کندیرا کی موت
اس کالم میں اکثر میلان کندیرا کا ذکر رہا ہے۔ عرصہ ہوا میں اسے تقریباً بھول چکا تھا۔ بدھ کی سہ پہر مگر موبائل فون پر سرسری نگاہ ڈالنے کے بعد اس کی موت کی خبر ملی تو دل اداس ہو گیا۔ کندیرا کا شمار ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جس کے ناولوں نے میری سوچ کو 1990 ء کی دہائی میں حیران کن انداز میں بدل دیا تھا۔ ایک پڑھے لکھے دوست سے خبر ملی کہ ان دنوں چیکو سلاوکیہ کہلاتے ملک سے تعلق رکھنے والا ایک ناول نگار ہے۔ کمیونسٹ نظام سے فرار ہو کر پیرس میں جلاوطن ہوا بیٹھا ہے۔ اس نے ایک زبردست ناول لکھا ہے۔ عنوان ہے اس کا The Unbearable Lightness of Being اس عنوان کا اردو ترجمہ میرے بس سے باہر ہے۔
بہرحال اپنے دوست کے ادبی ذوق پر مجھے اندھا اعتماد تھا۔ کافی کوشش کے بعد اس کا یہ ناول ڈھونڈا۔ اسے پڑھنا شروع کیا تو تمام رات جاگتے ہوئے اسے ختم کرنے کو مجبور ہو گیا۔ چند ہی دنوں بعد اسی ناول پر بنائی ایک فلم بھی وڈیو کیسٹ کی صورت میسر ہو گئی۔ اسے بھی تین بار بہت چاؤ سے دیکھا۔ بالآخر مگر یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑی کہ ناول کو ”فلمانا“ تقریباً ناممکن ہے۔ کسی بڑے ناول کو پڑھتے ہوئے ہر قاری کے ذہن میں بہت ہی ذاتی ہیولے یا مناظر تشکیل پاتے ہیں۔ وہ سکرین پر نظر نہ آئیں تو مایوسی ہوتی ہے۔
مذکورہ ناول سے کہیں زیادہ مگر مجھے میلان کندیرا کے ایک اور ناول نے کئی روز تک ہکا بکا بنائے رکھا۔ اس کا عنوان تھا: The Book of Laughter and Forgetting اس کی بدولت پیغام یہ ملا کہ آمرانہ معاشروں میں اشرافیہ کا ایک گروہ خود کو چند ”مقدس“ بنائے نظریات کا ”پاسبان“ بنا لیتا ہے۔ اقتدار پر مکمل گرفت حاصل کر لینے کے بعد یہ گروہ اپنے معاشروں کے ہر شہری کو اس ”نظریے“ کے عین مطابق زندگی گزارنے کو مجبور کرتا ہے۔ اس ضمن میں معمولی غفلت برتنے والے کو بھی ”بداخلاق، غیر ذمہ دار یا عیاش“ ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے ریاست کے اپنائے نظریے کے بارے میں اٹھائے سوالات ”تخریب کاری“ شمار ہوتے ہیں۔ اقتدار پر قابض گروہ شہریوں کو ہر لمحہ یہ بھی یاد دلاتا رہتا ہے کہ وہ ان کے ملک کو ”جنت کا ٹکڑا“ بنا رہے ہیں۔ جہاں ہر انسان ”برابر“ ہے۔ اسے مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے جس کے حصول کے بعد روزگار ہر صورت یقینی بنایا جاتا ہے۔ تعلیم مکمل کرنے اور اپنی ”استطاعت“ کے مطابق نوکری کے حصول کے بعد شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ شادی کرے، بچے پیدا کرے اور بقیہ زندگی ایک خوشحال اور ہمہ وقت ہنستے مسکراتے انسان کی طرح گزارے۔
