پین امریکن ایئر لائن اور امریکی ڈالر


اکتوبر 1973 میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان ایک جنگ لڑی گئی اس جنگ کو جنگ رمضان اور جنگ یوم کپور بھی کہتے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں عرب ممالک نے اسرائیل کی حمایت کرنے والے امریکہ سمیت دیگر یورپی ممالک کو تیل کی برآمد بند کردی اور یہ پابندی ایک سال تک جاری رہی۔ اس دوران پوری دنیا تیل کے بحران میں مبتلا ہو گئی اور پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں 400 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔ عالمی صنعت، تجارت اور ٹرانسپورٹیشن کا نظام اس اضافے سے بری طرح متاثر ہو گیا۔

کاریں، بسیں، ٹرک، دیوہیکل بحری جہاز، ریل گاڑیاں اور فضا میں پرواز کرنے والے طیارے اس اضافے سے بے انتہا متاثر ہوئے۔ اس وقت امریکہ کی سب سے بڑی ائر لائن، پین امریکن تھی یہ ائر لائن اپنے مسافروں کو شاندار خدمات فراہم کرتی تھی۔ اس کے پاس اس زمانے کے سب سے دیوہیکل اور شاندار طیاروں کا ایک وسیع بیڑا موجود تھا۔ اور یہ طیارے طویل فاصلوں کی پروازیں، درمیان میں رکے بغیر کر سکتے تھے مگر ان طیاروں کو عام طیاروں کے مقابلے میں زیادہ ایندھن کی بھی ضرورت ہوتی تھی۔ دنیا میں ہوائی جہاز کی پہلی پرواز کا مظاہرہ تو 1903 میں کیا گیا تھا لیکن پہلی کمرشل ائر لائنز کا قیام 1914 میں ممکن ہوا جبکہ پین امریکن ائر لائنز 1927 میں وجود میں آئی۔

یہ ائر لائن 50 سال تک دنیا کے فضاؤں پر حکمرانی کرتی رہی۔ پین ایم کو جدید ہوائی سفر کی متعدد خصوصیات کے علمبردار کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ یہ دنیا کی پہلی ائر لائن تھی جس نے مختلف قسم کے ریکارڈ قائم کیے یہ پہلی ائر لائن تھی جس نے اکانومی کلاس شروع کی امریکہ سے بحرالکاہل کے اس پار بھی پہلی پرواز پین ایم کی تھی۔ اپنے عروج کے دور میں اس کی پروازیں انٹارکٹیکا کے علاوہ پوری دنیا کا احاطہ کرتی تھیں۔ 1945 میں امریکی صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ اور پین ایم کے صدر کی ملاقات ہوئی۔

صدر امریکہ نے بتایا لاطینی امریکہ کو ترقیاتی کاموں کے لیے ڈالروں کی اشد ضرورت ہے دونوں کا خیال تھا کہ سیاحوں اور تاجروں کو ان ممالک کی طرف راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لاطینی امریکہ کے اہم شہروں میں لگژری ہوٹل تعمیر کئے جائیں۔ روز ویلٹ نے درخواست کی کہ پین ایم لاطینی امریکہ میں 5000 ہوٹلوں کے کمرے تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر لے۔ جس کی متوقع لاگت پانچ کروڑ امریکی ڈالر تھی اس سال پین ایم کا منافع 30 لاکھ امریکی ڈالر تھا۔

چنانچہ امریکی صدر کی سفارش پر بنکوں سے ایک بڑے قرضے کا انتظام کیا گیا۔ پین ایم نے اس منصوبے کے لئے ایک ذیلی کمپنی کی بنیاد رکھی گئی جس کا نام انٹر کانٹی نینٹل ہوٹلز رکھا گیا۔ پاکستان میں بھی ساٹھ کی درمیانی دہائی میں پانچ انٹر کانٹی نینٹل ہوٹلز تعمیر کیے گئے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دنیا میں انٹر کانٹی نینٹل ہوٹلز کی تعداد 208 تک پہنچ گئی۔ 70 کی دہائی کے ابتدائی سال میں پین ایم کی ایک پرواز جو دنیا کی سب سے طویل پرواز کہلاتی تھی کراچی میں بھی رکتی تھی یہ پرواز امریکہ کے انتہائی مغربی علاقے لاس اینجلس سے شروع ہوتی تھی اور براستہ نیویارک، لندن، فرینکفرٹ، قاہرہ، کراچی، دہلی، بنکاک، ہانگ کانگ، منیلا اور ٹوکیو تک جاتی تھی۔

1970 میں ہی پین امریکن ائر لائن نے 11 ملین مسافروں کو دنیا کے 86 ممالک تک پہنچایا تھا۔ ہزارہا کامیاب کمرشل اور منافع بخش پروازوں کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے پین ایم کی منافع کی شرح کم سے کم تر ہوتی چلی گئی اور سال 1991 کے وسط میں کمپنی بالکل ہی دیوالیہ ہو گئی اور اس نے اپنے تمام فلائٹ آپریشن بند کر دیے۔ اس طرح یہ عظیم الشان ائر لائن جو امریکہ کا فخر ہوا کرتی تھی قصہ پارینہ بن گئی۔ جبکہ ہوٹلز انٹر کانٹی نینٹل کو پین ایم پہلے ہی فروخت کرچکی تھی۔

