اکیڈیمیا سے چند اعتراضات۔ حصہ اول

کہتے ہیں خیالات کسی کی ملکیت نہیں ہوتے۔ جبکہ ہم یونیورسٹیز میں یہ طے کرنے میں مصروف ہیں کہ کون سا خیال کس کی جاگیر ہے۔
یہ بات بجا ہے کہ کلام ہمیشہ متکلم کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے ورنہ علم کا شاید کوئی وجود ہی نہ رہے۔ یعنی یہ کہ افلاطون کی کہی گئی باتیں دراصل صرف باتیں ہیں، افلاطون کی باتیں ہونا بے معنی ہے، خود میں ایک ایسی کی پیداوار ہے جس کو رو میں بہتے انسان فرف الفاظ کے خالی قبرستان تک پہنچ کر رک جاتا ہے۔ انکار متکلم اور حیثیت کلام بلا متکلم چونکہ خود میں ایک ضغیم فلسفیانہ مسئلہ ہے، اسے کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ سر دست اتنا کہا جا سکتا ہے کہ جب خیال کو، کلام کو متکلم سے جدا کیا جائے گا تو لا محالہ ہم اس کلام میں موجود انسانی پن کو حذف کر دیں گے۔ یعنی میری کہی ہوئی کوئی بھی بات آدھی ”بات“ ہو گی اور آدھی ”میری“ ہو گی۔
بات کو بات لفظ کی مشترکہ میراث ہونے کے ناتے کہا جائے گا۔ یعنی خیال اپنی سرشت میں ایک یونیورسل ہے جو تمام اذہان میں مشترک ہے اور اس کا یہ اشتراک چونکہ لفظ کی بدولت ہے اس لئے ہم الفاظ کی مدد سے ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہی۔ یعنی کوئی بھی بات، بات ہوتی ہی اس کے لفظی ہونے کی حیثیت سے ہے۔ اب میری بات کی طرف آتے ہیں۔ خیال میں جو میرا پن ہے وہ بھی نا گزیر ہے کیونکہ وہی بات ایک خاص ماحول میں، خاص پیرائے میں، کسی مخصوص سوال کے تعاقب میں، ایک خاص لمحے میں مجھ پر منکشف ہوئی ہے اور میں نے اسے اپنے لہن، ضابطے، پسند و نا پسند کے زاویے، انداز اظہار جیسی طاقتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صفحے پر اتارا ہے۔ نہ اس خیال کا کلی طور پر میرا ہونا جائز ہے اور نہ ہی پوری طرح مجھ سے باہر ایک مجرد وجود ہونے کا کوئی ثبوت۔ یعنی یوں کہیے کہ کسی بھی طرح کے علم پر میرا ہونے کی مہر لگانا بھی کم علمی ہے اور خود کو اسی خیال سے لا تعلق ظاہر کرنا بھی خود پسندی۔
آج کی اکیڈیمیا پر نظر جاتی ہے تو ارد گرد جیسے دکانیں لگی ہیں، تختیاں آویزاں ہیں، بھات بھات کے نمونے جیسے آنکھوں کو چڑاتے ہیں۔ ہر فقرے کا کوئی مالک ہے جو اس فقرے کے جملہ حقوق کا واحد خالق ہونے پر مصر ہے۔ اس رویے سے پیدا ہونے والا نظام معنی و نظام علم ہر کسی سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اپنا نقطۂ امتیاز ثابت کرو، اپنے نام کی تختی دکھاؤ اور وہ بھی اسی طے کردہ پیمانہ ہائے افراط و تفریط پر۔ یہ روش کہ علم جیسے برتنے کی کوئی چیز ہے اور اگر میرے پاس اپنے نام سے بیچنے کے لئے کچھ نہیں ہے تو دراصل میں اکیڈیمک کہلانا کوالیفائی ہی نہیں کرتا، ہمارے ارد گرد نظر آتی ہے۔
اس episteme میں جیسے آج کا مغرب و مشرق مشترک ہے۔ اور کہی جانے والی اس بات کا مفید ہونا، برتی جانے کے قابل ہونا جیسے مارکیٹ لاجک کے تابع ہے۔ اب علم اور آئیڈیاز جیسے فریج میں پڑے دودھ کے ڈبوں جیسے ہیں جن پر ایکسپائری ڈیٹ آویزاں ہے کہ اگر فلاں خیال کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ فلاں ڈیٹ تک استعمال کر کے خاص طرز کا مرکب علم (آرٹیکل، بک چیپٹر، رسالہ، کتاب، ناول، نظم) نہیں بنایا تو گویا وہ بوسیدہ ہو جائیں گے، نا قابل استعمال ہو جائیں گے اور بو چھوڑ دیں گے۔ یا یہ کہ اگر میں نے یہ نہ کیا تو کوئی اور یہ کر لے گا اور میں پیچھے رہ جاؤں گا۔
اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ علم کا مفید ہونا علم کے ہونے کی شرط اولیں ہے مگر اگلے زمانوں میں یہ مفید پن مارکیٹ لاجک کے قوانین پر منحصر نہیں تھا۔ یہ استفادہ متکلم خود اپنی ذہن سازی کے لئے اٹھاتا تھا۔ میرے کلام کا سب سے پہلا مخاطب اگر خود میں نہیں اور اس کا اثر اگر مجھ پر نہیں ہوا یا میرا ادا کردہ، بنا ہوا لفظ اگر میرے انفس میں کوئی ردو بدل نہیں لا سکا تو گویا وہ تکلف تو ہو سکتا ہے، علم نہیں۔ علم اور عالم کی دوئی میں یکجائی جیسے خود قانون پیداوار علم ہے جسے آج کا مارکیٹ نظام کا عادی ذہن عہد رفتہ کی بازگشت کہہ کر نظر انداز کر چھوڑتا ہے۔ اگر میرے ہونے کی تعریف میں، میرے عالم ہونے یعنی میرے باشعور ہونے اور ایسا باشعور ہونے کہ میرا قول و فعل، جذبہ و خیال، میلان و ارادہ، جستجو و حاصل ایک واضح تصور علم سے مطابقت نہیں رکھتا، تو شاید میں معلومات کے انبار لگانے میں بے حد کامیاب تو ہو جاؤں گا، علم نام کا کوئی ایک پرزہ بھی نہ گھڑ پاؤں۔
مجھے لگتا ہے کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہاں ہمیں لفظ، خیال، وجود، شعور، ذات، ذہن، اور کائنات وغیرہ چند خانوں کے طور پر نظر آتے ہیں جن کو بھرنے میں میری توانائیاں میرے میلان کے مطابق صرف ہوتی ہیں اور ان تمام کثیر عنوانات و اشیاء سے جو کل وجود میں آتا ہے، یعنی وہ نقطہ جہاں کہ یہ سب مل جاتے ہیں، یعنی ”میں“ وہ گم ہے۔ یعنی وجود و شعور کی ایسی وحدت جو اپنی ابتدا و انتہاء میں نہ وجودی ہو، نہ شعوری، بلکہ ان دونوں کو اپنے اندر ایسا ضم کرے کہ ان کا ایک ہونا اور جدا ہونا دونوں پوری طرح واضح و ثابت ہوں، وہ غائب ہے۔
یعنی علم اپنی کسی بھی جہت سے صرف خود پر منحصر ہوتے ہوئے اس وحدت کو نہ پہنچ پائے گا، کیونکہ وہ خود ایک جزو ہی تو ہے، اپنے اندر تکمیل پانے کی ایک خواہش ہوتے ہوئے۔ میں کی تشکیل و ترویج گو کہ ایک فلسفیانہ مبحث ہے اور کئی جلیل القدر حضرات جیسے دیکارت (Descartes) اس مسئلے پر سیر حاصل رائے زنی کر چکے ہیں۔ اس روایت میں، ”میں“ ایک نفسیاتی وجود ہے جس کی تہہ داری کی تحلیل و تجزیہ جیسے شعور کی کل متاع ہے۔ حالانکہ یہاں جس میں کی بات میں کر رہا ہوں، وہ وجودی قدر ہے، ایک تناسبی فیکلٹی ہے جس کا ہونا اور نہ ہونا دونوں کی تشریح و تفصیل ضروری ہے تاکہ ہم ہونے کے کسی ایسے مقام پر پہنچ جائیں جہاں سے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن ہو۔ ہماری روایت میں رہتے ہوئے بلھے شاہ پہلے ہی اس موضوع پر کافی مکمل بات کہہ چکا ہے۔
علموں بس کریں او یار
اکو الف تیرے درکار۔
وہ یہ سمجھ چکا تھا کہ میں یہ دعویٰ بھی نہ کروں کہ میں وحدت پا گیا ہوں یعنی یہ کہ میں سمجھ گیا ہوں۔ بلکہ وہ تو یہ کہتا ہے کہ یہی کہوں اور یہاں سے شروع کروں
بلھا کی جاناں ”میں“ کون۔
