ہم سب مختلف ہیں اور یہی اس دنیا کی خوبصورتی ہے!


بل گیٹس کو کون نہیں جانتا۔ مائکروسافٹ کمپنی کا بانی اور دنیا کے دس امیر ترین آدمیوں میں سے ایک جس کی دولت تقریباً 114 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ لیکن آپ کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ بل گیٹس آج بھی سونے سے پہلے اپنے برتن خود دھو کر سوتا ہے۔ بل گیٹس نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ بتایا کہ برتن دھونے سے اس کو عجیب سا سکون ملتا ہے اور وہ ہر رات سونے سے پہلے اپنے برتن اور پلیٹیں خود صاف کرتا ہے۔ صبح جلدی اٹھتا ہے اور ایک گھنٹہ ورزش کرتا ہے۔

دوسری طرف امیزون کمپنی کا مالک اور دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص جیف بیزوز کبھی صبح جلدی نہیں اٹھتا۔ وہ کبھی الارم نہیں لگاتا اور پوری طرح آٹھ گھنٹے کی نیند لیتا ہے اور آٹھ بجے اٹھتا ہے۔ وہ کوئی میٹنگ علی الصبح نہیں رکھتا۔

مشہور اداکار آرنلڈ شوازنیگر ہر روز پانچ بجے صبح اٹھتا ہے۔ اپنے لئے کافی بناتا ہے، خبریں پڑھتا ہے۔ پھر ورزش کرتا ہے۔ رات کو سونے سے دو گھنٹے پہلے آرنلڈ کسی کاروباری معاملے پر گفتگو نہیں کرتا۔ وہ رات کو سونے سے دو گھنٹے پہلے اپنے کسی سیاسی اور لین دین کے بارے میں نہیں سوچتا تاکہ رات کو اچھی نیند آ سکے۔

اسی طرح وارن بفٹ دنیا کا چھٹا امیر ترین شخص ہے جس کی دولت تقریباً 111 ارب ڈالر ہے۔ یہ ابھی بھی امریکہ میں اپنے تیس سالہ پرانے گھر میں رہتا ہے جو غالباً اٹھارہ سو اسکوائر فٹ پر محیط ہے۔ وارن بفٹ کی عمر 92 سال ہے۔ اس کا سب سے پسندیدہ کھانا مکڈونلڈ کا برگر اور کوک ہے۔ یہ کافی عرصے سے کوک کا شوقین ہے اور صبح اٹھنے کے بعد اس کا سب سے پہلا کام اپنے فرج سے کوک نکال کر پینا ہے۔ اس کے بعد یہ مکڈونلڈ کا ناشتہ کرتا ہے جس کی قیمت دو سے تین ڈالر ہے۔ یہ دن میں تین سے چار کوک پی جاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ زندگی کو چھ سال کے بچے کی طرح جینا چاہیے۔

یہ تو کچھ مثالیں تھیں جن کا مقصد آپ کو یہ بتانا تھا کہ ہم سب مختلف ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کامیاب لوگوں کو اپنی زندگی کا نمونہ بنا کر اور ان جیسی عادات اپنا کر ہم بھی کامیاب ہو جائیں گے تو یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ آپ ان کی کتابیں ضرور پڑھیں اور رہنمائی بھی لیں مگر یہ یاد رہے کہ آپ کی اپنی طبیعت ہے، مزاج ہے، صلاحیت ہے۔ بل گیٹس رات کو برتن دھوتا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ کی طبیعت کو وہ ناگوار گزرے۔ وارن بفٹ اس ضعیفی میں بھی پیپسی کوک پیتا ہے اور برگر کھاتا ہے جو کہ صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔ اگر وارن بفٹ کی دیکھا دیکھی کوئی دوسرا 90 سالہ شخص بھی یہ کرنا شروع کر دے تو ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ ہی مہینوں میں ملک عدم تک پہنچ جائے۔

کامیاب لوگوں کی عادتوں سے مرعوب ہونا چھوڑ دیجئے۔ ان کی زندگی کی عادتیں ان کی طبیعت اور مزاج کے مطابق ہیں۔ کبھی کبھی دوسروں کے نقش قدم پر چلنے سے فائدے کی بجائے نقصان بھی ہو جاتا ہے۔ میری بات کو دو دوستوں کی اس کہانی سے سمجھ لیجیے جو میں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دیکھی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ دو دوست آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ایک دوست شادی شدہ تھا اور دوسرا غیر شادی شدہ۔ غیر شادی شدہ اپنے شادی شدہ دوست سے پوچھتا ہے کہ یار ایک بات بتاؤ۔

میں نے ہمیشہ تمہاری بیوی کو تمہارے آگے پیچھے پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ تمہاری بیوی تمہاری بہت عزت کرتی ہے۔ یہ سب تم نے کیسے کیا؟ اس کا کیا گر ہے؟ شادی شدہ دوست نے جواب دیا کہ دیکھو تمہیں تو معلوم ہے کہ میں نے زندگی میں کبھی سگریٹ نہیں پی۔ لیکن شادی کی پہلی رات جب میں کمرے میں داخل ہوا تو میری بیوی میرا انتظار کر رہی تھی۔ میں نے منہ دکھائی دینے کے بعد کچھ باتیں کی اور پھر جیب سے سگریٹ نکال کر پینا شروع کر دی۔

میری بیوی پہلے تو تھوڑا صبر کرتی رہی پھر مجھے سے مخاطب ہوئی کہ آپ پلیز سگریٹ نہیں پئیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں سگریٹ نہیں چھوڑ سکتا۔ میری بیوی نے جواب دیا کہ کیا آپ میری خاطر بھی سگریٹ نہیں چھوڑ سکتے؟ بس یہ سننا تھا کہ میں نے سگریٹ بجھائی اور جواب دیا کہ لو تمھارے لئے سگریٹ بھی چھوڑتا ہوں۔ بس وہ دن اور آج کا دن ہے تیری بھابھی میری محبت میں گرفتار ہے۔ دوسرا غیر شادی شدہ دوست بڑے انہماک سے یہ سب باتیں سن رہا تھا۔

کچھ عرصہ گزرا تھا کہ دوسرے دوست کی بھی شادی ہو گئی۔ اس نے بھی سگریٹ کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ شادی کی پہلی رات وہ اپنے کمرے میں پہنچا۔ اس کی نئی نویلی دلہن اس کا انتظار کر رہی تھی۔ پہلے اس نے منہ دکھائی دی اور کچھ باتیں کرنے کے بعد جیب سے سگریٹ نکال لی اور پینے لگا۔ پانچ منٹ تک تو نئی نویلی دلہن ادھر ادھر دیکھتی رہی اور برداشت کرتی رہی۔ تھوڑی دیر کے بعد دلہن نے بولا ”اگر یہ ڈن ہل ہے تو ایک مجھے بھی دے دیں“ !

Facebook Comments HS