شرعی عدالت کا فیصلہ ایک مثبت رہنمائی


ہم بالعموم اور میں خود بھی بالخصوص ایسے موضوعات پر قلم نہیں اٹھاتے کہ جن پر بات کرنا ہمارے معاشرے میں کسی حد تک معیوب تصور کیا جاتا ہے حالانکہ وہ ایک معاشرتی حقیقت ہوتے ہیں جیسے کہ خواجہ سرا یا ان سے متعلقہ دوسری اصناف کے مسائل وغیرہ گزشتہ کچھ دنوں سے ایک ایسی بحث پر کہ جس کے بارے ہمارے اردگرد مختلف آرا پائی جا رہی تھیں سوچنے کے بعد کچھ لکھنے کا فیصلہ کیا اور کافی تحقیق کے بعد اسے مکمل کیا۔

منتقلی افراد کے حقوق کے تحفظ کا بل جو کہ 2018 میں 8 مئی کو قومی اسمبلی میں منظور کیا گیا بلاشبہ یہ ایک تاریخی بل بھی ہے کہ جس میں خواجہ سراؤں کو قومی شناختی کارڈ فراہم کرنا، ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ، ان کو ہرا ساں کرنے سے روکنا اور ان کے تمام تر آئینی حقوق کی ضمانت بھی دی گئی اسے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن بل بھی کہا جاتا ہے۔

لیکن ایک اہم نقطہ جسے سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اس ایکٹ کے تحت ٹرانس جینڈر کی تعریف میں ایسے افراد بھی شامل کیے گئے ہیں کہ جن کی صنفی شناخت یا صنفی اظہار ان کی پیدائش کے وقت قدرت کی طرف سے عطا کردہ صنف سے مختلف ہے۔

مئی 2023 میں پاکستان کی شرعی عدالت نے اس مذکورہ بالا بل 2018 کی کچھ دفعات کو اسلام سے متصادم قرار دے دیا جس پر اندرون ملک اور بیرون ملک دونوں ہی جانب سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں کچھ کہنے سے پہلے ہمیں ان دفعات اور شقوں کو دیکھنا ہو گا کہ ایسا کیا تھا کہ انھیں اسلام سے متصادم قرار دیا گیا کیونکہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے کہ جس ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ مختلف اصناف رکھنے کہ باوجود وہ تمام بنیادی انسانی و اخلاقی مکمل حقوق ہر انسان کو بلا تفریق رنگ، نسل و صنف کے دیے گئے۔

اس ایک کی پہلی وہ شق جسے اسلام سے متصادم قرار دیا گیا وہ یہ ہے کہ ”وہ حق جس کے تحت کوئی بھی شخص اپنی جنس تبدیل کر سکتا ہے/ کر سکتی ہے اس جنس سے جو کہ اسے پیدائش کو وقت تفقیض کی گئی تھی“ ۔

اب اس پر اسلام کی آفاقی تعلیمات کیا ہیں اور خالق کائنات کیا حکم دیتا ہے یہ دیکھتے ہیں شرعی عدالت نے واضح کیا کہ اسلام اور اس کی تعلیمات میں کسی بھی فرد کو اپنی مرضی سے اپنی جنس تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے جنس ہمیشہ وہی رہے گی جو کہ پیدائش کے وقت تفویض کی گئی تھی۔

اب اس کا جدید اور تحقیق شدہ طبی پہلو بھی دیکھ لیتے ہیں صنف یعنی جنس کی دوبارہ تفویض یہ ایک مکمل جینیاتی تبدیلی ہے اور انتہائی پیچیدہ عمل ہے اس کے لیے بیرون ملک اور خاص طور ترقی یافتہ اقوام میں جراحی مراکز بنائے گئے ہیں جہاں صرف ذہنی سوچ اور جذباتی خواہش کی بنا یہ تبدیلی کی جاتی ہے۔

اس طرح کی تبدیلی چہرے کے مختلف اعضاء گال، ناک، تھوڑی اور جبڑے سے شروع ہو کر جسم کے نازک اعضاء جننانگ تک کی جاتی ہے۔

عام طور ہم اسلام کہ ماننے والے ہوں یا نہ ہوں اس بات کو مانتے ہین فطرت کو بدلنا انسانی اختیار سے بالاتر ہے پھر یہ بھی تو ایک غیر فطری عمل ہے پھر اس کے لئے جواز تلاش کرنا اور بے بنیاد وجوہات یا جذباتی خواہشات پر خود پر اتنا ظلم کرنا کیسے مثبت اور قابل اطمینان عمل ہو سکتا ہے کہ جب ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جنس کی تبدیلی سے کچھ ہی عرصے بعد بے پناہ ذہنی انتشار و نفسیاتی مسائل کا آغاز ہو نا شروع ہو جاتا ہے وہ عمل جو کہ کیا ہی جذباتی خواہش تھا ذہنی اختراع تھا اب ذہنی و، جسمانی اور نفسیاتی طور پر انسان کو عجیب دوراہے پر لا کھڑا کرتا ہے۔

اب اس دوسری شق پر بات کرتے ہیں کہ جس کو اسلام سے متصادم قرار دیا گیا تھا وہ ہے کہ ”یہ افراد کو وراثت کے حصول کے مقصد کے لئے اپنی جنس کا تعین کرنے کی اجازت دیتا ہے“ شرعی عدالت کے مطابق وراثت کو کسی بھی انسان کی حیاتیاتی جنس کے ساتھ سختی سے ہم آہنگ ہو نا چاہیے ۔

اسے بھی ذرا غور و فکر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اسلام چونکہ ایک خاص فکر اور آفاقی نظریہ لیے ہوئے ہے وہ یہ نہیں چاہتا کہ بیٹا اور بیٹی یا مرد و عورت کی جو حدود، فرائض اور حقوق اس نے عطا کیے ہیں ان میں تبدیلی کی جائے کیونکہ خالق کائنات نے جو بھی حدود، حقوق و فرائض متعین کیے اسی میں میں پوری انسانیت کی بھلائی پوشیدہ ہے اور بحیثیت انسان ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

تاہم وفاقی شرعی عدالت نے بقیہ آئینی ایکٹ 2018 کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسے اسلام کے عین مطابق قرار دیا ہے عدالت کے مطابق اسلام مخلوط یا مبہم جنسی اعضاء کے ساتھ پیدا ہونے والے اشخاص کے وجود اور حقوق مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے اور غیر معمولی صورتوں میں کہ جیسے طبی معاملات میں یا طبی ماہرین کی طرف سے مخصوص بیماری کے لئے بطور علاج کاسٹریشن کی اجازت دیتا ہے تاہم اس کا اطلاق اپنی پسند یا خواہش پر نہیں ہے خواجہ سرا کے تمام بنیادی انسانی اور ملکی قوانین کو فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے۔

اس اہم معاملے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بلا سوچے سمجھے تنقید برائے تنقید نہ کریں اور اپنے ضمیر کے مطابق بات کریں کسی بھی قسم کے پراپیگنڈے یا کسی بھی اندرونی اور بیرونی ایجنڈے کو پروان چڑھانے میں کسی کا ساتھ نہ دیں۔

Facebook Comments HS