سائیکل سوار خاتون پرنسپل!


آج کل لاہور کے گورنمنٹ ایم۔ اے۔ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر عالیہ رحمن کے میڈیا پر خوب چر چے ہیں۔ ان کا شہرہ اس وقت ہوا جب ڈاکٹر عالیہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا کے توسط سے منظر عام پر آئی۔ ویڈیو میں تذکرہ تھا کہ وہ اپنے گھر سے دفتر کا سفر سائیکل پر کرتی ہیں۔ اس کے بعد ہر جانب ان کا ذکر ہونے لگا۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارموں نے ان کے انٹرویو کیے اور خبریں نشر کیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں نے بھی اس خبر کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔

عالمی میڈیا نے بھی اس خبر کو جگہ دی کہ پاکستان کے ایک معروف سرکاری کالج کی خاتون پرنسپل سائیکل پر دفتر جاتی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کبھی کسی کے ڈانس کی ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے۔ کبھی کوئی عام سا ڈائیلاگ بول کر راتوں رات سوشل میڈیا سٹار بن جاتا ہے۔ کبھی کوئی اخلاق سے گری اور ذو معنی گفتگو کرنے والا نامور اینکر کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اکثر و بیشتر سوشل میڈیا کا یہ کردار ہدف تنقید بنا رہتا ہے۔

عوام کا ایک حلقہ اس نقطہ نظر کا حامل ہے کہ سوشل میڈیا کا یہ پہلو مثبت نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ ہمارے نوجوان راتوں رات شہرت حاصل کرنے والوں سے متاثر ہو کر اسی راہ کے مسافر بن جاتے ہیں۔ نوجوانوں کی اکثریت محنت سے جی چراتی ہے۔ پڑھائی لکھائی کے ذریعے نام پیدا کرنے کے بجائے نوجوان راتوں رات شہرت اور دولت حاصل کرنے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ ایک ایسی خبر میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہے جو پاکستان میں ایک مثبت سرگرمی کی عکاس ہے۔

یعنی اس مرتبہ سوشل میڈیا پر ایک پڑھی لکھی خاتون نے سائیکل پر سفر کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل کی ہے۔ یقیناً بہت سے نوجوان بچے اور بچیاں اس خبر سے متاثر ہو کر سائیکل چلانے کی جانب راغب ہوں گے۔ ڈاکٹر عالیہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے بچپن میں سائیکل چلانا سیکھا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم میں سے بیشتر اپنے اپنے بچپن میں سائیکل چلایا کرتے تھے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کی غرض سے آسٹریا گئیں تو وہاں برسوں بعد انہیں سائیکل چلانے کا موقع ملا۔ پاکستان واپس آ کر پہلے پہل انہیں سائیکل چلاتے کچھ حجاب محسوس ہوا لیکن آخر کار انہوں نے سائیکل پر سفر کا فیصلہ کیا۔ اب وہ نہایت اعتماد اور اطمینان کے ساتھ سائیکل پر سفر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ سڑک پر گزرتے لوگ انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ اکثر بچے اپنے ہاتھ ہلا کر انہیں سراہتے ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں سائیکل چلانے کا رواج عام ہے۔ وہاں لڑکے، لڑکیاں، بوڑھے، جوان سب سائیکل چلاتے ہیں۔ چند برس قبل میں ناروے گئی تو معلوم ہوا کہ اس ملک کے ساٹھ فیصد سے زائد لوگ سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ سائیکل کے علاوہ الیکٹرک بائیک چلانے کا بھی رواج ہے۔ یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی کہ ناروے کے امیر ترین لوگ بھی سائیکل پر سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔ بیرون ملک جائیں تو مقامی سیاحتی کمپنیاں سائیکلنگ ٹور  کی پیش کش کرتی ہیں۔ یعنی سیاحوں کا گروہ سائیکلوں پر سفر کرتے ہوئے مختلف سیاحتی مقامات دیکھتا ہے۔ بالکل اسی طرح موٹر بائیک پر بھی سیاحتی دورے کروانے کی روایت عام ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں نوجوان سائیکلوں پر اپنے تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں۔ دفاتر اور تفریحی مقامات پر جاتے ہیں۔ نیدر لینڈ کے وزیر اعظم کا ذکر بھی ضروری ہے جو سائیکل پر دفتر جاتا ہے۔ تاہم پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پاکستان میں سائیکل کو غریب طبقے کی سواری سمجھا جاتا ہے۔

