کتاب کا خوف: ہٹلر سے قرآن سوزی تک
بدھ کے روز اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مذہبی منافرت کی ترغیب دینے اور اس کے اظہار کی مذمت کے علاوہ حال ہی میں سویڈن میں ہونے والے واقعہ کی بھی مذمت کی گئی جس میں عراق سے نقل مکانی کرنے والے دو باشندوں نے ایک مسجد کے سامنے قرآن کریم کے نسخہ کی بے حرمتی کی اور اسے جلایا۔ اس قرارداد میں ان افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
یہ قرارداد پاکستان نے پیش کی تھی۔ اس کے حق میں 28، اس کی مخالفت میں 12 ووٹ آئے اور سات ممالک غیر جانبدار رہے۔ یورپی ممالک اور امریکہ نے اس قرارداد کی شدید مخالفت کی۔ ویسے تو ہم اپنی ہر کامیابی کو مبالغہ کی عینک سے دیکھتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ رائٹرز خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھی اس قرارداد کا منظور ہونا مغربی ممالک کے لئے ایک دھچکا ثابت ہوا ہے۔ جینیوا کے ایک ہیومن رائٹ گروپ کے مارک لمن نے تبصرہ کیا ہے کہ اس قرارداد کا منظور ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مغربی ممالک اس کونسل میں مکمل طور پر پسپا ہوئے ہیں۔ اس کونسل میں امریکہ کے مستقل مندوب ٹیلر نے یہ تبصرہ کیا کہ ہمارے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ پاکستان کے نمائندے خلیل ہاشمی نے مغربی ممالک پر شدید تنقید کی کہ وہ مذہبی منافرت روکنے کے مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے اسے محض لپ سروس دے رہے ہیں۔
مغربی ممالک کا موقف ہے کہ یہ قرارداد آزادی اظہار کی روح کے منافی ہے۔ لیکن اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب گزشتہ دو سال کے دوران یورپین ممالک میں روس اور بیلو روس کے ٹی وی چینلز پر پابندی لگائی گئی تھی اور خود سویڈن کے ادارے ٹیراکوم نے روسی ٹی وی چینلز سے اپنے معاہدے منسوخ کر دیے تھے تو کیا یہ عمل آزادی اظہار کے مخالف نہیں تھا؟ کیا یورپ کے لوگوں کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ روسی چینلز کو سن کر اپنی رائے آزادانہ طور پر قائم کریں۔ کیا آزادی رائے صرف اس کا نام ہے کہ کسی مذہب کی عبادت گاہ کے باہر کھڑے ہو کر ان کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کی جائے۔ کیا امریکہ نے روسی چینلز پر اس پابندی کی مذمت کی تھی؟
بہر حال یہ ذہنیت صرف مذہبی کتب کو جلانے تک محدود نہیں ہے۔ ایک لمحہ کے لئے قانونی بحثوں کو بھول جائیں۔ کتب جلا کر اپنے تعصب کا اظہار کرنے کی ایک اپنی تاریخ ہے۔ ہمیں تاریخ کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ کیا ایسی تحریکوں کا کبھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوا ہے؟ کیونکہ یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں ہے۔ ایسے واقعات ہالینڈ میں بھی ہوئے ہیں۔ فرانس کے ایک جزیرہ میں بھی ہجوم نے ایک مسجد پر حملہ کر کے قرآن مجید کے نسخوں کو جلایا ہے۔
ایسی کوشش ناروے میں بھی کی گئی لیکن پولیس نے اس کی اجازت دے کر واپس لے لی۔ ڈنمارک میں بھی ایک سیاستدان نے ایک مسجد کے سامنے قرآن مجید کے نسخہ کو جلا یا۔ 2010 میں امریکہ کے ایک پادری ٹیری جونز نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ قرآن مجید کے سو نسخوں کو جلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اور اس کے چرچ کے احاطے میں کم از کم ایک مرتبہ ایسا واقعہ ہوا بھی تھا۔ اور تین روز قبل ایسا واقعہ جرمنی میں بھی ہوا ہے۔
جن ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا ان میں جرمنی بھی شامل ہے۔ چنانچہ جرمنی تاریخ سے اس قسم کی تحریک کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ 1933 میں جرمنی کی حکومت ہٹلر کی نازی پارٹی کے ہاتھوں میں جا چکی تھی۔ کئی یونیورسٹیوں کی سٹوڈنٹ یونینوں نے اعلان کیا کہ وہ منظم طریق پر ان کتابوں کو نذر آتش کریں گے جو کہ جرمن روح کے منافی ہیں۔ اور اس غرض کے لئے ان ہونہار نازی طلباء نے بارہ نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا۔ اور اس ایجنڈے پر عمل کرنے کے لئے کتابوں کی دکانوں، پبلشرز کے دفاتر اور لائیبریریوں پر حملے کیے گئے اور ایسی کتب کو بڑی محنت سے جمع کیا گیا جو کہ نازی طبع نازک پر گراں گزر رہی تھیں۔ ویسے یہ لوگ کتب کو پڑھنے یا سمجھنے کی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔
چنانچہ 10 مئی 1933 کو خاص طور پر برلن میں کتابوں کے بڑے بڑے ڈھیر لگا کر انہیں نذر آتش کیا گیا۔ ملاحظہ فرمائیں کہ کون کون سی کتب نذر آتش کی گئیں اور کون کون سے مصنفین کی تحریریں اس دیوانگی کا نشانہ بنیں؟ اس وقت یہودیوں کی مخالفت عروج پر تھی۔ اس لئے یہودی مصنفین کی کتب کو تو جلایا جانا تھا۔ اس رو میں آئن سٹائن کی تحریریں بھی آگ میں جھونکی گئیں۔ نازی پارٹی کمیونزم کے بھی شدید خلاف تھی چنانچہ کارل مارکس اور دوسرے کمیونسٹ مصنفین کی کتب کو بھی اس جنون کا نشانہ بنایا گیا۔
سائنس فکشن کے نامور مصنف ایچ جی ویلز کے ناول بھی ان بیوقوفوں سے برداشت نہیں ہو رہے تھے۔ چنانچہ انہیں بھی جمع کر کے جلایا گیا۔ اگر کسی لکھنے والے نے امن پسندی کی تلقین کی تھی تو وہ بھی اس غضب کا نشانہ بنا۔ فرائڈ کے نظریات ہضم نہیں ہو رہے تھے، ان کی کتب بھی اس خبط کا نشانہ بنیں۔ اور تو اور ہیمنگوے جیسے ناول نگار کی کتب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلف کیا گیا۔ جن ماہرین نے جنسی نفسیات پر کچھ لکھا تھا وہ بھی آگ کی نذر ہوا۔
نوبل انعام جیتنے والے جرمن مصنف تھامس مین کی کتب بھی نہ بچ سکیں کیونکہ انہوں نے نازی نظریات کے خلاف لکھنے کی غلطی کی تھی۔ نابینا امریکی مصنف ہیلن کیلر کی کتب بھی جلائی گئیں۔ شاید اس لئے کہ انہوں نے معذور افراد کے لئے آواز بلند کی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ مختلف مقامات پر ہزاروں کتب اس جنون کا نشانہ بنیں۔
اور یہ تقریب سادگی سے منعقد نہیں کی گئی تھی۔ مختلف شہروں میں ہزاروں کے ہجوم جمع ہوئے۔ جوشیلے نعرے لگائے گئے۔ ہزاروں یونیورسٹی طلبا ہاتھ میں مشعلیں لے کر اس تقریب کو رونق بخش رہے تھے۔ اور تو اور بہت سی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں نے ان تقریبات سے خطاب فرمایا اور کتب جلانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ چونتیس یونیورسٹیوں میں اس قسم کی تقریبات کامیابی سے منعقد ہوئیں۔ اور جن مصنفین کی کتب جلائی جا رہی تھیں ان کے نام پڑھ کر سنائے گئے جیسے کہ ان پر فرد جرم لگائی جا رہی ہو کہ تم ہوتے کون ہو کچھ سوچنے والے اور اگر سوچنے کی غلطی ہو بھی گئی تھی تو تمہیں لکھنے کی ہمت کیسے ہوئی۔
اس موقع پر ہٹلر کے پروپیگنڈا انچارج گوبلز نے گلا پھاڑ کر پر جوشیلی تقریر کی کہ ہم جرمنی کو انٹ شنٹ قسم کے نظریات سے پاک کر رہے ہیں۔ جس وقت گوبلز صاحب اپنی فاضلانہ تقریر کے موتی بکھیر رہے تھے تو چالیس ہزار کا مجمع ہمہ تن گوش تھا۔ اور اس تقریب کو ریڈیو پر براہ راست نشر کر کے پوری قوم کو مستفید کیا گیا۔
اس وقت جرمنی کے لوگوں کو یہودیوں سے خوف دلا کر یہ یقین دلایا جا رہا تھا کہ ہم معاشرے کو بد اثرات سے پاک کر رہے ہیں۔ اب اہل یورپ کو مسلمانوں سے متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ہم تمہاری ثقافت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ آخر کار نتیجہ وہی نکلے گا جو کہ 1930 کی دہائی میں نکلا تھا۔ جن شعلوں نے ان کتابوں کو جلایا تھا، آخر کار انہوں نے تاریخ کی خوفناک ترین جنگ کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اور سب سے زیادہ نقصان اہل یورپ کا ہی ہوا تھا۔ اور سب سے زیادہ قیامت جرمنی پر ہی گزری تھی۔ جن مصنفین کی کتب کو جلایا گیا تھا، ان کی تحریریں تو آج بھی زندہ ہیں۔ لیکن ہٹلر اور گوبلز کا انجام تاریخ کے کوڑے دان میں ہوا ہے۔
اے یورپ کے عقلمندو! کسی کتاب کو پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اس کے نظریات سے متفق ہو گئے ہیں۔ کتاب تو ایک ذریعہ جس سے آپ دوسرے کے نظریات سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ پسند کریں تو ان نظریات سے اتفاق کرتے ہیں۔ اگر پسند نہ کریں تو اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ اگر آپ سے کتاب بھی برداشت نہیں ہوتی تو پھر تکلف کیسا؟ اپنا دایاں بازو 45 کے زاویہ پر بلند کریں اور زور سے نعرہ لگائیں۔ ہیل ہٹلر

