ناول "سدھارتھ” ایک مطالعہ


ہرمن ہیسے ادبی دنیا کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔ ادب کے سنجیدہ قارئین ضرور ان کی شخصیت سے واقف ہیں۔ وہ 2 جولائی 1877 ء کو جرمنی میں پیدا ہوئے اور 9 اگست 1962 ء میں 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ بنیادی طور پر ناول نگار، افسانہ نگار اور شاعر تھے۔ وہ اپنے تین شاہکار ناولز، سدھارتھ، اسٹیفن وولف اور دی گلاس بیڈ گیم کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ 1946 ء میں انہیں نوبل انعام برائے ادب بھی ملا۔

سدھارتھ ان کا شہرہ آفاق ناول ہے جو 1922 ء میں منظر عام پر آیا۔ انیس سو اکاون میں اس کا انگریزی ترجمہ امریکہ سے شائع ہوا۔ اردو میں اس کا ترجمہ انیس سو بیاسی میں ہوا۔

سدھارتھ ایک فلسفیانہ ناول ہے جس میں عرفان حقیقت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ ایک برہمن نوجوان کی کہانی ہے جو سچائی کی تلاش میں ایک پر سکون اور بہتر زندگی کو تیاگ کر ایک کٹھن اور مصائب سے بھر پور زندگی کا انتخاب کرتا ہے۔

اس کتاب کو 12 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جو کہ بالترتیب برہمن زادہ، سنیاس، گوتم، نروان، کملا، لوگوں کے درمیان، سنسار، دریا کنارے، مانجھی، اس کا بیٹا، اوم، اور گووند ہے۔

ناول کے پہلے باب ’برہمن زادہ‘ ناول کے ہیرو سدھارتھ کی ابتدائی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ایک پر آلائش اور پر سکون زندگی کا مالک جس کی دسترس میں دنیا کی ہر چیز تھی لیکن وہ مضطرب تھا۔ وہ برہمنوں کے عقائد کے خلاف ہوتا جا رہا تھا کیوں کہ اسے اس میں سچائی نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس لیے اس نے وہاں سے نکلنے اور اس زندگی کو تیاگ دینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی وہ اپنے باپ کی فرمانبرداری نہیں چھوڑتا اور اس کی اجازت کے لیے ساری رات کھڑا رہتا ہے۔

اس باب سے ہمیں سدھارتھ کی ابتدائی زندگی اور اس کی طبیعت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی فرمانبرداری بھی ہمارے سامنے آتی ہے۔

ناول کا دوسرا باب ’سنیاس‘ ہے۔ اس باب میں سدھارتھ اور اس کے دوست گووند کو سنیاسی (دنیا ترک کر کے فقیری اپنانے والا) کے روپ میں ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ گوتم اور اس کا دوست سادھوؤں سے ملتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہاں وہ کبھی چودہ اور کبھی اٹھائیس دن کا برت (روزہ) رکھتے ہیں۔ مشکلات برداشت کرتے ہیں۔ طرح طرح کی تکالیف سے گزر کر سدھارتھ اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے۔ سدھارتھ اور گووند تین برس تک سادھوؤں کے ساتھ رہتے ہیں اور کئی طرح کی ریاضتیں کرتے ہیں اور بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ وہاں وہ گوتم بدھ کے بارے میں سنتے ہیں اور ان کے دل میں گوتم کو ملنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے وہ سادھوؤں کو چھوڑ کر گوتم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

ناول کا تیسرا باب ”گوتم“ کے عنوان سے ہے۔ اس باب میں گوتم بدھ کی تعلیمات کو بیان کیا گیا ہے۔ سدھارتھ اور گووند بدھ کے چیلوں کے ساتھ رہتے ہیں اور بدھ سے تعلیمات حاصل کرتے ہیں۔ گووند تو بدھ کی اطاعت قبول کر لیتا ہے لیکن سدھارتھ گوتم کی اطاعت قبول نہیں کرتا۔ اسے بدھ کی تعلیمات پسند آتی ہیں لیکن وہ اس سے اطمینان نہیں پاتا اور وہاں سے چلا جاتا ہے۔

اس ناول کا چوتھا باب ”نروان“ (چھٹکارا) ہے۔ اس باب میں سدھارتھ کے نروان حاصل کرنے کا ذکر ہے۔ گوتم کی تعلیمات سے متاثر ہو کر لیکن بے چینی کی کیفیت میں جب وہ اکیلا اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے تو وہ جان پاتا ہے کہ نروان تو اس کی اپنی ذات کے اندر موجود ہے۔ وہ جو سادھوؤں اور سنیاسیوں سے پانا چاہتا تھا وہ تو خود اس کی ذات کے اندر چھپا ہوا ہے۔ کیوں کہ جب تک وہ خود سے محبت نہیں کرے گا تو کسی اور شے سے محبت نہیں کر پائے گا۔