جس طرح 70 کی دہائی میں پین امریکن ائرلائن دنیا کی ایک عظیم ائر لائن بن کر آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی تھی آج یہی حال امریکن ڈالر کاہے جو اس وقت بلامبالغہ دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط کرنسی ہونے کا اعزاز رکھتی ہے۔

یہ بات ہے 1944 کی ابھی دوسری جنگ عظیم جاری تھی، یورپی کرنسیوں کی ساکھ خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی تھی یہ کرنسیاں بین الاقوامی لیکویڈیٹی کی ضروریات پورا کرنے سے قاصر تھیں۔ خاص طور پر دو عالمی جنگوں کی وجہ سے برطانیہ کے سونے کے ذخائر بے انتہا نچلی سطح پر پہنچ گئے تھے۔ اور دنیا ابھی تک 1930 کی عظیم کساد بازاری کے اثرات سے پوری طرح نہیں نکل پائی تھی۔ دنیا کے ممالک خاص طور پر یورپی ممالک کو شدید احساس تھا کہ عالمی معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ نیا عالمی معاشی نظام تشکیل دیا جائے جو مستحکم بنیادوں پر استوار ہو۔

1944 میں دنیا میں امریکی ڈالر ہی سب سے زیادہ مستحکم تھا اور امریکی حکومت جتنے ڈالر چھاپتی تھی تو ایک خاص شرح سے ان ڈالروں کے مقابلے میں اپنے قومی خزانے میں سونا محفوظ کر لیتی تھی اور ہر 35 ڈالر کے مقابلے میں ایک اونس سونا امریکی حکومت کے خزانے میں رکھ دیا جاتا تھا۔ ان تمام حالات کا ادراک کرتے ہوئے 20 جولائی 1944 کو بریٹن ووڈس نیوہیمیپشائر میں 44 ممالک کے مندوبین نے ایک معاہدہ پر دستخط کیے جس کے تحت سونے کے تبادلے کا معیار مقرر کیا گیا اور امریکی ڈالر کو سونے کے بدلے واحد ریزرو کرنسی ڈکلیئر کر دیا گیا۔

اس معاہدے پر باضابطہ طور پر دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر دستخط کیے گئے۔ آج بھی امریکی ڈالر بنیادی طور پر معیاری کرنسی کی اکائی ہے جس کو بین الاقوامی تجارت میں ادائیگیاں کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی ڈالر کئی ممالک میں سرکاری کرنسی بھی ہے اور بہت سے ممالک میں ڈی فیکٹو کرنسی ہے حالانکہ 1971 کے بعد سے امریکہ اب اپنے چھاپے ہوئے ڈالروں کے مقابلے میں سونا محفوظ نہیں رکھتا اس کے باوجود وہ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

آج ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جب دنیا کے ہر شعبے میں بے انتہا تبدیلیاں ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ چین، روس اور بھارت دنیا کی نئی بڑی طاقتیں بن کر ابھر رہی ہیں لیکن ان سب ممالک کو اپنی باہمی تجارت اور ساری بین الاقوامی تجارت امریکی ڈالر میں کرنی پڑتی ہے۔ جس کی وجہ سے عالمی معیشت پر امریکہ کی اجارہ داری ہنوز قائم ہے اور امریکہ جب چاہے کسی بھی ملک پر معاشی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج کے ڈالر کا یہ عروج پین امریکن کی طرح زوال پذیر نہ ہو جائے۔ کیونکہ برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے ابھرتے ہوئے معاشی ہیوی ویٹ گروپ میں شامل ممالک نے مبینہ طور پر باہمی تجارت اپنی کرنسی میں کرنے کی کوشش شروع کردی ہیں جس کا مقصد ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرنی ہے جس کے تحت ان کو اپنی باہمی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ڈالر اور یورو ہر انحصار نہ کرنا پڑے۔ ہندوستان اور روس نے ہندوستانی روپے اور روسی روبل میں باہمی تجارت کرنے کا طریقہ کار وضع کر لیا ہے۔ چین اور برازیل نے اپنی اپنی قومی کرنسیوں میں باہمی تجارت شروع کر دی ہے۔ چین ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے برازیل کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے ان دونوں کی باہمی تجارت نے گزشتہ سال 150 بلین ڈالر کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

یہ تو نہیں ہو سکتا کہ امریکی ڈالر عالمی معیشت میں راتوں رات اپنا مقام کھو بیٹھے لیکن مستقبل میں دھیرے دھیرے ڈالر کی اجارہ داری کم سے کم تر ہو سکتی ہے۔ وہ ممالک جو اپنی ملکی کرنسی میں باہمی تجارت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے ہیں ان کو اپنے اقدامات کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے بہت سے نئے اور انقلابی معاشی اور تجارتی طریقہ کار وضع کرنے پڑیں گے۔ تازہ ترین خبر یہ بھی ہے کہ برکس ممالک کا گروپ بین الاقوامی ادائیگیوں کے لئے ایک بالکل نیا ذریعہ بنانے میں مصروف ہیں یہ ایک بالکل نئی کرنسی ہوگی جس کو سونے اور دیگر قیمتی معدنیات کا استعمال کرتے ہوئے مستحکم اور محفوظ بنایا جائے اور اس کو بین الاقوامی معیشت میں ڈالر کے متبادل کرنسی کے طور پر رائج کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Facebook Comments HS