میلان کندیرا کمیونزم کے نام پر قائم ہوئی حکومتوں کو بدترین آمرانہ نظام سمجھتا تھا حالانکہ وہ خود 18 سال کی عمر میں اپنے ملک پر جرمن افواج کے قبضے کے بعد وہاں کی کمیونسٹ پارٹی کا متحرک کارکن بن گیا تھا۔ مذکورہ حیثیت میں اس نے وہاں کی حکمران جماعت کے سرکردہ افراد کی دوغلی اور منافقانہ زندگی کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ مایوس ہوا تو اسے بے نقاب کرنے کے لئے انتہائی تخلیقی استعارے اور تلمیحات ایجاد کرنے کی لگن میں جت گیا۔ ادب کا انتہائی سنجیدگی قاری ہوتے ہوئے بھی وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اداس لہجے میں ظالمانہ نظام کی بابت ماتم کنائی لوگوں کے ذہن بدلنے کے کام نہیں آئے گی۔ بہتر یہی ہے کہ خود کو فلسفی اور ”گہرا“ ثابت کرنے کے بجائے ناول نگار روزمرہ زندگی کے انتہائی عام کرداروں پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ”خوئے غلامی“ سے بے بس ہوئے افراد کو ”لطیفہ“ کی مانند دکھائے۔
1975 ء میں جو پہلا ناول اس نے لکھا نام ہی اس کا The Joke لطیفہ تھا۔ کمیونسٹ نظام میں نوجوانوں کو ”سیدھی راہ“ پر رکھنے کے لئے پرفضا مقامات اور قصبوں میں ”نظریاتی کیمپ“ لگا کرتے تھے۔ مذکورہ ناول کا مرکزی کردار ایک لڑکی کے عشق میں گرفتار ہے۔ وہ لڑکی مگر ”نظریاتی تربیت“ کی وجہ سے چند دنوں کے لئے شہر میں موجود نہیں۔ نظریاتی تربیت کے دوران وہ ناول کے مرکزی کردار کو ایک طویل خط لکھتی ہے۔ اس کے ذریعے وہ اس امر پر انتہائی طمانیت کا اظہار کرتی ہے کہ اسے ”نظریاتی تربیت“ کی وجہ سے ”بہتر انسان“ بننے کی راہ نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ کمیونسٹ نظام میں ”مایوسی پھیلانا“ بدترین جرم تصور ہوتا تھا۔ ادیبوں، شاعروں اور ڈرامہ نگاروں کو مجبور کیا جاتا کہ وہ اپنی تخلیقات کی بدولت عوام کو امید دلائیں۔ ”رجائیت“ زندگی کا حتمی ہدف تھی۔
اپنی محبوبہ کے طویل خط کے جواب میں ”دی جوک“ کے مرکزی کردار نے ایک پوسٹ کارڈ پر فقط یہ لکھا کہ ”رجائیت عوام کی افیون ہے۔ ٹراٹسکی زندہ باد“ ۔ یاد رہے کہ ٹراٹسکی روسی انقلاب کے بانیوں میں سے ایک تھا۔ سٹالن کو مگر اس کا ”ایمان“ مشکوک محسوس ہوا۔ خوف سے جلاوطنی کو مجبور ہوا اور بالآخر میکسیکو میں روسی ایجنٹ کے ہاتھوں مارا گیا۔ کندیرا نے جب یہ ناول لکھا تو اس وقت چیکو سلاوکیہ میں آمرانہ نظام کی مسلط کردہ گھٹن کے خلاف ’پراگ بہار ”کی تحریک کو روسی فوج کی مدد سے سختی سے کچل دیا گیا تھا۔ ان دنوں اس ناول کا لکھے جانا دانستہ خودکشی کے مترادف تھا۔ ناول چھپتے ہی لہٰذا بین کر دیا گیا اور کندیرا کو نوکری اور کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا گیا۔ میلان کندیرا کا باپ ایک نامور موسیقار تھا۔ اس کی وجہ سے میلان کندیرا بھی پیانو بہت مہارت سے بجا سکتا تھا۔ نوکری سے محروم ہو جانے کے بعد زندگی گزارنے کے لئے کندیرا شام میں مختلف شراب خانوں میں چلا جاتا اور وہاں موجود پیانو بجاتے ہوئے لوگوں سے ٹپس جمع کرتا۔ بے روزگاری کے ان ہی دنوں میں بنیادی طور پر پھکڑ باز میلان کندیرا نے ایک اخبار کے لئے“ آج کا دن کیسے گزرے گا ”والا کالم بھی قلمی نام سے لکھنا شروع کر دیا۔ اخبار کے مدیر کو یہ باور کروایا گیا کہ“ نجوم ”جیسی“ فروعات ”کو سنجیدگی سے لینے والا کالم نگار بذات خود ایک“ ایٹمی سائنسدان ”ہے جو ریاست کے“ حساس ”ادارے سے وابستہ ہے۔ اس کی کہانی مگر زیادہ دنوں تک چل نہ پائی۔ بالآخر جلاوطنی کو مجبور ہوا اور بدھ کے دن اس دنیا سے بھی چلا گیا ہے۔
(بشکریہ نوائے وقت)


