شعری ہیئت اور معنویت


مشرقی تنقید میں یہ خیال عام یہ ہے کہ اعلیٰ قسم کی شاعری وہی ہو سکتی ہے جو بعض اصول و ضوابط پر پوری اترتی ہو اور اس کا معیار وزن اور ترنم کے تقاضوں کی تکمیل سے قائم کیا جاتا ہے۔ اس نظریہ میں ایک خامی یہ محسوس ہوتی ہے کہ اس سے شعری آہنگ کا تعلق محض الفاظ کی صوتی بنیادوں تک محدود رہ جاتا ہے اور قاری کے ذہن پر اس کا اثر قائم نہیں ہو پاتا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ حسین اور بے ساختہ ترنم و آہنگ میں جو امتیاز محسوس ہوتا ہے اس کا تعلق محض آوازوں کے زیر و بم سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا اثر گہرائی تک جاتا ہے۔

چنانچہ الفاظ کی معنوی خصوصیات اور اس کے تاثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس نکتہ کو مثال کے طور پر آسانی سے اس طرح ذہن نشین کیا جا سکتا ہے کہ اگر کسی مشین کی مدد سے اشعار کے اتار چڑھاؤ کو کاغذ پر اتارا جا سکے تو بھدی آوازوں اور خوب صورت نغموں کا فرق اس سے پوری طرح واضح ہو جائے گا اور اس طرح الفاظ کی حسی بنیادیں بھی ابھر کر سامنے آ جائیں گی جن کے تاثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

یہ حقیقت ہے کہ شاعری کے اہم اقتباسات میں حسن ہی ان کی بہت بڑی خوبی نظر آتی ہے۔ چنانچہ اس کی مثال کے طور پر اس طرح کا ٹھوس ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی حساس سامع جو سرائیکی زبان سے واقف نہیں ہے پھر بھی وہ سائیں ایشو لال فقیر کی شاعری سنتا ہے تو اس کے آہنگ سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیوں کہ اس کی اس صوتی خصوصیات سے حسن ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ یہ مثال دل چسپ ضرور ہو سکتی ہے لیکن اس میں جو کمی پائی جاتی ہے اس سے کسی قطعی نتیجے تک پہنچا مشکل ہو جاتا ہے ۔

قاری جو کچھ پڑھتا ہے وہ اسے پوری طرح سمجھتا بھی ہے جب کہ ایسا سامع جو اس زبان کی لطافت سے واقف نہیں ہے وہ اسے محض قاری کی آواز اور اس کے انداز سے محسوس کرتا ہے۔ جس آہنگ سے ہم حقیقت میں متاثر ہوتے ہیں وہ محض الفاظ کی آواز پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ سماعی تسکین کے ساتھ ساتھ اس کی حسی و جذباتی کیفیت بھی شامل رہتی ہے اسی سے خیالات و تاثرات پیدا ہوتے ہیں اور ذہنی لطافت یا سبلائم حاصل ہوتی ہے۔

اس سے یہ مقصد نہیں ہے کہ شاعری میں صوتی آہنگ کو جو اہمیت حاصل ہے اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ درحقیقت اس کی کافی اہمیت ہے لیکن آہنگ اور وزن کے سلسلے میں سارا انحصار اسی پر نہیں ہوتا۔ یہ ایک طرح کا ہڈیوں کا ایسا ڈھانچہ ہوتا ہے جس پر قاری گوشت پوست چڑھا کر خوب صورت لباس سے مزین کر دیتا ہے۔ لیکن اگر اس ڈھانچے کے اعضاء بکھرے ہیں یا قاری کے ذہنی و جذباتی تقاضوں کو تسکین نہیں بخشتے تو اسے کوئی شکل نہیں دی جا سکتی۔ ایسی حالت میں شاعری کے آہنگ کو تبدل کرنا ضروری بن جاتا ہے چاہے لفظی ترتیب میں کوئی فرق پیدا نہ کیا جائے۔

اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شاعری میں موذنیت اور صوتی آہنگ غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں جس پر اعلیٰ شاعری کا انحصار ہے لیکن جن الفاظ کی ترتیب میں ذہن و جذبہ کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے تو پھر وزن اور تاثرات کے اسی امتزاج سے نظم کا حسین و دل کش پیکر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ ایسے قاری جو سائیکل کے پہیوں کی طرح کسی نظم میں مخفی وزن، بحر کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ کس منزل کی طرف جا رہے ہیں وہ اعلیٰ شاعری کی خصوصیات تک آسانی سے نہیں پہنچ سکتے کیوں کہ جب تک الفاظ کی حسی کیفیت کو سمجھا نہیں جائے گا اس وقت تک وزن اور بحروں کی تلاش اور ان کا ربط بھی مکمل تسکین نہیں دے سکتا۔

اس خیال کی وضاحت کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر شعری ہیئت اور جمالیاتی کیف کے لئے محض الفاظ کی ظاہری ترتیب و ساخت پیش نظر رکھی جائے اس کی معنوی حیثیت کو اہمیت نہ دی جائے تو اکثر بے ربط اور بے معنی بندش بھی شاعری کے معیار پر پوری اتر سکتی ہے البتہ بنیادی چیز یہ ہے کہ الفاظ کا آہنگ اور ان کی ترتیب کے ساتھ ساتھ جذباتی و حسی تاثر پیدا ہونا ضروری ہے اور انہی دونوں عناصر کے امتزاج سے شاعری کا اعلیٰ معیار قائم کیا جا سکتا ہے۔ آواز یا آہنگ کی اہمیت کو یکسر نظر انداز کر دینا بہت بڑی حماقات ہو گی۔

درحقیقت معنی اور ہیئت میں اگر معنوی حیثیت سے کوئی خامی موجود ہوتی ہے تو آہنگ اور وزن اس کمی کو پورا کر دیتے ہیں اور اسی طرح اگر آہنگ میں کمی کا احساس ہوتا ہے تو اسے معنوی بلندی سے دور کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ نتیجہ قائم کرنے میں تامل نہ ہو گا کہ شاعری میں اسٹائل کی بلندی کا راز ان دونوں کے ایک دوسرے سے گہرے تعامل میں پوشیدہ ہے۔ دراصل مواد اور ہیئت کی امتیازی حیثیت کو الگ الگ ایسا بحث طلب مسئلہ بنا دیا گیا ہے کہ ان کا فطری اور ناگزیر تعاون فراموش ہوتا جا رہا ہے اور یہی چیز شعری معیار کو پرکھنے میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

Facebook Comments HS