آج کا اکیڈیمک اور اکیڈیمیا اسے کھلی بے وقوفی اور شاعری کے سوا کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ سارا ڈسکورس (نظریۂ علم) تو میں کے ہمارے من گھڑت بت کی ایسی زیب و آرائش میں لگا ہے کہ میں ایک لمحے کو اس کے ہونے یا نہ ہونے یا نہ معلوم ہونے کے کسی سوال کو سہار نہیں سکتا۔ مجھے اکیڈیمیا سے امید اسی سوال کے تعاقب کی ہے اور اعتراض بھی یہی ہے کیونکہ یہ ایک واحد جگہ ہوتی ہے جہاں ایسے سوالوں کو سنجیدہ موضوع بنا کر ان کے جوابات تلاش کیے جاتے ہیں۔ اگر اکیڈیمک خود اپنے ہونے، اپنے معلوم ہونے، بلکہ کئی مقامات پر تو عقل کل ہونے کے دعوؤں سے بھرا رہے گا تو عوام الناس، طالب ہائے علم جو کہ ظاہر ہے یہی سیکھیں گے، ان پر کوئی گلہ نہیں رہتا۔
خود ایک اکیڈیمک ہونے کے ناتے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جماعت اکیڈیمکز (استاد، شاعر، مصنف، محقق، عالم، ناول نگار وغیرہ) کے لئے خود بینی و خود شعوری شرط اول ہے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں۔ خود بینی ایک گہرا لفظ ہے۔ یوں تو یہ کہ ذہنی عادت بھی کہی جا سکتی ہے ہر اس شخص کی جو ذرا سا سطح سے اوپر اور نیچے دیکھنے کا شوقین ہو، مگر یہ ایک ذمہ داری ہے، مجاہدہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ میں کون ہوں، میں کیا ہے۔
یہ قدر اس جماعت اکیڈیمکز میں یوں لگتا ہے جیسے مشترک ہو جن کا اوپر ذکر کیا۔ خود بینی دراصل اپنی آنکھوں سے پردے اٹھانے اور خود پر آشکار ہوتے رہنے، ہوتے جانے کے مسلسل سفر میں رہنے کی داستان ہے۔ کسی پر یہ شعر، کسی پر خیال، کسی پر حسابی فارمولا، اور کسی پر ایک دھن کی شکل میں وارد ہوتی رہتی ہے۔ خود بینی کا یہ عمل تب تک شروع بھی نہیں ہو سکتا، تکمیل پانا تو دور کی بات ہے، جب تک ہم یہ نہ مان لیں کہ ہمارے تصور علم میں ایک واضح کمی ہے اور وہ کمی خود ہمارے تصور ذات یا تصور استاد یا یوں کہیے تصور علم و معلم کے خراب ہونے سے جنم لے رہی ہے۔
ہم چونکہ من حیث القوم سوچنے سمجھنے، خود کو سوال کرنے اور خود پہ سوال کیے جانے کی روش سے عاری ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے اس علم کے حصول میں کوئی ایسا مقام آتا ہی نہیں کہ میں رات رات بھر جاگتے ہوئے کسی سوال پر غور کروں اور اپنے دماغ کو خود پھیلتا ہوا محسوس کروں۔ وجوہات تو ڈھیروں ہے اگر اس روش کی معاشرے میں کمی کا سراغ لگانا مقصود ہو۔ مثلاً چونکہ اب باہر کوئی ایسا محرک نہیں رہا جو ہمیں ایسا کرنے پر اکسائے اور نہ ہی کوئی ایسا اخلاقی ڈھانچہ بچا ہے جو کوئی ایسے رول ماڈل پیدا کر رہا ہو جس کی موجودگی میں میں خود اپنے اعمال پر شرمسار ہو جاؤں، اس لئے ایک ہمہ گیر، چہار سو پھیلی، دبیز تہہ ہے بے حسی کی، جس میں میرا خود نامکمل ہونا، کام چور ہونا، تنگ خیال ہونا خود مجھ پر نہیں کھلتا، لہذا میں ایک اکیڈیمک کی حیثیت سے خود اعتماد، خود پرست، خود پسند قسم کا ایک انتہائی مطمئن وجود بن کے رہ گیا ہوں۔
کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ خود پر خوش ہونے کی یہ ہلاک کر دینے والی وبا ایسی پھیلی ہے کہ بائیں بازو کے اصحاب ہوں یا دائیں بازو کے لوگ، غرض کہ کسی بھی نظریے کے دونوں اطراف یا ان اطراف کے درمیان موجود تمام تر نفوس ہائے علم، جو کہ سب میرے لئے قابل صد احترام ہیں، لا محالہ طور پر چونکہ اسی علمی فضاء میں سرگرم عمل ہیں، لہذا جانتے یا نہ جانتے ہوئے اسی بہت بنیادی کمی کے ہمارے تعلیمی نظام میں موجود ہونے اور جاری رہنے کے ذمہ دار ہیں، مجھ سمیت۔