ناول کا اگلا باب ”کملا“ کے عنوان سے ہے۔ کملا جو کہ ایک پیشہ ور عورت کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ وہ سدھارتھ پر اس کی ذات کے کئی راز آشکار کرتی ہے۔ سدھارتھ اس سے جنسی تعلق قائم کرتا ہے اور ایک اور راز کو پا لیتا ہے۔ کملا سدھارتھ کو دل و جان سے چاہنے لگتی ہے اور اسے کوئی کاروبار کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اسے شہر کے ایک بڑے تاجر کے پاس بھیج دیتی ہے۔

اگلا باب ”لوگوں کے درمیان“ کے نام سے ہے۔ اس باب می میں سدھارتھ کو عام لوگوں کے ساتھ زندگی گزارتے دکھایا گیا ہے۔ وہ کام سوامی تاجر کے ہاں نوکری کرتا ہے۔ تجارت کرتا ہے، سفر کرتا ہے، عام لوگوں سے ملتا ہے۔ کاروبار میں نفع بھی کماتا ہے اور نقصان بھی اٹھاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ مطمئن رہتا ہے۔

ناول کے اگلے باب ”سنسار“ میں سدھارتھ کی عیش بھری زندگی کو بیان کیا گیا ہے۔ اب سدھارتھ ایک دولت مند شخص تھا۔ اس کے پاس بڑی کوٹھی تھی، نوکر چاکر تھے۔ وہ عورتوں کے ساتھ راتیں گزارتا اور شراب نوشی کرتا۔ اب وہ سیکھ چکا تھا کہ تجارت کیسے کی جاتی ہے اور وہ ایک کامیاب تاجر بھی تھا۔ وہ جی کھول کر جوا بھی کھیلنے لگا تھا۔ برس ہا برس گزرنے کے بعد اس نے جانا کہ وہ دنیاوی آسائشوں کے جال میں پھنس گیا ہے۔ اور پھر اس نے تمام دولت اور عیش ترک کیا اور پھر سے اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ اسی بیچ کملا بھی حاملہ ہو گئی تھی۔

اگلے باب ”دریا کنارے“ میں سدھارتھ کو پھر ایک سادھو کی طرح دکھایا گیا ہے۔ وہ دریا کنارے ایک پیپل کے پیڑ کے نیچے رہتا ہے اور یہاں اس کی ملاقات اپنے دوست گووند سے ہوتی ہے۔ دریا کنارے سدھارتھ قدرتی مناظر سے سیکھتا ہے۔ وہ پانی سے سیکھتا ہے، چڑیوں سے سیکھتا ہے اور جنگل کی شہد کی مکھیوں سے سیکھتا ہے۔

اگلے باب ”مانجھی“ میں سدھارتھ کی ملاقات مانجھی سے ہوتی ہے۔ یہ وہی مانجھی ہوتا ہے جو کافی عرصہ پہلے سدھارتھ کو دریا پار کراتا ہے۔ اب سدھارتھ واسو دیو مانجھی کے ساتھ اس کی کٹیا میں رہنے لگ جاتا ہے۔ وہاں وہ واسو دیو سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اسی دوران گوتم بدھ کی موت ہو جاتی ہے۔ ہزاروں لوگ اس کے آخری دیدار کے لیے جا رہے ہوتے ہیں جن میں کملا اور سدھارتھ کا بیٹا بھی ہوتے ہیں۔ کملا سانپ کے کاٹنے سے مر جاتی ہے اور سدھارتھ کا بیٹا اس کے پاس رہنے لگتا ہے۔

اگلے باب ”اس کا بیٹا“ میں سدھارتھ کے بیٹے کا ذکر ہے۔ اس کا بیٹا اس کے پاس تو رہتا ہے لیکن وہ حد سے زیادہ گستاخ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے واسو دیو اور سدھارتھ بہت پریشان ہوتے ہیں۔ واسو دیو تو سدھارتھ سے اسے چھوڑ دینا کا کہتا ہے لیکن سدھارتھ اپنے بیٹے کو نہیں چھوڑتا۔ وہ اس کی گستاخیوں کو نظر انداز کرتا ہے لیکن ایک دن وہ وہاں سے بھاگ جاتا ہے اور واپس اپنے گھر چلا جاتا ہے۔

اگلا باب ”اوم“ میں سدھارتھ کو تکمیل کے مراحل میں دکھایا گیا ہے۔ اس باب میں سدھارتھ وہ سب جان لیتا ہے جس کی اسے تلاش ہوتی ہے۔ وہ سب جان لیتا ہے جس کی تلاش میں وہ عمر گزار چکا ہوتا ہے۔

اگلے باب ”گووند“ میں سدھارتھ اور اس کے دوست گووند کی دوبارہ ملاقات ہوتی ہے۔ اس باب میں سدھارتھ کو ایک مقدس ہستی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک ایسی ہستی جو تکمیل کو پہنچ چکی ہے جس نے اطمینان اور شانتی کو پا لیا ہے۔ ناول کے اختتام پر گووند پر یہ راز آشکار ہوتا ہے کہ سدھارتھ نے وہ سب پا لیا ہے جس کی اسے تلاش تھی اور جس کی تلاش میں گووند اب تک سرگرداں ہے اور وہ بے اختیار سدھارتھ کے قدموں میں جھک جاتا ہے۔

Facebook Comments HS