کر باتیں کرنے لگ پڑی۔ کہنے لگی میرے موبائل کی ریکارڈنگ ہوتی ہے۔ ایک دفعہ وہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کی طرف چلی گئی وہ ایک بلوچ کے ساتھ بھی یاری لگائے بیٹھی تھی۔

لیکن ”اب ہو اس کو مل نہیں سکتی“ تفتیشی اداروں نے اسے پکڑ لیا تھا۔ تقریباً ایک ہفتہ وہ جیل میں بھی رہی۔ اب بھی اسے بڑی مشکل سے ویزا ملا تھا وہ بلوچستان جانے کی خواہش مند ہے۔ ”میرا موبائل انہوں نے لے لیا تھا جب مجھے رہا کیا گیا تو واپس کر دیا تھا، انہوں نے میرے پاکستان کے سارے دوستاں، یاراں دے نمبر نوٹ کر لیے ہوئے ہیں۔“

اصل میں اسے صرف یاریوں اور یاروں کا شوق تھا ”تمہیں ڈر نہیں لگتا“ ”مجھے مزہ آتا ہے“ ۔ مزے کے لیے دیس سے پردیس پھرتی ہوں دو طرح کی تصویریں دیکھتی ہوں ”فیس بک پر میں نے ان کی تصویریں دیکھی تھیں جو ملک کے غریب طبقے کے لوگوں کی تھیں زمین پر سوئے بچے، پہاڑوں کی ضعیف عورتیں، پانی میں نہاتے لڑکے اور مختلف کاموں میں مصروف اور الجھی ہوئی عورتیں ملک کے پسماندہ جگہیں اور پسماندہ لوگوں کی۔

باغ میں ہم چھاؤں میں بیٹھ گئے۔ اسے گاڑی سے اتر کر باغ کے ٹی سٹال تک جاتے ہوئے پسینہ آ گیا اور چہرہ دھوپ میں چمکنے لگا۔ چھاؤں اچھی تھی۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی تمہارے ملک میں رہنا بہت مشکل ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہا پہنوں اور کہاں رہوں۔ اسی لیے میں نے تم سے ملنے کا ارادہ کیا تم جرنلسٹ ہو مجھے بتاؤ۔ لیکن میں اسے سننا چاہتا تھا۔ پھیر وہ خود ہی بانے لگی ”دنیا کی سب سے سستی جگہ کمبوڈیا ہے۔ میں اپنے پیرس والے فلیٹ کے کرائے کے ساتھ وہاں بغیر نوکری کیے سال بھر رہ سکتی ہوں۔

ابھی میں وہاں سے ہی آ رہی ہوں۔ تمہاری ایمبیسی کا افسر مجھ پہ عاشق ہو گیا کہنے لگا میرے ساتھ شادی کرلو۔ پہلے تو ویزہ ہی نہیں دے رہا تھا۔ بار بار چکر لگواتا رہا۔ داڑھی رکھی ہوئی تھی مجھے کہنے لگا اسلام قبول کر لو مسلمان ہو جاؤ اسلام کی باتیں کرتا رہتا میں خاموشی سے سنتی رہتی کیونکہ مجھے تو ویزہ چاہیے تھا۔ پھر شادی کا کہنے لگا میں نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ آخر اس نے ویزہ دے ہی دیا۔ تمہارا کیا خیال ہے؟ ایسے افسروں کا حساب نہیں ہونا چاہیے۔ میرا جی چاہا اس کی یہاں شکایت کر دوں۔“

پھر اس نے اپنے اس یار کا بتایا جس سے ملنے میں لاہور آئی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ وہ میرے ساتھ پیار کرتا ہے کہ نہیں؟ کل میں اس کے گھر والوں سے بھی ملی تھی۔ کبھی مجھے لگتا ہے وہ Gay ہے، مجھے اس کی سمجھ نہیں آ رہی میں بہت مشکل میں ہوں۔ ایک سال ہو گیا ہمیں نیٹ چیٹ کرتے ہوئے مجھے اس سے عشق ہے۔ اس کی خاطر میں یہاں آئی تمہارے سوہنے شہر لاہور۔ اس کی خاطر ویزے کے لیے منتیں کیں ایمبیسی کے اس مولوی افسر کی جو مجھے پہلے مسلمان کرنا اور پھر میرے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا۔

اب وہ میری کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ اب میں نے اسے یہاں باغ میں ہی بلا لیا ہے۔ درمیاں میں وہ موبائل پر میسج بھی کرتی جا رہی تھی، لائبریری کے پاس کھڑا ہے۔ جہاں ہم بیٹھے ہوئے تھے وہاں سے وہ جگہ قریب ہی تھی۔ لیکن میں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ تم میرے ساتھ ہوں۔ یک دم وہ کھڑی ہوئی۔ مجھے تم بھی پسند ہو۔ شاید ہم دوبارہ ملیں شاید۔ کسی کو بتانا نہ کہ ہم یہاں ملے تھے۔

میں اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا، سفید شاندار لائبریری کے سامنے اس کا کالا سوٹ کتنی دیر نقطے کی طرح نظر آتا رہا۔ بالا آخر وہ لڑکا بھی اسے مل ہی گیا۔ لیکن زیادہ دور ہونے کی وجہ سے میں اسے دیکھ نہ سکا۔ اس نے ایک دفعہ بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اس کے اندر اپنے ہونے کا اعتماد تھا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انہونی کا ڈر بھی تھا۔ جو شاید سبھی پردیسیوں کو ہوتا ہے۔

اگلے دن اس کا واٹس اپ ملا تمہارے ساتھ ملنا اچھا لگا۔ کسی کو میرے پیار کے متعلق نہ بتانا۔ تمہارے ساتھ ملنا مبارک ساتھ ہوا کیونکہ مجھے میری جان میرا پیار کل مل گیا اور میرا معشوق بن گیا۔ میں بہت خوش ہوں۔ اس نے بتایا کہ وہ ہمیشہ دلگیر رہتی ہے۔ کیونکہ اسے لگتا ہے دلگیری ہمیشہ رہنے والی حالت ہے اور خوشی چند پل کی ہوتی ہے۔ میں نے اسے لکھا ”زیادہ خوش نہ ہونا، دلگیری کو یاد رکھنا“ اس نے دو تین دن بعد لکھا : ”جواب دینے کا بھی وقت نہیں۔ دلگیر ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے، کئی ہفتوں کے بعد اس کا ایک میسج ملا۔ چترال میں یہ دن میری زندگی کا سب سے زیادہ خوشی کے دن ہیں۔ میں ابھی بھی بادلوں میں ہوں۔ زمین پر پاؤں رکھنا مشکل لگ رہا ہے۔ مجھے امید ہے تم ٹھیک ہو گئے۔“

اسکے بعد وہ مجھے ایک دو بار ملی، ملی نہ کہو نظر آئی کسے ثقافتی میلے میں جیسے ہندوستانیوں کے یا کوئی آؤٹ قلم دیکھتے ہوئے لیکن وہ انجان رہتی اور مجھے سمجھ آ گیا کہ وہ کیوں مجھے پہچاننا نہیں چاہتی۔

Facebook Comments HS