سچ پوچھیے تو سائیکل غربت کی علامت ہے۔ متوسط طبقے کے لوگ موٹر سائیکل اور سکو ٹر پر سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو افورڈ کر سکتے ہیں وہ کوئی چھوٹی موٹی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ سماج میں مادیت پرستی عام ہو چلی ہے۔ بڑی بڑی گاڑیاں استعمال کرنا۔ مہنگے موبائل تھامنا۔ برینڈڈ کپڑے جوتے پہننا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ہم میں سے بیشتر ایسا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس طرز عمل اختیار کرنے کو باعث ندامت سمجھتے ہیں۔

یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہم ایک روایتی اور قدامت پرست سماج کے باسی ہیں۔ یہاں خواتین کو مردوں کی نسبت کہیں زیادہ مشکلات و مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یاد کیجئے جب پرویز مشرف دور حکومت میں خواتین کو سکوٹیز دینے کی بات چلی تو کس قدر لے دے ہوئی تھی۔ شہباز شریف کے وزارت اعلیٰ کے دور میں جب خواتین کو آسان اقساط پر سکوٹیز دی گئیں تب بھی بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا تھا۔ کہا گیا کہ پاکستان کا ماحول خواتین کے سکوٹیز چلانے کے لئے سازگار نہیں ہے۔

اس بات کو اب کئی برس بیت چکے ہیں۔ ہم بہت سی خواتین، خاص طور پر نوجوان بچیوں کو موٹر سائیکلوں اور سکوٹیوں پر سفر کرتے دیکھتے ہیں۔ تاہم ماحول اب بھی مکمل طور پر ساز گار نہیں ہے۔ البتہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ اس صورتحال میں ایک معروف کالج کی پرنسپل کا ناسازگاری حالات کو بالائے طاق رکھ کر، سائیکل پر دفتر جانا یقیناً ایک غیر معمولی بات ہے۔ ڈاکٹر عالیہ کے لئے یہ فیصلہ کرنا ہر گز آسان نہیں ہو گا۔ پاکستان میں خواتین کے لئے غیر روایتی طرز عمل اختیار کر نا نہایت مشکل کام ہے۔

ہر کوئی اس کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ میں خود اس صورتحال سے آٓگاہ ہوں۔ چند برس پہلے میں بھی ایک سکوٹی لینے کی خواہشمند تھی۔ تاہم اس شوق کو پورا نہیں کر سکی۔ گھر والوں کا خیال تھا کہ پاکستان کا ماحول میرے سکوٹی چلانے کے لئے موزوں نہیں ہے۔ آج بھی میں سکوٹی خریدنے کی بات کروں تو گھر والے یاد دہانی کرواتے ہیں کہ مجھے اپنی عمر اور عہدے کا لحاظ کرنا چاہیے۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ سال پہلے میں انڈونیشیا گئی اور وہاں پر ٹیکسی موٹر سائیکل اور سکوٹی چلتے دیکھی تو زندگی میں پہلی مرتبہ اس پر سفر کیا۔

پھر میں جتنے دن وہاں رہی، شاپنگ کے لئے آتے جاتے چند مرتبہ سکوٹی پر سفر کیا۔ انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلمان ملک ہے۔ وہاں خواتین حجاب میں لپٹی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے باوجود وہاں موٹر بائیک چلانے کا رواج ہے۔ ہمارے ہاں ابھی یہ رواج عام نہیں ہوا۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر عالیہ کو سائیکل چلاتے دیکھ کر بہت سی خواتین میں سائیکل اور موٹر سائیکل چلانے کی ہمت پیدا ہو گی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ مزید چند برس گزریں گے تو ہمارے معاشرے میں خواتین کے سائیکل، موٹر سائیکل اور سکوٹی چلانے کے ضمن میں قبولیت بڑھے گی۔

Facebook Comments HS