مثبت نفسیات اور گرین زون کا فلسفہ

عائشہ اسلام کا خط
۔ ۔
کچھ دن پہلے میں نے ہارورڈ یونیورسٹی کا ایک آن لائن کورس: ”Managing Happiness“ (Happiness is within your control. Write your own ending.) مکمل کیا ہے۔ اس کورس میں ”مثبت نفسیات“ کے مضمون کو پڑھنے کے بعد میرے دل میں آپ کو یہ خط لکھنے کی آرزو پیدا ہوئی۔ پازیٹیو سائیکالوجی تھیوری یا نظریہ مثبت نفسیات مارٹن سلیگ مین نے تقریباً پچیس برس قبل تشکیل دیا جب وہ امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن کے صدر بنے۔ سلیگ مین کے بقول وہ اس امر سے غیر مطمئن تھے کہ نفسیات کا کام محض دکھوں، غموں، ذہنی امراض اور تکالیف سے نپٹنا ہے۔ وہ دیکھتے تھے کہ نفسیات صرف انسانوں سے یہی سوال کرتی ہے کہ ان کی زندگی میں خراب اور غلط کیا ہے۔ اور پھر ان منفی پہلوؤں کا علاج کر کے ان کو رفع کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ سلیگ مین کہتے ہیں کہ برسوں بطور کلینیکل سائیکالوجسٹ کام کرنے کے دوران جب وہ کسی پریشان اور دکھی مریض کا کامیابی سے علاج کر لیتے تو وہ امید کرتے کہ ان کا مریض اب خوش و خرم رہنے لگے گا لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اگرچہ وہ شخص اب پریشان یا غمگین نہیں تھا مگر وہ خوش اور پرجوش بھی نہیں ہوتا تھا۔ وہ دکھ اور مسرت کی درمیانی حد ”خالی پن“ کو چھونے لگتا اور ایک خالی انسان بن جاتا جس کی ذہنی کیفیت غم یا خوشی، دونوں طرح کے احساسات سے مبرا ہوتی۔ یہاں جا کر سلیگ مین کو نفسیات کے دائرہ کار کی تنگی کا اندازہ ہوا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ صرف غموں کا ختم ہو جانا ہی خوشی نہیں ہے۔
مارٹن سلیگ مین چاہتے تھے کہ نفسیات صرف دکھوں اور ذہنی بیماریوں کے علاج تک محدود نہ رہے۔ بلکہ یہ خوش باش اور ذہنی طور پر صحت مند افراد کے معاملات کو دیکھے، پرکھے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وہ کیا ہے جس نے ان افراد کو خوش اور مطمئن رکھا ہوا ہے تاکہ باقی افراد بھی ان جیسی سرگرمیوں یا عادات کو اپنی زندگی میں شامل کر کے پہلے سے زیادہ بہتر، خوش اور پرسکون زندگی گزار سکیں۔ یوں ”مثبت نفسیات“ کی بنیاد رکھی گئی جو لوگوں کی زندگیوں کو خوشحال اور بھرپور جیے جانے کے قابل بنانے والے عناصر کے مطالعہ کا نام ہے۔
یعنی جس طرح جم (ورزش گاہ) کے اندر جم ٹرینر ایک صحت مند جسم کو ورزش کے ذریعے مزید صحت مند اور سڈول جسم میں ڈھالتا ہے بالکل اسی طرح نظریہ مثبت نفسیات لوگوں کو پہلے سے زیادہ خوش اور پرسکون رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے نئی عمارت بنانے کے بجائے ایک کھڑی عمارت کو مضبوط تر بنانے اور اسے سنوارنے کی کوشش کا نام ہے۔
جیسے جیسے میں کورس میں آگے بڑھتی گئی اور میں نے نظریہ مثبت نفسیات کو مزید گہرائی اور گیرائی سے پڑھا اور سمجھا تو میں یہ جان کر حیران رہ گئی کہ نظریہ مثبت نفسیات کے اصول میں پچھلے تین سال سے اپنی زندگی میں لاگو کیے ہوئے ہوں۔
ڈاکٹر خالد سہیل! آپ کا دیا گیا فلسفہ گرین زون سلیگ مین کے نظریہ مثبت نفسیات سے اس لحاظ سے بہت مشابہ ہے کہ یہ کسی بھی فرد کو رنجیدگی، ناخوشی اور غم و غصے کی کیفیت سے نکل کر زیادہ سے زیادہ خوش رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ انسان کو اس کے ییلو اور ریڈ زون سے نکل کر گرین زون میں رہنے کا عادی بناتا ہے۔ گرین زون ایک فرد کا دائرۂ خوشی اور سکون ہے۔ میں ذاتی طور پر گرین زون فلسفہ سے بہت متاثر ہوں اور اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بعد پہلے سے بڑھ کر خوش اور پرجوش رہنے لگی ہوں۔ اسی فلسفے نے مثبت نفسیات کو میرے لیے آسانی سے سمجھے جانے کے قابل بنایا۔
