کیا پاکستان کھربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے برداشت کر سکتا ہے ؟
نئے مالی سال کے لئے حکومت نے 144.5 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں سے نصف سے زائد رقم 73.3 کھرب روپے صرف قرضوں کی واپسی کے لیے مختص کی گئی ہے۔ سال کے آخر میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل موجودہ حکومت کا یہ آخری بجٹ ہے اور اس بجٹ کی سب سے خاص بات 11.5 کھرب روپے سے زائد کے ترقیاتی کام ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے جب ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی بجٹ صرف 727 ارب روپے تھا۔ اور اس بجٹ کا ایک اور قابل ذکر پہلو سول سروس کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک اضافہ اور ریاستی پنشن میں 17.5 فیصد اضافہ ہے۔
ترقیاتی منصوبوں میں انفراسٹرکچر کے لئے 491.3 ارب روپے، توانائی کے شعبے کے لئے 86.4 ارب روپے، اور شعبہ آب کے لئے 99.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جب کہ ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے لئے 263.6 ارب روپے اور تعمیرات کے لئے 41.5 ارب روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے بجٹ میں 81.9 ارب روپے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے پروگراموں کے لئے 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ فزیکل پلاننگ اور تعمیرات کے لئے 41.5 ارب روپے، سماجی شعبے کی ترقی کے لئے 241.2 ارب روپے، صحت کے شعبے کے لئے 22.8 ارب روپے بھی پلاننگ کا حصہ ہیں۔ بجٹ تقریر کے اہم نکات میں سے ایک یہ بھی تھا جب وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آئندہ سال کے لیے نئے ٹیکس نہیں لگا رہی۔
موجودہ حالات میں پاکستان کا بجٹ خسارہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ووٹ حاصل کرنے والے ترقیاتی منصوبوں پر کھربوں روپے خرچ کیے جائیں مگر چونکہ یہ انتخابی سال ہے اور پاکستان کی سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم شروع کرنے جا رہی ہیں۔ بجٹ کے مختلف پہلو انہیں اپنے انتخابی جلسوں کی تقریروں کے لیے مواد فراہم کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں آخری سال عوام کو ریلیف فراہم کرنے والے منصوبوں پر پیسہ خرچ کر کے اپنی مقبولیت بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں۔
Electoral politics کا یہ ایک منفی پہلو ہے کہ حکومت ریلیف پیکجز اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے سے رائے دہندگان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ الیکشن میں کامیابی مگر مالی خسارہ میں اضافہ کی صورت میں نکلتا ہے۔ الیکشن کے قریب اگر حکومت ایسا کوئی پراجیکٹ شروع کرتی ہے تو اسے رکوایا جانا چاہیے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس طرح کے ترقیاتی پراجیکٹس کو رکوا دے اور پھر الیکشن کے بعد ان پر کام کی اجازت دے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ بھی اس طرح کا کوئی قدم اٹھا سکتی ہے اور ماضی میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں۔
11.5 کھرب روپے سے زائد کے ترقیاتی کام پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں نہ صرف ناممکن ہیں بلکہ قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔ حکومت کی تمام تر توجہ مالی خسارے کو کم سے کم سطح پر رکھنے کی ہونی چاہیے۔ ماضی میں زیادہ تر حکومتوں کا یہی طرزعمل رہا ہے جس کی وجہ سے ہر آتے سال پاکستان میں Circular debt میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کو اس وقت ایک پائیدار اور مستحکم معاشی پالیسی کی ضرورت ہے۔ ہمارے پالیسی میکرز کو چاہیے کہ وہ الیکٹورل معاشی پالیسیز اپنانے کے بجائے ایسے میکرو اکنامک اقدامات ترتیب دیں جس سے معیشت کو طویل المیعاد استحکام ملے۔ اور مستحکم معاشی پالیسی اپنانے کے لئے مشکل فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو الیکشن نتائج سے آگے سوچنا ہو گا۔ جو رقم ادھار لے کر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے وہ ایک دن سود سمیت واپس کرنی پڑتی ہے۔
یوں عوام پر دوہرا بوجھ آن پڑتا ہے مگر کسی دوسری حکومت میں۔ پاکستان میں ایک حکومت بنا سوچے قرض لیتی ہے اور دوسری حکومت اسے واپس لوٹاتی ہے۔ اور نتیجہ غریب عوام پر مہنگائی کے بوجھ کی صورت میں پڑتا ہے۔ ایک سال عوام کو اگر 1 ہزار روپے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے تو دوسرے سال ٹیکس کی شکل میں 2 ہزار کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ اور اس سب کے پیچھے صرف نامناسب معاشی پالیسی اور قلیل المدتی پلاننگ ہوتی ہے۔ ماضی میں ہمارے حکمران ملک پر بہت تیزرفتاری سے قرضہ چڑھاتے آئے ہیں اور یہی واحد وجہ ہے کہ آج ملک دیوالیہ ہونے کی باتیں زبان زد عام ہیں۔ کوئی بھی ملک اس وقت دیوالیہ قرار دیا جاتا ہے جب اس ملک کے پاس قرض لوٹانے کے پیسے نہ ہوں۔ ایسے حالات میں صرف ووٹرز کو خوش کرنے کی خاطر قرض کے پیسوں سے کھربوں روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنا کوئی اچھی حکمت عملی نہ ہے۔