کسی بھی انسان دوست شخصیت کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اور خوشی انسانوں کے دکھوں کو کم کرنا اور ان کی خوشی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسا انسان ہمیشہ اس دھن اور لگن میں ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح انسانوں کی اجتماعی مدد کر سکے۔ وہ کوئی کتاب لکھتا ہے، جسے پڑھ کر باقی انسان اپنے لیے کوئی راہ منتخب کرنے کے فیصلے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔ کوئی ساز ایجاد کرتا ہے، جسے سن کر غم کا بوجھ دل پر سے سرکنے لگتا ہے۔ کوئی فلسفہ یا اچھوتا آدرش پیش کرتا ہے جو لوگوں کے لیے ان کی زندگی کے معنی اور طرز تبدیل کر دیتا ہے۔
ڈاکٹر دوست! آپ نے گرین زون فلسفے کے ذریعے انسانوں کو اپنی مدد آپ کرنا سکھایا ہے، آپ نے انسانوں کے لیے ان کی زندگی کی راہیں متعین کرنے کی سہولت مہیا کی ہے، ان کے دکھوں اور غموں کی شدت کو کم کرنے کی سعی کی ہے اور ان کو یہ سوچ دی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا معنی اپنی پسند سے چنیں۔ میں ذہن و دل کی تمام تر گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے ہمیں فلسفہ گرین زون سے متعارف کروایا۔ آپ ہمارے لیے خضر راہ ثابت ہوئے ہیں۔
میری تمنا ہے آپ حیات خضر سے سرفراز ہوں اور انسانوں کے لیے مسلسل روشنی اور رہنمائی مہیا کرتے رہیں۔
عائشہ اسلام
……………………………………..
ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب
۔ ۔ ۔
محترمہ عائشہ اسلام صاحبہ
آپ نے جس اپنائیت ’محبت اور چاہت سے مجھے خط لکھا ہے میں اس کے لئے تہ دل سے شکر گزار ہوں۔ آپ گرین زون کمیونٹی کی جس طرح بے لوث خدمت کرتی ہیں وہ قابل صد تحسین ہے۔ میں آپ سے متفق ہوں کہ مثبت نفسیات اور گرین زون فلسفے میں چند خصوصیات مشترک ہیں۔ روایتی طب اور نفسیات صرف جسمانی و ذہنی بیماریوں کی تشخیص اور علاج پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں مثبت نفسیات اور گرین زون کا فلسفہ زندگی کو خوشحال اور پرسکون بنانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔
گرین زون فلسفے کے مطابق گرین زون طرز زندگی کی طرف تین اقدام جاتے ہیں
CREATING, SHARING AND SERVING
پہلے قدم میں انسان اپنے اندر چھپے تخلیقی تحفے کو جاننے اور پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی مثال شاعری بھی ہے موسیقی بھی اچھا کھانا پکانا بھی ہے، باغبانی بھی۔
دوسرا قدم اپنے تخلیقی تحفے میں دوستوں اور عزیزوں کو شریک کرنا ہے۔ ایسا کرنے سے انسان کا ایک حلقہ احباب بنتا ہے جسے میں فیملی آف دی ہارٹ کا نام دیتا ہوں۔
تیسرا قدم خدمت خلق ہے۔ مری نگاہ میں جب ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو ہم اپنی مدد بھی کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے شہر میں ایک SAINT VINCENT ’S KITCHEN جو پاکستانی لنگر کی طرح ہے جہاں بھوکے مرد اور عورتیں جب چاہیں جا کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ وہ کچن بنانے والے یہ چاہتے تھے کہ ان کے شہر میں کوئی مرد یا عورت ’بچہ یا بوڑھا رات کو بھوکا نہ سوئے۔ میرے کئی مریض گرین زون فلسفے پر عمل کرتے ہوئے اس کچن میں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ وہ ہر ہفتے ان بھوکوں اور غریبوں کی خدمت کے لیے چند گھنٹوں کا تحفہ دیتے ہیں۔
ہر ملک اور ہر قوم میں چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بیمار یا معذور ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو دوسرے انسانوں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندہ قومیں ان بیمار و معذور لوگوں کا خیال رکھتی ہیں۔ کینیڈا میں معذوروں کے لیے خاص پارکنگ اس کی ایک مثال ہے۔ انسان دوست قومیں جانتی ہیں کہ جسمانی و ذہنی طور پر بیمار اور معذور لوگ معاشرے کی کمزور کڑی ہوتے ہیں اور کوئی بھی زنجیر اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنی اس کی کمزور ترین کڑی
A CHAIN IS AS STRONG AS THE WEAKEST LINK
عائشہ اسلام صاحبہ
مجھے مثبت نفسیات کے بارے میں خط لکھنے اور گرین زون فلسفے کے بارے میں کالم لکھنے کی تحریک دینے کا شکریہ۔
اپنا خیال رکھیں
آپ کا ادبی دوست
خالد سہیل

